TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان - جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان - نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 16 · 8 Hadith
۔ (۲۷۰۳) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ لَسَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ یُصَلِّیْ یَسْأَلُ اللّٰہَ خَیْرًا اِلَّا أَعْطَاہُ اللّٰہُ اِیَّاہُ۔)) وَقَالَ بِیَدِہِ قُلْنَا یُقَلِّلُہَا یُزَھِّدُھَا۔ (مسند احمد: ۷۱۵۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے، جو مسلمان بھی اس میں نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس گھڑی کے قلیل ہونے کی نشاندہی کی۔
Takhreej
(۲۷۰۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۲۹۴، ۶۴۰۰، ومسلم: ۸۵۲ (انظر: ۷۱۵۱)
2703
Sahih
۔ (۲۷۰۴) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ وَأَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، یَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فِیْھَا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ وَھِیَ بَعْدَ الْعَصْرِ)) (مسند احمد: ۷۶۷۴)
سیّدنا ابوسعید خدری اور سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے اور یہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۴) تخریـج: …حدیث صحیح بشواھدہ أخرجہ مالک: ۱/ ۱۰۹، وعبد الرزاق: ۵۵۸۴، والطبرانی فی ’’الدعائ‘‘: ۱۷۹ (انظر: ۷۶۸۸)
2704
Sahih
۔ (۲۷۰۵) عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ (بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ) قَالَ: کَانَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی صَلَاۃٍ سَأَلَ اللّٰہَ خَیْرًا اِلَّا آتَاہُ اِیَّاہُ، قَالَ وَقَلَّلہَا أَبُو ھُرَیْرَۃَ بِیَدِہِ۔ قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ، قُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعَیْدٍ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ أَنْ یَکُوْنَ عِنْدَہُ مِنْھَا عِلْمٌ، فَأَتَیْتُہُ (فَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلًا ثُمَّ قَالَ) قُلْتُ: یَا أَبَا سَعِیْدٍ! اِنَّ أَبَا ھُرَیْرَۃَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَۃِ الَّتِی فِی الْجُمُعَۃِ فَہَلْ عِنْدَکَ مِنْہَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا فَقَالَ: ((اِنِّی کُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُہَا ثُمَّ أُنْسِیْتُہَا کَمَا أُنْسِیْتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۶۴۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث بیان کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں مسلمان نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے اس کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ جب سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو میں نے (دل میں کہا کہ) اللہ کی قسم! اگر میں سیّدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں، ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہو۔ پس میں ان کے پاس گیا، … طویل حدیث ذکر کی…، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو سعید! سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی گھڑی کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ہے، کیا آپ کے پاس اس (کے وقت کے تعین) کا کوئی علم ہے؟ سیّدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس گھڑی کے بارے بتلایا تو گیا تھا، لیکن پھر شب ِ قدرکی طرح مجھے یہ بھلا دی گئی۔ پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا۔
Takhreej
(۲۷۰۵) تخریـج: …بعضہ حسن وبعضہ صحیح أخرجہ البزار: ۶۲۰، وحدیث ابی ھریرۃ مرفوعا: ((ان فی الجمعۃ ساعۃ …۔)) أخرجہ البخاری: ۹۳۵، ومسلم: ۶۵۲، وانظر الحدیث: ۱۵۰۷ (انظر: ۱۱۶۲۴)
2705
Sahih
۔ (۲۷۰۶) وَعَنْہُ أَیْضًا بِسَنَدِہِ وَلَفْظِہِ وَفِیْہِ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ فَسَأَلْتُ عَنْہَا، فَقَالَ: خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَأُھْبِطَ اِلٰی الْأَرْضِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَقَبَضَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ، فَھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ، وَقَالَ سُرَیْجٌ فَھِیَ آخَرُ سَاعَتِہِ، فَقُلْتُ: اِنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ ((فِی صَلَاۃٍ)) وَلَیْسَتْ بِسَاعَۃِ صَلَاۃٍ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مُنْتَظِرُ الصَّلَاۃِ فِی صَلَاۃٍ))؟ قُلْتُ: بَلٰی ھِیَ وَاللّٰہِ ھِیَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۷)
ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: (سابقہ سند اور الفاظ کے ساتھ، اس میں ہے:) پھر میں نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام جمعہ کے دن پیدا کیا، اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا اور اسی دن کو ان کو وفات دی، اسی دن کو قیامت برپا ہو گی اور اس کی آخری گھڑی (قبولیت والی) ہے۔ میں نے کہا: لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو فرمایا کہ وہ بندہ نماز کی حالت میں ہو اور دن کی آخری گھڑی میں تو کوئی نماز ہی نہیں پڑھی جاتی؟ انھوں نے کہا: کیا تجھے اس چیز کا علم نہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ نماز کا انتظار کرنے والا بھی نماز میں ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، (سمجھ آگئی) بس یہی ہے، اللہ کی قسم! یہی ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۶) تخریـج: …حدیث صحیح، انظر الحدیث: ۱۵۰۷ (انظر: ۲۳۷۷۹)
2706
Sahih
۔ (۲۷۰۷) عَنْ أَبِی النَّضْرِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسٌ، اِنَّا نَجِدُ فِی کِتَابِ اللّٰہِ فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ فَیَسْأَلُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ شَیْئًا اِلَّا أَعْطَاہُ مَا سَأَلَہُ، فَأَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ بَعْضَ سَاعَۃٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: صَدَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ أَبُو سَلَمَۃَ: سَأَلْتُہُ أَیَّۃُ سَاعَۃٍ ھِیَ؟ قَالَ: آخِرُ سَاعَاتِ النَّہَارِ، فَقُلْتُ: اِنَّہَا لَیْسَتْ بِسَاعَۃِ صَلَاۃٍ، فَقَالَ: بَلٰی، اِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ فِی صَلَاۃٍ اِذَا صَلّٰی ثُمَّ قَعَدَ فِی مُصَلَّاہُ لَا یَحْبِسُہُ اِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۸۹)
سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی تشریف فرما تھے، کہ ہم اللہ کی کتاب (تورات) میں یہ بات پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں، جبکہ وہ نماز میں ہو، اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ اشارہ کیا کہ اس گھڑی کا وقت تھوڑا سا ہوتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول نے سچ فرمایا (واقعی اس کا وقت مختصر ہوتا ہے)۔ ابو سلمہ نے کہا: میں نے ان سے سوال کیا کہ یہ گھڑی کا وقت کون سا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ تو نماز کا وقت ہی نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، بیشک جب مسلمان آدمی نماز پڑھ کر اپنے جائے نماز میں نماز ہی کی انتظار میں بیٹھ جاتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۷) تخریـج: …اسنادہ قوی أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۳۹، وانظر الحدیث السابق: ۱۵۱۶ (انظر: ۲۳۷۸۱)ٔ
2707
Sahih
۔ (۲۷۰۸) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِیْتُ کَعْبًا فَکَانَ یُحَدِّثُنِی عَنِ التَّوْرَاۃِ وَأُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَتَیْنَا عَلٰی ذِکْرِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، فَحَدَّثْتُہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ سَاعَۃً لَا یُوَافِقُہَا مُسْلِمٌ یَسْأَلُ اللّٰہَ فِیْہَا خَیْرًا اِلَّا أَعْطَاہُ اِیَّاہُ۔)) فَقَالَ کَعْبٌ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، ھِیَ فِی کُلِّ سَنَۃٍ مَرَّۃً، قُلْتُ لَا، فَنَظَرَ کَعْبٌ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ ھِیَ فِی کُلِّ شَہْرٍ مَرَّۃً، قُلْتُ: لَا، فَنَظَرَ سَاعَۃً فَقَالَ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ مَرَّۃً، قُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ کَعْبٌ: أَتَدْرِی أَیَّ یَوْمٍ ھُوَ؟ قُلْتُ: وَأَیُّ یَوْمٍ ھُوَ؟ قَالَ: فِیْہِ خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ، وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَالْخَلَائِقُ فِیْہِ مُصِیْخَۃٌ اِلَّا الثَّقَلَیْنِ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ خَشْیَۃَ الْقِیَامَۃِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ بِقَوْلِ کَعْبٍ، فَقَالَ: کَذَبَ کَعْبٌ، قُلْتُ: اِنَّہُ قَدْ رَجَعَ اِلٰی قَوْلِی، فَقَالَ: أَتَدْرِی أَیَّ سَاعَۃٍ ھِیَ؟ قُلْتُ: لَا وَتَہَالَکْتُ عَلَیْہِ أَخْبِرْنِی أَخْبِرْنِی، فَقَالَ: ھِیَ فِیْمَا بَیْنَ الْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ، قُلْتُ: کَیْفَ وَلَا صَلَاۃَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَزَالُ الْعَبْدُ فِی صَلَاۃٍ مَا کَانَ فِی مُصَلَّاہُ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۲۰۱)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں شام آیا اور کعب احبارکو ملا، وہ مجھے تورات سے بیان کرتے رہے اور میں انہیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی احادیث سناتا رہا، یہاں تک کہ جمعہ کے دن کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اسے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرتا ہے، وہ اسے دے دیتا ہے۔ کعب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں۔ کعب نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر مہینہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں،یہ سن کر کعب نے پھر غور کیا اور کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر جمعہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا:جی ہاں۔ کعب نے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے یہ کون سا دن ہے؟ میں نے کہا: یہ کون سا دن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، یہی وجہ ہے کہ جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات اس (دن کو) قیامت کے خوف سے کان لگائے ہوتی ہیں۔پھر میں مدینہ منورہ آیا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو کعب کی بات بتائی، انھوں نے کہا: کعب نے غلط کہا۔میں نے کہا: جی وہ میری بات کے قائل ہو گئے تھے (کہ یہ گھڑی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ (پھر عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے)کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ گھڑی کون سی ہے؟میں نے کہا: جی نہیں، پھر تو میں (اصرار کرتے ہوئے) ان پر ٹوٹ پڑا اور کہا کہ مجھے بتلاؤ، بتلاؤ۔ پس انھوں نے کہا: یہ گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہوتی ہے، جبکہ اس وقت میں تو کوئی نماز ہی نہیں ہوتی؟انھوں نے کہا: کیا تو نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ: بندہ اس وقت تک نماز میں ہی رہتا ہے، جب تک اپنی جائے نماز میں (بیٹھ کر) نما زکا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، انظر الحدیث السابق (انظر: ۲۳۷۹۱)
2708
Sahih
۔ (۲۷۰۹)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: فَلَقِیْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُہُ حَدِیثِیْ وَحَدِیثَ کَعْبٍ فِی قَوْلِہِ فِی کُلِّ سَنَۃٍ، قَالَ: کَذَبَ کَعْبٌ، ھُوَ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُلِّ یَوْمِ جُمُعَۃٍ، قُلْتُ: اِنَّہُ قَدْ رَجَعَ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ بِیَدِہِ اِنِّی لَأَعْرِفُ تِلْکَ السَّاعَۃَ۔ قَالَ: قُلْتُ: یَا عَبْدَاللّٰہِ! فَأَخْبِرْنِی بِہَا، قَالَ: ھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ: ((لَا یُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَھُوَ یُصَلِّیْ)) قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ انْتَظَرَ صَلَاۃً فَہُوَ فِی صَلَاۃٍ حَتّٰی یُصَلِّیَ۔))؟ قُلْتُ: بَلٰی۔ قَالَ: فَہُوَ کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۵)
(دوسری سند)سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں سیّدنا عبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان کو کعب سے ہونے والی اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ یہ گھڑی ایک سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے، انھوں نے کہا: کعب نے غلط بات کی ہے، یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے۔ میں نے کہا: جی انھوں نے اپنی بات سے رجوع کر لیا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبد اللہ بن سلام کی جان ہے! میں اس گھڑی کو خوب جانتا ہوں۔ میںنے کہا: اے عبد اللہ! تو پھر مجھے بتائیے۔ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اس کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو مومن اس میں دعا کرتا ہے، جب کہ وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے (اور اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی)۔ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ نماز کا انتظار کرنے والے کو نماز میں ہی سمجھا جاتا ہے، جب تک وہ نماز پڑھ نہ لے ۔؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر یہی بات ہے۔
Takhreej
(۲۷۰۹)تخریـج: …حدیث صحیح، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۲۳۷۸۶)
2709
Sahih
۔ (۲۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ) قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَیَّۃَ سَاعَۃٍ ھِیَ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: فَقُلْتُ لَہُ: فَأَخْبِرْنِی وَلَا تَضِنَّ عَلَیَّ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: ھِیَ آخِرُ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، قَالَ أَبُو ھُرَیْرَۃَ: کَیْفَ تَکُوْنُ آخِرَ سَاعَۃٍ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا یُصَادِفُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ یُصَلِّی)) وَتِلْکَ سَاعَۃٌ لَا یُصَلّٰی فِیْہَا؟ قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ یَقُلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا یَنْتَظِرُ فِیْہِ الصَّلَاۃً فَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ حَتّٰی یُصَلِّیَ)) فَقُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: فَھُوَ ذَاکَ ۔ (مسند احمد: ۲۴۱۹۴)
(تیسری سند)سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ گھڑی کس وقت ہے۔ سیّدنا ابوہریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ بخل نہ کرو اور مجھے بتلا دو۔ چنانچہ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا؛ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ جمعہ کی آخری گھڑی ہو، جب کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کی موافقت کرتا ہے اور یہ گھڑی تو ایسی ہے کہ اس میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی؟ سیّدناعبد اللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ: جو بندہ کسی مقام میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، یہاں تک وہ نماز پڑھ لے ۔میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر وہ یہی ہے۔
Takhreej
(۲۷۱۰) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، وانظر الحدیث بالطریق الأول (انظر: ۲۳۷۸۵)
2710
Sahih

Chapters

16
01
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
02
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
2 Hadith
03
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
8 Hadith
04
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
11 Hadith
05
عید یا بارش کے دن جمعہ ترک کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
06
جمعہ کے وقت کا بیان
10 Hadith
07
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
22 Hadith
08
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
18 Hadith
09
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
4 Hadith
10
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
4 Hadith
11
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
18 Hadith
12
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
10 Hadith
13
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
1 Hadith
14
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
3 Hadith
15
نماز جمعہ میں قراء ت کا بیان
6 Hadith
16
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
5 Hadith
No chapter matched that.