TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سحری کی فضیلت اور اس کا حکم - سحری کی فضیلت اور اس کا حکم - افطار وسحری کے مسائل اور آداب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of افطار وسحری کے مسائل اور آداب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 16 · 16 Hadith
۔ (۳۷۲۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَسَحَّرُوْا فَإِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۸۸)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو، بیشک سحری کے کھانے میں برکت ہے۔
Takhreej
(۳۷۲۳) تخر یـج: حدیث صحیح بطرقہ وشواھدہ۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۴۱(انظر: ۱۰۱۸۵)
3723
Sahih
۔ (۳۷۲۴) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَرَکَۃِ فِی السُّحُوْرِ وَالثَّرِیْدِ۔ (مسند احمد: ۷۷۹۴)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔
Takhreej
(۳۷۲۴) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن ابی لیلی۔ اخرجہ عبد الرزاق: ۱۹۵۷۱، وابویعلی: ۶۳۶۷(انظر: ۷۸۰۷)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن درج ذیل حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو جاتا ہے: سیدناسلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الْبَرَکَۃُ فِی ثَلَاثٍ: الْجَمَاعَاتِ وَالثَّرِیْدِ وَ السَّحُوْرِ۔)) ’’تین چیزوں میں برکت ہے، جماعتوں میں، ثرید میں اور سحری کے کھانے میں۔‘‘ (الشعب للبیہقي :۲/۴۲۶/۲، المعجم الکبیر، صحیحہ: ۱۰۴۵) روٹی کو چور کر شوربے میں بھگو کر بنائے ہوئے کھانے کو ثرید کہتے ہیں،یہ زود ہضم ہوتا ہے اور کھانے کی زیادہ مقدار سے کفایت کرتا ہے، مثلا ایک انسان دو روٹیوں کی بھوک محسوس کر رہا ہے، لیکن ایک روٹی کا بنا ہوا ثرید اسے سیر کر سکتاہے۔ اسی طرح سحری کا کھانا بھیبابرکت چیز ہے۔ کھانے میں ’’برکت‘‘ کے معانی اس میں زیادہ خیر کے ہونے کے ہیں۔
3724
Zaeef
۔ (۳۷۲۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ دَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَتَسَحَّرُ فَقَالَ: ((إِنَّہُ بَرَکَۃٌ، اَعْطَاکُمُوْہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَلَا تَدَعُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۱)
۔ ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس وقت گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سحری کاکھانا کھا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ برکت والا کھانا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے، پس اس کو نہ چھوڑو۔
Takhreej
(۳۷۲۵) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۴۵(انظر: ۲۳۱۱۳)
3725
Sahih
۔ (۳۷۲۶) عَنْ عِرْباَضِ بْنِ سَارِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی السَّحُوْرِ فِی رَمَضَانَ‘ فَقَالَ: ((ہَلُمَّ إِلٰی ھٰذَا الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷۳)
۔ سیدناعرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان میں مجھے سحری کی دعوت دی اور فرمایا: اس بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔
Takhreej
(۳۷۲۶) حدیث حسن بالشواھد۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۴۴، والنسائی: ۴/۱۴۵(انظر: ۱۷۱۴۳)
3726
Sahih
۔ (۳۷۲۷) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسَّحُوْرُ اَکْلَۃٌ بَرَکَۃٌ فَلَا تَدَعُوْہُ وَلَوْ اَنْ یَجْرَعَ اَحَدُکُمْ جَرْعَۃً مِنْ مَائٍ فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۱۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سحری کا کھانا بابرکت ہے، اس لیے اس کو نہ چھوڑا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت کے نزول کی دعا کرتے ہیں۔
Takhreej
(۳۷۲۷) تخر یـج: حدیث صحیح (انظر: ۱۱۳۹۸)
Explanation
فوائد:… عجیب بات ہے کہ بندہ کھانا کھا رہا ہے اور اس کھانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت بھیج رہا ہے اور فرشتے اس پر نزولِ رحمت کی دعا کر رہے ہیں، دراصل یہ روزے کی برکات ہیں اور روزے سے متعلقہ ہر چیز میں برکت آ جاتی ہے۔
3727
Sahih
۔ (۳۷۲۸) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَرَادَ اَنْ یَصُوْمَ فَلْیَتَسَحَّرْ بِشَیْئٍ)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو تو وہ کسی نہ کسی چیز کے ساتھ سحری کیا کرے۔
Takhreej
(۳۷۲۷) تخر یـج: حدیث صحیح (انظر: ۱۱۳۹۸)
3728
Sahih
۔ (۳۷۲۹) عَنْ اَبِی قَیْسٍ مَوْلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَسْرُدُ الصَّوْمَ وَقَلَّمَا یُصِیْبُ مِنَ الْعَشَائِ اَوَّلَ الَّلیْلِ اَکْثَرَ مَا کَانَ یُصِیْبُ مِنَ السَّحَرِ، قَالَ: وَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ فَصْلًا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ اَہْلِ الْکِتَابِ اَکْلَۃُ السَّحَرِ)) (مسند احمد: ۱۷۹۲۳)
۔ ابوقیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسلسل روزے رکھا کرتے تھے، وہ شام کو رات کے ابتدائی حصہ میں کھانا کم ہی کھاتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ زیادہ تر سحری ہی کرتے تھے، میں نے ان سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کرنا ہے۔
Takhreej
(۳۷۲۹) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۰۹۶(انظر: ۱۷۷۷۱)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اگر طبیعت کھانا کھانے پر آمادہ نہ ہو رہی ہو تو پھر بھی کھانے پینے کی معمولی مقدار استعمال کر کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیے۔
3729
Sahih
۔ (۳۷۳۰) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (الطَّائِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصلَّاَۃَ وَالصِّیَامَ، قَالَ: ((صَلِّ کَذَا وَکَذَا وَصُمْ، فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَکُلْ وَاشْرَبْ حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکَ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ، وَصُمْ ثَلَاثِیْنَیَوْمًا إِلَّا اَنْ تَرَی الْہِلَالَ قَبْلَ ذٰلِکَ۔)) فَاَخَذْتُ خَیْطَیْنِ مِنْ شَعْرٍ اسْوَدَ وَاَبْیَضَ، فَکُنْتُ اَنْظُرُ فِیْہِمَا فَلَا یَتَبَّیَنُ لِیْ، فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضَحِکَ وَقَالَ: ((یَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَاکَ بَیَاضُ النَّہَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۳)
۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نماز اور روزہ کی تعلیم دی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فلاں فلاں نماز پڑھا کرو اور (اس طرح) روزے رکھا کرو، جب سورج غروب ہو جائے تو (ساری رات) کھاپی سکتے ہو، یہاں تک کہ سفید دھاگہ، سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے اور (رمضان کے) پورے تیس روزے رکھا کرو، الّا یہ کہ چاند اس سے پہلے نظرآجائے۔ پس میں نے ایک سیاہ اور ایک سفید دھاگہ لیا اور(سحری کے وقت) ان کی طرف دیکھنے لگا، لیکن وہ میرے لیے واضح نہیں ہو رہے تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ سن کر مسکرا پڑے اور فرمایا: سفید دھاگے سے مراد (طلوع فجر کے وقت) دن کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے ممتاز ہونا ہے۔
Takhreej
(۳۷۳۰) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ الترمذی: ۲۹۷۰، ۲۹۷۱(انظر: ۱۹۳۷۵)
Explanation
فوائد:… مسند احمد کی ایک روایت اس طرح ہے: سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کہتے ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ} (اور سحری کے وقت کھاؤ اور پیو،یہاں تک کہ سیاہ دھاگے سے سفید دھاگہ واضح ہو جائے)(سورۂ بقرہ: ۱۸۷) تو میں نے دو رسیاں لیں، ایک سیاہ تھی اور دوسری سفید، میں نے ان کو اپنے تکیے کے نیچے رکھا، پھر ان کو دیکھنے لگا، لیکن نہ تو میرے لیے سفید سے سیاہ رسی اور نہ سیاہ سے سفید رسی واضح ہو رہی تھی، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اپنے کیے کے بارے میں بتلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنْ کَانَ وِسَادُکَ لَعَرِیضًا، اِنَّمَا ذَالِکَ بَیَاضُ النَّھَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ)) ’’تیرا تکیہ تو پھر بڑا وسیع ہوا، ارے اس سے مراد تو رات کی سیاہی سے دن کی سفیدی کا واضح ہونا ہے۔‘‘ اس کو امام بخاری(۱۹۱۶) اور امام مسلم (۱۰۹۰) نے بھی روایت کیا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آیات ِ قرآنی اور احادیث ِ نبوی کو سمجھنے کیلئے صرف عقل کافی نہیں ہے، بلکہ دوسری آیات و احادیث کی طرف رجوع کرنا بھی ضروری ہے۔
3730
Sahih
۔ (۳۷۳۱) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنِّی اُرِیْدُ اَنْ اَبِیْتَ عِنْدَکَ اللَّیْلَۃَ فَاُصَلِّیْ بِصَلَاتِکَ، قَاَل: ((لَا تَسْتَطِیْعُ صَلَاتِی۔)) فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلُ فَیُسْتَرُ بِثَوْبٍ وَاَنَا مَحَوَّلٌ عَنْہُ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ فَعَلْتُ مِثْلَ ذَالِکَ ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی وَقُمْتُ مَعَہُ حَتّٰی جَعَلْتُ اَضْرِبُ بِرَاْسِی الْجُدْرَانَ مِنْ طُوْلِ صَلَاتِہِ ثُمَّ اَذَّنَ بِلَالٌ لِلصَّلَاۃِ فَقَالَ: ((اَفَعَلْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((یَا بِلَالُ! إِنَّکَ لَتُؤَذِّنُ إِذَا کاَنَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِی السَّمَائِ وَلَیْسَ ذَالِکَ الصَّبْحُ، إِنَّمَا الصَّبْحُ ہٰکَذَا مُعْتَرِضًا۔)) ثُمَّ دَعَا بِسَحُوْرٍ فَتَسَحَّرَ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۳۵)
۔ سیدناابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا : میں آج رات آپ کے ہاں بسر کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں رات کی نماز پڑھ سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے والی نماز کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے اور کپڑے کی اوٹ میں غسل کیا، جبکہ میرا رخ دوسری جانب تھا، پھر میں نے بھی اسی طرح کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز شروع کر دی، (اور اتنا لمبا قیام کیا کہ) میں (تھکاوٹ یا نیند کے غلبہ کی وجہ) سے اپنا سر دیوار پر مارتا تھا،پھر سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذان دے چکے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! تم جس وقت اذان کہتے ہو اس وقت روشنی آسمان کی طرف سیدھی جا رہی ہوتی ہے اوراس وقت صبح صادق نہیں ہوتی، صبح صادق تو اس وقت ہوتی ہے کہ جب روشنی (افق کے کناروں پر) پھیلتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانا منگوا کر سحری کھائی۔
Takhreej
(۳۷۳۱) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، رشدین بن سعد ضعیف، وسلیمان بن ابی عثمان و حاتم بن ابی عدی مجھولان (انظر: ۲۱۵۰۳)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واقعی طویل قیام کرتے تھے اور فجر کی بھی دو ہی اقسام ہیں: فجر کاذب اور فجر صادق۔ نمازِ فجر اور روزہ کے وقت کی ابتدا فجر صادق سے ہوتی ہے، فجر کاذب تو رات کا ہی حصہ ہے، جس میں سحری کرنا جائز ہوتا ہے اور نماز فجر ادا کرنا حرام، درج ذیل دو احادیث میں ان دو اقسام کی وضاحت کی گئی ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ، فَجْرٌ یُقَالُ لَہُ: ذَنَبُ السَّرْحَانِ، وَھُوَ الْکَاذِبُ یَذْھَبُ طُوْلاً، وَلَا یَذْھَبُ عَرْضاً، وَالْفَجْرُ الآخَرُ یَذْھَبُ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ یَحْرُمُ فِیْہِ الطَّعَامُ، وَتَحِلُّ فِیْہِ الصَّلَاۃُ، وَفَجْرٌ تَحُرُمُ فِیْہِ الصَّلَاۃُ، وَیَحِلُّ فِیْہِ الطَّعاَمُ۔)) ’’فجر کی دوقسمیں ہیں:(۱) فجر (صادق) ہے، جس میں(سحری کا کھانا) کھانا حرام ہوتا ہے اور نمازِ (فجر) پڑھنا درست ہوتا ہے اور (۲) فجرِ (کاذب) ہے، جس میں نمازِ (فجر) کی ادائیگی حرام ہوتی ہے اور (سحری کا کھانا) کھانا درست ہوتا ہے۔‘‘ (صحیح ابن خزیمۃ: ۱/۵۲/۲، حاکم: ۱/۴۲۵، بیہقی: ۱/۳۷۷، ۴۵۷، ۴/۲۱۶،صحیحہ:۶۹۳)
3731
Zaeef
۔ (۳۷۳۲) عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: تَسَحَّرْتُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَمَرَرْتُ بِمَنْزِلِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَاَمَرَ بِلَقْحَۃٍ، فَحُلِبَتْ وَبِقِدْرٍ فَسُخِّنتْ ثُمَّ قَالَ: اُدْنُ فَکُلْ فَقُلْتُ: إِنِّی اُرِیْدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: وَ اَنَا اَرِیْدُ الصَّوْمَ، فَاَکَلْنَا وَشَرِبْنَا ثُمَّ اَتَیْنَا الْمَسْجِدَ فَاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ، ثُمَّ قَالَ حُذَیْفَۃُ: ہٰکَذَا فَعَلَ بِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِی رِوَایَۃٍ) ہٰکَذَا صَنَعْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعَ بِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قُلْتُ: اَبَعْدَ الصُّبْحِ؟ قاَل: نَعَمْ، ہُوَ الصُّبْحُ غَیْرَ اَنْ لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۵۳)
۔ زربن حبیش کہتے ہیں: میں نے سحری کا کھانا کھایا اوراس کے بعد مسجد کی طرف چل دیا، میرا گزر سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا، میں ان کے ہاں چلا گیا، انہوں نے حال میں ہی بچہ جنم دینے والی ایک اونٹنی کا دودھ دوہنے اور ہنڈیا کو گرم کرنے کا حکم دیا اور مجھ سے کہا: قریب آئو اور کھانا کھائو۔ میں نے کہا: میں آج روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں، سو ہم نے کھانا کھایا اور دودھ پیا اور پھر ہم مسجد کی طرف چلے گئے، اتنے میں نماز کی اقامت کہہ دی گئی (اور ہم نے نماز پڑھی)، پھر سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ اس کے ساتھ بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دفعہ ایسے ہی کیا تھا۔ دوسری روایت میں ہے: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ ایسے ہی کیا تھا۔میں نے کہا: کیا صبح ہو جانے کے بعد؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، صبح ہو چکی تھی، بس ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔
Takhreej
(۳۷۳۲) تخر یـج: رجالہ ثقات غیر عاصم بن بھدلۃ، فھو صدوق حسن الحدیث، لکنہ قد خولف فی رفع الحدیث، فقد رواہ من ھو اوثق منہ فوقفہ۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۴۲، ورواہ ابن ماجہ: ۱۶۹۵ مختصرا (انظر: ۲۳۳۶۱)
Explanation
فوائد:… ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اِس حدیث کامذکورہ بالا آخری جملہ، حدیث کا آخری حصہ نہیں ہے، بلکہ اس حدیث کا آخری حصہ یہ ہے: قال: وَبَیْنَ بَیْتِ حُذَیْفَۃَ وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ کَمَا بَیْنَ مَسْجِدِ ثَابِتٍ وَبُسْتَانِ حُوْطٍ۔ راوی نے کہا: اور سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور مسجد کے درمیان اتنا فاصلہ تھا، جیسا سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی مسجد اور حوط کے باغ کے درمیان ہے۔ آنے والی دو احادیث بھی مذکورہ بالا حدیث ہی ہیں، لہذا ان کو بھی اس جملے کی روشنی میں سمجھا جائے۔
3732
Zaeef
۔ (۳۷۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا مُؤَمَّلٌ ثَنَا سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ نَصْرٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَسَحَّرُ وَإِنِّی لَاُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِی، قُلْتُ: اَبَعْدَ الصُّبْحِ ؟ قَالَ: بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا اَنَّہَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۸۴)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت سحری کھا رہے ہوتے تھے، جبکہ میں اس وقت اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا، میں (نصر) نے کہا: کیا صبح کے بعد؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، صبح کے بعد، البتہ ابھی سورج طلوع نہ ہوا ہوا تھا۔
Takhreej
(۳۷۳۳) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
3733
Zaeef
۔ (۳۷۳۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): حَدَثَّنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَیْفَۃَ: اَیُّ سَاعَۃٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ہُوَ النَّہَارُ إِلَّا اَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۹۲)
۔ (دوسری سند) عاصم نے کہا: میں نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی تھی؟ انہوں نے کہا: بس دن ہو چکا تھا، البتہ سورج طلوع نہ ہوا تھا۔
Takhreej
(۳۷۳۴) تخر یـج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ان احادیث کی سندوں میں کچھ کلام ہے، بہرحال ان کے ظاہری مفہوم کا ادراک نہیں کیا جا رہا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ممکن ہے کہ سحری کے آخری وقت کھانے کو مبالغہ اس انداز سے بیان کر دیا ہو کہ بس سمجھو کہ سورج ہی چڑھ چکا تھا جبکہ حقیقت میں سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
3734
Zaeef
۔ (۳۷۳۵) عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُوْذِنُہُ بِالصَّلَاۃِ قَالَ: اَبُوْ اَحْمَدَ، وَہُوَ یُرِیْدُ الصِّیَامَ فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَسَقََانِی، ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الْمَسْجِدِ لِلصَّلَاۃِ فَقَامَ یُصَلِّی بِغَیْرِ وُضُوْئٍ یُرِیْدُ الصَّوْمَ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۸۶)
۔ سیدنابلال بن رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ کا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیالہ منگوا کر خود بھی پیا اور مجھے بھی پلایا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور وضو کے بغیر نماز پڑھنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کا ارادہ رکھتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۳۵) تخر یـج: رجالہ ثقات رجال الشیخین، الا ان عبد اللہ بن معقل المزنی لایعرف لہ سماع من بلال۔ اخرجہ الطبرانی: ۱۰۸۲(انظر: ۲۳۸۸۹)
Explanation
فوائد:… وضو کے بغیر نماز پڑھنا، یہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کا اپنا فہم ہے، وگرنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یا تو سونے سے پہلے وضو کیا ہوا ہو گا، جبکہ نیند سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وضو متأثر نہیں ہو تاتھا، یا ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیدار ہونے کے بعد وضو کیا ہو، لیکن سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کو اس کا پتہ نہ چل سکا ہو۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ روزے کی ابتداء و انتہاء سے متعلقہ انتہائی واضح احکام موجود ہیں، ان کی روشنی میں ہی اس قسم کی احادیث کی تاویل کی جائے گی، مثلاً اِس حدیث کییہ تاویل ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ رکھنے کا قصد رکھتے ہوں، لیکن وقت پر بیدار نہ ہو سکے ہوں، اس لیے جب آنکھ کھلی تو چونکہ وقت ختم ہو چکا تھا، لیکن اس رخصت سے مستفید ہوتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مختصر سی سحری کھالی، جس رخصت کا ذکر حدیث نمبر (۳۷۳۷) اور اس کے فوائد میں کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
3735
Sahih
۔ (۳۷۳۶) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَذَالِکَ فِی السَّحَرِ: ((یَا اَنَسُ! إِنِّی اُرِیْدُ الصِّیَامَ فَاَطْعِمْنِی شَیْئًا۔)) قَالَ: فَجِئْتُہُ بِتَمْرٍ وَإِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ بَعْدَ مَا اَذَّنَ بِلَالٌ ، فَقَالَ: ((یَا اَنَسُ! اُنْظُرْ إِنْسَانًا یَاْکُلُ مَعِیَ۔)) قَالَ: فَدَعَوْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی شَرِبْتُ شَرْبَۃَ سَوِیْقٍ فَاَنَا اُرِیْدُ الصَّیَامَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((وَاَنَا اُرِیْدُ الصَّیَامَ۔)) فَتَسَحَّرَ مَعَہُ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۶۴)
۔ سیدناقتادہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سحری کے وقت فرمایا: انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کوئی چیز کھلائو۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھجور اور پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا، جبکہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان کہہ چکے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انس! کوئی آدمی ڈھونڈ کر لائو جو میرے ساتھ کھانا کھائے ۔ میں سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا کر لایا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو ستو پی چکا ہوں اور میرا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں ادا کی، اس کے بعد نکلے اور نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی۔
Takhreej
(۳۷۳۶) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ النسائی: ۴/ ۱۴۷(انظر: ۱۳۰۳۳)
Explanation
فوائد:… اذانِ بلال سے مراد پہلی اذان ہے، جو فجر صادق کے طلوع ہونے سے کچھ وقت پہلے دی جاتی تھی۔
3736
Sahih
۔ (۳۷۳۷) عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَاَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ الرَّجُلِ یُرِیْدُ الصِّیَامَ وَالإِنَائُ عَلٰییَدِہٖ لِیَشْرَبَ مِنْہُ فَیَسْمَعُ النِّدَائَ؟ قَالَ جَابِرٌ: کُنَّا نُحَدَّثُ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِیَشْرَبْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۱۴)
۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ ایک آدمی روزہ رکھنا چاہتا ہے اور کوئی چیز پینے کے لیے برتن اس کے ہاتھ میں ہے، لیکن اسی وقت اذان کی آواز آ جاتی ہے (تو وہ کیا کرے)؟ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمیں یہ بیان کیا جاتا تھا کہ (ایسی صورت حال کے بارے میں) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: وہ پی لے۔
Takhreej
(۳۷۳۷) تخر یـج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۴۷۵۵)
Explanation
فوائد:… اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت زیادہ واضح ہے: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعَ اَحَدُکُمُ الْاَذَانَ وَالْاِنَائُ عَلٰییَدِہٖ، فَلَا یَدَعْہُ حَتّٰییَقْضِیَ مِنْہُ۔)) ’’جب تم میں سے سحری کھانے والا اذان سنے، جبکہ پیالہ اس کے ہاتھ پر ہو، تو وہ ضرورت پوری کرنے تک اسے نہ رکھے۔‘‘ (مسند احمد: ۲/ ۴۲۲، ابوداود: ۲۳۵۰)
3737
Sahih
۔ (۳۷۳۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَ اَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَحَرَّمَ الطَّعَامَ، وَکَانَ لاَ یُؤَذَّنُ حَتّٰییَطْلُعَ الْفَجْرُ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موذن اذان کہتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ادا فرماتے اور (روزے دار کے لیے) کھانا حرام کر دیتے، اور جب تک صبحِ (صادق) طلوع نہ ہو جاتی تھی، اس وقت تک اذان نہیں دی جاتی تھی۔
Takhreej
(۳۷۳۸) حدیث صحیح۔ اخرجہ البخاری: ۱۱۸۱، ومسلم: ۷۲۳ دون ذکر تحریم الطعام (انظر: ۲۶۴۳۰)
3738
Sahih

Chapters

16
01
روزہ افطارکرنے کا وقت
5 Hadith
02
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
4 Hadith
03
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
04
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
3 Hadith
05
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
16 Hadith
06
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
07
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
2 Hadith
08
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
8 Hadith
09
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
6 Hadith
10
روزہ دار کو قے آجانے کا بیان
5 Hadith
11
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
12
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
3 Hadith
13
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
15 Hadith
14
بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
3 Hadith
15
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
12 Hadith
16
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.