TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دوسروں کو کسی کے مرنے کی خبر دینا - دوسروں کو کسی کے مرنے کی خبر دینا - میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of میت پر رونے، سوگ کرنے اور موت کی اطلاع دینے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 5 · 3 Hadith
۔ (۳۰۸۶) عَنْ بِلَالٍ الْعَبَسِیِّ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ کَانَ إِذَا مَاتَ لَہُ مَیِّتٌ قَالَ: لَا تُؤْذِنُوْا بِہِ أَحْدًا، إِنِّی أَخَافُ أَنْ یَکُوْنَ نَعْیًا، إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہٰی عَنِ النَّعْیِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۴۸)
جب سیّدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کوئی آدمی فوت ہوتا تو وہ کہتے: کسی کو اس کے فوت ہونے کی اطلاع نہ دو، مجھے خطرہ ہے کہ کہیں یہ خبر دینا اطلاع کرنے کی ممنوعہ صورت نہ بن جائے اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کے مرنے کی اطلاع دینے سے منع فرمایا۔
Takhreej
(۳۰۸۶) تخریـج: …اسناہ ضعیف لانقطاعہ، بلال العبسی لم یسمع من حذیفۃ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۴۷۶، والترمذی: ۹۸۶ (انظر: ۲۳۴۵۵)
3086
Zaeef
۔ (۳۰۸۷)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ حُذَیْفَہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّعْیِ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۹)
(دوسری سند)سیّدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کے مرنے کی اطلاع نشر کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۳۰۸۷)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
3087
Zaeef
۔ (۳۰۸۸) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سُئِلَ جَابِرٌ عَمَّا یُدْعٰی لِلْمَیِّتِ؟ فَقَالَ: مَا أَبَاحَ لَنَا فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا أَبُوْ بَکْرٍ وَلَا عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ۔ (مسند احمد: ۱۴۹۰۷)
ابوزبیرکہتے ہیں: سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میت کے لیے دی جانے والی پکار کے بارے میں پوچھا گیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی۔
Takhreej
(۳۰۸۸) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۰۱ (انظر: ۱۴۸۴۶)
Explanation
فائدہ: …’’نَعْیٌ‘‘ یا ’’نَعِیٌّ‘‘ کے لغوی معانی ہیں: کسی کی موت کی خبر دینا۔آپaنے اس سے منع فرمایا ہے، جبکہ جب آپaنے بعض لوگوں کی موت کا اعلان کیا تو اس وقت یہی الفاظ استعمال کیے گئے، مثلا: سیّدنا ابوہریرہ bکہتے ہیں: (( اِنَّّ رَسُوْلَ اللّٰہِVنَعَی النَّجَاشِیَّ فِیْ الْیَوْمِ الَّذِیْ مَاتَ فِیْہِ، خَرَجَ اِلَی الْمُصَلّٰی فَصَفَّ بِھِمْ وَکَبَّرَ اَرْبَعًا۔)) یعنی: ’’جس دن نجاشی فوت ہوا، اسی دن آپaنے اس کی موت کی خبر دی، پھر نماز گاہ کی طرف نکلے، لوگوں کی صفیں بنوائیں اور چار تکبیرات کہیں۔‘‘ (بخاری: ۱۲۴۵) اسی طرح سیّدنا جعفر، سیّدنا زید اور سیّدنا ابن رواحہeوغیرہ کا اعلان بھی کیا گیا۔
3088
Zaeef