TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2881 - عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان - عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 5 in this chapter
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
۔ (۲۸۸۱) وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۶۵۰۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
2881
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۲۸۸۱) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، ابو عبد اللہ مولی عبد اللہ بن عمرو مجھول أخرجہ ابوداود الطیالسی: ۲۲۸۳(انظر: ۶۵۰۵، ۶۵۵۹)

Related Chapters

70
1
Chapter: [What Has Been Related] About The Takbir On The Two Eid
باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Days Of Tashriq
باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
Mishkat
4
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
ان دنوں کا بیان جن میں روزہ رکھنا منع ہے عیدین کے دو دنوں کا روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
6
ایام تشریق کے روزوں کی ممانعت
Musnad Ahmad
7
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
Musnad Ahmad
8
ایامِ تشریق کے دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا تذکرہ
Musnad Ahmad
9
(11) CHAPTER. Superiority of (doing good) deeds on the days of Tashriq (11th, 12th, 13th of Dhul-Hijjah).
ایام تشریق میں عمل کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
10
(68) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Tashriq days (11th, 12th and 13th of Dhul-Hijjah).
ایام تشریق کے روزے رکھنا
Sahih Bukhari
11
Chapter: The prohibition of fasting the days of At-Tashriq, which are the days of eating, drinking and remembering Allah, The Mighty and Sublime
ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت
Sahih Muslim
12
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
13
Chapter: It is obligatory to stay overnight in Mina during the nights of the days of At-Tashriq, and the concession allowing those who supply water to leave
ایام تشریق کے دوران میں راتیں منیٰ میں گزارنا واجب ہے ‘جبکہ اہل سقایہ(حاجیوں کو پانی پلانے والوں )کو رخصت حاصل ہے
Sahih Muslim
14
CHAPTER: The Takbir During The Two ’Eid.
باب: عیدین کی تکبیرات کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
CHAPTER: Fasting The Days Of At-Tashriq.
باب: ایام تشریق ( ذی الحجہ ) کے روزے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
16
عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟۔
Sunnan Ibn e Maja
17
ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
18
ایام تشریق میں رمی جمار کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
19
باب: امام کی اطاعت پر ابھارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
Chapter: [What Has Been Related] About The Eid Prayers Before The Khutbah
باب: عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: [What Has Been Related] About The Salat For The Two Eid Is Without An Adhan Nor An Iqamah
باب: عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ہے
Jam e Tirmazi
22
Chapter: [What Has Been Related About About] The Recitation During The Two Eid
باب: عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: About The Women Going Out For The Two Eid
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related That Encourages The Will
باب: وصیت کرنے پر ابھارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Takbir For the Funeral (Prayer)
باب: نماز جنازہ کی تکبیرات کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Encouragement To Convey What Is Heard
باب: دوسرے تک دین کی بات پہنچانے پر ابھارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
بَاب صَلَاة الْعِيدَيْنِ
نماز عیدین کا بیان
Mishkat
28
تکبیرات الانتقال کا بیان
Musnad Ahmad
29
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
Musnad Ahmad
30
عیدین کے دن امام کے سامنے برچھی یا نیزہ گاڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کا بیان
Musnad Ahmad
32
عیدین میں قرا ء ت کا بیان
Musnad Ahmad
33
نماز جنازہ میں تکبیرات کی تعداد اور سلام کا بیان
Musnad Ahmad
34
تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
35
عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
36
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
37
عیدین کے ضمن میں بیان کردہ خطبہ کے علاوہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک اور خطبۂ عید
Musnad Ahmad
38
(23) CHAPTER. The participation of menstruating women in the two Eid festivals and in religious gatherings of Muslims and their isolation from the Musalla (praying place).
عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں
Sahih Bukhari
39
(161) CHAPTER. The ablution for boys (youngsters). When they should perform Ghusl (take a bath) and Tuhur (purification). Their attendance at congregational prayers, Eid prayers and funeral prayers and their rows in the prayers.
اس بارے میں کہ بچوں کے لیے وضو اور ان پر غسل اور وضو اور جماعت ، عیدین ، جنازوں میں ان کی حاضری اور ان کی صفوں میں شرکت کب ضروری ہو گی اور کیونکر ہو گی ۔
Sahih Bukhari
40
Chapter: It Is Permissible For Women To Go Out To The 'Id Prayer And Attend The Khutbah, Separated From The Men
عیدین میں عورتوں کے عید گاہ کی طرف جانے اور مردو ں سے الگ ہو کر خطبے میں حاضر ہونے کا جواز
Sahih Muslim
41
Chapter: What Is To Be Recited In The 'Id Prayer?
عیدین کی نماز میں کیا پڑھا جائے ؟
Sahih Muslim
42
Chapter: The Talbiyah and the Takbir when going from Mina to 'Arafat on the day of 'Arafat
عرفہ کے دن منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیرات کہنا
Sahih Muslim
43
CHAPTER: The ’Eid Prayers.
باب: عیدین کی نماز کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Regarding Fasting On the Two ’Eid.
باب: عیدین ( عیدالفطر اور عیدالاضحی ) کے دن روزہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Saying The Takbir Over The Deceased.
باب: جنازے کی تکبیرات کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
46
عیدین کی نماز کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
47
نماز عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
48
عیدین میں خطبے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
49
عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
50
عیدین میں غسل کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,014
Musnad Ahmad
1319
۔ (۱۳۱۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌)عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ بَنَی لِلّٰہِ مَسْجَداً بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ أَوْسَعُ مِنْہُ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۵۶)
عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، جنت میں اس کے لیے اس سے وسیع گھر بنایا جائے گا۔
Musnad Ahmad
1905
۔ (۱۹۰۵) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو (ابْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَصِفُ صَلَاۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی کُسُوْفِ الشَّمْسِ قَالَ …… وَجَعَلَ یَنْفُخُ فِیْ الْأَرْضِ وَیَبْکِیْ وَھُوَ سَاجِدٌ فِیْ الرَّکْعَۃِ الثَّانِیْۃِ وَجَعَلَ یَقُوْلُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔)) فَرَفَعَ رَأْسَہُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الحدیث۔ (مسند احمد: ۶۴۸۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا ، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، …۔ الحدیث
Musnad Ahmad
2752
۔ (۲۷۵۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَکَرَ وَدَنَا فَاقْتَرَبَ وَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوْھَا أَجْرُ قِیَامِ سَنَۃٍ وَصِیَامِہَا۔)) (مسند احمد: ۶۹۵۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:جس نے (سر) دھویا،غسل کیا، بہت جلدی آیا، قریب ہوا، بلکہ بہت قریب ہو کر بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو وہ جتنے قدم چل کر آیا تھا، ہر قدم کے بدلے ایک سال کے قیام اور ایک سال کے روزوں کاثواب ملے گا۔
Musnad Ahmad
13186
۔ (۱۳۱۸۶)۔ وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَھْلُ النَّارِ کُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ وَاَھْلُ الْجَنَّۃِ الضُّعَفَائُ الْمَغْلُوْبُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۰۱۰)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ آدمی جو بد مزاج ،متکبر ، مال و دولت جمع کرنے والا اور بخیل ہو، وہ جہنمی ہے۔اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب سمجھے جاتے ہوں، وہ جنتی ہیں۔
Musnad Ahmad
98
۔ (۹۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (ؓ) أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُْولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سالم رہیں۔
Musnad Ahmad
218
۔ (۲۱۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِؓ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِیْ یَدِہِ کِتَابَانِ فَقَالَ: ((أَتَدْرُوْنَ مَا ہٰذَانِ الْکِتَابَانِ؟۔)) قَالَ: قُلْنَا: لَا اِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَدِہِ الْیُمْنٰی: ((ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِأَسْمَائِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَسْمَائِ آبَائِ ہِمْ وَ قَبَائِلِہِمْ، ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِہِمْ لَا یُزَادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْہُمْ أَبَدًا۔)) ثُمَّ قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَسَارِہِ: ((ھٰذَا کِتَابُ أَہْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِ ہِمْ وَ أَسْمَائِ آبَائِہِمْ وَقَبَائِلِہِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلٰی آخِرِہِمْ لَا یُزْادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْہُمْ أَبَدًا۔))فقَالَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: فَلِاَیِّ شَیْئٍ اِذَنْ نَعْمَلُ اِنْ کَانَ ھٰذَا أَمْرٌ قَدْ فُرِ غَ مِنْہُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((سَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا! فَاِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّۃِ یُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ وَ اِنْ عَمِلَ أَیَّ عَمَلٍ، وَاِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ وَاِنْ عَمِلَ أَیَّ عَمَلٍ۔)) ثُمَّ قَالَ بِیَدِہِ فَقَبَضَہَا، ثُمَّ قَالَ: ((فَرَغَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْعِبَادِ۔)) ثُمَّ قَالَ بِالْیُمْنٰی فَنَبَذَہَا فَقَالَ: ((فَرِیْقٌ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) وَ نَبَذَ بِالْیُسْرٰی فَقَالَ: ((فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۶۵۶۳)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ مبارک میں دو کتابیں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سی دو کتابیں ہیں؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! الّا یہ کہ آپ ہمیں بتا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ کتاب ربّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں اہل جنت اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی ہے (ٹوٹل)نہ ان میں بیشی ہو سکتی ہے، نہ کمی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں کہا: یہ جہنمیوں کی کتاب ہے، اس میں ان کے نام اور ان کے آباء اور قبائل کے نام ہیں اور اخیر پر ان کی میزان جوڑ دی گئی، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ صحابہ نے کہا: اگر اس معاملے سے اس قدر فارغ ہوا جا چکا ہے تو پھر ہم کس چیز کے لیے عمل کریں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: راہِ صواب پر چلتے رہو اور میانہ روی اختیار کرو، بیشک جنتی آدمی کا اختتام جنت والوں کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جون سا مرضی عمل کرتا رہے اور جہنمی آدمی کا اختتام اہلِ جہنم کے عمل کے ساتھ ہو گا، اگرچہ وہ جو مرضی عمل کرتا رہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنے ہاتھ کو بند کیا اور فرمایا: تمہارا ربّ اپنے بندوں سے فارغ ہو گیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے دائیں سے اس کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ایک فریق جنت میں جائے گا۔ پھر بائیں ہاتھ سے کتاب کو پھینکا اور فرمایا: ایک فریق جہنم میں جائے گا۔
Musnad Ahmad
609
۔ (۶۰۹)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِسَعْدٍ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: ((مَا ھٰذَا السَّرَفُ یَا سَعْدُ؟)) قَالَ: أَفِی الْوُضُوئِ سَرَفٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاِنْ کُنْتَ عَلٰی نَہْرٍ جَارٍ)) (مسند أحمد:۷۰۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سیدنا سعدؓ کے پاس سے گزرے اور وہ وضو کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: سعد! یہ کیا اسراف کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اور اگرچہ تو جاری نہر پر ہو۔
Musnad Ahmad
687
۔ (۶۸۷)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ؓ قَالَ: رَاٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَوْمًا یَتَوَضَّؤُونَ وَأَعْقَابُہُمْ تَلُوْحُ فَقَالَ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ، أَسْبِغُوا الْوُضُوْئَ۔)) (مسند أحمد: ۶۸۰۹)
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا ، لیکن ان کی ایڑیوں کی خشکی واضح طور پر نظر آ رہی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ایسی ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے، پوری طرح وضو کرو۔
Musnad Ahmad
1421
۔ (۱۴۲۱) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِدِ الْغَنَمِ وَلَا یُصَلِّی فِی مَرَابِدِ الإِْبِلِ وَالْبَقْرِ۔ (مسند احمد: ۶۶۵۸)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے اور اونٹوں اور گائیوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھتے۔