TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امام کے ساتھ دو آدمیوں کے کھڑا ہونے کا بیان - امام کے ساتھ دو آدمیوں کے کھڑا ہونے کا بیان - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 11 · 5 Hadith
۔ (۲۶۲۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی الْمَغْرِبَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ اِلَی جَنْبِہِ عَنْ یَسَارِہِ فَنَھَانِی فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ فَجَائَ صَاحِبٌ لِیْ فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ فَصَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَیْنَ طَرَفَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۵۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے، میں آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے روکا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، پھر میرا ایک اور ساتھی آگیا، اس لیے ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے صف بنا لی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک کپڑے میں تھے، جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف سمت میں تھے۔
Takhreej
(۲۶۲۲) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف شرحبیل بن سعد أخرجہ ابن ماجہ: ۹۷۴، وأخرجہ ضمن حدیث طویل مسلم: ۳۰۱۰، وابوداود: ۶۳۴ (انظر: ۱۴۴۹۶)
2622
Sahih
۔ (۲۶۲۳) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَۃُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ بِالْھَاجِرَۃِ فَلَمَّا مَالَتِ الشَّمْسُ أَقَامَ الصَّلَاۃَ وَقُمْنَا خَلْفَہُ، فَأَخَذَ بِیَدِیْ وَبِیَدِ صَاحِبِیْ فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِیَتَیْہِ وَقَامَ بَیْنَنَا، ثُمَّ قَالَ: ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ اِذَا کَانُوْا ثَـلَاثَۃً، ثُمَّ صَلّٰی بِنَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: اِنَّہَا سَتَکُوْنُ أَئِمَّۃٌ یُؤَخِّرُوْنَ الصَّلَاۃَ عَنْ مَوَاقِیْتِہَا فَـلَا تَنْتَظِرُوْھُمْ بِہَا وَاجْعَلُوْا الصَّلَاۃَ مَعَہُمْ سُبْحَۃً۔ (مسند احمد: ۴۳۴۷)
اسود کہتے ہیں: میں اور علقمہ دوپہر کے وقت سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، جب سورج ڈھلا تو انھوں نے نماز کھڑی کی اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے،لیکن انھوں نے میرا اور میرے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنی دونوں طرف کھڑا کرلیا اور خود ہمارے درمیان کھڑے ہوگئے، پھر کہا: جب تین لوگ ہوتے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس طرح کیا کرتے تھے، پھر انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور فارغ ہونے کے بعد کہا: عنقریب ایسے ائمہ ہوں گے جو نمازوں کوان کے اوقات سے مؤخر کردیں گے، پس تم ان کا انتظار نہ کرنا، (اور وقت پر نماز پڑھ لینا) ا ور اس کے بعد ان کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفلی بنا لینا۔
Takhreej
(۲۶۲۳) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ مسلم: ۵۳۴ (انظر: ۳۹۲۷)
2623
Sahih
۔ (۲۶۲۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اِبْرَاھِیْمَ أَنَّ الْأَسْوَدَ وَعَلْقَمَۃَ کَانَا مَعَ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) فِی الدَّارِ فَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: أَصَلّٰی ھٰؤُلَائِ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلّٰی بِہِمْ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ وَقَامَ وَسَطَہُمْ وَقَالَ: اِذَا کُنْتُمْ ثَـلَاثَۃً فَاصْنَعُوا ھٰکَذَا، فَاِذَا کُنْتُمْ أَکْثَرَ فَلْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ وَلْیَضَعْ أَحَدُکُمْ یَدَیْہِ بَیْنَ فَخِذَیْہِ اِذَا رَکَعَ فَلْیَحْنَأْ فَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ اِلٰی اخْتِلَافِ أَصَابِِعِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۴۲۷۲)
(دوسری سند) اسود اور علقمہ دونوں سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں تھے، انھوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر سیّدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو اذان و اقامت کے بغیر نماز پڑھائی اور وہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: جب تم تین لوگ ہو تو اس طرح کیا کرو اور جب زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امامت کروائے (اور آگے کھڑا ہو)، جب کوئی رکوع کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان رکھے اور رکوع کے لیے جھکے، میں اب بھی گویا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے مختلف ہونے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
Takhreej
(۲۶۲۴) تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول (انظر: ۴۲۷۲)
Explanation
فوائد: …رکوع کے دوران دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر ڈال کر ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ لینا تطبیق کہلاتا ہے، یہ عمل شروع میں مسنون تھا، لیکن بعد میں منسوخ ہو گیا اور نئے حکم کے مطابق دورانِ رکوع ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا مسنون قرار پایا۔ اس دعوی کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیّدنا عبد اللہ بن مسعودb کہتے ہیں: رسول اللہ aنے ہمیں نماز سکھائی، پس انھوں نے اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا، پھر رکوع کیااور ہاتھوں میں تطبیق دی اور ان کو گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ جب سیّدنا سعد bکو اس بات کا پتہ چلا تو انھوں نے کہا: میرے بھائی عبد اللہ بن مسعود نے سچ کہا، ہم یہ عمل کرتے تھے، لیکن بعد میں ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ (مسند احمد: ۳۹۷۴، ابوداود: ۷۴۷، نسائی: ۲/ ۱۸۴)
2624
Sahih
۔ (۲۶۲۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَائِشَۃُ خَلْفَنَا وَأَنَا اِلٰی جَنْبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُصَلِّیْ مَعَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۱)
سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہمارے پیچھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پہلو میں کھڑا تھا اور آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
Takhreej
(۲۶۲۵) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۸۶، ۱۰۴، وابن خزیمۃ: ۱۵۳۷ (انظر: ۲۷۵۱)
2625
Sahih
۔ (۲۶۲۶) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَیْتِ أُمِّ حَرَامٍ فَأَقَامَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا۔ (مسند احمد: ۱۳۱۴۹)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر میں نماز پڑھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا اور سیدہ ام حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہمارے پیچھے کھڑی تھیں۔
Takhreej
(۲۶۲۶) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۶۶۰ (انظر: ۱۳۰۱۹، ۱۳۱۱۸)
Explanation
فوائد: …اِن روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ دو مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہو ں گے، البتہ عورت اکیلی صف میں کھڑی ہو گی وہ مردوں کی صف میں ساتھ برابر نہیں کھڑی ہو سکتی خواہ صف میں چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔
2626
Sahih