TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

افطار وسحری کے مسائل اور آداب - افطار وسحری کے مسائل اور آداب - Book 68 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 68 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 100 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

100 Hadith · 16 Chapters
روزہ افطارکرنے کا وقت
۔ (۳۷۰۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی اَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ: ((اِنْزِلْ یَا فُلَانُ‘ فَاجْدَحْ لَنَا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلَیْکَ نَہَارٌ‘ قَالَ: ((اِنْزِلْ فَاجْدَحْ۔)) قَالَ: فَفَعَلَ‘ فَنَاوَلَہُ فَشَرِبَ‘ فَلَمَّا شَرِبَ اَوْمَاَ بِیَدِہِ إِلَی الْمَغْرِبِ فَقَالَ: ((إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ہٰہُنَا جَائَ اللَّیْلُ مِنْ ہٰہُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۱۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم ماہِ رمضان میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر پر تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں! اترو اور ہمارے لیے ستو تیار کرو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابھی دن باقی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ فرمایا: اترو اور ستو تیار کرو۔ چنانچہ اس نے یہ کام کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ستو لے کر پیئے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جب اس طرف سورج غروب ہو جائے اور اُدھر (مشرق) سے رات آجائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۷۰۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۵۵، ۱۹۵۶،ومسلم: ۱۱۰۱(انظر: ۱۹۳۹۵)
3709
Sahih
روزہ افطارکرنے کا وقت
۔ (۳۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ وَہُوَ صَائِمٌ فَدَعَا صَاحِبَ شَرَابِہِ بِشَرَابٍ‘ فَقَالَ صَاحِبُ شَرَابِہِ: لَوْ اَمْسَیْتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ: لَوْ اَمْسَیْتَ ثَلَاثًا‘ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا جَائَ اللَّیْلُ مِنْ ہٰہُنَا فَقَدْ حَلَّ الإِفْطَارُ اَوْ کَلِمَۃً ہٰذَا مَعْنَاہَا (وَفِی لَفْظٍ) إِذَا رَاَیْتُمُ اللَّیْلَ قَدْ اَقْبَلَ مِنْ ہٰہُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۳۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں تھے، چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اس لیے (افطاری کے وقت) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پینے کا انتظام کرنے والے کو بلایا اور مشروب لانے کا حکم دیا۔ آگے سے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شام تو ہو لینے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دوبارہ بلایا، اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! شام تو ہو لینے دیں۔ تین بار ایسے ہوا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب (مشرق) سے رات آجائے تو افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب تم دیکھو کہ (مشرق) سے رات آ گئی ہے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۷۱۰) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ابو داود کی روایت میں وضاحت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ خدمت کرنے والے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌تھے۔ ’’شام تو ہو لینے دیں۔‘‘ یہ جملہ کہنے والے کا خیال تھا کہ جو روشنی اور سرخی نظر آ رہی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضاحت کر دی کہ دن ختم ہو چکا ہے اور رات شروع ہو چکی ہے۔ یہ حدیث ِ مبارکہ یہ درج ذیل تین اہم امور پر دلالت کرتی ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ افطار کرنے میں غروبِ آفتاب کے فوراً بعد اس قدر جلدی فرمائی کہ صحابییہ سمجھ رہا تھا کہ سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے ساتھ ان کی تین دفعہ مراجعت کے باوجود حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا اور ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے نرمی و ملاطفت سے کام لیا۔ اگر کسی آدمی کو یہ اندیشہ ہونے لگے کہ عالم سے نسیانیا غلطی ہو رہی ہے اور اس بنا پر وہ یاددہانی کرائے تو عالم کو چاہیے کہ اگر اس آدمی کو ہونے والے اشکال کی گنجائش موجود ہو تو اس کی بات محسوس نہ کرے اور اصل مسئلہ کی وضاحت کر دے۔
3710
Sahih
روزہ افطارکرنے کا وقت
۔ (۳۷۱۱) عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا اَقْبَلَ اللَّیْلُ وَقَالَ مَرَّۃً جَائَ اللَّیْلُ مِنْ ہٰہُنَا وَذَہَبَ النَّہَارُ مِنْ ہٰہُنَا‘ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ)) یَعْنِی الْمَشْرِقَ وَالْمَغْرِبَ۔ (مسند احمد: ۱۹۲)
۔ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات (مشرق) سے آجائے اور دن (مغرب) کی طرف سے چلا جائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد مشرق اور مغرب تھی۔
Takhreej
(۳۷۱۱) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۵۴،ومسلم: ۱۱۰۰(انظر: ۱۹۲)
3711
Sahih
روزہ افطارکرنے کا وقت
۔ (۳۷۱۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا اَقْبَلَ اللَّیْلُ وَاَدْبَرَ النَّہَارُ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمَ۔)) (مسند احمد: ۳۳۸)
۔ (دوسری سند) سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات آ جائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کی افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۷۱۲) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3712
Sahih
روزہ افطارکرنے کا وقت
۔ (۳۷۱۳) عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُفْطِرُ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۳۸)
۔ سیدنا قطبہ بن قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب سورج غروب ہو جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ افطار کر لیتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۱۳) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن قطبۃ بن قتادۃ، ومحمد بن بن ثعلبۃ مستور الحال۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۳۸ (انظر: ۱۶۷۱۸)
Explanation
فوائد:… ’’جب رات آجائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے‘‘ ان سب کا مفہوم ایک ہی ہے اور اول الذکر دونوں چیزوں کا انحصار غروبِ آفتاب پر ہے، جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو مشرق سے رات کی آمد شروع ہو جاتی اور دن تو ویسے ہی ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس باب کی احادیثسے معلوم ہوا کہ جب سورج کی ٹکیہ غروب ہو جائے تو اسی وقت روزہ افطار کر دینا چاہیے اور مزید انتظار نہیںکرنا چاہیے، وگرنہ یہودیوں اور عیسائیوں سے مشابہت لازم آئے گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حنفی لوگ سورج غروب ہو جانے کے بعد مزید انتظار کرتے ہیں، بلکہ ایک حنفی عالم کو ہم نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مزید انتظار کرنا تقوی ہے۔ لیکنیہ عجیب تقوی ہے، جو احادیث ِ رسول پر عمل کرنے میں کوتاہی کا سبب بن رہا ہے۔ ہر کوئییہ کلیہ تو تسلیم کرتا ہے کہ افطاری کا وقت یہی ہے، لیکن معلوم نہیں کہ عملاً تاخیر کرنے کا سبب کیا ہے۔
3713
Zaeef
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
۔ (۳۷۱۴) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَزَالُ الَّدِیْنُ ظَاہِرًا مَاعَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ‘ إِنَّ الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰییُؤَخِّرُوْنَ)) (مسند احمد: ۹۸۰۹)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے، دین غالب رہے گا، یہودی اور عیسائی روزہ افطار کرنے میں تاخیر کر دیتے ہیں۔
Takhreej
(۳۷۱۴) تخر یـج: صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۵۳، وابن ماجہ: ۱۶۹۸(انظر: ۹۸۱۰)
3714
Sahih
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
۔ (۳۷۱۵) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: إِنَّ اَحَبَّ عِبَادِی إِلَیَّ اَعَجَلُہُمْ فِطْرًا)) (مسند احمد: ۷۲۴۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میرے بندوں میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو سب سے جلدی روزہ افطار کرتے ہیں۔
Takhreej
(۳۷۱۵) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، قرۃ بن عبد الرحمن المعافری، الجمھور علی تضعیفہ، وتساھل بعضھم فوثقہ۔ اخرجہ الترمذی: ۷۰۰، ۷۰۱ (انظر: ۷۲۴۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَایَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُو الْفِطْرَ۔)) (بخاری: ۱۹۵۷، مسلم: ۱۰۹۸)’’لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے، جب تک جلدی افطاری کریں گے۔‘‘ اور مسند احمد میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی حدیث میں ((وَاَخَّرُوالسحور)) کے الفاظ بھی ہیں،یعنی افطاری میں جلدی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سحری میں تاخیر بھی کرتے ہیں۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((بَکِّرُوْا بِاْلإِفْطَارِ، وَأَخِّرُوْا السُّحُوْرَ۔)) ’’افطاری میں جلدی کرو، لیکن سحری میں تاخیر کرو۔‘‘ (السیوطي في’’الجامع الکبیر‘‘، الدیلمی: ۲/ ۱/ ۳، صحیحہ:۱۷۷۳) سو معلوم ہوا کہ غروب ِ آفتاب کے بعد فوراً افطاری کر لینی چاہیے، سحری میں تاخیر کرنے کا یہ معنی ہے کہ ا س کو آخری وقت میں کھایا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض فرقوں کییہ عادت ہے کہ وہ افطاری کو غروب ِ آفتاب سے مؤخر کرتے ہیں اور سحری کے بند ہونے کا اعلان وقت سے پہلے کر دیتے ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوا جو لوگ غروب ِ آفتاب کے فوراً بعد افطاری کرتے ہیں، وہ خیر و بھلائی پر ہیں۔
3715
Zaeef
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
۔ (۳۷۱۶) عَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ اَحْیَانًایَبْعَثُہُ وَہُوَ صَائِمٌ فَیُقَدِّمُ لَہُ عَشَائَ ہُ وَقَدْ نُوْدِیَ بِصَلاَۃِ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ تُقَامُ وَہُوَ یَسْمَعُ فَلَا یَتْرُکُ عَشَائَہٗوَلاَیَعْجَلُ حَتّٰییَقْضِیَ عَشَائَ ہُ ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّیْ‘ قَالَ: وَقَدْ کَانَ یَقُوْلُ: قَالَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَعْجَلُوْا عَنْ عَشَائِکُمْ إِذَا قُدِّمَ إِلَیْکُمْ)) (مسند احمد:۶۳۵۹)
۔ امام نافع کہتے ہیں: بسا اوقات ایسے ہوتا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روزہ سے ہوتے اور وہ مجھے کھانا لانے کے لیے بھیجتے، مغرب کی اذان اور پھر اقامت بھی ہو جاتی اور وہ سن رہے ہوتے مگر نہ کھانا چھوڑتے تھے اور نہ جلدی کرتے تھے، اطمینان سے کھانا کھانے کے بعد جا کر مغرب کی نماز ادا کرتے، اور وہ کہتے تھے کہ اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: جب شام کا کھانا پیش کر دیا آجائے تو جلدی نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۳۷۱۶) تخر یـج: أخرجہ البخاری: ۶۷۳،ومسلم: ۵۵۹(انظر: ۶۳۵۹)
Explanation
فوائد:… عہد ِ نبوی میں لوگ شام کا کھانا مغرب سے پہلے کھاتے تھے۔
3716
Sahih
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
۔ (۳۷۱۷) عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا اَفْطَرَ اَحَدُکُمْ فَلْیُفْطِرْ عَلٰی تَمْرٍ‘ فَإِنْ لَمْ یَجِدْ فَلْیُفْطِرْ عَلٰی مَائٍ فَإِنَّہُ طَہُوْرٌ‘ (وَفِی لَفْظٍ:) فَإِنَّہُ لَہُ طَہُوْرٌ (وَفِیْ لَفْظٍ آخَرَ) فَإِنَّ الْمَائَ طََہُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۳۵)
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی روزہ افطار کرے تو وہ کھجور کے ساتھ افطاری کرے، اگر کھجور دستیاب نہ ہو تو پانی سے افطاری کر لے، بیشکیہ خوب پاک کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۳۷۱۷) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الرباب۔ اخرجہ الترمذی: ۶۹۵(انظر: ۱۶۲۳۱)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ ترتیب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فعلی سنت سے ثابت ہے: سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کہتے ہیں: کَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُفْطِرُ عَلٰی رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَن یُّصَلِّیَ، فَإِن لَّمْ یَکُنْ رُطَبَاتٌ فَعَلٰی تَمَرَاتٍ فَإِن لَّمْ یَکُنْ حَسَا حَسَوَاتٍ مِّنْ مَائٍ۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھنے سے پہلے تازہ کھجوروں کے ساتھ روزہ افطار کرتے تھے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں کے ساتھ اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ (سنن اربعہ، صحیحہ: ۲۸۴۰)
3717
Zaeef
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۷۱۸) عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ لِلّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ کُلِّ فِطْرٍ عُتَقَائَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۵۵)
۔ سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر روز افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔
Takhreej
(۳۷۱۸) تخر یـج: صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۸۰۸۸، والبیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۳۶۰۵ (انظر: ۲۲۲۰۲)
Explanation
فوائد:… رمضان کا مہینہ انتہائی باسعادت ہے، اللہ تعالیٰ کے راضی ہوجانے، جنت کے مل جانے اور جہنم سے دور ہو جانے کا اس مہینہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے، جب روزے دار بڑی خوشی کے ساتھ افطاری کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ جہنم سے آزادیاں عطا کر رہا ہوتا ہے۔
3718
Sahih
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
۔ (۳۷۱۹) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا‘ کُتِبَ لَہُ مِثْلُ اَجْرِ الصَّائِمِ لَا یَنْقُصُ مِنْ اَجْرِ الصَّائِمِ شَیْئٌ)) (مسند احمد: ۱۷۱۵۸)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی روزہ دار کا روزہ افطار کراتا ہے تو اسے بھی روزے دار کے برابر ثواب ملتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں ہوتی۔
Takhreej
(۳۷۱۹) تخر یـج: حسن بالشواہد۔ اخرجہ مطولا ومختصرا الترمذی: ۸۰۷، ا۱۶۳۰، وابن ماجہ: ۲۷۵۹ (انظر: ۱۷۰۳۳)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ روزے دار کو روزہ افطار کرانا بھی انتہائی مبارک اور فضیلت والا عمل ہے۔ مؤلف نے افطاری کی کسی دعا کا ذکر نہیں کیا، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر افطاری کی جائے جیسا کہ کھانے کے آداب والی احادیث سے پتہ چلتا ہے، پھر افطاری کر کے درج ذیل دعائیں پڑھی جائیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا اَفْطَرَ قَالَ: ((ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔)) جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم افطاری کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ’’ذَھَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَائَ اللّٰہُ۔‘‘ (پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔) (ابوداود، نسائی) سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کے ہاں روزہ افطار کیا اور یہ دعا کی: ((اَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُوْنَ وَاَکَلَ طَعَامَکُمُ الْاَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ۔)) (تمہارے ہاں روزے دار افطاری کرتے رہیں، نیکوکار لوگ تمہارا کھانا کھاتے رہیں اور فرشتوں تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے رہیں)۔ (ابوداود، ابن ماجہ) عوام الناس میں معروف دعا ’’اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ…‘‘ کی تمام اسانید میں ضعف پایا جاتا ہے۔
3719
Sahih
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
۔ (۳۷۲۰) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ تَزَالُ اُمَّتِی بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوْا الْفِطْرَ وَاَخَّرُوا السُّحُوْرَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۳۷)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہے گی، جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کھانے میں تاخیر کرتی رہے گی۔
Takhreej
(۳۷۲۰) تخر یـج:متن الحدیث صحیح بالاحادیث الاخری، وھذا اسناد ضعیف (انظر: ۲۱۳۱۲)
3720
Zaeef
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
۔ (۳۷۲۱) عَنْ اَبِی عَطِیَّہَ قَالَ: دَخَلْتُ اَنَا وَمَسْرُوْقٌ عَلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقُلْنَا لَہَا: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! رَجُلَانِ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحْدُہُمَا یُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلَاۃَ‘ وَالآخَرُ یُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ وَیُؤَخِّرُ الصَّلَاۃَ‘ قَالَ: فَقُلْتُ: اَیُّہُمَایُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلَاۃَ؟ قَالَ: قُلْنَا: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ‘ قَالَتْ: کَذَاکَ کَانَ یَصْنَعُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَالآخَرُ اَبُوْ مُوْسَی۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۶)
۔ ابو عطیہ کہتے ہیں: میں اور مسروق سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے ام المومنین! صحابہ کرام میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک روزہ جلدی افطار کرتا ہے اور نماز جلدی ادا کرتا ہے اور دوسرا آدمی روزہ بھی دیر سے افطار کرتا ہے اور نماز بھی تاخیر سے پڑھتا ہے۔انہوں نے پوچھا: ان میں سے وہ کون ہے جو روزہ افطار کرنے میں اور نماز ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے؟ ہم نے کہا: وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے، دوسرا (تاخیر کرنے والا صحابی) سیدناا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہے۔
Takhreej
(۳۷۲۱) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۹۹ (انظر: ۲۴۲۱۲)
3721
Sahih
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
۔ (۳۷۲۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: قُلْنَا لِعَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : رَجُلَانِ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَدُہُمَا یُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَیُعَجِّلُ الإِفْطَارَ‘ وَالآخَرُ یُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَیُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۸)
۔ (دوسری سند) ابو عطیہ کہتے ہیں: ہم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ایک صحابی نماز مغرب پڑھنے میں اور افطار کرنے میں جلدی کرتا ہے، اور دوسرا صحابی نماز مغرب بھی تاخیر سے پڑھتا ہے اور روزہ بھی دیر سے افطار کرتا ہے،……۔
Takhreej
(۳۷۲۲) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاوّل۔
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۳۷۱۴) والے باب میں اِس باب کے مسئلے کی وضاحت ہو چکی ہے۔
3722
Sahih
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
۔ (۳۷۲۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَسَحَّرُوْا فَإِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۸۸)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو، بیشک سحری کے کھانے میں برکت ہے۔
Takhreej
(۳۷۲۳) تخر یـج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۴۱(انظر: ۱۰۱۸۵)
3723
Sahih
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
۔ (۳۷۲۴) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَرَکَۃِ فِی السُّحُوْرِ وَالثَّرِیْدِ۔ (مسند احمد: ۷۷۹۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔
Takhreej
(۳۷۲۴) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن ابی لیلی۔ اخرجہ عبد الرزاق: ۱۹۵۷۱، وابویعلی: ۶۳۶۷(انظر: ۷۸۰۷)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو جاتا ہے: سیدناسلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الْبَرَکَۃُ فِی ثَلَاثٍ: الْجَمَاعَاتِ وَالثَّرِیْدِ وَ السَّحُوْرِ۔)) ’’تین چیزوں میں برکت ہے، جماعتوں میں، ثرید میں اور سحری کے کھانے میں۔‘‘ (الشعب للبیہقي :۲/۴۲۶/۲، المعجم الکبیر، صحیحہ: ۱۰۴۵) روٹی کو چور کر شوربے میں بھگو کر بنائے ہوئے کھانے کو ثرید کہتے ہیں،یہ زود ہضم ہوتا ہے اور کھانے کی زیادہ مقدار سے کفایت کرتا ہے، مثلا ایک انسان دو روٹیوں کی بھوک محسوس کر رہا ہے، لیکن ایک روٹی کا بنا ہوا ثرید اسے سیر کر سکتاہے۔ اسی طرح سحری کا کھانا بھیبابرکت چیز ہے۔ کھانے میں ’’برکت‘‘ کے معانی اس میں زیادہ خیر کے ہونے کے ہیں۔
3724
Zaeef
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
۔ (۳۷۲۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ دَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَتَسَحَّرُ فَقَالَ: ((إِنَّہُ بَرَکَۃٌ، اَعْطَاکُمُوْہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَلَا تَدَعُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۱)
۔ ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس وقت گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سحری کاکھانا کھا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ برکت والا کھانا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے، پس اس کو نہ چھوڑو۔
Takhreej
(۳۷۲۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۴۵(انظر: ۲۳۱۱۳)
3725
Sahih
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
۔ (۳۷۲۶) عَنْ عِرْباَضِ بْنِ سَارِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی السَّحُوْرِ فِی رَمَضَانَ‘ فَقَالَ: ((ہَلُمَّ إِلٰی ھٰذَا الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷۳)
۔ سیدناعرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان میں مجھے سحری کی دعوت دی اور فرمایا: اس بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔
Takhreej
(۳۷۲۶) حدیث حسن بالشواھد۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۴۴، والنسائی: ۴/۱۴۵(انظر: ۱۷۱۴۳)
3726
Sahih
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
۔ (۳۷۲۷) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسَّحُوْرُ اَکْلَۃٌ بَرَکَۃٌ فَلَا تَدَعُوْہُ وَلَوْ اَنْ یَجْرَعَ اَحَدُکُمْ جَرْعَۃً مِنْ مَائٍ فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۱۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سحری کا کھانا بابرکت ہے، اس لیے اس کو نہ چھوڑا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت کے نزول کی دعا کرتے ہیں۔
Takhreej
(۳۷۲۷) تخر یـج: حدیث صحیح (انظر: ۱۱۳۹۸)
Explanation
فوائد:… عجیب بات ہے کہ بندہ کھانا کھا رہا ہے اور اس کھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت بھیج رہا ہے اور فرشتے اس پر نزولِ رحمت کی دعا کر رہے ہیں، دراصل یہ روزے کی برکات ہیں اور روزے سے متعلقہ ہر چیز میں برکت آ جاتی ہے۔
3727
Sahih
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
۔ (۳۷۲۸) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَرَادَ اَنْ یَصُوْمَ فَلْیَتَسَحَّرْ بِشَیْئٍ)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو تو وہ کسی نہ کسی چیز کے ساتھ سحری کیا کرے۔
Takhreej
(۳۷۲۷) تخر یـج: حدیث صحیح (انظر: ۱۱۳۹۸)
3728
Sahih

Chapters

16
01
روزہ افطارکرنے کا وقت
5 Hadith
02
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
4 Hadith
03
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
04
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
3 Hadith
05
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
16 Hadith
06
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
07
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
2 Hadith
08
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
8 Hadith
09
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
6 Hadith
10
روزہ دار کو قے آجانے کا بیان
5 Hadith
11
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
12
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
3 Hadith
13
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
15 Hadith
14
بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
3 Hadith
15
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
12 Hadith
16
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.