۔ ابو بختری کہتے ہیں: ہم نے ذات ِ عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا، پھر ہم نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، جب اس نے سوال کیا: ہاشم کہتے ہیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰنے اس کی رؤیت کو لمبا کر دیا ہے، اگر بادل ہوں تو (شعبان) کی گنتی پوری کر لو۔
Takhreej
(۳۶۷۹) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۸۸(انظر: ۳۰۲۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے پہلے جملے کے معنییہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شعبان کی مدت کو رمضان کا چاند نظر آنے تک لمبا کر دیا ہے، یعنی اگر کسی وجہ سے شعبان کی۲۹ تاریخ کو چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن کو اسی ماہ کی۳۰ تاریخ سمجھ لی جائے۔
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع کر دیتا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو۔
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کرو، بلکہ اس وقت روزہ رکھو جب سابقہ مہینے کی گنتی پوری ہو جائے یا چاند نظر آ جائے، پھر روزے جاری رکھو، یہاں تک کہ رمضان کی گنتی پوری کر لو یا چاند دیکھ لو۔
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہینہ تو (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے،لیکن تم اس وقت تک ماہِ رمضان کا روزہ نہ رکھو، جب تک چاند کو نہ دیکھ لو، پھر اس وقت تک روزہ ترک نہ کرو، جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آ جائے، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب شعبان کی (۲۹) تاریخ ہوتی تو وہ چاند دیکھنے کے لیے بعض افراد کو بھیجتے،اگر چاند نظر آ جاتا تو بہتر، اور اگر چاند نظر نہ آتا اور کوئی بادل اور غبار وغیرہ بھی نہ ہوتا تو وہ اگلے دن کا روزہ نہ رکھتے، لیکن اگر مطلع غبار آلود یا بادل والا ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے تھے۔
Takhreej
(۳۶۸۲) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۸۰(انظر: ۴۴۸۸)
Explanation
فوائد:… آخر میں بیان شدہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا کے فعل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شک والے دن روزہ رکھنے کے قائل تھے، آنے والے تیسرے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہینہ (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھانے کے لئے دو دفعہ ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا اور تیسری دفعہ انگوٹھا بند کر لیا۔ایک روایت میں ہے: جب لوگوں نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، ان کو مغالطہ لر گیا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ کے لئے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تھی، آپ (۲۹)ویں دن (بالا خانے سے) نیچے تشریف لے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو انیتسیویں دن نیچے تشریف لے آئے ہیں، (حالانکہ آپ نے تو ایک ماہ کے لیے علیحدگی اختیار کی تھی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشکیہ مہینہ (۲۹) دنوں کا ہے۔
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ سے محسوس ہو رہا ہے کہ مہینہ صرف (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے، اسی چیز کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان پر انکار کیا، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ حدیث بھی بیان کی ہے کہ مہینہ کبھی (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے اور کبھی (۳۰) دنوں کا، جیسے کہ اگلی حدیث سے واضح ہو رہا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال بھییہی تھا۔ بیویوں سے علیحدگی کی وجہ یہ تھی کہ امہات المؤمنین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استطاعت سے بڑھ کر نان ونفقہ کا مطالبہ کیا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ علیحدہ رہنے کی قسم اٹھا لی تھی، اس کی تفسیر سورۂ احزاب میں آئے گی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایک اُمِّیْ امت ہیں،ہم لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا جانتے ہیں، مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا، (یعنی۲۹ دنوں کا)۔ پھر فرمایا: مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ یعنی پورے (۳۰) دنوں کا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو سابقہ ماہ کی (تیس کی) گنتی پوری کر لیا کرو، اور (ماہِ رمضان کی آمد سے) بالکل پہلے روزے نہ رکھا کرو۔ حاتم راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ شعبان کی گنتی پوری کی جائے۔
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اگر تمہارے اور چاند کے درمیان کوئی بدلی حائل ہو جائے تو گنتی پوری کر لیا کرو اور مہینہ (۲۹) دن کا بھی ہوتا ہے۔ یعنی تیس (۳۰) سے ایک دن کم کا بھی ہو جاتا ہے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کے چاند کا جس قدر خیال رکھتے تھے، اتنا کسی دوسرے مہینہ کے چاند کا نہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کا چاند نظر آ جاتا تو روزہ رکھنا شروع کر دیتے اور اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو (شعبان) کی تیس دنوں کی گنتی پوری کر لیتے، اور پھر روزہ شروع کرتے۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا چھوڑا کرو اور اگر چاند دکھائی نہ دے تو تیس روزے پورے کیا کرو۔
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سابق حدیث کی طرح ایک حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ: اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن شمار کر لیا کرو۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو روزے مت رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا دن آ جائے جس میں تم میں سے کوئی آدمی روزہ رکھا کرتا ہو تو وہ روزہ رکھ لے، چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو، اگر فضا ابر آلود ہو تو تیس دن پورے کر کے روزہ ترک کیا کرو۔
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے پہلے ایک دو دنوں کے روزے نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی کسی متعین دن کا روزہ رکھتا ہو تو وہ روزہ رکھ کرے۔
فوائد:… اگر کوئی آدمی پہلے سے عادت کے ساتھ بعض روزے رکھ رہا ہو تو وہ اس مناسبت سے رمضان سے پہلے روزہ رکھ سکتا ہے، مثلا ایک آدمی کییہ عادت ہو کہ وہ سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہو، جبکہ جمعرات کا دن (۲۹) یا (۳۰) شعبان کو آ جائے تو ایسا آدمی روزہ رکھ سکتا ہے۔
۔ عبد اللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ماہِ رمضان کے مشکوک دن میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا ؟انہوں نے کہا: شعبان کا ایک روزہ رکھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں رمضان کا ایک روزہ ترک کر دوں۔ میں یہ سن کر وہاں سے نکل پڑا اور سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ان امور کو زیادہ جانتی ہیں۔
فوائد:… مشکوک دن سے مراد شعبان کی (۳۰) تاریخ والا دن ہے، اس دن کو روزہ رکھنا درست نہیں ہے، اگر شعبان کی (۲۹) تاریخ کو چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن کو ہر صورت میں شعبان کی (۳۰) تاریخ سمجھی جائے گی، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بطورِ احتیاط اس دن کو روزہ رکھنے کی قائل تھیں اور درج بال حدیث میں وہ یہی بات کہنا چاہتی ہیں، لیکن اس باب کی پہلی اور درج ذیل دو احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان سے متصل پہلے رمضان کی مناسبت سے یا احتیاط کے طور پر روزہ رکھنا درست نہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَحْصُوْا ھِلَالَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ، وَلَا تَخْلِطُوْا بِرَمَضَانَ، إِلاَّ أَن یُّوَافِقَ ذٰلِکَ صِیَاماً کَانَ یَصُوْمُہُ أَحَدُکُمْ، وَصُوْمُوْا لرُؤْیَتِہٖ وَأَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ، فَإِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَإِنَّھَا لَیْسَتْ تُغْمٰی عَلَیْکُمُ الْعِدَّۃُ۔)) ’’رمضان کے لیے شعبان کے چاند (کی تاریخ کو) شمار کر کے رکھو اوراُس کو رمضان کے ساتھ نہ ملا دو، ہاں اگر کوئی آدمی (باقاعدہ کسی مخصوص) دن کا روزہ رکھتا ہو اور وہ اس دن سے موافقت کر جائے (تو روزہ رکھا جا سکتا ہے)۔چاند کو دیکھ کر روز رکھو اور اسے دیکھ کر افطار کرو، اگر (انتیس تاریخ کی شام کو) چاند بادلوں میںیا کہر میں چھپ جائے تو گنتی تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی (اس کا اعتبار کر کے تیس دن پورے کر لو)۔‘‘ (ترمذی: ۱/ ۱۳۳، صحیحہ:۵۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ، وَأَفْطِرُوْا الرُّؤْیَتَہُ، فَإِنْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُ سَحَابٌ أَوْ ظُلْمَۃٌ أَوْ ھَبْوَۃٌ، فَأَکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ، لَاتَسْتَقْبِلُوْا الشَّھْرَ اسْتِقْبَالاً وَلَا تَصِلُوْا رَمَضَانَ بِیَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ۔)) ’’چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو۔اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل ، اندھیرایا گردوغبار حائل ہوجائے تو پھر (شعبان کی تیس کی) گنتی پوری کر لو۔ مہینے کا استقبال نہ کرو اور نہ ہی رمضان کو شعبان کے دن کے ساتھ ملائو۔‘‘ (نسائی: ۱/۳۰۶، صحیحہ:۱۹۱۷)
اس باب سے متعلقہ مزید احادیث اور جمع تطبیق کی صورتیں درج ذیل ہیں: عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ
زَیْدٍ (وَلَمْ یَقُلِ النُّسَائِی: عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرَاکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرِ لَمْ أَرَکَ تَصُوْمُ فِی شَھْرٍ مِثْلَ مَاتَصُوْمُ فِیْہِ؟ قَالَ: ((أَیُّ شَھْرٍ؟)) قُلْتُ: شَعْبَانَ۔قَالَ: ((شَعْبَانُ بَیْنَ َرَجَبَ وَرَمَضَانَ، یَغْفِلُ النَّاسُ عَنْہُ، تُرْفَعُ فِیْہِ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لاَّیُرْفَعَ عَمَلِی إِلاَّ وَأَنَا صَائِمٌ۔)) سیدنا ابوہریرہ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،امام نسائی نے ابوہریرہ کا نام ذکر نہیں کیا ، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایک مہینے میں بہت روزے رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے کسی ماہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے، (کیا وجہ ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کون سا مہینہ؟‘‘ میں نے کہا: شعبان۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’شعبان، جو رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے، سے لوگ غافل ہوتے ہیں۔ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال (آسمانوں کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں، میں چاہتا ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے دار ہوں۔‘‘ (صحیحہ:۱۸۹۸، نسائی:۱/۳۲۲)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے علاوہ) سال کے کسی دوسرے مکمل مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، مگر شعبان کے، اس ماہ کو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ (ابوداود:۲۳۳۶، ترمذی: ۷۳۶، نسائی: ۲۱۷۵، ابن ماجہ: ۱۶۴۸) دوسری روایات سے واضح ہوتا ہے کہ مکمل شعبان سے مراد اس مہینے کے اکثر دنوں کے روزے رکھنے ہیں۔
لیکن سیدنا ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُوْمُوا۔)) ’’جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھا کرو۔‘‘ اس حدیث کا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث کے ساتھ تعارض ہے، اس کی تطبیقیہ دی گئی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا تعلق اس شخص سے ہے جس کی پندرہ شعبان سے پہلے سے روزہ رکھنے کی عادت نہ ہو، ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ شعبان کے دوسرے نصف میں بھی روزے نہ رکھے۔
۔ عبد الرحمن بن زید بن خطاب کہتے ہیں: میں نے ایسے دن میں خطبہ دیا کہ جس کے بارے میں یہ شک کیا جا رہا تھا کہ (وہ شعبان کا ہے یا رمضان کا)، میں نے کہا: میں صحابۂ کرام کے ساتھ بیٹھا ہوں اور ان سے سوالات کیے ہیں، انہوںنے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ترک کیا کرو اور اسی کے حساب سے دوسری عبادات ادا کرو، اگر کسی وجہ سے چاند چھپ جائے، تو تیس دن پورے کر لو اور اگر دو مسلمان چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی گواہی دے دیں تو اس بنیاد پر روزہ رکھنا شروع کر دو اور ترک کردو۔
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ لوگوں نے رمضان کی تیس تاریخ کو روزے کی حالت میں صبح کی، اتنے میں دو بدّو آئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اسی وقت روزہ افطار کرنے کا حکم دے دیا۔
۔ ابو عمیر بن انس کہتے ہیں: مجھے میرے انصاری چچوں، جو کہ صحابہ میں سے تھے، نے بیان کیاکہ (۲۹ رمضان کو) ان کو شوال کا چاند نظر نہ آیا، اس لیے لوگوں نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر دن کے پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عید کے لیے نکلیں۔
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے چچوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چاند نظر آ جانے کی گواہی دی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور کل کو عید کے لیے نکلیں۔
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے کل شوال کا چاند دیکھ لیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! روزہ توڑ دو۔
Takhreej
(۳۶۹۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، لضعف عبد الاعلی بن عامر الثعلبی، ثم ھو منقطع، عبد الرحمن بن ابی لیلی لم یسمع من عمر رضی اللہ عنہ ، قولہ فی ھذا الحدیث ’’کنت مع عمر…‘‘ وہم من عبد الاعلی۔ اخرجہ البیھقی: ۴/ ۲۴۹، والدارقطنی: ۲/ ۱۶۸، والبزار: ۲۴۰(انظر: ۱۹۳)
Explanation
فوائد:… اس باب کی صحیح اور مرفوع احادیث سے معلوم ہوا کہ رؤیت ِ ہلال کے لیے کم از کم دو عادل مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے ایک مسلمان کی شہادت کی قبولیت کا ثبوت مل رہا ہے:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تَرَائَ ی النَّاسُ الْھِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِنِّیْ رَأَیْتُہٗ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِیَامِہٖ۔ لوگوں نے (رمضان کا) چانددیکھنے کی کوشش کی، میں نے اللہ کے رسول کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (ابوداود: ۲۳۴۲)
اب رؤیت ِ ہلال کے لیے ایک شخص پر اعتبار کیا جائے یا دو کی گواہی ضروری ہے، اس بارے میں کل تین آراء سامنے آ گئیں:
(۱) ایک مسلمان کی شہادت بھی جائز اور درست ہے، کیونکہ جن احادیث میں دو افراد کی گواہی کا حکم دیا ہے گیا، ان کا مفہوم یہ ہے کہ ایک کی شہادت قبول نہ کی جائے، جبکہ مذکورہ بالا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کا منطوق یہ ہے کہ ایک کی گواہی بھی قبول کی جا سکتی ہے اور اصول فقہ کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ جب مفہوم اور منطوق میں تضاد آ جائے تو منطوق کو ترجیح دی جائے گی۔
(۲)دو افراد کی شہادت ضروری ہے، جیسا کہ اس باب کی احادیث کا تقاضہ ہے، جن احادیث میں ایک فرد کی گواہی کا ذکر ہے، اِن کے نزدیک ان کی تاویل کی جاتی ہے کہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوسرے لوگوں نے بھی چاند کے نظر آنے کی اطلاع دی ہو۔
(۳)ابتدائے رمضان کے لیے ایک فرد کی شہادت کافی ہے، لیکن انتہائے رمضان کے لیے دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے، تاکہ جھوٹ کی تہمت کا شبہ دور ہو جائے، کیونکہ طبعی طور پر لوگوں کا میلانیہ ہوتا ہے کہ رمضان (۲۹) تاریخ
کی شام کو ہی ختم ہو جائے۔ ہمارے نزدیک پہلا قول راجح ہے، دوسرے مسلک والوں نے ایک فرد کی شہادت والی احادیث کی جو تاویل کی ہے، یہ خواہ مخواہ کا احتمال ہے، اِن احادیث کے ظاہری الفاظ اس کی اجازت نہیں دیتے، اسی طرح رمضان کی ابتداء و انتہاء میں فرق کرنا بلا دلیلہے، جیسے ایک فرد کی شہادت کی بنا پر رمضان کو شروع کیا جا سکتا ہے، اسی طرح ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ عادل: اس شخص کو عادل کہتے ہیں، جو مسلمان ہو، عاقل ہو، بالغ ہو اور فسق و فجور سے محفوظ ہو۔
۔ کریب کہتے ہیں: سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف شام میں بھیجا، میں وہیں تھا کہ ماہِ رمضان کا چاند نظرآ گیا، ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا تھا، میں اسی مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس آ گیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کچھ امور کے بارے میں پوچھا اور پھر چاند کا ذکر ہونے لگا، انھوں نے مجھ سے کہا: تم نے کب چاند دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انھوں نے کہا: تو نے خود بھی دیکھا تھا، میں نے کہا: جی ہاں اور لوگوں نے بھی دیکھا تھا، پھر سب لوگوں نے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا تھا۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: لیکن ہم نے ہفتہ کی شام کو دیکھا تھا، اس لیےہم تو روزہ رکھتے رہیں گے، یہاں تک تیس دن پورے ہو جائیںیا چاند نظر آ جائے، میں نے کہا: کیا آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور روزے کو معتبر نہیںسمجھیں گے؟ انھوں نے کہا: یہ بات نہیں ہے، اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔
Takhreej
(۳۶۹۸) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۸۷(انظر: ۲۷۸۹)
Explanation
فوائد:… یہ بات تو سمجھ آ گئی کہ شام میں جمعہ کی شام کو اور مدینہ میں ہفتہ کی شام کو چاند دیکھا گیا تھا، جبکہ اس وقت اور عرصۂ دراز سے شام اور سعودی عرب چاند کی تاریخ کے سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول ’’یہ بات نہیں ہے، اصل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اگرچہ اس کے بارے میں مختلف باتیں کی گئی ہیں، لیکن زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ ان کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ حدیث تھی: ((لَاتَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوُا الْھِلَالَ وَلَا تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوْہُ۔)) ’’تم اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو، اس طرح اس وقت تک روزہ نہ چھوڑو، جب تک چاند نظر نہ آ جائے۔‘‘ اس حدیث سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ استدلال کیا کہ ہم خود چاند دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ رؤیت ِ ہلال کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟ ہماری مراد یہ ہے کہ اگر ایک ملک کے مسلمانوں کو چاند نظرآ جاتا ہے تو ان ممالک کے باشندے کیا کریں گے، جن میں کوشش کے باوجود چاند نہیں دیکھا جا سکا؟
سب سے پہلے دو تنبیہات پیش کرنا ضروری ہیں:
(أ) جن احادیث میں رمضان کی ابتداء و انتہاء کے لیے چاند کو معیار قرار دینے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ حدیث نمبر( ۳۶۷۶)والے باب اور اس کے بعد والے دو ابواب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے، گزارش ہے کہ یہ حکم مسلمانوں کی جماعت کو دیا گیا ہے، نہ کہ ہر ملک والوں کو علیحدہ علیحدہ، اگر ایک علاقے والے چاند دیکھ لیتے ہیں تو دوسروں پر بھی لازم ہو جائے گا کہ وہ اِن مسلمانوں کی شہادت قبول کر کے چاند کے نظر آ جانے کا اعلان کریں۔
(ب) عصر حاضر میں مختلف ممالک کی حدبندی کا رؤیت ِ ہلال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ انڈیا کے مسلمان تب روزہ رکھیں گے، جب انڈیا میں چاند نظر آئے گا، پاکستان کو لوگ تب عید منائیں گے، جب پاکستان میں چاند نظر آئے اور ایران کے باشندے دس ذوالحجہ کو تب قربانی کریں گے، جب ایران میں چاند نظر آئے گا۔ تقریباً پندرہ سولہ برس پہلے کی بات ہے کہ انڈیا میں عید الفطر کا چاند نظر آ گیا تھا، لیکن اہل پاکستان نے چاند نہ دیکھ سکنے کی وجہ سے عید الفطر کا اعلان نہیں کیا تھا، اب ۲۰۱۲ءہے۔
اب ہم اصل مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ رؤیت ِ ہلال کے بارے میں زیادہ سے زیادہ درج ذیل دو آراء میں سے کسی ایک کا سہارا لیا جا سکتا ہے:
(اول) مطلع کے فرق کو مدنظر رکھ کر زمین کے خطوں کا تعین کر لیا جائے، مثلا اگر سعودی عرب میں چاند نظر آ جاتا ہے تو دو چیزیں سامنے آئیں گی، مغرب کی سمت کے تمام ممالک میں چاند کے نظر آ جانے کا اعلان کر دیا جائے، اگرچہ وہاں نظر نہ بھی آئے، لیکن مشرق کی طرف والا معاملہ تھوڑا مختلف ہے، دیکھا جائے کہ چاند نظر آنے کے بعد کتنی دیر کے بعد غروب ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک گھنٹہ تک چاند مطلع پر موجود رہتا ہے، تو سعودی عرب سے مشرق کی طرف جن جن ممالک کا فرق ایک گھنٹے سے کم ہو، وہاں رؤیت ِ ہلال کا اعلان کر دیا جائے، کیونکہ ان علاقوں میں چاند موجود تھا، لیکن وہ دیکھ نہ پائے۔
اس نظریے کا یہ تقاضا بھی ہے کہ پاکستان اور سعودیہ کے مابین چاند کی تاریخ میں دو دنوں کا فرق نہیں پڑ سکتا، کیونکہ اگر پاکستان میں رمضان کی (۲۸) تاریخ ہو اور سعودی عرب میں (۲۹)، جبکہ سعودی عرب میں اسی تاریخ کو چاند نظر آجائے، تو دوسرے دن اہل پاکستان کو رؤیت ِ ہلال کا اعلان کر دینا چاہیے، کیونکہ سعودی عرب میں چاند نظر آ جانے کا مطلب یہ ہے کہ چاند افق پر موجود ہے، لیکنیہ ضروری نہیں کہ وہ دوسرے دن اہل پاکستان کو نظر آجائے۔
(دوم) جب کسی ایک علاقے کے مسلمان رؤیت ِ ہلال کی شہادت دے دیں، تو تمام اسلامی ممالک چاند کے نظر آنے کا اعلان کر دیں، جیسا کہ شیخ البانیiکہتے ہیں: اس بحث سے مسلمانوں کی ایک بڑی مشکل آسان ہو سکتی ہے، اور وہ ہے مختلف مطالع کی وجہ سے ہلال رمضان کے نظر آنے یا نہ آنے میں باہمی اختلاف۔ ظاہر بات ہے کہ اگر چاند ایک علاقے میں نظر آ جاتا ہے تو ضروری نہیں کہ ہر علاقے والے اس کو دیکھ سکیں۔مثلا: اگر چاند مغرب میں نظر آتا ہے تو ناممکن ہو گا کہ تمام مشرق والوں کو بھی نظر آ سکے۔ کچھ علمائے اسلام کا یہ خیال ہے کہ درج ذیل حدیث : ((…صُوْمُوْا لرُؤْیَتِہٖ وَأَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ…)) (صحیحہ:۵۶۵)… ’’چاند کو دیکھ کر روزہ رکھو اور اسے دیکھ کر افطار کرو۔‘‘
اپنے عموم پر باقی ہے اور مختلف مطالع کے ساتھ اس کو مقیّد کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ مطالع کا سلسلہ غیر محدود اور غیر معین ہے، شرعاً اور عقلاً یہی بات درست معلوم ہوتی ہے، لہذا اس حدیث کو مقید کرنا دینا درست نہیں ہے، جبکہ عصرِ حاضر میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ اگر ایک ملک میں چاند نظر آ جاتا ہے تو میڈیا کے ذریعے تمام اسلامی ممالک کو مطلع کیا جا سکتا ہے، اس صورت میں جس کو رؤیت ِ ہلال کی خبر ہو گی، وہ روزہ رکھے گا، اگرچہ یہ خبر یکم رمضان کو غروبِ آفتاب سے کچھ وقت پہلے موصول ہو، اس پر کوئی قضا نہیں ہو گی، کیونکہ اس نے اپنی استطاعت کے مطابق اس واجب کو ادا کر دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا اصول ہے کہ وہ کسی کی طاقت سے بڑھ کر اس کو تکلیف نہیں دیتا۔ بہرحال ہمارا خیال ہے کہ تمام اسلامی حکومتیں روزہ رکھنے اور عید منانے کے دن کو متحد و مربوط کریں، جیسا کہ حج کا معاملہ ہے، ہم یہ نہ دیکھنے پائیں کہ کسی علاقے والے اپنے ملک کے ساتھ اور دوسرے علاقے والے دوسرے ملک کے ساتھ روزہ رکھ رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے، جو توفیق دیتا ہے۔ (صحیحہ: ۲۶۲۴) مؤخر الذکر نظریہ زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، یہی سہولت آمیز اور اتحاد بین المسلمین کی علامت ہے، حدیث نمبر (۳۶۹۵) سے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ جب قافلے والوں نے دن کے پچھلے پہر یہ شہادت دی کہ انھوں نے تو کل شام کو چاند دیکھ لیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو روزہ توڑ دینے کا اور اگلے دن نمازِ عید کے لیے جانے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قافلے سے نہ یہ تفصیل پوچھی کہ انھوں نے کس مقام پرچاند دیکھا تھا اور نہ مطلع کے اختلاف کے مسئلہ کی وضاحت کی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حج تو ایک جگہ ہوتا ہے اور تمام مسلمان مکہ میں جا کر حج کرتے ہیں۔ یہ واضح اور ایک وقت میں حج میں کوئی رکاوٹ اور الجھن نہیں۔ لیکن پوری دنیا میں تمام مسلمانوں کا ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ہی چھوڑنا کیسے ممکن ہے۔ جبکہ مختلف ممالک میں چاند طلوع ہونے کے اوقات مختلف ہیں اور ایکیا دو دن کا فرق بھی عام ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں اتحاد ممکن نہیں لہٰذا حدیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہوئے ہر ہر علاقے کی اپنی اپنی رؤیت کا اعتبار ہونا چاہیے۔ (عبداللہ رفیق)
قافلے والوں نے رات چاند دیکھا اور اگلے دن مدینہ پہنچ کر چاند طلوع ہونے کی خبر دی۔ ظاہر ہے کہ قافلوں کا سفر عام طور پر اونٹوں وغیرہ پر ہوتا تھا۔ ہوائی جہازوں کی رفتار کی طرح تو نہیں ہوتا تھا۔ وہ رات سے اگلے دن تک کتنا سفر طے کر کے آئے ہوں گے۔ یہ واضح تھا اور اس سے اختلاف مطالع کی صورت نہیں بنتی تھی۔ اس لیے آپ نے وضاحت کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب اس صورت حال سے پوری دنیا کے اندر ایک وقت میں چاند کے طلوع ہونے کا اعتبار کر لینا عقلی طور پر بہت زیادہ بعید ہے۔ اور واقعاتی طور پر ایسا ہونا ناممکن ہے۔ بشریت نے تمام مسلمانوں کو ایک ہی دن روزہ رکھنے اور ایک ہی دن چھوڑنے کا مکلف بنایا بھی نہیں۔ شرعی لحاظ سے ایک چیز کی پابندی نہیں اور واقعاتی لحاظ سے پوری دنیا میں ایک وقت میں چاند کا طلوع ہونا ممکن بھی نہیں تو پھر اس معاملہ میں زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ (عبداللہ رفیق)