TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2673 - اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے
۔ (۲۶۷۳)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ جَائَ وَالنَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاکِعٌ فَسَمِعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَوْتَ نَعْلِ أَبِی بَکْرَۃَ وَھُوَ یَحْضُرُ یُرِیْدُ أَنْ یُدْرِکَ الرَّکْعَۃَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ السَّاعِی؟)) قَالَ أَبُوْبَکْرَۃَ: أَنَا، قَالَ: ((زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ)) (مسند احمد: ۲۰۷۰۷)
(دوسری سند) جب سیّدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میںپہنچے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع کی حالت میں تھے۔ وہ رکوع کو پانے کے لیے دوڑے یا تیز چلے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے جوتے کی آواز سن لی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: یہ دوڑنے والا کون تھا؟ سیّدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص کو زیادہ کرے، دوبارہ ایسے نہ کرنا۔
2673
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۶۷۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الاول

Related Chapters

1,356
1
(63) CHAPTER. Whoever performed Tawaf of the Kabah on reaching Makkah before going to his house then offered two Raka and then went towards As-Safa.
جو شخص ( حج یا عمرہ کی نیت سے ) مکہ میں آئے تو اپنے گھر لوٹ جانے سے پہلے طواف کرے پھر دوگانہ طواف ادا کرے پھر صفا پہاڑ پر جائے
Sahih Bukhari
2
Chapter: What Has Been Related About The One Who Says The Talbiyah For Hajj But He Suffers A Fracture Or Becomes Lame
باب: جو حج کا تلبیہ پکار رہا ہو پھر اس کا کوئی عضو ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Someone Who Purchases A Slave And He Profited From him, Then He Found A Defect In Him
باب: غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب پا جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
4
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
Musnad Ahmad
5
اس شخص کا بیان جس نے مہر کے تقرر کے بغیر شادی کر لی اور پھر حق زوجیت ادا کرنے سے پہلے فوت ہو گیا
Musnad Ahmad
6
اس عورت کا بیان کہ جو مسلمان ہو کر شادی کر لے اور پھر اس کا خاوند اسلام قبول کرے، تو وہ اسی کی طرف لوٹائی جائے گی
Musnad Ahmad
7
(17) CHAPTER. If someone while in the mosque remembers that he is Junub , he should leave (the mosque to take a bath) and should not perform Tayammum.
جب کوئی شخص مسجد میں ہو اور اسے یاد آئے کہ مجھ کو نہانے کی حاجت ہے تو اسی طرح نکل جائے اور تیمم کرے
Sahih Bukhari
8
(142) CHAPTER. Sitting straight in a Witr prayer (i .e., an odd Raka) and then getting up.
اس شخص کے بارے میں جو شخص نماز کی طاق رکعت ( پہلی اور تیسری ) میں تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اٹھ جائے
Sahih Bukhari
9
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
Sahih Bukhari
10
(70) CHAPTER. Whoever did not go near the Kabah and did not perform Tawaf of the Kabah after the first Tawaf performed on entering Makkah to till he proceeded to Arafat and returned.
جو شخص پہلے طواف یعنی طواف قدوم کے بعد پھر کعبہ کے نزدیک نہ جائے اور عرفات میں حج کرنے کے لیے جائے
Sahih Bukhari
11
(3) CHAPTER. If the Muhrimun saw game and then laughed and a non-Muhrim understood (Why they laughed) (then their laughing is not to be considered as an intentional sign to draw the non-Muhrim's attention. Therefore they are allowed to eat the game).
احرام والے لوگ شکار دیکھ کر ہنس دیں اور بے احرام والا سمجھ جائے پھر شکار کرے تو وہ احرام والے بھی کھا سکتے ہیں
Sahih Bukhari
12
(183) CHAPTER. (It is permissible for) somebody to take over the leadership of the army during a battle with being appointed when there is danger from the enemy.
جو شخص میدان جنگ میں جبکہ دشمن کا خوف ہو امام کے کسی نئے حکم کے بغیر امیر لشکر بن جائے
Sahih Bukhari
13
(20) CHAPTER. The invocation for the patient by the one who pays a visit to him.
جو شخص بیمار کی عیادت کو جائے وہ کیا کرے
Sahih Bukhari
14
(41) CHAPTER. Whoever visited some people and then had a mid-day nap at their home.
اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
15
(37) CHAPTER. The legal regulation for non-Muslims under the protection of a Muslim state. The fact that a non-Muslim is married, is to be taken into consideration when he commits illegal sexual intercourse and is brought to the Iman (Muslim ruler).
لونڈی کو شرعی سزا دینے کے بعد پھر ملامت نہ کرے نہ لونڈی جلاوطن کی جائے
Sahih Bukhari
16
(39) CHAPTER. Whoever teaches manners to (or inflicts punishement on) his family or others without taking the ruler's permission.
حاکم کی اجازت کے بغیر اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں یا کسی اور کو تنبیہ کرے
Sahih Bukhari
17
(42) CHAPTER. What Punishment may be inflicted on the person so that he may not commit the same sin again, or so that he may learn good manners.
اگر کسی شخص کی بےحیائی اور بے شرمی اور آلودگی پر گواہ نہ ہوں پھر قرائن سے یہ امر کھل جائے
Sahih Bukhari
18
(3) CHAPTER. Killing those who refuse to fulfil the duties enjoined by Allah, and considering them as apostates.
جو شخص اسلام کے فرض ادا کرنے سے انکار کرے اور جو شخص مرتد ہو جائے اس کا قتل کرنا
Sahih Bukhari
19
(2) CHAPTER. Selling (one's property) under coercion or other circumstances to repay a debt or the like.
جس کے ساتھ زبرستی کی جائے یا اسی طرح کسی شخص کا بیچناحق وغیرہ کو مجبوری سے کوئی بیچ کھوچ کایا اور معاملہ کرے ۔
Sahih Bukhari
20
Chapter: The Sunnah on the day of sacrifice is to stone the Jamrah, then offer the sacrifice, then shave the head, and shaving should be started on the right side of the head
قربانی کے دن سنت یہ ہے کہ (حج کرنے والا پہلے )رمی کرے ‘پھر قربانی کرے ‘پھر سر مونڈائے اور مونڈنے کی ابتداء سر کی دائیں طر ف سے کی جائے
Sahih Muslim
21
Chapter: It is not permissible for a woman who has been thrice-divorced to return to the one who divorced her until she marries another husband who has intercourse with her, then divorces her, and she completes the 'Iddah
جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں وہ طلاق دینے والے کے لیے حلال نہیں حتی کہ وہ اس کے سوا کسی اور خاوند سے نکاح کرے اور وہ اس سے مباشرت کرے ‘پھر وہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور اس کی عادت پور ی ہو جائے
Sahih Muslim
22
CHAPTER: The One Who Performed Tayammum (Later) Finds Water During The Prayer Time, But After Having Prayed.
باب: جو شخص تیمم کر کے نماز پڑھ لے پھر وقت کے اندر پانی پا لے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: One Who Stands Up After The Two Rak’ah Without Performing The Tashah-hud.
باب: دو رکعت پر بغیر تشہد پڑھے اٹھ جائے تو کیا سجدہ سہو کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: One Who Forgets The Tashah-hud While He Is Sitting.
باب: جو شخص قعدہ میں بیٹھا ہو اور تشہد پڑھنا بھول جائے وہ کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: Whoever Slept Through His Portion (Routine Of The Night Prayer).
باب: جو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: If A Mukathib Pays Part Of His Contract Of Manumission Then Becomes Incapacitated Or Dies.
باب: مکاتب غلام بدل کتابت میں سے کچھ ادا کرے پھر نہ دے سکے یا مر جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
27
جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
28
کوئی شخص وصیت کیے بغیر مر جائے تو کیا اس کی طرف سے صدقہ دیا جائے؟
Sunnan Ibn e Maja
29
جو شخص نماز بھول جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Nisai
30
جو شخص نماز سے سو جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Nisai
31
جو شخص دو رکعت کے بعد بھول کر کھڑا ہو جائے اور تشہد نہ پڑھے وہ کیا کرے ؟
Sunnan Nisai
32
جو شخص اپنی نماز میں سے کوئی چیز بھول جائے وہ کیا کرے ؟
Sunnan Nisai
33
جو شخص رات کو سو جائے اور اپنا وظیفہ نہ پڑھ سکے تو وہ کب اس کی قضاء کرے ؟
Sunnan Nisai
34
Chapter: Been Related About A Man Who Forgets A Salat
باب: آدمی نماز بھول جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Regarding One Who Has Doubts Over Addition Or A Omission
باب: آدمی کو نماز پڑھتے وقت کمی یا زیادتی میں شک و شبہ ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Commites Hadath After The Tashah-hud
باب: آدمی کو تشہد میں حدث لاحق ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
37
Chapter: When One Sleeps Past The Night Prayer He Prays It During The Daytime
باب: تہجد پڑھے بغیر سو جائے تو اسے دن میں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About: When The Night Advances And The Day Retreats, Then The Fasting Person Break The Fast
باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Accepted Islam While Having Ten Wives
باب: اگر کوئی مسلمان ہو جائے اور اس کے عقد میں دس بیویاں ہوں تو وہ کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Accepts Islam While He Is Married To Two Sisters
باب: جو شخص اسلام قبول کرے اور اس کی زوجیت میں دو بہنیں ہوں
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related (About A Man) Who Captures A Slave Woman That Has A Husband, Is It Lawful For Him To Have Relations With Her?
باب: اگر کوئی شخص جہاد میں کسی عورت کو قید کرے
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About a Man Who Died Before Stipulating The Dowry For Her
باب: آدمی شادی کرے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What has been related about a man who sees a woman and becomes fascinated with her
باب: آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے پسند آ جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About One Who Owned A Mahram (A Close Relative)
باب: جو کسی محرم رشتے دار کا مالک ہو جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Averting The Legal Punishments From The One Who Confessed If He Changes His Mind
باب: مجرم اپنے اقرار سے پھر جائے تو اس سے حد ساقط کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Islam Began As Something Strange And It Will Return To Being Something Strange
باب: اسلام اجنبی بن کر آیا پھر اجنبی بن جائے گا
Jam e Tirmazi
47
بَاب مَالا يدعى على الْمَحْدُود
جس شخص پر حد قائم کی جائے اس پر بددعا کرنے کی ممانعت کا بیان
Mishkat
48
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
49
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
50
کسی ضرورت کی وجہ سے نمازی کا اپنے کپڑے پر سجدہ کرنے، نیز ہجوم والا شخص سجدہ کیسے کرے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

18
Musnad Ahmad
503
۔ (۵۰۳)۔ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ صُہَیْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا أَتَی الْخَلَائَ قَالَ: ((أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِ أَوِ الْخَبَائِثِ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: وَقَدْ قَالَہُمَا جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۱۴۰۴۴)
سیدنا انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بیت الخلاء کو آتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَیْثِِ۔… میں خبث اور خبیث سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔
Musnad Ahmad
517
۔ (۵۱۷)۔ عَنْ عُمَرَبْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ أَنَّہُ قَالَ: مَااسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَۃَ بِفَرْجِیْ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا، فَحَدَّثَ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ عَائِشَۃَؓ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِخَلاَئِہِ أَنْ یُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ لَمَّا بَلَغَہُ أَنَّ النَّاسَ یَکْرَہُوْنَ ذٰلِکَ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((قَدْفَعَلُوْہَا؟ اِسْتَقْبِلُوْا بِمَقْعَدَتِی الْقِبْلَۃَ۔)) (مسند أحمد: ۲۶۰۱۵)
عمر بن عبد العزیز نے کہا: میں نے اتنے عرصے سے اپنی شرم گاہ کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ نہیں ہوا، لیکن عراک بن مالک نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے کہا: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کویہ بات پہنچی کہ لوگ قبلہ رخ ہونے کو ناپسند کرتے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے حکم دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی لیٹرین کو قبلہ رخ کرکے بنا دیا جائے۔ ایک روایت میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا لوگ ایسے ہی سمجھنے لگ گئے ہیں؟ تو پھر میری سیٹ کو قبلہ رخ کر دو۔
Musnad Ahmad
1108
۔ (۱۱۰۸)۔عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ فَأَخَّرَ صَلَاۃَ الْعَصْرِ مَرَّۃً فقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ: حَدَّثَنِیْ بَشِیْرُ بْنُ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ أَنَّ الْمُغِیْرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلَاۃَ مَرَّۃً یَعْنِی الْعَصْرَ، فَقَالَ لَہُ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ: أَمَا وَاللّٰہِ! یَا مُغِیْرَۃُ! لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلّٰی وصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلَّی النَّاسُ مَعَہُ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلّٰی وَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَلَّی النَّاسُ مَعَہُ حَتَّی عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ثُمَّ قَالَ: بِھٰذَا أُمِرْتَ۔)) فقَالَ لَہُ عُمَرُ: اُنْظُرْ مَا تَقُوْلُ یَا عُرْوَۃُ! أَوَ اِنَّ جِبْرِیْلَ ہُوَ الَّذِیْ سَنَّ الصَّلَاۃَ؟ قَالَ عُرْوَۃُ: کذٰلِکَ حَدَّثَنِیْ بَشِیْرُ بْنُ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ، فَمَا زَالَ عُمَرُ یَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلَاۃِ بِعَلَامَۃٍ حَتّٰی فَارَقَ الدُّنْیَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۲۱۷)
امام زہری کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے ساتھ تھے، انھوں نے ایک دفعہ نمازِ عصر کو لیٹ کیا، عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: بشیر بن ابی مسعود انصاری نے مجھے بیان کیا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ نے ایک دفعہ نمازِ عصر کو لیٹ کر دیا، سیدناابومسعودؓ نے ان سے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! اے مغیرہ ! تحقیق تم جانتے ہو کہ حضرت جبریل ؑ نازل ہوئے اور نماز پڑھائی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ اور لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر وہ اترے اور نماز پڑھائی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کے ساتھ اور لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ نماز پڑھی، یہاں تک کہ انھوں نے پانچ نمازیں شمار کیں، ایک روایت میں ہے: اس نے کہا: اس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے، عمر بن عبد العزیز نے کہا: عروہ! اپنی کہی ہوئی باتوں پر غور کرو، کیا جبریلؑ ہیں، جنھوں نے (آپ کی امامت کرا کر) نماز کا آغاز کیا؟ عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود نے مجھے اسی طرح بیان کیا، اس کے بعد عمر نماز کے وقت کو کسی علامت سے پہنچان لیتے تھے، یہاں تک کہ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
Musnad Ahmad
1610
۔ (۱۶۱۰) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَارَأَیْتُ رَجُلاً (وَفِی رِوَایَۃٍ مَاصَلَّیْتُ وَرَائَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ فُلَانٍ، الإِْمَامِ کَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ: فَصَلَّیْتُ خَلْفَہُ فَکَانَ یُطِیْلُ الْأُوْلَیَیْنِ (وَفیِ رِوَایَۃٍ: الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ) مِنَ الظُّہْرِ وَیُخَفِّفُ الْأُخْرَیَیْنِ وَیُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَیَقْرَأُ فِی الْأُوْلَیَیْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفْصَّلِ، وَیَقَرَأُ فِی الْأُوْلَیَیْنِ مِنَ الْعِشَائِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَیَقْرَأُ فِی الْغَدَاۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فِی الصُّبْحِ) بِطِوَالِ الْمُفْصَّلِ، قَالَ الضَّحَّاکُ وَحَدَّثَنِیْ مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ مَارَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلَاۃً بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ مِنْ ھٰذَا الْفَتٰییَعْنِیْ عُمَرَبْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، قَالَ الضَّحَّاکُ فَصَلَّیْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَکَانَ یَصْنَعُ مِثْلَ مَاقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ۔ (مسند احمد: ۸۳۴۸)
سیدناابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی، جس کی نماز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو، یہ آدمی مدینہ میں امام تھا۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: (یہ سن کر) جب میں نے اس کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھاکہ وہ ظہر کی پہلی دودو رکعتوں کو لمبا اور دوسری دو کو ہلکا کرتا تھا اور مغرب کی پہلی دو میں قصار مفصل کی، عشاء کی پہلی دو میں وسط مفصل کی اور صبح کی نماز میں طوال مفصل کی تلاوت کرتا تھا۔ ضحاک کہتے ہیں: مجھے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سننے والے ایکآدمی نے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبد العزیز کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا کہ جس کی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو۔ ضحاک کہتے ہیں: پھر میں نے عمر بن عبد العزیز کے پیچھے نماز پڑھی، پھر انھوں نے سلیمان بن یسارکی طرح کاہی طریقہ بیان کیا۔
Musnad Ahmad
1684
۔ (۱۶۸۴) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا رَأَیْتُ أَحَدًا أَشْبَہَ صَلاَۃً بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ ھٰذَا الغْلُاَمِ یَعْنِیْ عُمَرَ ابْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ،، قَالَ: فَحَزَرْنَا فِی الرُّکَوْعِ عَشْرَ تَسْبِیْحَاتٍ وَفِی السُّجُودِ عَشْرَ تَسْبِیْحَاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۹۰)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس نوجوان (یعنی عمر بن عبد العزیز) کی بہ نسبت کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا، جو نماز میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ زیادہ مشابہ ہو۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ہم نے اس نوجوان کے رکوع و سجود میں دس دس دفعہ تسبیحات کا اندازہ لگایا۔
Musnad Ahmad
2222
۔ (۲۲۲۲) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ جُرَیْجٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : بِأَیِّ شَیْئٍ کَانَ یُوْتِرُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَتْ: کَانَ یَقْرَأُ فِی الرَّکْعَۃِ الْأُوْلٰی بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِکَ الْأَعْلٰی} وَفِی الثَّانِیَۃِ بِـ{قُلْ یَا أَیُّہَا الَْکَافِرُونَ} وَفِی الثَّالِثَۃِ بِـ{قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۳۱)
عبد العزیز بن جریج کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس چیز کے ساتھ وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ پہلی رکعت میںسورۂ اعلی، دوسری رکعت میں سورۂ کافرون اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھتے تھے۔
Musnad Ahmad
2486
۔ (۲۴۸۶) عَنْ مَوْھُوبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ یُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: مَا یَحْمِلُکَ عَلٰی ھٰذَا؟ فَقَالَ: اِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی صَلَاۃً مَتٰی تُوَافِقُہَا أُصَلِّیْ مَعَکَ وَمَتٰی تُخَالِفُہَا أُصَلِّی وَأَنْقَلِبُ اِلَی أَھْلِی۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، عمر بن عبد العزیز k (کی نماز سے) پیچھے رہتے تھے، (یعنی وہ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے، ایک دن) عمر بن عبد العزیز نے ان سے پوچھا: تجھے کون سی چیز ایسا کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب تم اس نماز کی موافقت کرتے ہو تو میں تمہارے ساتھ پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب تم اس کی مخالفت کرتے ہو تو میں (وقت پر) نماز ادا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔
Musnad Ahmad
2565
۔ (۲۵۶۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَارَأَیْتُ اِمَامًا أَشْبَہَ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِمَامِکُمْ ھٰذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ، وَھُوَ بِالْمَدِیْنَۃِ یَوْمَئِذٍ، وَکَانَ عُمَرُ لَا یُطِیْلُ الْقِرَائَ ۃَ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۹۲)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے تمہارے اس امام کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کے سب سے زیادہ مشابہ پایا ہے، انھوں نے یہ بات عمر بن عبد العزیز کے حق میں کہی تھی، وہ اس وقت مدینہ منورہ میں تھے اور وہ لمبی قراء ت نہیں کیا کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
2631
۔ (۲۶۳۱) عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ أَوَّلَ یَوْمٍ وُضِعَ فَکَبَّرَ وَھُوَ عَلَیْہِ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ نَزَلَ الْقَہْقَرٰی فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَہُ، ثُمَّ عَادَ حَتّٰی فَرَغَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّمَا فَعَلْتُ ھٰذَا لِتَأْتَمُّوا بِیْ وَلِتَعَلَّمُوْا صَلَاتِی۔)) فَقِیْلَ لِسَہْلٍ: ھَلْ کَانَ مِنْ شَأْنِ الْجِذْعِ مَا یَقُوْلُ النَّاسُ؟ قَالَ: قَدْ کَانَ مِنْہُ الَّذِی کَانَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۵۹)
سیّدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:جس دن منبر بنایا گیا تھا، اسی دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر تشریف لائے اور اللہ اکبر کہا، پھر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں نیچے اتر آئے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے، پھر نیچے لوٹ آئے، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو گئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تا کہ تم میری اقتداء کرواور میری نماز کا طریقہ سیکھ لو۔ کسی نے سیّدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: وہ تنے کا کیا معاملہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں بعض باتیں کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اس کے بارے میں جو بیان کیا جاتا، وہ واقعی ہوا تھا۔