TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3459 - فقیر اور مسکین کا بیان - زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 7 in this chapter
فقیر اور مسکین کا بیان
۔ (۳۴۵۹) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَںَّ رَجُلاً مِنَ الْاَنْصَارِ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَا إِلَیْہِ الْحَاجَۃَ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا عِنْدَکَ شَیْئٌ؟)) فَاَتَاہُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَشْتَرِیْ ہٰذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا آخُذُہُمَا بِدِرْہَمٍ، فَقَالَ: ((مَنْ یَزِیْدُ عَلٰی دِرْہَمٍ؟)) فَسَکَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((مَنْ یَزِیْدُ عَلٰی دِرْہَمٍ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: اَنَا آخُدُہُمَا بِدِرْہَمَیْنِ، فَقَالَ: ((ہُمَا لَکَ۔)) ثُمَّ قاَل: ((إِنَّ الْمَسْاَلَۃَ لاَ تَحِلُّ إِلَّا لِاَحَدِ ثَلَاثٍ: ذِی دَمٍ مُوجِعٍ اَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ اَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۵۸)
۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اپنی ضرورت کی شکایت کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے؟ پس وہ ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں کون خریدے گا؟ ایک صحابی نے کہا: میں ایک درہم کے عوض خریدوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ہے جو ایک درہم سے زیادہ قیمت لگائے گا؟ لوگ خاموش رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: کوئی ایسا آدمی ہے جو ایک درہم سے زائد قیمت لگائے گا؟ ایک آدمی نے کہا: جی میں یہ چیزیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) یہ تمہاری ہو گئیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوال کرنا صرف تین افراد کے لیے حلال ہے: کسی مقتول کی تکلیف دہ دیت ادا کرنے والا، بہت زیادہ مقروض اور بہت زیادہ فقیر۔
3459
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۳۴۵۹) اسنادہ ضعیف، لجھالۃ حال ابی بکر الحنفی، لکن قولہ: ((ان المسألۃ لا تحل …۔)) صحیح بالشواھد۔ اخرجہ ابوداود: ۱۶۴۱، وابن ماجہ: ۲۱۹۸، والترمذی: ۱۲۱۸ (انظر: ۱۲۱۳۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… سنن ابی داود کی روایت میں یہ تفصیل بھی موجود ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اِن دو درہموں کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک درہم کا کھانے خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دے اور دوسرے درہم کا کلہاڑا خرید کر لائے، اس نے ایسا ہی کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں دستہ ڈالا اور اسے فرمایا: ’’جا اور لکڑیاں کاٹ کر بیچنا شروع کر دے اور میں تجھے پندرہ دن نہ دیکھنے پاؤں۔‘‘ وہ چلا گیا اور ان ہدایات کے مطابق کام کرتا رہا، جب وہ واپس آیا تو وہ دس درہموں کا مالک بن چکا تھا، پھر اس نے بعض درہموں سے کپڑے خریدے اور بعض سے کھانا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کییہ صورتحال دیکھ کر فرمایا: ’’یہ کام تیرے لیے اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن تو اس حال میں آتا کہ لوگوں سے مانگنے کا نکتہ اور نشان تیری چہرے پر ہوتا، سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے: …۔‘‘ ’’کسی مقتول کی دیت ادا کرنے والا‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی آدمییہذمہ داری اٹھا لیتا ہے کہ وہ قاتل کی طرف سے مقتول کی دیت اس کے لواحقین کو ادا کرے گا، لیکن بعد میں اس کا اہتمام کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہتی، سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے۔ اِس اور اِس موضوع کی دیگر شرعی نصوص کا تقاضا یہ ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوال کرنا ناجائز ہے، ہر شخص کو چاہیے کہ وہ حسب ِ استطاعت اس سے گریز کرے، احادیث ِ مبارکہ اس میں بھیک مانگنے کی بڑی مذمت کی گئی ہے، الا یہ کہ کسی کی شرعی مجبوری ہو، لیکن ایسے مجبور کو بار بار سوچنا چاہیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا عذر مقبول ہو گا۔

Related Chapters

23
1
Chapter: What Has Been Related About Seeking Assistance (From Allah) By The Destitute Muslims
باب: غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
Musnad Ahmad
3
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
Musnad Ahmad
4
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
5
راست روی اور نیکی کے ساتھ فقیری کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
6
فقیر مہاجرین اور کمزور لوگوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
7
فقیر لیکن سوال سے بچنے والے میاں بیوی کے قصے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی کی گئی تکریم کا بیان
Musnad Ahmad
8
(6) CHAPTER. The saying of Allah: ... Or giving Sadaqa … (V.2:196) Here Sadaqa is in the form of feeding six poor person.
اللہ تعالیٰ کا قول ” یا صدقہ “ ( دیا جائے ) یہ صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے
Sahih Bukhari
9
(7) CHAPTER. The Fidya (compensation for a missed or wrongly practised religious ceremony) in the form of feeding (six person) each with one half a Sa (of food).
فدیہ میں ہر فقیر کو آدھا صاع غلہ دینا
Sahih Bukhari
10
(18) CHAPTER. The Statement of Allah: “And when the relatives and the orphans and Al-Masakin (the poor) are present at the time of division, give them out of the property ...” (V.4:8)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”جب (میراث کی تقسیم) کے وقت رشتہ دار (جو وارث نہ ہوں) اور یتیم اور مسکین آ جائیں تو ان کو بھی ترکے میں سے کچھ کچھ کھلا دو (اور اگر کھلانا نہ ہو سکے تو) اچھی بات کہہ کر نرمی سے ٹال دو۔
Sahih Bukhari
11
(2) CHAPTER. “...But I fhe (the guardian) is poor, let him have for himself what is just and reasonable (acording to his work). And when you release their property to them, take witness in their presence; and Allah is All-Sufficient in taking account.” (V.4:6)
آیت ( ( ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف ) ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
12
(26) CHAPTER. The one who looks after and works for AI-Miskin (a poor person).
مسکین اور محتاجوں کی پرورش کرنے والا
Sahih Bukhari
13
(4) CHAPTER. For expiation (of one's oath) one should feed ten poor persons no matter whether they are relatives or not.
کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہدار ہوں یادور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے
Sahih Bukhari
14
Chapter: The poor person who cannot find enough to make him independent of means, but the people do not realize that he is in need, so they do not give Charity to him
ایسا مسکین جسے نہ تو نگری حاصل ہے نہ اس کا پتہ چلتا ہے کہ اس کو صدقہ دیا جائے
Sahih Muslim
15
Chapter: The Saying of Allah Most High: ... And as for those who can fast with difficulty, they have) a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day) is Abrogated by His saying: ... So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Sawm (fasts) that month ...
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور ان لوگوں پرجو اس کی طاقت رکھتے ہیں‘فدیہ ‘ایک مسکین کا کھانا ہے ‘‘اس کے فرمان :’’اور تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے ‘‘کی بنا پر منسوخ ہو گیا
Sahih Muslim
16
Chapter: The Virtue Of Treating Widows, The Poor And Orphans Kindly
بیوہ مسکین اور یتیم کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت
Sahih Muslim
17
Chapter: The Virtue Of Spending On The Poor And Wayfarers
مسکینوں اور مسافر پر خرچ کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
18
CHAPTER: A Poor Man Can Give A Gift From The Sadaqah To A Rich Man.
باب: فقیر مالدار کو صدقہ کا مال ہدیہ کر سکتا ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
19
CHAPTER: The Crime Of A Slave Who Belongs To Poor People.
باب: فقیر کا غلام کوئی جرم کرے تو اس کی سزا کا حکم ۔
Sunnan Abu Dawood
20
فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
21
باب: آیت کریمہ: ”جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ کی تفسیر۔
Sunnan Nisai
22
باب: مسکین کی تفسیر۔
Sunnan Nisai
23
باب: گھمنڈی فقیر کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

123
Musnad Ahmad
303
۔ (۳۰۳)۔عن أَبِیْ نَمْلَۃَ الْاَنْصَارِیِّؓ أَنَّہُ بَیْنَمَا ہُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْیَہُوْدِ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! ھَلْ تَتَکَلَّمُ ہٰذِہِ الْجَنَازَۃُ؟ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَللّٰہُ أَعْلَمُ۔))قَالَ الْیَہُوْدِیُّ: أَنَا أَشْہَدُ أَنَّہَا تَتَکَلَّمُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا حَدَّثَکُمْ أَھْلُ الْکِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوْہُمْ وَلَا تُکَذِّبُوْہُمْ، وَقُوْلُوْا: آمَنَّا بِاللّٰہِ وَ کُتُبِہِ وَرُسُلِہِ، فَاِنْ کَانَ حَقًّا لَمْ تُکَذِّبُوْہُمْ وَاِنْ کَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوْہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۵۷)
سیدنا ابو نملہ انصاریؓ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک یہودی آدمی آ گیا اور اس نے کہا: اے محمد! کیا یہ جنازے کلام کرتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اُس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ کلام کرتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو کوئی ایسی چیز بیان کریں تو نہ ان کی تصدیق کیا کرو اور نہ تکذیب، بلکہ اس طرح کہہ دیا کرو: آمَنَّا بِاللّٰہِ وَ کُتُبِہِ وَرُسُلِہِ (ہم اللہ تعالی، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔) پس اگر وہ حق ہوا تو تم نے اس کو جھٹلایا نہیں اور اگر وہ باطل ہوا تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
Musnad Ahmad
1155
۔ (۱۱۵۵)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ الْمِصْرِیِّ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْیَزَنِیِّ، وَیَزَنُ بَطْنٌ مِنْ حِمْیَرَ، قَالَ: قَدِمَ عَلَیْنَا أَ بُوْ أَ یُّوْبَ خَالِدُ بْنُ زَیْدٍ الْأَنْصَارِیُّؓ صَاحِبُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِصْرَ غَازِیًا وَکَانَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَبَسٍ الْجُہَنِیُّ أَمَّرَہُ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سَفْیَانَ، قَالَ: فَحَبَسَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ بِالْمَغْرِبِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ) فَلَمَّا صَلّٰی قَامَ اِلَیْہِ أَبُوْأَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیُّ فَقَالَ لَہُ: یَا عُقْبَۃُ! أَہٰکَذَا رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم؟ أَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَزَالُ أُمَّتِیْ بِخَیْرٍ أَوْ عَلَی الْفِطْرَۃِ مَا لَمْ یُؤَخِّرُوْا الْمَغْرِبَ حَتّٰی تَشْتَبِکَ النُّجُوْمُ۔)) قَالَ: فَقَالَ: بَلٰی، قَالَ: فَمَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: شُغِلْتُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ أَیُّوْبَ: أَمَا وَاللّٰہِ! مَا بِیْ اِلَّا أَنْ یَظُنَّ النَّاسُ أَنَّکَ رَأَیْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ ہٰذَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۴۶۲)
مرثد بن عبد اللہ یزنی کہتے ہیں: صحابیِ رسول سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ جہاد کرنے کے لیے مصر تشریف لائے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو ہمارا امیر بنایا ہوا تھا، ایک دن سیدنا عقبہؓ نمازِ مغرب سے مصروف ہو گئے اور اس نماز کو لیٹ کر دیا، پس جب انھوں نے نماز پڑھائی تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ ان کی طرف گئے اور ان سے کہا: عقبہ! کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اسی طرح دیکھا ہے؟ کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ میری امت اس وقت تک خیر یا فطرت پر رہے گی، جب تک نماز مغرب کو ستاروں کے خلط ملط ہونے تک لیٹ نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا؛ جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں مشغول ہو گیا تھا۔ سیدنا ابو ایوبؓ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، لیکن یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
Musnad Ahmad
2603
۔ (۲۶۰۳) عَنْ أَبِی اِسْحَاقَ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیَّ یَخْطُبُ فَقَالَ: أَخْبَرَنَا الْبَرَائُ (بْنُ عَازِبٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ غَیْرُ کَذُوْبٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ قَامُوا قِیَامًا حَتّٰی یَسْجُدَ ثُمَّ یَسْجُدُوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۰۵)
عبداللہ بن یزید انصاری نے اپنے خطبے میں کہا: سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خبر دی اور وہ جھوٹے نہیں ہیں (یعنی سچے ہیں) کہ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو وہ (سب صحابہ) کھڑے رہتے، یہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سجدہ کرتے، پھر وہ سجدہ میں جاتے ۔
Musnad Ahmad
3495
۔ (۳۴۹۵) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الْاَنْصَارِیِّ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ اُنَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌حَدَّثَہُ اَنَّہُمْ تَذَاکَرُوْا ہُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَوْمًا الصَّدَقَۃَ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اَلَمْ تَسْمَعْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ ذکَرَ غُلُوْلَ الصَّدَقَۃِ، اَنَّہُ مَنْ غَلَّ فِیْہَا بَعِیْرًا اَوْ شَاۃً، اَتٰی بِہِ یَحْمِلُہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ: بَلٰی۔ (مسند احمد: ۱۶۱۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک روز میرے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مابین صدقہ کے متعلق گفتگو ہونے لگی،سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ نہیں سنا تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ میں خیانت کا ذکر کیا تو اس وقت یہ بھی فرمایا تھا: جس نے صدقہ کے مال میں ایک اونٹیا ایک بکری کی خیانت کی، تو وہ قیامت والے دن اسے اٹھا کر حاضر ہو گا؟ سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی بالکل۔
Musnad Ahmad
3510
۔ (۳۵۱۰) عَنْ سَہْلِ بْنِ الْحَنْظَلِیَّۃِ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ عُیَیْنَۃَ وَالْاَقْرَعَ سَاَلَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا، فَاَمَرَ مُعَاوِیَۃَ اَنْ یَکُتَب بِہِ لَہُمَا فَفَعَلَ وَخَتَمَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَمَرَ بِدَفْعِہِ إِلَیْہِمَا، فَاَمَّا عُیَیْنَۃُ فَقَالَ: مَا فِیْہِ؟ فَقَالَ: ((فِیْہِ الَّذِی اَمَرْتُ بِہِ فَقَبَّلَہُ۔)) وَعَقَدَہُ فِی عِمَامَتِہِ وَکَانَ اَحْکَمَ الرَّجُلَیْنِ، وَاَمَّا الْاَقْرَعُ فَقَالَ: اَحْمِلُ صَحِیْفَۃً لَا اَدْرِیْ مَا فِیْہَا کَصَحِیْفَۃِ الْمُتَلَمِّسِ، فَاَخْبَرَ مُعَاوِیَۃُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَوْلِہَمَا وَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَاجَۃٍ فَمَرَّ بِبَعِیْرٍ مُنَاخٍ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ اَوَّلِ النَّہَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِہِ آخِرَ النَّہَارِ وَہُوَ عَلَی حَالِہٖفَقَالَ: ((اَیْنَ صَاحِبُ ھٰذَا الْبَعِیْرِ؟)) فَابْتُغِیَ، فَلَمْ یُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِتَّقُوْا اللّٰہَ فِی ھٰذِہِ الْبَہَائِمِ، ثُمَّ ارْکَبُوہَا صِحَاحًا وَارْکَبُوْہَا سِمانًا کَالْمُتَسَخِّطِ اَنَفًا، إِنَّہُ مَنْ سَاَلَ وَعِنْدَہُ مَا یُغْنِیْہِ فَإِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ نَارِجَہَنّمَ۔)) قَاُلْوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا یُغْنِیْہِ؟ قَالَ: ((مَا یُغَدِّیْہِ وَ یُعَشِّیِْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۷۵)
۔ انصاری صحابی سیدناسہل بن حنظلیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ عینہ اور اقرع دونوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ مانگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ (ان کے علاقے کے عامل کے نام) ان کے حق میں کچھ لکھے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تحریر لکھی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر مہر لگائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ یہ تحریر ان کے سپرد کر دے۔ عیینہ نے پوچھا کہ اس میں لکھا ہوا کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس میں وہی کچھ لکھا ہوا ہے جس کا میں نے حکم دیا۔ اس نے اس تحریر کا بوسہ لیا اور اس کو اپنی پگڑی میں باندھ لیا، وہ ان میں سے دانا اور عقلمند آدمی تھا۔ اقرع نے کہا: میں نے ایک تحریر اٹھائی ہوئی ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے، یہ تو مُتَلَمِّس کے صحیفے کی طرح کی بات ہے۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان دونوں کی باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتا دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لے گئے، دن کے شروع میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا گزر ایک ایسے اونٹ کے پاس سے ہوا، جسے مسجد کے دروازے پر بٹھایا گیا تھا،جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے دن کے آخر میں گزرے تو وہ اونٹ اسی جگہ پر اسی طرح بیٹھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ اسے تلاش تو کیا گیا مگر وہ نہ ملا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ،جب تم ان پر سوار ہو تو یہ تندرست ہونے چاہئیں، پھر جب تم ان پر سواری کرو تو یہ موٹے تازے ہونے چاہئیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ باتیں غصے کی حالت میں ارشاد فرمائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص غنی کے باوجود مانگتا ہے، وہ جہنم کی آگ میں اضافہ کرتاہے۔ صحابہ نے کہا: کتنی چیز اسے کفایت کرے گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چیز کی اتنی مقدار ہو کہ صبح اور شام کا کھانا بن جائے۔
Musnad Ahmad
3534
۔ (۳۵۳۴) عَنْ ہِلَالِ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: نَزلَتُ عَلٰی اَبِیْ سَعِیْدٍ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَضَمَّنِی وَإِیَّاہُ الْمَجْلِسُ، قَالَ: فَحَدَّثَ اَنَّہُ اَصْبَحَ ذَاتَ یَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ عَلَی بَطْنِہِ حَجَرًا مِنَ الْجُوْعِ، فَقَالَتْ لَہُ امْرَاَتُہُ اَوْ اُمُّہُ: اِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْاَلْہُ فَقَدْ اَتَاہُ فُلَانٌ فَسَاَلَہُ فَاَعْطَاہُ وَاَتَاہُ فُلَانٌ فَسَاَلَہُ فَاَعْطَاہُ، قَالَ: فَقُلْتُ: حَتّٰی اَلْتَمِسَ شَیْئًا، قَالَ: فَالْتَمَسْتُ فَلَمْ اَجِدْ شَیْئًا، فَاَتَیْتُہُ وَہُوَ یَخْطُبُ فَاَدْرَکْتُ مِنْ قَوْلِہِ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((مَنِ اسْتَعَفَّ یُعِفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَغْنٰییُغْنِہِ اللّٰہُ، وَمَنْ سَاَلَنَا إِمَّا اَنْ نَبْذُلَ لَہُ وَإِمَّا اَنْ نُواسِیَہُ، وَمَنْ یَسْتَعِفُّ عَنَّا اَوْ یَسْتَغْنِیْ اَحَبُّ إِلَیْنَا مِمَّنْ یَسَاَلُنَا۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ فَمَا سَاَلْتُہُ شَیْئًا، فَمَا زَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَرْزُقُنَا حَتّٰی مَا اَعْلَمُ فِی الْاَنْصَارِ اَہْلَ بَیْتٍ اَکْثَرَ اَمْوَالاً مِنَّا۔ (مسند احمد: ۱۱۴۲۱)
۔ ہلال بن حصین کہتے ہیں: میں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں جا کر ٹھہرا، ہم ایک مجلس میں جمع ہوئے، سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا، ان کی اہلیہیا والدہ نے ان سے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ مانگ کر لائو، جب فلاں آدمی نے جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیا تھا، اسی طرح فلاں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا کر مانگا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بھی عطا کیا تھا۔ میں (ابو سعید)نے جواباً کہا: میں پہلے (کسی اور ذریعہ سے) کوئی چیز حاصل کرنے کی کوشش کروں گا، پھر میں نے ایسے ہی کیا، مگر مجھے (کہیں سے) کچھ بھی نہ ملا۔ بالآخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلا گیا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت یہ بات ارشاد فرما رہے تھے: جو آدمی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا اور جس نے غِنٰی اختیار کیا،اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا اور جو آدمی ہم سے کوئی چیز مانگے گا تو ہم اسے کچھ نہ کچھ دے دیں گے، بہرحال جو شخص ہم سے مانگنے سے بچے گا اور غِنٰی اختیار کرے گا تو وہ ہمیں سوال کرنے والے آدمی کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہو گا۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہ حدیث سن کر میں واپس چلا آیا اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی سوال نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس قدر رزق دیا کہ میں نہیں جانتا کہ انصار کے کسی گھر والے ہم سے زیادہ مال دار ہوں۔
Musnad Ahmad
3548
۔ (۳۵۴۸) عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ: إِنَّ سَائِلًا وَقَفَ عَلٰی بَابِہِمْ فَقَالَتْ لَہُ جَدَّتُہُ حَوَّائُ: اَطْعِمُوْہُ تَمْرًا، قَالُوْا: لَیْسَ عِنْدَنَا، قَالَتْ: فَاسْقُوْہُ سَوِیْقًا، قَالُوْا: اَلْعَجَبُ لَکِ نَسْتَطِیْعُ اَنْ نُطْعِمَہُ مَا لَیْسَ عِنْدَنَا؟ قَالَتْ: إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَاتَرُدُّوْا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۹۸)
۔ سیدنا عمرو بن معاذ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک سائل ان کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا، ان کی دادی سیدہ حوائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا:اس کو کھجور دے دو، گھر والوں نے کہا: ہمارے پاس کھجوریں نہیں ہیں، اس نے پھر کہا: تو پھر اسے ستو پلا دو، اہل خانہ نے کہا: تجھ پر بھی تعجب ہے، جو چیز ہمارے پاس نہیں ہے، ہم اسے کیسے دیں؟ اس نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی سائل کو (خالی ہاتھ) واپس نہ لوٹنے دو،اگرچہ جو چیز اسے دی جائے، وہ جلایا ہوا کھر ہی ہو۔
Musnad Ahmad
3550
۔ (۳۵۵۰) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: جَائَ نَاسٌ مِنَ الْاَنْصَارِ فَسَاَلُوْہُ فَاَعْطَاہُمْ ، قَالَ: فَجَعَلَ لَایَسْاَلُہُ اَحَدٌ مِنْہُمْ، إِلَّا اَعْطَاہُ حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ فَقَالَ لَہُمْ حَیْنَ اَنْفَقَ کُلَّ شَیْئٍ بِیَدِہِ: ((وَمَا یَکُوْنُ عِنْدَنَا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ نَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ، وَإِنَّہُ مَنْ یَسْتَعْفِفْ بُعِفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنْ یَسْتَغْنِیُغْنِہِ اللّٰہُ وَمَنْ یَتَصَبَّرْیُصَبِّرْہُ اللّٰہُ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَائً خَیْرًا اَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۲)
۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ کچھ انصاری لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں عطا فرما دیا، ان میں سے جو آدمی بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرتا رہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے وہ چیز دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جو کچھ تھا، وہ ختم ہو گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جو کچھ تھا، ختم ہوگیا تو آپ نے فرمایا: ہمارے پاس جو مال بھی ہو گا، ہم اس کو تم سے بچا کر نہیں رکھیں گے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ جو کوئی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالٰ اسے مانگنے سے بچا لے گا، جو لوگوں سے استغناء کا اظہار کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے مستغنی کر دے گا اور جو صبر کو اپنائے گا، اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق سے نواز دے گا اور تم (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بھلائی نہیں دئیے جاؤ گے جو صبر سے بڑھی وسعت والی ہو۔
Musnad Ahmad
3573
۔ (۳۵۷۳) عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَدْرِ النَّہَارِ، قَالَ: فَجَائَ ہُ قَوْمٌ حُفَاۃٌ عُرَاۃٌ مُجْتَابِی النِّمَارِ اَوِالْعَبائِ مُتَقَلِّدِی السُّیُوْفِ عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَّیَر وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِمَا رَاٰی بِہِمْ مِنَ الْفَاقَۃِ، قَالَ: فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ وَاَقَامَ فَصَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ، فقَالَ: {یَا اَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ } اِلٰی آخِرِ الآیَۃِ {إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا}، وَقَرَاَ الْآیَۃَ الَّتِی فِی آخِرِ الْحَشْرِ: {وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِیْنَارِہِ، مِنْ دِرْہَِمِہٖ،مِنْثَوْبِہِ،مِنْصَاعِبُرِّہٖ،مِنْصَاعِتَمْرِہٖ،حَتّٰی قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ۔)) قَالَ: فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجِزُ عَنْہَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتابَعَ النَّاسُ حَتَّی رَاَیْتُ کَوْمَیْنَ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ حَتَّی رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَہَلَّلُ وَجْہُہُ یَعْنِی کَاَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَنَّ فِی الإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ اَجْرُہَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ اُجُوْرِہِمْ شَیْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ اَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۸۸)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، ابھی دن شروع ہو رہا تھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں کچھ ایسے لوگ آئے جن کے پائوں میں جوتے اور جسم پر پورا لباس نہیں تھا، انھوں نے کمبل یا چوغے لپیٹے ہوئے تھے اور تلواریں کندھوں سے لٹکائی ہوئی تھیں، ان میں سے اکثر بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے افراد قبیلہ مضر سے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی تنگ دستی کییہ صورتحال دیکھی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر تشریف لے گئے، پھر جب باہر آئے تو سیدنابلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں یہ آیتیں تلاوت کیں: {یَااَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَائً وَّ اتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہٖوَالْاَرْحَامَاِنَّاللّٰہَکَانَعَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔} یعنی: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ سورۂ حشر والییہ آیت تلاوت کی: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔} یعنی: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر فرد دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے دن کے لئے کیا کچھ آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو تم عمل کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ خطاب سن کر کوئی دینار لے کر آیا، کوئی درہم، کوئی کپڑا، کوئی گندم کا صاع اور کوئی کھجور کا صاع لے کر آیا اور کسی نے کھجور کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ اتنے میں ایک انصاری ایک تھیلی اٹھا کر لایا،( وہ اس قدر وزنی تھی کہ) قریب تھا کہ اس کا ہاتھ عاجز آ جائے گا، بلکہ وہ عاجز آ گیا،یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے پے در پے صدقات پیش کرنا شروع کر دیئے،یہاں تک کہ خوراک اور لباس کے دو ڈھیر لگ گئے، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا اور وہ سنہری رنگ کا لگ رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اپنے اس عمل کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر بھی اجر ملے گا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جو کوئی اسلام میں برا طریقہ جاری کرے گا،اسے اپنے عمل کا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہ میں کوئی کمی بھی واقع نہیںہو گی۔