TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کا بیان - امام کے ساتھ ایک آدمی کے کھڑے ہونے کا بیان - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 11 · 7 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۲۶۱۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یُصَلِّی فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ فَجَذَبَنِی فَجَرَّنِی، فَأَقَامَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ فَصَلّٰی ثَـلَاثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً قِیَامُہُ فِیْھِنَّ سَوَائٌ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۶)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگ گئے، میں بھی اٹھا، وضو کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کھینچا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی، ان میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قیام برابر برابر رہا۔
Takhreej
(۲۶۱۵) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابوداود: ۱۳۶۵ (انظر: ۲۲۷۶، ۳۴۵۹)
2615
Sahih
۔ (۲۶۱۶) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: أَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ فَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ فَأَخَذَ بِیَدِی فَجَرَّنِی فَجَعَلَنِی حِذَائَ ہُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی صَلَاتِہِ خَنَسْتُ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِیْ: ((مَاشَأْنِیْ أَجْعَلُکَ حِذَائِی فَتَخْنِسُ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَوَ یَنْبَغِی لِأَحَدٍ أَنْ یُصَلِّیَ حِذَائَ کَ وَأَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ الَّذِی أَعْطَاکَ اللّٰہُ، قَالَ: فَأَعْجَبْتُہٗ، فَدَعَا اللّٰہَ لِی أَنْ یَزِیْدَنِی عِلْمًا وَفَہْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَامَ حَتّٰی سَمِعْتُہٗ یَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاہُ بِلَالٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الصَّلَاۃَ، فَقَامَ فَصَلّٰی، مَا أَعَادَ وُضُوئًا۔ (مسند احمد: ۳۰۶۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس رات کے آخری حصے میں آیا آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچ کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز میں متوجہ ہوگئے تو میں تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھی اور جب فارغ ہوئے تو مجھے فرمایا: کیا بات ہے،میں تجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر رہا تھا اور تو پیچھے ہٹ رہا تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کسی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھے، حالانکہ آپ تو اللہ کے وہ رسول ہیں،جن کو اللہ تعالیٰ نے (بہت کچھ) عطا کیا۔ میں نے یہ بات کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے لیے دعا کی اللہ تعالیٰ مجھے علم وفہم میں زیادہ کر دے، پھر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ سو گئے ہیں، حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھرسیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے اورکہا: اے اللہ کے رسول! نماز ، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور دوبارہ وضو کیے بغیر نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۶۱۶) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ الترمذی: ۲۳۳، وأخرجہ باختصار ابن ماجہ: ۴۲۳، وأخرجہ مسلم مطولا ولم یذکر بعضہ: ۷۶۳ (انظر: ۱۹۱۲، ۲۵۶۷، ۳۰۶۰)
Explanation
فوائد: …یہ آپaکا خاصہ تھا کہ سونے سے آپ کا وضو ٹوٹتا نہیں تھا، کیونکہ آپaکا دل جاگ رہا ہوتا تھا۔
2616
Sahih
۔ (۲۶۱۷) عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: سَأَلْتُ اِبْرَاھِیْمَ عَنِ الرَّجُلِ یُصَلِّی مَعَ الْاِمَامِ، فَقَالَ: یَقُوْمُ عَنْ یَسَارِہِ، فَقُلْتُ حَدَّثَنِی سُمِیْعُ نِ الزَّیَّاتُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقَامَہُ عَنْ یَمِیْنِہِ، فَأَخَذَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۳۳۵۹)
اعمش کہتے ہیں: میں نے ابراہیم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو امام کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، انھوں نے کہا: وہ امام کی بائیں جانب کھڑا ہوگا۔ میں نے کہا: مجھے تو سُمیع زیات نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کیا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ پھر ابراہیم نے اس حدیث کو تسلیم کر لیا۔
Takhreej
(۲۶۱۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ الدارمی: ۶۴۱ (انظر: ۳۳۵۹)
2617
Sahih
۔ (۲۶۱۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ، خَالَفَ بَیْنَ طَرَفَیْہِ، فَقُمْتُ خَلْفَہُ فَأَخَذَ بِأُذُنِی فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۴۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور وہ اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کیے ہوئے تھے۔ میں (نماز پڑھنے کے لیے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔
Takhreej
(۲۶۱۸) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۷۶۶ (انظر: ۱۴۷۸۹)
2618
Sahih
۔ (۲۶۱۹) عَنْ جَبَّارِ بْنِ صَخْرٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَامَ یُصَلِّی، قَالَ: فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ فَأَخَذَی بِیَدِی فَحَوَّلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ فَصَلَّیْنَا فَلَمْ یَلْبَثْ یَسِیْرًا أَنْ جَائَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۵۰)
سیّدنا جبار بن صخر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے پھیر کر اپنی دائیں جانب کردیا، اور ہم نماز پڑھنے لگے، ابھی تھوڑی دیر بھی نہیں گزری تھی کہ لوگ بھی آگئے۔
Takhreej
(۲۶۱۹) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف شرحبیل بن سعد الخطمی، وابواویس صدوق سییء الحفظ أخرجہ ابن الاثیر فی ’’اسد الغابۃ‘‘: ۱/ ۳۱۶، وأخرج بنحوہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۱۳۷ (انظر: ۱۵۴۷۱)
2619
Zaeef
۔ (۲۶۲۰) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی وَأَنَا بِاِزَائِہٖ۔ (مسند احمد: ۲۵۷۳۷)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ہوتی تھی۔
Takhreej
(۲۶۲۰) تخریـج: …حدیث صحیح (انظر: ۲۵۲۲۲)
Explanation
فوائد: … صحیح مسلم (۵۱۲، ۵۱۴) میں سیدہ عائشہcسے اس موضوع کی درج ذیل دو احادیث مروی ہیں:
2620
Sahih
۔ (۲۶۲۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ یُفْرَشُ لِی حِیَالَ مُصَلَّی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَکَانَ یُصَلِّی وَأَنَا حِیَالَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۶۹)
سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جائے نماز کے سامنے میرے لیے کوئی چیز بچھائی جاتی ، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے ہوتی۔
Takhreej
(۲۶۲۱) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۱۴۸، وابن ماجہ: ۹۵۷ (انظر: ۲۶۷۳۳)
Explanation
فوائد: …آخری دو احادیث کا اِس باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اِس موضوع کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مرد یا بچہ امام کی دائیں جانب اس کے برابر کھڑا ہو گا اور عورت کا اکیلے پیچھے کھڑے ہو جانے کا معاملہ توواضح ہے۔
2621
Sahih