۔ (۳۷۴۶) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسْحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سُحُوْرِہِمَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِلَی الصَّلَاۃِ فَصَلّٰی فَقُلْنَا لِاَنَسٍ: کَمْ کَانَ بَیْنَ فَرَاغِہِمَا مِنْ سُحُوْرِہِمَا وَدُخُولِہِمَا فِی الصَّلاَۃِ؟ قَالَ: قَدْرُ مَا یَقْرَاُ رَجُلٌ خَمْسِیْنَ آیَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۷۶۹)
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کی، پھر جب وہ سحری سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان کا سحری سے فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا پچاس آیات پڑھ لینے کے برابر وقفہ تھا۔
Takhreej
(۳۷۴۶) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۱۳۴(انظر: ۱۲۷۳۹)
Explanation
فوائد:… سحری سے فراغت اور نمازِ فجر کے آغاز کے درمیان پچاس آیتوں کے برابر وقفہ تھا، تقریبا (۱۲، ۱۳) منٹوں میں اتنی تلاوت کی جا سکتی ہے، دوسری نصوص کی روشنی میں سحری اور نماز کے اوقات معین ہیں، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی اذان اور جماعت میں تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا اور یہ اس وقت ممکن ہے جب لوگ اس نماز کے وقت سے پہلے بیدار ہو چکے ہوں اور اسی مقصد کے لیے پہلی اذان دی جاتی تھی۔
3746
Sahih