TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

میت کے بدن و کفن کو خوشبو لگانے کا بیان، الّا یہ کہ وہ محرِم ہو، نیز محرم کی تکفین کا بیان - میت کے بدن و کفن کو خوشبو لگانے کا بیان، الّا یہ کہ وہ محرِم ہو، نیز محرم کی تکفین کا بیان - کفن اور اس سے متعلقہ مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of کفن اور اس سے متعلقہ مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 5 · 5 Hadith
۔ (۳۱۲۸) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((إِذَا أَجْمَرْتُمْ الْمَیِّتَ، فَأَجْمِرُوْہُ ثَـلَاثًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۹۴)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جب میت کو عود سے دھونی دو تو تین دفعہ دھونی دیا کرو۔
Takhreej
(۳۱۲۸) تخریـج: …اسنادہ قوی علی شرط مسلم أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۳/ ۲۶۵، وابویعلی: ۲۳۰۰، وابن حبان: ۳۰۳۱، والحاکم: ۱/ ۳۵۵، والبیھقی: ۳/ ۴۰۵ (انظر: ۱۴۵۴۰)
Explanation
فوائد: …اگر عود میسر نہ ہو تو کوئی سی بہترین خوشبو لگائی جا سکتی ہے، تاکہ مقصود پورا ہو جائے۔ احرام والا آدمی اس حکم سے مستثنی ہے، اگلی حدیث میں اس کی وضاحت آ رہی ہے۔
3128
Sahih
۔ (۳۱۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَجُلًا کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَوْقَصَتْہُ نَاقَتُۃُ وَہُوَ مُحَرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِغْسِلُوْہُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَکَفِّنُوْہُ فِی ثَوْبَیْہِ، وَلَا تُمِسُّوْہُ بِطِیْبٍ وَلَا تُخَمِّرُوْا رَأْسَہُ فَإِنَّہُ یُبَعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّیًا۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۰)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر میںتھا، اس کی اونٹنی نے اس کو اس طرح گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کی پتوں کے ساتھ غسل دے کر اس کے ان ہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور اس کے سر کو بھی نہ دھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۲۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۸۵۱، ومسلم: ۱۲۰۶ (انظر: ۱۸۵۰)
3129
Sahih
۔ (۳۱۳۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَقُوْلُ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِیْرِہِ فَوُقِصَ فَمَاتَ (الْحَدِیْثَ کَمَا تَقَدَّمَ وَ فِیْہِ) فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُہِلاًّ وَقَالَ مَرَّۃً یُہِلُّ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۴)
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اونٹ سے گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: …کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۳۰)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
3130
Sahih
۔ (۳۱۳۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَأَمَرَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُغَسَّلَ بِمَائٍ وَ سِدْرٍ، وَأَنْ یُکَفَّنَ فِی ثَوْبَیْنِ، وَقَالَ: ((لَا تُمِسُّوْہُ بِطِیْبٍ خَارِجَ رَأْسِہٖ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ، ثُمَّ إِنَّہُ حَدَّثَنِی بِہِ بَعْدَ ذَالِکَ،فَقَالَ: خَارِجَ رَأْسِہٖ أَوْ وَجْہِہٖ فَإِنَّہُ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّدًا۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۰)
(تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دے کر دو کپڑوں میں کفن دے دو، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر بھی ننگا ہونا چاہیے۔ اس کے بعد امام شعبہ نے اس حدیث کو یوں بیان کیا: اس کا سر یا چہرہ ننگاہونا چاہیے، کیونکہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا سر چپکایا ہوا ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۳۲)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …آپa کے زمانے میں احرام باندھنے والے بعض لوگ سر پر کوئی چیز لگا کر بالوں کو چپکا لیا کرتے تھے، تاکہ وہ جڑیں رہیں اور خاک آلود نہ ہوں، ممکن ہے کہ اس آدمی نے بھی اپنے بالوں کو چپکایا ہوا ہو، جس کی وجہ سے آپaنے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہو۔ احرام کی حالت میں فوت ہونے والے کی یہ خصوصیات ہیں کہ اسے دو کپڑوں میں ہی کفن دیا جائے اور سر کو نہ ڈھانپا جائے اور خوشبو بھی نہ لگائی جائے، امام احمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابو حنیفہkکا خیال یہ ہے اس کے ساتھ عام میت والا سلوک کیا جائے، اس حدیث ِ مبارکہ کی روشنی میں اول الذکر مسلک راجح ہے۔
3132
Sahih