TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان - میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان - میت کو غسل دینے کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of میت کو غسل دینے کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 4 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۳۰۹۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَأَدّٰی فِیْہِ الْأَماَنَۃَ، وَلَمْ یُفْشِ عَلَیْہِ مَا یَکُوْنُ مِنْہُ عِنْدَ ذَالِکَ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہٗ۔)) وَقَالَ: ((لِیَلِہِ أَقْرَبُکُمْ مِنْہُ، إِنْ کَانَ یَعْلَمُ، فَإِنْ کَانَ لَا یَعْلَمُ فَمَنْ تَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَہُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۳۹۳)
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کو غسل دے، (اس سلسلہ کے تمام امور کی) ادائیگی میں امانت کا خیال رکھے اور میت کی (پردہ والی اور ناپسندیدہ چیزوں کا) افشا نہ کرے تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہو جاتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میت کا قریبی رشتہ دار اس کے امور کا ذمہ دار بنے، بشرطیکہ اسے (ان امور کا) علم ہو، وگرنہ جس کو تم تقوے اور امانت والا سمجھو (اس کو یہ ذمہ داری سونپ دو)۔
Takhreej
(۳۰۹۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی، ویحیی الجزارُ لم یذکروا لہ سماعا من عائشۃ أخرجہ الطبرانی فی ’’الأوسط‘‘: ۳۵۹۹، والبیھقی: ۳/ ۳۹۶ (انظر: ۲۴۸۸۱)
3096
Zaeef
۔ (۳۰۹۷) عَنْ صَالِحٍ أَبِی حُجَیْرٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ خُدَیْجٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا وَکَفَّنَہُ وَتَبِعَہُ وَوَلِیَ جُثَّتَہُ، رَجَعَ مَغْفُوْرًا لَہُ۔ قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِی: لَیْسَ بِمَرْفُوْعٍ۔ (مسند احمد: ۲۷۸۰۰)
صحابی ٔ رسول سیّدنا معاویہ بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جو شخص میت کو غسل اور کفن دے، پھر اس کے ساتھ جائے اور اس کے دفن کا اہتمام کرے تو بخشا بخشایا واپس آئے گا۔ امام احمدk نے کہا: یہ مرفوع نہیں ہے۔
Takhreej
(۳۰۹۷) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال صالح أبی حجیر بن حجیر، ثم ان فی سماع ثابت من صالح شکا، أشار الیہ ابوزرعۃ العراقی فی ’’ذیل الکاشف‘‘ أخرجہ البخاری فی ’’التاریخ الکبیر‘‘: ۴/ ۲۷۵، وابن سعد: ۷/ ۵۰۳ (انظر: ۲۷۲۵۸)
Explanation
فوائد: …یہ حدیث حکماً مرفوع ہے، کیونکہ ایسی بات اپنی رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔
3097
Zaeef
۔ (۳۰۹۸) عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَنَّ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَبْضَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ وَغَسَّلُوْا وَکَفَّنُوْہُ وَحَنَّطُوْہُ وَحَفَرُوْا لَہُ وَأَلْحَدُوْا لَہُ وَصَلَّوْا عَلَیْہِ ، ثُمَّ دَخَلُوْا قَبْرَہُ فَوَضَعُوْہُ عَلَیْہِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوْا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَیْہِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالُوْا: یَا بَنِیْ آدَمَ! ہٰذِہٖ سُنَّتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۶۰)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کیا، پھر ان کو غسل دے کر کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، بعد ازاں ان کی قبر کھودی اور لحد تیار کی۔ پھران کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کی قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں اتار دیا، پھر اس پر اینٹیں رکھ کرقبر سے باہر آئے اور اس پر مٹی ڈال کر کہا: اے بنی آدم! تمہارے لیے مردوں کو دفن کرنے کا یہ طریقہ ہے۔
Takhreej
(۳۰۹۸) تخریـج: …ھذا حدیث طویل ، اسنادہ ضعیف، عتی بن ضمرۃ السعدی یضعف فیما یتفرد بہ لجھالتہ، وان وثقہ بعضھم أخرجہ الحاکم: ۲/ ۵۴۵، والطبرانی فی ’’الأوسط‘‘: ۸۲۵۷، والطیالسی: ۵۴۹، وابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۴۳، والبیھقی: ۳/ ۴۰۴، وبعضھم یختصرہ (انظر: ۲۱۲۴۰)
Explanation
فوائد: …یہ روایت تو موقوف اور ضعیف ہے، لیکن ہماری شریعت میں کفن و دفن کا یہی انداز مشروع ہے۔
3098
Zaeef
۔ (۳۰۹۹) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لَا یَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا إِلاَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۷)
سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں دوسرے آدمی پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔
Takhreej
(۳۰۹۹) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۲۵۹۰ (انظر: ۹۰۴۵)
Explanation
فوائد: …پردہ ڈالنے سے مراد عیب کو چھپانا ہے، یہ حدیث اپنے عموم کی بنا پر زندہ اور میت دونوں کو شامل ہے، زندہ کے عیب کے بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کی اصلاح کے لیے ہر ممکنہ شرعی کوشش کی جائے گی، وگرنہ خاموشی، لیکن اگر اس عیب کی وجہ سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو گا، تو اسے آگاہ کیا جائے گا۔
3099
Sahih