TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان - موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان - جنازہ کے احکام و مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of جنازہ کے احکام و مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 10 · 9 Hadith
۔ (۲۹۸۸) عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَتَمَنَّ أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَہُ، فَإِنْ کَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْیَقُلْ: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۹۷)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے، اگر کسی کا اس کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہ ہو تو وہ یہ دعا کرے: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔ (اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ، جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور اس وقت مجھے فوت کر دینا، جب میرے لیے فوت ہونا بہتر ہو۔)۔
Takhreej
(۲۹۸۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۶۷۱، ومسلم: ۲۶۸۰(انظر:۱۳۰۲۰، ۱۳۱۶۵)
Explanation
فوائد: …ہر قسم کی جسمانی اور روحانی پریشانی پر صبر کرنا چاہیے اور کسی دکھ کی بنا پر موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے، اگر کسی پر اس کا دکھ زیادہ ہی غلبہ پا لے تو وہ حدیث میں مذکورہ دعا پڑھا کرے۔ کسی تکلیف کے بغیر نیکی والی زندگی اور حسنِ انجام والی موت کا سوال کرنا پسندیدہ عمل ہے، اس حدیث کا مصداق وہ شخص ہے جو کسی مصیبت سے تنگ آ کر موت کو اپنے لیے بہتر سمجھنے لگ جاتا ہے۔
2988
Sahih
۔ (۲۹۸۹)عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَتَمَنَّ اَحَدُکُمُ الْمَوْتَ وَلَا یَدْعُ بِہ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاتِیَہٗ، اِنَّہٗ اِذَا مَاتَ اَحَدُکُمْ اِنْقَطَعَ عَمَلُہٗ، وَاِنَّہٗ لَا یَزِیْدُ الْمُؤْمِنُ مِنْ عُمْرِہٖ اِلَّا خَیْرًا)) (مسند أحمد: ۸۱۷۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کے آنے سے پہلے نہ اس کی تمنا کرے اور نہ اس کی دعا کرے، کیونکہ جب آدمی فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے اور مومن اپنی زندگی میں صرف نیکیوں میں ہی اضافہ کرتا ہے۔
Takhreej
(۲۹۸۹)تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۶۷۳، ۷۲۳۵، ومسلم: ۲۶۸۲ (انظر: ۸۰۸۶، ۸۱۸۹، ۱۰۶۶۹)
2989
Sahih
۔ (۲۹۹۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَتمَنّٰی أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُسِیْئٌ فَیَسْتَعْفِرُ أَوْ مُحْسِنٌ فَیَزْدَادُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۶۷۹)
(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے، کیونکہ اگر وہ گنہگار ہے تو اللہ سے گناہوں کی معافی مانگ لے گا اور اگر نیک ہے تو نیکیوں میں اضافہ کر لے گا۔
Takhreej
(۲۹۹۰)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فائدہ: …عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر مسلمان بالآخر نیکیوں میں اضافے اور برائیوں میں کمی کی صورت میں زندگی سے مستفید ہو جاتا ہے، ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کیا ہے کہ انتہائی برے کردار اور عیاشی کے بعد ان کو رجوع الی اللہ نصیب ہو جاتا ہے، چہرے پر سفید بالوں والی سنت نظر آنے لگتی ہے، ذہن تبدیل ہو جاتے ہیں، اخلاق میں نرمی آ جاتی ہے، بسا اوقات حج و عمرہ کی سعادت بھی مل جاتی ہے۔ علی ہذا القیاس۔بہرحال چند لوگ ایسے بھی نظر آ سکتے ہیں، جو اپنی زندگی سے اس طرح نقصان اٹھاتے کہ ان کی پہلی عمر میں نیکی کا رجحان ہوتا ہے اور پچھلی عمر میں برائی کا اور وہ دن بدن فرائض و واجبات میں کمی کر کے اور حرام امور کا ارتکاب کر کے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے مقروض بنتے رہتے ہیں۔ لیکن اکثریت کو دیکھ کر نفع یا نقصان کا حکم لگایا جاتا ہے، نہ کہ چند افراد کو۔
2990
Sahih
۔ (۲۹۹۱) عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ عَلَی الْعَبَّاسِ وَہُوَ یَشْتَکِی فَتَمَنّٰی الْمَوْتَ فَقَالَ: ((یَا عَبَّاسُ! یَا عَمَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ! لَاتَتَمَنَّ الْمَوْتَ إنْ کُنْتَ مَحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَی إِحْسَانِکَ خَیْرٌ لَکَ وَإِنْ کُنْتَ مُسِئْیًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَیْرٌ لَکَ فَـلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ۔ (وَفِی رِوَایَۃٍ) وَإِنْ کُنْتَ مُسِیْئًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَائَ تِکَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۷۴۱۱)
سیدہ ام فضل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیّدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی تمنا کر رہے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! موت کی تمنا مت کرو، اگر تم نیک ہو تو زندہ رہ کر نیکیوں میں اضافہ کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر برے ہو تو زندہ رہنے کی صورت میں توبہ کر سکتے ہو، لہٰذا یہ بھی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پس موت کی خواہش نہ کرو۔ ایک روایت میں ہے: اگر تم بدعمل ہو تو موت کی تاخیر کی صورت میں بدعملی سے توبہ کر نا تمہارے لیے بہترہے۔
Takhreej
(۲۹۹۱) تخریـج: …اسنادہ ضیعف، لجھالۃ ھند بنت الحارث الخثعمیۃ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۳۳۹، والطبرانی: ۲۵/ ۴۴، وابن سعد: ۴/ ۲۳ (انظر: ۲۶۸۷۴)
2991
Zaeef
۔ (۲۹۹۲) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌جَلَسْنَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَکٰی سَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَأَکْثَرَ الْبُکَائَ فَقَالَ: یَالَیْتَنِیْ مِتُّ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا سَعْدُ! اَعِنْدِیْ تَتَمَنَّی الْمَوْتَ؟)) فَرَدَّدَ ذَالِکَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ: ((یَا سَعْدُ! إِنْ کُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّۃِ فَمَا طَالَ عُمُرُکَ أَوْ حَسُنَ مِنْ عَمَلِکَ فَہُوَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۹)
سیّدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور اتنی رقت آمیز گفتگو فرمائی کہ سیّدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے اور خوب روئے، بیچ میں انھوں نے یہ بھی کہا: کاش میں مر چکا ہوتا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم میرے پاس موت کی تمنا کر رہے ہو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔ پھر فرمایا: اے سعد! اگر تم جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو تمہاری عمر جس قدر طویل ہوگی یا اعمال جس قدر اچھے ہوں گے وہ اتنے ہی تمہارے حق میں بہتر ہوں گے۔
Takhreej
(۲۹۹۲) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدا من أجل علی بن یزید الألھانی أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۷۸۷۰ (انظر:۲۲۲۹۳)
2992
Zaeef
۔ (۲۹۹۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : لَا تَمَنَّوُا الْمَوْتَ فَإِنَّ ہَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِیْدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَۃِ أَنْ یَطُوْلَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَیَرْزُقَہُ اللّٰہُ الإِنَابَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۱۸)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم موت کی تمنا نہ کیا کرو،کیونکہ (موت کے بعد والے) امور کی گھبراہٹ بھی بڑی سخت ہے، خوش بختی یہ ہے کہ بندے کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے توبہ کرنے کی توفیق دے دے۔
Takhreej
(۲۹۹۳) تخریـج: …حسن لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۳۲۴۰، ۳۴۲۲، والحاکم: ۴/ ۲۴۰، والبیھقی فی ’’شعب الایمان‘‘: ۱۰۵۸۹ (انظر: ۱۴۵۶۴)
Explanation
فوائد: …’’الْمُطَّلَعِ‘‘ سے مراد وہ امور ہیں جس پر انسان برزخی زندگی میں اور پھر قیامت کے دن اطلاع پائے گا، جبکہ وہ امور، دنیاوی احوال کے مقابلے میں کئی گنا سخت ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیوی پریشانیوں سے نجات پانے کے لیے خود کشی کرنے والا بڑے عذاب میں پھنس جاتا ہے، الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے۔ لہٰذا ہمیں موت کو دنیاوی آزمائشوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے اور زندگی کو بڑی غنیمت سمجھ کر اعمال صالحہ کی کثرت اور رجوع الی اللہ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
2993
Sahih
۔ (۲۹۹۴) عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ، قَالَ أَتَیْنَا خَبَّابًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ نَعُوْدُہُ فَقَالَ: لَوْ لَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ)) لَتَمَنَّیْتُہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۶۸)
حارثہ کہتے ہیں: ہم سیّدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تیمارداری کرنے کے لیے گئے، انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز موت کی تمنا نہ کرے۔
Takhreej
(۲۹۹۴) تخریـج: …حدیث صحیح ، وھذا اسناد فیہ شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ أخرجہ الترمذی: ۲۴۸۳، وابن ماجہ: ۴۱۶۳۔ وأخرجہ البخاری: ۶۴۳۰، ومسلم: ۲۶۸۱ بلفظ: لولا أن رسول اللہV نھانا أن ندعو بالموت، لدعوت بہ۔ (انظر: ۲۱۰۵۴، ۲۱۰۵۹)
Explanation
فوائد: …اس وقت سیّدنا خباب b شدید زخمی تھے اور جسم کے سات مقامات پر ان کو داغا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت تکلیف سے دوچار تھے، لیکن صبر کا دامن تھامے رکھا۔
2994
Sahih
۔ (۲۹۹۵) عَنْ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ بِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا وَجِعٌ وَأَنَا أَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ إِنْ کَانَ أَجَلِیْ قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِیْ وَإِنْ کَانَ آجِلاً فَارْفَعْنِی، وَإِنْ کَانَ بَلَائً فَصَبِّرْنِی، قَالَ: ((مَا قُلْتَ؟)) فَأَعَدْتُّ عَلَیْہِ فَضَرَبَنِیْ بِرِجْلِہِ، فَقَالَ: ((مَا قُلْتَ؟)) قَالَ: فَأَعَدْتُّ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ عَافِہِ أَوْ اشْفِہِ (وَفِی رِوَایَۃٍ، اَللّٰہُمَّ اشْفِہِ بِدُوْنِ شَکٍ)۔)) قَالَ: فَمَا اشْتَکَیْتُ ذَالِکَ الْوَجَعَ بَعْدُ۔(مسند احمد: ۶۳۷)
سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں بیمار تھا اور یہ کہہ رہا تھا: یا اللہ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو (موت دے کر) مجھے راحت عطا فرما،اگر موت آنے میں دیر ہے تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ میری آزمائش ہے تو مجھے صبر کی توفیق عطا فرما۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم نے کیا کہا ہے؟ جب میں نے اپنے الفاظ دہرائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پائوں مجھے مارا اور فرمایا: کیا کہا تم نے؟ میں نے پھر اپنے الفاظ دہرائے، اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو عافیت دے۔ یا فرمایا کہ اے اللہ! اس کو شفا دے۔ ایک روایت میں شک کے بغیر صرف یہ الفاظ ہیں: اے اللہ! اس کو شفا دے۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے اس تکلیف کی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔
Takhreej
(۲۹۹۵) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ الترمذی: ۳۵۶۴ (انظر:۶۳۷، ۸۴۱)
Explanation
فائدہ: …معلوم ہواکہ کسی بیماری اور تکلیف سے گھبرا کر موت کی دعا کرنامنع ہے، اگرکوئی آدمی تنگ ہو کر ایسی دعا کرے تو اسے سمجھانا چاہئے اور اس کے لیے صحت اور شفا یابی کی دعا کرنی چاہئے۔
2995
Sahih
۔ (۲۹۹۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ بِلَالٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَتْ فُلَانَۃُ وَاسْتَرَاحَتْ، فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ: ((إِنَّمَا یَسْتَرِیْحُ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَفِی رِوَایَۃٍ: مَنْ غُفِرَلَہُ)) (مسند احمد: ۲۴۹۰۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت فوت ہو گئی ہے اور راحت پا گئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غصے میں آگے اور فرمایا: صرف اور صرف راحت تو وہ پاتا ہے جو جنت میں داخل ہوتا ہے، دوسری روایت میں ہے: جس کو بخش دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۲۹۹۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن لھیعۃ، وان کان یحیی من قدماء أصحابہ سماع قتیبۃ منہ، تفرد برفعہ، ومرسلہ ھو الصحیح أخرجہ الطبرانی فی ’’الأوسط‘‘: ۹۳۷۵ (انظر:۲۴۳۹۹)
Explanation
فوائد: …ہم کسی مرنے والے کسی نیک یا بد کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ راحت پا گیا ہے یا عذاب میں پھنس گیا ہے، کیونکہ اس چیز کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے کہ حقیقت میں کون نیک ہے، کون برا ہے اور کس کی نیکیاں قبول نہیں ہوئیں اور کس کی برائیاں معاف کر دی گئی ہیں۔ ہم حسن ظن یا سوئے ظن کی روشنی میں اپنے اندازے کا اظہار کر سکتے ہیں، نہ کہ حتمی نتیجے کا۔ بہرحال مرنے کے بعد جنت میں داخل ہونے والا حقیقی راحت پا جاتا ہے اور جس کو جنت نہیں ملتی وہ بڑی مصیبت سے دوچار ہو جاتا ہے۔ آپaنے جن ہستیوں کا نام لے کر ان کے جنتی ہونے کی وضاحت کر دی، ان کے بارے میں بالیقین یہ کہنا درست ہے کہ وہ راحت پا گئی ہیں۔
2996
Zaeef

Chapters

10
01
اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور حسن خاتمہ کا بیان
9 Hadith
02
موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
9 Hadith
03
نیک عمل والی طویل عمر اور اجنبیت والی موت مرنے والے کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
04
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
12 Hadith
05
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
9 Hadith
06
اس کا بیان کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی علاقے میں قبض کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں کوئی ضرورت بنا دیتا ہے نیز اچانک موت کا بیان
4 Hadith
07
قریب الموت کو دکھائے جانے والے مناظر اور جسم سے جدا ہونے کے بعد روح کا ٹھکانہ
3 Hadith
08
روح سے متعلقہ مسائل
8 Hadith
09
میت کی تجہیز و تکفین اور قرضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا
4 Hadith
10
میت کو ڈھانپنے اور اسے بوسہ دینے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.