TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3715 - روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے - افطار وسحری کے مسائل اور آداب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
۔ (۳۷۱۵) وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: إِنَّ اَحَبَّ عِبَادِی إِلَیَّ اَعَجَلُہُمْ فِطْرًا)) (مسند احمد: ۷۲۴۰)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میرے بندوں میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہیں جو سب سے جلدی روزہ افطار کرتے ہیں۔
3715
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۳۷۱۵) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، قرۃ بن عبد الرحمن المعافری، الجمھور علی تضعیفہ، وتساھل بعضھم فوثقہ۔ اخرجہ الترمذی: ۷۰۰، ۷۰۱ (انظر: ۷۲۴۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((لَایَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُو الْفِطْرَ۔)) (بخاری: ۱۹۵۷، مسلم: ۱۰۹۸)’’لوگ اس وقت تک خیر و بھلائی پر رہیں گے، جب تک جلدی افطاری کریں گے۔‘‘ اور مسند احمد میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی حدیث میں ((وَاَخَّرُوالسحور)) کے الفاظ بھی ہیں،یعنی افطاری میں جلدی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سحری میں تاخیر بھی کرتے ہیں۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((بَکِّرُوْا بِاْلإِفْطَارِ، وَأَخِّرُوْا السُّحُوْرَ۔)) ’’افطاری میں جلدی کرو، لیکن سحری میں تاخیر کرو۔‘‘ (السیوطي في’’الجامع الکبیر‘‘، الدیلمی: ۲/ ۱/ ۳، صحیحہ:۱۷۷۳) سو معلوم ہوا کہ غروب ِ آفتاب کے بعد فوراً افطاری کر لینی چاہیے، سحری میں تاخیر کرنے کا یہ معنی ہے کہ ا س کو آخری وقت میں کھایا جائے۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض فرقوں کییہ عادت ہے کہ وہ افطاری کو غروب ِ آفتاب سے مؤخر کرتے ہیں اور سحری کے بند ہونے کا اعلان وقت سے پہلے کر دیتے ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوا جو لوگ غروب ِ آفتاب کے فوراً بعد افطاری کرتے ہیں، وہ خیر و بھلائی پر ہیں۔

Related Chapters

730
1
Chapter: The virtue of sahur, which is recommended. It is recommended to delay it and to hasten the breaking of the fast
سحری کھانے کی فضیلت ‘اس کے استحباب کی تاکید اور اس میں تاخیر اورافطاری میں جلدی کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
2
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
3
Chapter: What Has Been Revealed About One Who Provides The Food For A Fasting Person To Break His Fast
باب: روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
Musnad Ahmad
5
(33) CHAPTER. To observe Saum (fast) or not to observe Saum during journeys.
سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا
Sahih Bukhari
6
Chapter: If a fasting person is invited to eat and he does not want to break his fast, or someone insults him or argues with him, it is recommended for him to say: I am Fasting , and he should protect his fast from obscene speech, ignorance and the like
جب روزہ دار کو کھانے کی دعوت دی جائے تور وہ (اپنے نفلی روزے کو)افطار نہ کرنا چاہے ‘یا اسے گالی دی جائے اور اس سے جگھڑا کیا جائے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں اور وہ اپنے روزے کو فحش گوئی اور جاہلانہ رویے سے پاک رکھے
Sahih Muslim
7
Chapter: It is permissible to observe a voluntary fast with an intention formed during the day before the sun reaches its Zenith, and it is permissible for one who is observing a voluntary fast to break his fast with no excuse, although it is better for him to complete it
زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کرنے اور نفلی روزہ رکھنے والے کے لیے عذر کے بغیر افطار کرنے کا جواز(روزے کو )پورا کرنا افضل ہے
Sahih Muslim
8
Chapter: What Has Been Related About Hastening To Break The Fast
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Al-Wisal (Continuous) Fasting Is Disliked
باب: افطار کیے بغیر مسلسل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Virtue For The Fasting Person When Others Are Eating In His Presence
باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Fasting In The Cause Of Allah
باب: دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھنے پر کیا کرنا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
13
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
14
اس امر کا بیان کہ غلو کئے بغیر میت کو عمدہ کفن دیا جائے اور سفید کفن زیادہ پسندیدہ ہے
Musnad Ahmad
15
روزہ افطارکرنے کا وقت
Musnad Ahmad
16
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
Musnad Ahmad
17
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
Musnad Ahmad
18
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
20
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
21
فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان
Musnad Ahmad
22
(2) CHAPTER. The superiority of As-Saum (the fasting).
روزہ کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
23
(44) CHAPTER. lftar [to break the Saum (fast)] with the available water or anything else.
پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے
Sahih Bukhari
24
(58) CHAPTER. Saum (fasting) on alternate days.
ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا بیان
Sahih Bukhari
25
Chapter: Straightening The Rows; The Virtue Of The Front Row And Then The Next; Competing With One Another For The Front Row; The People Of Virtue Should Take Precedence And Be Closest To The Imam
صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔
Sahih Muslim
26
Chapter: It is disliked to start a voluntary prayer after the Mu’adhdhin has started to say Iqamah for prayer, whether that is a regular sunnah, such as the sunnah of Subh or Zuhr, or anything else, and regardless of whether he knows that he will catch up with the rak`ah with the Imam or not
مؤذن کے اقامت شروع کر لینے کے بعد نفل کا آغاز کرنا ناپسندیدہ
Sahih Muslim
27
Chapter: It is disliked to single out Friday for fasting, unless it coincides with a day that one customarily fasts
صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا ناپسندیدہ ہے
Sahih Muslim
28
Chapter: The Virtue of Fasting for in the cause of Allah, for those who are able to without suffering any harm or neglecting other duties
اس شخص کےلیے اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت جو نقصان اور حق کو ضائع کیے بغیر ‘اس کی طاقت رکھتا ہو
Sahih Muslim
29
Chapter: Prohibition of Fasting for a lifetime for the one who will be harmed by that or who will neglect other duties, or does not break his fast on the two 'Ids or during the days of At-Tashriq; It is better to fast alternate days
اس شخص کے لیے سال بھر کے روزے رکھنے کی ممانعت جسے اس سےنقصان پہنچنے یا وہ اس کی وجہ سے کسی حق کو ضائع کرے ‘یا عید ین اور ایام تشریق کاٰ روزہ بھی نہ چھوڑے ‘اور ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
30
Chapter: It is recommended to marry one who is religiously committed
دیندار عورت سے نکاح کرنا پسندیدہ ہے
Sahih Muslim
31
Chapter: It is recommended to marry virgins
کنواری سے نکاح کرنا پسندیدہ ہے
Sahih Muslim
32
Chapter: The virtue of vinegar and using it as a condiment
سر کے کی فضیلت اور اس کو سالن کے طور پر استعمال کرنا
Sahih Muslim
33
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی فضیلت اور بعثت سے پہلے آپ کو پتھر کا سلام کرنا:۔
Sahih Muslim
34
CHAPTER: The Time For The Fasting Person To Break (His Fast).
باب: روزہ افطار کرنے کے وقت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: The Recommendation Of Hastening To Break The Fast.
باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Moving The Deceased From One Land To Another - Which Is Disliked.
باب: میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ناپسندیدہ ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Regarding it being disliked to criticize food.
باب: کھانے کی برائی بیان کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ بات ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
38
افطار کرنے میں جلدی کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
39
روزہ افطار کرانے والے کا ثواب
Sunnan Ibn e Maja
40
Chapter: Begging is disliked
سوال کرنا اور مانگنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
41
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
42
باب: حدیث نبوی ”سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے“ کا ذکر۔
Sunnan Nisai
43
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کا بیان اور اس سلسلہ میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
44
باب: (امیر کے) ہر پسندیدہ اور ناپسندیدہ حکم کو بجا لانے پر بیعت کرنا۔
Sunnan Nisai
45
(2)Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Purification
باب: طہارت کی فضیلت کا بیان​
Jam e Tirmazi
46
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of The Adhan
باب: اذان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of Isha And Fajr In Congregation
باب: عشاء اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

804
Musnad Ahmad
8947
۔ (۸۹۴۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: لَوْ اَنَّ عِبَادِیْ اَطَاعُوْنِیْ لَاَسْقَیْتُھُمْ الْمَطْرَ بِاللَّیْلِ، وَاَطْلَعْتُ عَلَیْھِمُ الشَّمْسَ بِالنَّہَارِ، وَلَمَا اَسْمَعْتُھُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں گے تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا اور دن کو سورج کو نکال دوں گا اور انہیں گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔
Musnad Ahmad
10160
۔ (۱۰۱۶۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَایَرْوِیْ عَنْ رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ: ((إِنِّی حَرَّمْتُ عَلٰی نَفْسِی الظُّلْمَ وَعَلٰی عِبَادِی أَلَا فَـلَا تَظَالَمُوا کُلُّ بَنِی آدَمَ یُخْطِئُ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُنِی فَأَغْفِرُ لَہُ وَلَا أُبَالِی وَقَالَ یَا بَنِی آدَمَ کُلُّکُمْ کَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ وَکُلُّکُمْ کَانَ عَارِیًا إِلَّا مَنْ کَسَوْتُ وَکُلُّکُمْ کَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ وَکُلُّکُمْ کَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَیْتُ فَاسْتَہْدُونِی أَہْدِکُمْ وَاسْتَکْسُونِی أَکْسُکُمْ وَاسْتَطْعِمُونِی أُطْعِمْکُمْ وَاسْتَسْقُونِی أَسْقِکُمْ یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَجِنَّکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَصَغِیرَکُمْ وَکَبِیرَکُمْ وَذَکَرَکُمْ وَأُنْثَاکُمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَیِیَّکُمْ وَبَیِّنَکُمْ عَلَی قَلْبِ أَتْقَاکُمْ رَجُلًا وَاحِدًا لَمْ تَزِیدُوا فِی مُلْکِی شَیْئًا وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَجِنَّکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَصَغِیرَکُمْ وَکَبِیرَکُمْ وَذَکَرَکُمْ وَأُنْثَاکُمْ عَلَی قَلْبِ أَکْفَرِکُمْ رَجُلًا لَمْ تَنْقُصُوْا مِنْ مُلْکِی شَیْئًا إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْیَطِ مِنَ الْبَحْرِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۵۰)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مروی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک میں نے اپنے نفس پر اور اپنے بندوں پر ظلم کرنے کو حرام قرار دیا ہے، پس تم ظلم نہ کیا کرو، بنو آدم کا ہر فرد دن رات خطائیں کرتا ہے، لیکن پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے تو میں کوئی پرواہ کیے بغیر اس کو بخش دیتا ہوں،اے بنو آدم! تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے، مگر جس کو میںہدایت دے دوں، تم میں سے ہر ایک ننگا ہے، مگر جس کو میں لباس عطا کر دوں، تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے، مگر جس کو میںکھلا دوں اور تم میں سے ہر ایک پیاسا ہے، مگر جس کو میں پانی پلا دوں، لہٰذا مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، مجھ سے لباس کا سوال کرو، میں تم کو لباس عطا کروں گا، مجھ سے کھانا طلب کرو،میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پانی پلاؤں گا، اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، جن اور انسان، چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورت اور بولنے سے عاجز اور فصیح الکلام، سارے کے سارے تم میں سے سب سے بڑے متقی کے دل کی مانند ہو جائیں تو تم میری بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرو گے، اور اگر تمہارے پہلے اور پچھلے، جن اور انسان، چھوٹے اور بڑے اور مذکر اور مؤنث، سارے کے سارے تم میں سے سب سے زیادہ کفر کرنے والے کے دل کی مانند ہو جائیں تو تم میری بادشاہت میں کوئی کمی نہیں کر سکو گے، مگر اتنی جتنی سوئی کا نکہ سمند کے پانی میں کمی کرتاہے۔
Musnad Ahmad
17
۔ (۱۷) (وَعَنْہُ فِی أُخْرٰی)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ: ((إِنِّی حَرَّمْتُ عَلٰی نَفْسِیَ الظُّلْمَ وَ عَلٰی عِبَادِیْ، أَ لَا فَـلَا تَظَالَمُوْا، کُلُّ بَنِیْ آ دَمَ یُخْطِیئُ بِاللَّیْلِ وَ النَّہَارِ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَأَغْفِرُ لَہُ فَـلَا أُبَالِیْ، وَقَالَ: یَا بَنِیْ آدَمَ! کُلُّکُمْ کَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ ہَدَیْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ عَارِیًا إِلَّا مَنْ کَسَوْتُ،وَکُلُّکُمْ کَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَکُلُّکُمْ کَانَ ظَمْآنًا إِلَّا مَنْ سَقَیْتُ، فَاسْتَہْدُوْنِیْ أَہْدِکُمْ، وَاسْتَکْسُوْنِیْ أَکْسُکُمْ، وَاسْتَطْعِمُوْنِیْ أُطْعِمْکُمْ، وَاسْتَسْقُوْنِیْ أَسْقِکُمْ،یَا عِبَادِی! لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَ آخِرَکُمْ ( فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَ فِیْہِ۔ لَمْ یَنْقُصُوْا مِن مُلْکِی شَیْئًا إِلَّا کَمَا یَنْقُصُ رَأْسُ الْمِخْیَطِ مِنَ الْبَحْرِ)۔)) (مسند أحمد: ۲۱۷۵۰)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ظلم کو اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، خبردار! پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، ساری اولادِ آدم دن رات غلطیاں کر تی ہے، پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور کوئی پروا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: اے بنو آدم! تم سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دی، تم سارے ننگے تھے، مگر جس کو میں نے لباس دیا، تم سارے بھوکے تھے، مگر جس کو میں نے کھانا کھلایا، تم سارے پیاسے تھے، مگر جس کو میں نے پانی پلایا، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تم کو لباس دوں گا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اورپچھلے… سابقہ حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ہے تو وہ میری بادشاہت میں کوئی کمی نہ کر سکیں گے، مگر اتنی جیسے سوئی کا نکہ سمندر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
Musnad Ahmad
3531
۔ (۳۵۳۱) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلَ: ((إِنَّمَا اَنَا خَازِنٌ وَإِنَّمَا یُعْطِیْ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، فَمَنْ اَعْطَیْتُہُ عَطَائً بِطِیْبِ نَفْسٍ فَإِنَّہُ یُبَارَکُ لَہُ فِیْہِ، وَمَنْ اَعْطَیْتُہُ عطَاَئً بِشَرَہِ نَفْسٍ وَشَرَہِ مَسْاَلَۃٍ فَہُوَ کَالَّذِییَاْکُلُ فَلَایَشْبَعُ)) (مسند احمد: ۱۷۰۴۵)
۔ سیدنامعاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو خزانچی (اور تقسیم کرنے والا) ہوں، دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، میں جس آدمی کو بخوشی کوئی چیز دوں گا تو اس کے لئے اس میں برکت کی جائے گی اور میں جس کو اس کے نفس اور سوال کی شدید حرص کے ساتھ دوں گا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا، جو کھاتاتو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔
Musnad Ahmad
8464
۔ (۸۴۶۴)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((ہَلَاکُ أُمَّتِی فِی الْکِتَابِ وَاللَّبَنِ۔)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ مَا الْکِتَابُ وَاللَّبَنُ؟ قَالَ: ((یَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَیَتَأَ وَّلُونَہُ عَلٰی غَیْرِ مَا أَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ، وَیُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَیَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَیَبْدُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۵۱)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان سے بچو۔
Musnad Ahmad
8656
۔ (۸۶۵۶)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ قَوْلِہٖعَزَّوَجَلَّ: {عَسٰی اَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُوْدًا} [الاسرائ: ۷۹] قَالَ: ((ھُوَ الْمَقَامُ الَّذِیْ اَشْفَعُ لِاُمَّتِیْ فِیْہٖ۔)) (مسند احمد: ۹۶۸۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالی کے اس فرمان {عَسٰی اَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُوْدًا} … (قریب ہے کہ تیر ارب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔) کے بارے میں فرمایا: یہ وہ مقام ہے، جہاں میں اپنی امت کے لیے سفارش کروں گا۔
Musnad Ahmad
8733
۔ (۸۷۳۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا)قَالَ: سَأَ لْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا} … اور سورج اپنے ٹھہرنے کی جگہ کی طرف چلتا ہے۔ [یس: ۳۸] قَالَ: ((مُسْتَقَرُّہَا تَحْتَ الْعَرْشٍٍٍٍِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۳۴)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: {وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا} آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے ہے۔
Musnad Ahmad
8966
۔ (۸۹۶۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ! ((اَلا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ الْبَرِیَّۃِ ؟)) قَالُوْا: بَلٰی،یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کُلَّمَا کَانَتْ ھَیْعَۃٌ، اِسْتَوٰی عَلَیْہِ۔ اَلا اُخْبِرُکُمْ بِالَّذِیْیَلِیْہِ ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ((الرَّجُلُ فِیْ ثُلَّۃٍ مِنْ غَنَمِہِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ الْبَرِیَّۃِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی قَالَ: ((اَلَّذِیْیُسْئَلُ بِاللّٰہِ وَلایُعْطِی بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۹۱۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین مخلوق کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جس اللہ تعالیٰ کے راستے میں گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو، جب کبھی کہیں سے کوئی خوفناک آواز آتی ہے تو وہ اس پر سوار ہو کر تیار ہو جاتا ہے۔ اب کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں بھی نہ بتلا دوں، جس کا مرتبہ اس سے کچھ کم ہے۔ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی بکریوںکے ایک ریوڑ میں ہو اور نماز ادا کرتا ہو اور زکوۃ دیتا ہو۔ اب کیا میں تمہیں بد ترین آدمی کے بارے میں نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نہیں دیتا۔
Musnad Ahmad
9450
۔ (۹۴۵۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اَحَبَّ (وَقَالَ ھَاشِمٌ: مَنْ سَرَّہُ) اَنْ یَجِدَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ، فَلْیُحِبَّ الْمَرْئَ وَ لَا یُحِبُّہُ اِلَّا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایمان کا ذائقہ پسند کرتا ہو یایہ چیز اس کو خوش کرتی ہو، وہ کسی شخص سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔