TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

روزہ افطارکرنے کا وقت - روزہ افطارکرنے کا وقت - افطار وسحری کے مسائل اور آداب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of افطار وسحری کے مسائل اور آداب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 16 · 5 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۳۷۰۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِی اَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ: ((اِنْزِلْ یَا فُلَانُ‘ فَاجْدَحْ لَنَا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلَیْکَ نَہَارٌ‘ قَالَ: ((اِنْزِلْ فَاجْدَحْ۔)) قَالَ: فَفَعَلَ‘ فَنَاوَلَہُ فَشَرِبَ‘ فَلَمَّا شَرِبَ اَوْمَاَ بِیَدِہِ إِلَی الْمَغْرِبِ فَقَالَ: ((إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ہٰہُنَا جَائَ اللَّیْلُ مِنْ ہٰہُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۱۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم ماہِ رمضان میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر پر تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے فلاں! اترو اور ہمارے لیے ستو تیار کرو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابھی دن باقی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ فرمایا: اترو اور ستو تیار کرو۔ چنانچہ اس نے یہ کام کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ستو لے کر پیئے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: جب اس طرف سورج غروب ہو جائے اور اُدھر (مشرق) سے رات آجائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۷۰۹) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۵۵، ۱۹۵۶،ومسلم: ۱۱۰۱(انظر: ۱۹۳۹۵)
3709
Sahih
۔ (۳۷۱۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ وَہُوَ صَائِمٌ فَدَعَا صَاحِبَ شَرَابِہِ بِشَرَابٍ‘ فَقَالَ صَاحِبُ شَرَابِہِ: لَوْ اَمْسَیْتَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ: لَوْ اَمْسَیْتَ ثَلَاثًا‘ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا جَائَ اللَّیْلُ مِنْ ہٰہُنَا فَقَدْ حَلَّ الإِفْطَارُ اَوْ کَلِمَۃً ہٰذَا مَعْنَاہَا (وَفِی لَفْظٍ) إِذَا رَاَیْتُمُ اللَّیْلَ قَدْ اَقْبَلَ مِنْ ہٰہُنَا فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۳۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں تھے، چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اس لیے (افطاری کے وقت) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پینے کا انتظام کرنے والے کو بلایا اور مشروب لانے کا حکم دیا۔ آگے سے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شام تو ہو لینے دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دوبارہ بلایا، اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! شام تو ہو لینے دیں۔ تین بار ایسے ہوا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب (مشرق) سے رات آجائے تو افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: جب تم دیکھو کہ (مشرق) سے رات آ گئی ہے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۷۱۰) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ابو داود کی روایت میں وضاحت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ خدمت کرنے والے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌تھے۔ ’’شام تو ہو لینے دیں۔‘‘ یہ جملہ کہنے والے کا خیال تھا کہ جو روشنی اور سرخی نظر آ رہی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضاحت کر دی کہ دن ختم ہو چکا ہے اور رات شروع ہو چکی ہے۔ یہ حدیث ِ مبارکہ یہ درج ذیل تین اہم امور پر دلالت کرتی ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ افطار کرنے میں غروبِ آفتاب کے فوراً بعد اس قدر جلدی فرمائی کہ صحابییہ سمجھ رہا تھا کہ سورج ابھی تک غروب نہیں ہوا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کے ساتھ ان کی تین دفعہ مراجعت کے باوجود حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا اور ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے نرمی و ملاطفت سے کام لیا۔ اگر کسی آدمی کو یہ اندیشہ ہونے لگے کہ عالم سے نسیانیا غلطی ہو رہی ہے اور اس بنا پر وہ یاددہانی کرائے تو عالم کو چاہیے کہ اگر اس آدمی کو ہونے والے اشکال کی گنجائش موجود ہو تو اس کی بات محسوس نہ کرے اور اصل مسئلہ کی وضاحت کر دے۔
3710
Sahih
۔ (۳۷۱۱) عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا اَقْبَلَ اللَّیْلُ وَقَالَ مَرَّۃً جَائَ اللَّیْلُ مِنْ ہٰہُنَا وَذَہَبَ النَّہَارُ مِنْ ہٰہُنَا‘ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمُ)) یَعْنِی الْمَشْرِقَ وَالْمَغْرِبَ۔ (مسند احمد: ۱۹۲)
۔ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات (مشرق) سے آجائے اور دن (مغرب) کی طرف سے چلا جائے تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد مشرق اور مغرب تھی۔
Takhreej
(۳۷۱۱) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۱۹۵۴،ومسلم: ۱۱۰۰(انظر: ۱۹۲)
3711
Sahih
۔ (۳۷۱۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا اَقْبَلَ اللَّیْلُ وَاَدْبَرَ النَّہَارُ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ اَفْطَرَ الصَّائِمَ۔)) (مسند احمد: ۳۳۸)
۔ (دوسری سند) سیدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب رات آ جائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کی افطاری کا وقت ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۳۷۱۲) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3712
Sahih
۔ (۳۷۱۳) عَنْ قُطْبَۃَ بْنِ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُفْطِرُ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۳۸)
۔ سیدنا قطبہ بن قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ جب سورج غروب ہو جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ افطار کر لیتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۱۳) تخر یـج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الراوی عن قطبۃ بن قتادۃ، ومحمد بن بن ثعلبۃ مستور الحال۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۱۹/ ۳۸ (انظر: ۱۶۷۱۸)
Explanation
فوائد:… ’’جب رات آجائے، دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے‘‘ ان سب کا مفہوم ایک ہی ہے اور اول الذکر دونوں چیزوں کا انحصار غروبِ آفتاب پر ہے، جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو مشرق سے رات کی آمد شروع ہو جاتی اور دن تو ویسے ہی ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اس باب کی احادیثسے معلوم ہوا کہ جب سورج کی ٹکیہ غروب ہو جائے تو اسی وقت روزہ افطار کر دینا چاہیے اور مزید انتظار نہیںکرنا چاہیے، وگرنہ یہودیوں اور عیسائیوں سے مشابہت لازم آئے گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حنفی لوگ سورج غروب ہو جانے کے بعد مزید انتظار کرتے ہیں، بلکہ ایک حنفی عالم کو ہم نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مزید انتظار کرنا تقوی ہے۔ لیکنیہ عجیب تقوی ہے، جو احادیث ِ رسول پر عمل کرنے میں کوتاہی کا سبب بن رہا ہے۔ ہر کوئییہ کلیہ تو تسلیم کرتا ہے کہ افطاری کا وقت یہی ہے، لیکن معلوم نہیں کہ عملاً تاخیر کرنے کا سبب کیا ہے۔
3713
Zaeef

Chapters

16
01
روزہ افطارکرنے کا وقت
5 Hadith
02
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
4 Hadith
03
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
04
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
3 Hadith
05
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
16 Hadith
06
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
07
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
2 Hadith
08
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
8 Hadith
09
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
6 Hadith
10
روزہ دار کو قے آجانے کا بیان
5 Hadith
11
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
12
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
3 Hadith
13
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
15 Hadith
14
بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
3 Hadith
15
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
12 Hadith
16
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.