TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Book 49 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 49 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 59 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

59 Hadith · 11 Chapters
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
۔ (۲۶۵۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِی یَلِیْہِ، فَاِنْ کَانَ نَقْصٌ فَلْیَکُنْ فِی الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ)) (مسند احمد: ۱۳۴۷۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلی صف کو پہلے مکمل کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اگر کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہیے۔
Takhreej
(۲۶۵۵) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۶۷۱، والنسائی: ۲/ ۹۳ (انظر: ۱۲۳۵۲)
Explanation
فوائد: …مقتدیوں کو چاہیے کہ وہ بالترتیب پہلی صفوں کو مکمل کرتے جائیں۔
2655
Sahih
صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان
۔ (۲۶۵۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَمَلَائِکَتَہُ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ یَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَۃً رَفَعَہُ اللّٰہُ بِہَا دَرَجَۃً)) (مسند احمد: ۲۵۰۹۴)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں، جو صفوں کو ملاتے ہیں اور جو شخص صف کے خلا کو پر کرتا ہے، اللہ اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۲۶۵۶) تخریـج: …حدیث حسن، وھذا اسناد ضعیف، انما ھو عروۃ عن النبیV مرسل أخرجہ ابن ماجہ: ۹۹۵ (انظر: ۲۴۵۸۷)
Explanation
فوائد: …فرشتوں کا رحمت بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔یہ تھیں صف بندی کے بارے میں مسند احمد کی روایات، اب ہم سلسلہ صحیحہ کی اس موضوع سے متعلقہ ایسی روایات ذکر کریں گے، جو مسند احمد میں نہیں ہیں اور ان کے ساتھ امام البانی کے تاثرات کا تذکرہ بھی ہو گا۔سیدہ عائشہcکہتی ہیں کہ رسول اللہ aنے فرمایا: ((مَنْ سَدَّ فُرْجَۃً بَنَی اللّٰہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَرَفَعَہٗ بِھَا دَرَجَۃً۔)) یعنی: ’’جس نے (صفّ کے) شگاف کو پُر کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا اور ایک درجہ بلند کر دے گا۔‘‘ (صحیحہ:۱۸۹۲، الأمالی للمحاملی: ق ۳۶/۲، الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۱/ ۳۲/ ۲نحوہ)
2656
Sahih
پہلی صف کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۵۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ یَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِی النِّدَائِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ یَجِدُوا اِلَّا أَنْ یَسْتَھِمُوا عَلَیْہِ لَااسْتَہَمُوا عَلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُونَ مَا فِی التَّھْجِیْرِ لَاسْتَبَقُوا اِلَیْہِ، وَلَوْ یَعْلَمُوْنَ مَا فِی الْعِشَائِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْھُمَا وَلَوْ حَبْوًا۔)) (مسند احمد: ۷۲۲۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور پہلی صف کا ثواب کیا ہے تو پھر اگر وہ کوئی چارۂ کار نہ پائیں، سوائے قرعہ اندازی کے تو وہ قرعہ اندازی بھی کر دیں، اور اگر وہ جان لیں کہ ظہر کی نماز میں کتنا ثواب ہے تو وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ عشاء اور فجر کی نمازوں کا ثواب کیا ہے تو وہ ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔
Takhreej
(۲۶۵۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۱۵، ۶۵۳، ۶۵۴، ۷۲۰، ومسلم: ۴۳۷ (انظر: ۷۲۲۶)
2657
Sahih
پہلی صف کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۵۸) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوْفِ الْأُوْلَی)) (مسند احمد: ۱۸۵۵۴)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صفوں (والوں) پر رحمت بھیجتے ہیں۔
Takhreej
(۲۶۵۸) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ البزار: ۵۰۸ (انظر: ۱۸۳۶۴)
2658
Sahih
پہلی صف کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۵۹) وَعَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَحْوُہُ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ عَلَی الصُّفُوفِ الْأُوَلِ (وَفِی لَفْظٍ) عَلَی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۴۳)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ ان کی ایک روایت میں عَلَی الصُّفُوفِ الْأُوَلِ کے الفاظ اور دوسری روایت میں عَلَی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ کے الفاظ ہیں۔
Takhreej
(۲۶۵۹) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۱۳(انظر: ۱۸۵۰۶، ۱۸۶۴۰)
2659
Sahih
پہلی صف کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۶۰) عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَـلَاثًا وَلِلثَّانِی مَرَّۃً۔ (مسند احمد: ۱۷۲۷۱)
سیّدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پہلی صف والوں کے لیے تین مرتبہ بخشش کی دعا کرتے اور دوسری صف والوں کے لیے ایک مرتبہ۔
Takhreej
(۲۶۶۰) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا سند منقطع أخرجہ ابن ماجہ: ۹۹۶، والنسائی: ۲/ ۹۲(انظر: ۱۷۱۴۱، ۱۷۱۵۷)
2660
Sahih
پہلی صف کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۶۱) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلٰی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِکَۃِ وَلَوْ تَعْلَمُوْنَ فَضِیْلَتَہُ لَابْتَدَرْتُمُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۵۸۸)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلی صف فرشتوں کی صف جیسی ہے اورا گر تم کو اس کی فضیلت کا پتہ چل جائے تو تم اس کی طرف جلدی کرو۔
Takhreej
(۲۶۶۱) تخریـج: …حدیث حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۵۵۴ (انظر: ۲۱۲۶۵، ۲۱۲۶۶)
2661
Sahih
پہلی صف کی فضیلت کا بیان
۔ (۲۶۶۲) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! وَعَلَی الثَّانِی۔ قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَعَلَی الثَّانِی۔ قَالَ: ((وَعَلَی الثَّانِی۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَوُّا صُفُوفَکُمْ وَحَاذُوا بَیْنَ مَنَاکِبِکُمْ وَلِیْنُوْا فِی أَیْدِی اِخْوَانِکُمْ وَسُدُّوا الْخَلَلَ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ بَیْنَکُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْحَذَفِ۔)) یَعْنِی أَوْلَادَ الضَّأْنِ الصِّغَارِ۔ (مسند احمد: )))
سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور دوسری صف والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں ۔ صحابہ نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! اور دوسری صف والے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوسری صف والوں پر بھی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، کندھوں کو برابر رکھو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو اور صف کے خلا کو پر کرو، پس بے شک شیطان بھیڑ کے چھوٹے بچوں کی طرح تمہارے درمیان گھس جاتاہے۔
Takhreej
(۲۶۶۲) تخریج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۷۷۲۷ (انظر: ۲۲۲۶۳)
2662
Sahih
کیا لوگ امام سے پہلے صفیںبنا لیں یا نہیں
۔ (۲۶۶۳) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَدْ رَأَیْتُنَا وَمَا تُقَامُ الصَّلَاۃُ حَتّٰی تَکَامَلَ بِنَا الصُّفُوفُ، فَمَنْ سَرَّہُ أَنْ یَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْیُحَافِظْ عَلٰی ھٰؤُلَائِ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ حَیْثُ یُنَادٰی بِہِنَّ فَاِنَّھُنَّ مِنْ سُنَنِ الْھُدٰی وَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ شَرَعَ لِنَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُنَنَ الْھُدٰی۔ (مسند احمد: ۳۹۷۹)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں دیکھتا ہوں کہ نماز اس وقت تک کھڑی نہ کی جاتی تھی جب تک ہم صفوں کو مکمل نہ کر لیتے تھے، جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔
Takhreej
(۲۶۶۳) تخریـج: …صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف شریک بن عبد اللہ النخعی، وھو متابع أخرجہ مطولا مسلم: ۶۵۴ (انظر: ۳۹۳۶، ۳۹۷۹)
2663
Sahih
کیا لوگ امام سے پہلے صفیںبنا لیں یا نہیں
۔ (۲۶۶۴) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ ’’وَفِی رِوَایَۃٍ اِذَا نُودِیَ لِلصَّلَاۃِ‘‘ فَـلَا تَقُومُوا حَتّٰی تَرَوْنِیْ وَعَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۲۶)
سیّدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو تم اس وقت تک کھڑے نہ ہوا کرو جب تک مجھے نہ دیکھ لو اور سکون کو لازم پکڑو۔
Takhreej
(۲۶۶۴) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۳۸، ۹۰۹، ومسلم: ۶۰۴ (انظر: ۲۲۶۴۹)
2664
Sahih
کیا لوگ امام سے پہلے صفیںبنا لیں یا نہیں
۔ (۲۶۶۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجِیٌّ لِرَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ حَتّٰی نَامَ الْقَوْمُ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۱۰)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں ایک آدمی سے سرگوشی کرتے اور نماز کی طرف نہ آئے، حتیٰ کہ لوگوں سونا شروع ہو گئے۔
Takhreej
(۲۶۶۵) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۶۴۲، ۶۴۳، مسلم: ۳۷۶ (انظر: ۱۱۹۸۷، ۱۲۱۲۸)
2665
Sahih
کیا لوگ امام سے پہلے صفیںبنا لیں یا نہیں
۔ (۲۶۶۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَجِیٌّ لِرَجُلٍ حَتّٰی نَعَسَ أَوْ کَادَ یَنْعُسُ بَعضُ الْقَوْمِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۵۲)
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی سے سرگوشی کرتے رہے، (اور نماز کے لیے نہ آئے) حتیٰ کہ لوگ اونگھنے لگ گئے یا قریب تھا کہ وہ اونگھنے لگ جائیں۔
Takhreej
(۲۶۶۶)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2666
Sahih
کیا لوگ امام سے پہلے صفیںبنا لیں یا نہیں
۔ (۲۶۶۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوْفُ قِیَامًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ اِلَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) فَخَرَجَ اِلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا قَامَ فِی مُصَلَّاہُ ذَکَرَ أَنَّہُ جُنُبٌ فَقَالَ لَنَا مَکَانَکُمْ، ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ خَرَجَ اِلَیْنَا وَرَأْسَہُ یَقْطُرُ فَکَبَّرَ فَصَلَّیْنَا مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۷۳۰)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنے سے پہلے صفیں برابر ہو گئیں،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو آپ کو یاد آیا کہ آپ جنبی تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا کہ اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو، پھر آپ واپس لوٹ گئے ۔ جب غسل کر کے تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۶۶۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۲۷۵، ومسلم: ۶۰۵ (انظر: ۱۰۷۱۹)
2667
Sahih
مقتدیوں کا ستونوں کے درمیان صف بنانے کی کراہت کا بیان
۔ (۲۶۶۸) عَنْ عَبْدِ الْحَمِیْدِ بْنِ مَحْمُوْدٍ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَدُفِعْنَا اِلَی السَّوَارِی فَتَقَدَّمْنَا أَوْ تَأَخَّرْنَا، فَقَالَ أَنَسٌ: کُنَّا نَتَّقِیْ ھٰذَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۶۴)
عبد الحمید بن محمودکہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جمعہ والے دن نماز پڑھی، پس ہمیں ستونوںکی طرف دھکیل دیا گیا، لیکن ہم پیچھے کو ہو گئے تھے یا آگے کو، پھر سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں ستونوں سے بچ کر کھڑے ہوتے تھے۔
Takhreej
(۲۶۶۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۶۷۳، والترمذی: ۲۲۹، والنسائی: ۲/ ۹۴ (انظر: ۱۲۳۳۹)
2668
Sahih
صف کے پیچھے اکیلے آدمی کا نماز پڑھنے کا بیان
۔ (۲۶۶۹) حدثنا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ ھِلَالِ بْنِ یَسَافٍ قَالَ: أَرَانِی زِیَادُ بْنُ أَبِی الْجَعْدِ شَیْخًا بِالْجَزِیْرَۃِ یُقَالُ لَہُ وَابِصَۃُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ: فَأَقَامَنِی عَلَیْہِ وَقَالَ ھٰذَا حَدَّثَنِی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا صَلّٰی فِی الصَّفِّ وَحْدَہُ فَأَمَرَہُ فَأَعَادَ الصَّلَاۃَ، قَالَ: وَکَانَ أَبِی یَقُوْلُ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۷۰)
ہلال بن یساف کہتے ہیں: ایک جزیرے میں زیاد بن ابی الجعد نے مجھے ایک بوڑھا آدمی دکھایا ، اس کو وابصۃ بن معبد کہتے تھے، انہوں نے مجھے اس بزرگ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: اس شخص نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو صف میں اکیلا نماز پڑھتے دیکھا اور اس کو نمازلوٹانے کا حکم دیا، پس اس نے نماز دوبارہ پڑھی۔ عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ (امام احمد بن حنبل) بھی اسی حدیث (میںمذکورمسئلہ) کے قائل تھے۔
Takhreej
(۲۶۶۹) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ الترمذی: ۲۳۱، وابوداود: ۶۸۲ (انظر: ۱۸۰۰۰، ۱۸۰۰۷)
2669
Sahih
صف کے پیچھے اکیلے آدمی کا نماز پڑھنے کا بیان
۔ (۲۶۷۰) عَنْ وَابِصَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ رَجُلٍ صَلّٰی خَلْفَ الصُّفُوْفِ وَحْدَہُ، فَقَالَ: ((یُعِیْدُ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۶۷)
سیّدنا وابصۃ بن معبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو صفوں کے پیچھے اکیلا نماز پڑھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ نماز کو لوٹائے گا۔
Takhreej
(۲۶۷۰) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۱۴۸۶
2670
Sahih
صف کے پیچھے اکیلے آدمی کا نماز پڑھنے کا بیان
۔ (۲۶۷۱) عَنْ عَلِیِّ بْنِ شَیْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا یُصَلِّی خَلْفَ الصَّفِّ فَوَقَفَ حَتَّی انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِسْتَقْبِلْ صَلَاتَکَ، فَـلَا صَلَاۃَ لِرَجُلٍ فَرْدٍ خَلْفَ الصَّفِّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۹۳)
سیّدنا علی بن شیبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہر گئے، حتیٰ کہ وہ شخص نماز سے فارغ ہوگیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی نماز دوبارہ پڑھ، کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۲۶۷۱) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۰۰۳ (انظر: ۱۶۲۹۷)
2671
Sahih
اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے
۔ (۲۶۷۲) عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاکِعٌ فَرَکَعَ دُوْنَ الصَّفِّ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الصَّفِّ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ ھٰذَا الَّذِی رَکَعَ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الصَّفِّ؟)) فَقَالَ أَبُوْ بَکْرَۃَ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۳۱)
جب سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پہنچے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کی حالت میں تھے، انہوں نے صف کے پیچھے سے ہی (نماز شروع کر کے) رکوع کر لیا اور پھر چل کر صف میں شامل ہو گئے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کون آدمی تھا، جس نے پہلے رکوع شروع کیا اور پھرچل کر صف میں شامل ہوا؟ ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔
Takhreej
(۲۶۷۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۸۳ (انظر: ۲۰۴۵۷، ۲۰۴۵۸)
2672
Sahih
اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے
۔ (۲۶۷۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ جَائَ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاکِعٌ فَسَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَوْتَ نَعْلِ أَبِی بَکْرَۃَ وَھُوَ یَحْضُرُ یُرِیْدُ أَنْ یُدْرِکَ الرَّکْعَۃَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ السَّاعِی؟)) قَالَ أَبُوْبَکْرَۃَ: أَنَا، قَالَ: ((زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۷)
(دوسری سند) جب سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میںپہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔ وہ رکوع کو پانے کے لیے دوڑے یا تیز چلے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے جوتے کی آواز سن لی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: یہ دوڑنے والا کون تھا؟ سیّدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔
Takhreej
(۲۶۷۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول
2673
Sahih