۔ (۲۹۸۸) عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِکَ رضی اللہ عنہ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَتَمَنَّ أَحَدُکُمْ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَہُ، فَإِنْ کَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْیَقُلْ: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۱۹۷)
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے، اگر کسی کا اس کے علاوہ اور کوئی چارۂ کار نہ ہو تو وہ یہ دعا کرے: اَللّٰہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِّیْ۔ (اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ، جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور اس وقت مجھے فوت کر دینا، جب میرے لیے فوت ہونا بہتر ہو۔)۔
Takhreej
(۲۹۸۸) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۵۶۷۱، ومسلم: ۲۶۸۰(انظر:۱۳۰۲۰، ۱۳۱۶۵)
Explanation
فوائد: …ہر قسم کی جسمانی اور روحانی پریشانی پر صبر کرنا چاہیے اور کسی دکھ کی بنا پر موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے، اگر کسی پر اس کا دکھ زیادہ ہی غلبہ پا لے تو وہ حدیث میں مذکورہ دعا پڑھا کرے۔ کسی تکلیف کے بغیر نیکی والی زندگی اور حسنِ انجام والی موت کا سوال کرنا پسندیدہ عمل ہے، اس حدیث کا مصداق وہ شخص ہے جو کسی مصیبت سے تنگ آ کر موت کو اپنے لیے بہتر سمجھنے لگ جاتا ہے۔
2988
Sahih