TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

افطار وسحری کے مسائل اور آداب - افطار وسحری کے مسائل اور آداب - Book 68 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 68 of Musnad Ahmad, with 16 chapters and 100 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

100 Hadith · 16 Chapters
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
۔ (۳۷۶۹) عَنْ اَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: رَاَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْکُبُ عَلٰی رَاْسِہِ الْمَائَ بِالسُّقْیَا، إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنَ الْعَطَشِ، وَہُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْ صَائِمًا حَتّٰی اَتٰی کَدِیْدًا، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ فَاَفْطَرَ وَاَفْطَرَ النَّاسُ وَہُوَ عَامُ الْفَتْحِ۔ زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: قَالَ الَّذِی حَدَّثَنِی فَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ الْمَائَ عَلٰی رَاْسِہِ مِنَ الْحَرِّ وَہُوَ صَائِمٌ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۷۷)
۔ ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کودیکھا کہ سقیا مقام پر آپ کے سر پر گرمییا پیاس کی وجہ سے پانی ڈالا جا رہا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے دار تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ قائم رکھا، یہاں تک کہ کدید مقام تک پہنچ گئے، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی منگوایا اور روزہ افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا،یہ فتح مکہ (کے سفر کے دوران کا) واقعہ ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:مجھے بیان کرنے والے نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈال رہے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں تھے۔
Takhreej
(۳۷۶۹) تخر یـج: اسنادہ صحیح۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۶۵ (انظر: ۲۳۱۹۰)
Explanation
فوائد:… نہانا، سرپر پانی ڈالنا، کلی کرنا، مسواک کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا، اِن سب امور کا روزہ کے ٹوٹنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ ناک میں پانی چڑھاتے وقت مبالغہ نہیں کرنا چاہیے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ پانی حلق میں اتر جائے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((وَبَالِغْ فِیْ الْاِسْتِنْشَاقِ، اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ صَائِمًا۔)) ’’ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کر، الّا یہ کہ تو روزے دار ہو۔‘‘ (سنن اربعہ) اس حدیث سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ کلی اور مسواک کرتے وقت بداحتیاطی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اسی طرح آنکھوں میں سرمہ ڈالنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ کسی شرعی دلیل کے ذریعے روزے دار پراس کی پابندی نہیں لگائی گئی اور جن احادیث میں سرمہ ڈالنے کی ترغیب دلائی گئی، ان کو کسی تخصیصیا قید کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا، البتہ ایسے قطروں کے ڈالنے سے بچنا جائے جن کے حلق پر اتر جانے کا خطرہ ہو۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ چونکہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور محبوب ہوتی ہے، اس لیے روزہ کی حالت میں مسواک نہیں کرنا چاہیے، تاکہ وہ بو زائل نہ ہو جائے، تو گزارش ہے کہ اس بو کا تعلق معدے کے خالیہو جانے سے ہے، مسواک وغیرہ کے ذریعے منہ کی صفائی اور بات ہے اور معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے منہ کی بو کا متغیر ہو جانا اور بات ہے۔
3769
Sahih
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
۔ (۳۷۷۰) عَنْ مَیْمُوْنَۃَ (بِنْتِ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) مَوْلَاۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: ُسِئَل رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ اِمْرَاَتَہُ وَہُوَ صَائِمٌ قَالَ: ((قَدْ اَفْطَرَ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱۷۷)
۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جب اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے تو روزہ افطار کر دیا ہے۔
Takhreej
(۳۷۷۰) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، ابویزید الضبی مجھول۔ اخرجہ ابن ماجہ:۱۶۸۶ (انظر: ۲۷۶۲۵)
3770
Zaeef
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
۔ (۳۷۷۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ شَابٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: ((لَا۔)) فَجَائَ شَیْخٌ فَقَالَ: اُقَبِّلُ وَاَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلٰی بَعْضٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( قَدْ عِلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُکُمْ إِلٰی بَعْضٍ إِنَّ الشَّیْخَیَمْلِکُ نَفْسَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۰۵۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،ایک نوجوان نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھا آدمی آیااور اس نے بھییہی سوال کیا کہ وہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ جواب سن کر ہم نے (ازراہِ تعجب) ایک دوسرے کی طرف دیکھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم نے ایک دوسرے کی طرف کیوں دیکھا ہے،بات یہ ہے کہ بوڑھا آدمی اپنے اوپر کنٹرول کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۳۷۷۱) صححہ الالبانی بالشواھد (صحیحہ: ۱۶۰۶)۔ اخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘(انظر: ۷۰۵۴)
3771
Sahih
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
۔ (۳۷۷۲) عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ الْعُذْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ مَسَحَ عَلٰی وَجْہِہِ وَاَدْرَکَ اَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانُوْا یَنْہَوْنِی عَنِ القُبْلَۃِ تَخَوُّفًا اَنْ اَتَقَرَّبَ لِاَکْثَرَ مِنْہَا، ثُمَّ الْمُسْلِمُوْنَ الْیَوْمَیَنْہَوْنَ عَنْہَا وَیَقُوْلُ قَائِلُہُمْ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَہُ مِنْ حِفْظِ اللّٰہِ مَا لَیْسَ لِاَحَدٍ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۶۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جن کے چہرے پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے بہت سے صحابہ کو پایا تھا، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:صحابہ کرام اس اندیشہ کی بناء پر مجھے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے سے منع کیا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے اگلی چیز کی طرف تجاوز کر جاؤں اور آج کے مسلمان (تابعین) بھی اس سے (مطلق طور پر) منع کرتے ہیں اور (بطورِ دلیل) یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی، وہ کسی دوسرے کے لیے تو نہیںہے۔
Takhreej
(۳۷۷۲) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری۔ اخرجہ بنحوہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۲/ ۹۵ (انظر: ۲۳۶۶۹)
3772
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۷۳) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: ہَشَشْتُ یَوْمًا فَقَبَّلْتُ واَنَا صَائِمٌ فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْیَوْمَ اَمْرًا عَظِیْمًا فَقَبَّلْتُ وَاَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَرَاَیْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَائٍ وَاَنْتَ صَائِمٌ؟)) قُلْتُ: لَابَأْسَ بِذَالِکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فََفِیْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۸)
۔ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دن مجھے راحت اور نشاط محسوس ہوا، سو میں نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، جبکہ میں روزے کی حالت میں تھا، پھر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آج میں نے ایک بہت بڑا کام کر بیٹھا ہوں اور وہ یہ کہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ میں نے کہا:اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو (پھر اس بوسے کے بارے میں) کیا پوچھتے کیا ہو؟ یعنی بوسہ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
Takhreej
(۳۷۷۳) تخر یـج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۸۵(انظر: ۱۳۸)
Explanation
فوائد:… کوئی بھی مشروب ہو، اس کو نوش کرنے کے لیے اسے منہ میں ڈالا جاتا ہے، گویا منہ میں پانی ڈالنا پانی پینے کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن کلی کے لیے منہ میں یہی پانی ڈالنے سے کچھ نہیں ہوتا، یہی معاملہ بیوی کا بوسہ لینے کے حکم ہے، کہ یہ جماع کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن صرف بوسہ لینے سے روزہ متأثر نہیں ہو گا۔
3773
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۷۴) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُبَاشِرُ وَہُوَ صَائِمٌ ثُمَّ یَجْعَلُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ثَوْبًا تَعْنِی الْفَرْجَ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کے ساتھ) مباشرت کرتے یعنی جسم کے ساتھ جسم ملا لیتے تھے، البتہ اپنے اور اس کی شرمگاہ کے درمیان کپڑا رکھ لیتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۷۴) تخر یـج: حدیث صحیح۔ اخرجہ مسلم: ۱۱۰۶ بلفظ ان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کان یباشر وھو صائم (انظر: ۲۴۳۱۴)
3774
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۷۵) عَنْ إِبْرَاہِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ: خَرَجَ عَلْقَمَۃُ وَاَصْحَابُہٗحُجَّاجًافَذَکَرَبَعْضُہُمْ: اَلصَّائِمَیُقَبِّلُ وَیُبَاشِرُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْہُمْ، قَدْ قَامَ سَنَتَیْنِ وَصَامَہُمَا ہَمَمْتُ اَنْ آخُذَ قَوْسِی فَاَضْرِبَکَ بِہَا قَالَ: فَکُفُّوا حَتّٰی تَاتُوْا عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَدَخَلُوْا عَلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَسَأَلُوْہَا عَنْ ذَالِکَ فَقالَتْ عَائِشَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُبِّلُ وَیُبَاشِرُ وَکَانَ اَمْلَکَکُمْ لِاِرْبِہِ، قَالُوْا: یَا اَبَا شِبْلٍ! سَلْہَا، قَالَ: لَا اَرْفُثُ عِنْدَہَا الیْوَمْ َ، فَسَاَلُوْہَا فَقَالَتْ: کَانَ یُقَبِّلُ وَیُبَاشِرُ وَہُوَ صَائِمٌ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۳۱)
۔ علقمہ اور ان کے ساتھی حج کے لیے روانہ ہوئے، کسی نے کہا:روزے دار (اپنی بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے اور اس کے ساتھ لیٹ بھی سکتا ہے۔ ان میں سے ایک آدمی دو سال کے قیام اور روزوں کا اہتمام کر چکا تھا، اس نے یہ سن کر کہا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنی کمان لے کر تمہیں دے ماروں۔ علقمہ نے کہا: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس پہنچنے تک اس مسئلہ سے رک جاؤ۔ بالآخر وہ سارے لوگ سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے تھے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے، بہرحال آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تم سب لوگوں سے زیادہ اپنی حاجت پر قابو پانے والے تھے۔ساتھیوں نے کہا: ابوشبل! اب سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے خود پوچھ لو۔ لیکن اس نے کہا: میں آج ان کے ہاں اس قسم کی گفتگو نہیں کروں گا۔ پھر انھوں نے سوال کیا تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۷۵) تخر یـج: أخرجہ مسلم: ۱۱۰۶(انظر: ۲۴۱۳۰)
3775
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۷۶) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اَہْوٰی إِلیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لیُقَبِّلَنِی فَقُلْتُ: إِنِّی صَائِمَۃٌ، فَقَالَ: وَاَنَا صَائِمٌ، قَالَتْ: فَاَہْوٰی إِلَیَّ فَقَبَّلَنِیْ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۳۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے بوسہ دینے کے لیے میری طرف جھکے، میں نے کہا: میں تو روزہ دار ہوں۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف جھکے اور میرا بوسہ لیا۔
Takhreej
(۳۷۷۶) تخر یـج:أخرجہ البخاری: ۱۹۲۷، ۱۹۲۸، ومسلم: ۱۱۰۶ (انظر: ۲۵۰۲۲)
3776
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۷۷) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبَّلَ اِمْرَاَۃً مِنْ نِسَائِہِ وَہُوَ صَائِمٌ ثُمَّ ضَحِکَتْ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۵۱)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی اہلیہ کا بوسہ لیا، جب کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ کی حالت میں تھے، پھر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہنس پڑیں۔
Takhreej
(۳۷۷۷) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3777
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۷۸) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: إِنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیَظَلُّ صَائِمًا ثُمَّ یُقَبِّلُ مَا شَائَ مِنْ وَجْہِی حَتّٰییُفْطِرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۰۶)
۔ (تیسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ رکھتے اور پھر افطار کرنے تک جس قدر چاہتے میرے چہرے کے بوسے لیتے۔
Takhreej
(۳۷۷۸) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3778
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۷۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا عَفَّانُ قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِیْنَارٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَوْسٍ عَنْ مِصْدَعٍ اَبِییَحْیَی الْاَنْصَارِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَبِّلُہَا وَہُوَ صَائِمٌ وَیَمُصُّ لِسَانَہَا۔ قُلْتُ: سَمِعْتَہُ مِنْ سَعْدِ بْنِ اَوْسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۲۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور ان کی زبان کو چوس لیا کرتے تھے۔ عفان کہتے ہیں: میں نے محمد بن دینار سے پوچھا کہ کیا تو نے یہ حدیث سعد بن اوس سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔
Takhreej
(۳۷۷۹) تخر یـج: حدیث صحیح دون قولہ: ویمص لسانھا، وھذا اسناد ضعیف لضعف محمد بن دینار۔ اخرجہ ابوداود: ۲۳۸۶ (انظر: ۲۴۹۱۶)
Explanation
فوائد:… اگر کوئی خاوند روزے کی حالت میں اپنی بیوی کی زبان کو چوس لے تو ضروری ہے کہ ایک کا لعاب دوسرے کے پیٹ میں نہ جائے۔
3779
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ: اَسَمِعْتَ اَبَاکَ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَبِّلُہَا وَہُوَ صَائِمٌ فَسَکَتَ ہُنَیَّۃً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد:۲۴۶۱۱)
۔ امام سفیان نے عبد الرحمن بن قاسم سے کہا: کیا تو نے اپنے باپ کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے دار ہوتے تھے؟ یہ سن کر عبدالرحمن بن القاسم کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۳۷۸۰) تخر یـج:أخرجہ البخاری:۱۹۲۷، ۱۹۲۸، ومسلم: ۱۱۰۶ (انظر: ۲۴۱۱۰)
3780
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۱) عَنْ اَبِی قَیْسٍ قَالَ: اَرْسَلَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ اَسْاَلُہَا، ہَلْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ؟ فَإِنْ قَالَتْ: لَا, فَقُلْ لَہَا إِنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تُخْبِرُ النَّاسَ اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ؟ قَالَ: فَسَاَلَھَا اَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَبِّلُ وَھُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: لَا، قُلْتُ: اِنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تُخْبِرُ النَّاسَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ قَالَتْ: لَعَلَّہُ إِیَّاہَا، کَانَ لَا یَتَمالَکَ عَنْہَا حُبًّا، اَمَّا إِیَّای فَلَا۔ (مسند احمد: ۲۷۰۶۸)
۔ ابو قیس کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہ طرف بھیجا تاکہ میں ان سے سوال کروں کہ کیارسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان کو یہ کہو کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو لوگوں کو یہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پس میں گیا اور سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے کہا: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو لوگوں کو یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا: ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کا بوسہ لے لیتے ہوں، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی، رہا مسئلہ میرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حالت میں میرا بوسہ نہیں لیا تھا۔
Takhreej
(۳۷۸۱) تخر یـج: اسنادہ ضعیف، فقد تفرد بہ موسی بن عُلَیّ اللخمی وھو لیس بحجۃ اذا انفرد۔ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۳۰۷۲، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳/ ۳۸۹(انظر: ۲۶۵۳۳)
3781
Zaeef
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۲) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ فَرُّوْخٍ اَنَّ اِمْرَاَۃً سَاَلَتْ اُمَّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِیْیُقَبِّلُنِیْ وَہُوَ صَائِمٌ وَاَنَاصَائِمَۃٌ، فَمَا تَرَیْنَ؟ فَقَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَبِّلُنِیْ وَہُوَ صَائِمٌ وَاَنَا صَائِمَۃٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۰۳۳)
۔ عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں کہ ایک خاتون نے سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ اس کا شوہر اس کا بوسہ لے لیتا ہے، جب کہ وہ دونوں روزے دار ہوتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی روزے کی حالت میں ہوتے اور میں بھی روزے دار ہوتی۔
Takhreej
(۳۷۸۲) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۳۲۲، ومسلم: ۲۹۶، ۲۳۴(انظر: ۲۶۵۰۰)
3782
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۳) عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقْبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۸)
۔ سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۸۳) تخر یـج: اخرجہ مسلم: ۱۱۰۷(انظر: ۲۶۴۴۶)
3783
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۴) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): اَنْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنَالُ مِنْ وَجْہِ بَعْضِ نِسَائِہِ وَہُوَ صَائِمٌ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۷۷)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں اپنی بعض بیویوں کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۸۴) تخر یـج: انظر الحدیث بالطریق الاول
3784
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۵) عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ (زََوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَضِیَ عَنْہَا) اَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ۔ (مسند احمد: ۲۷۲۹۸)
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۸۵) تخر یـج: حدیث صحیح، والصواب فیہ شتیر بن شکل عن حفصۃ، وھو الحدیث السابق۔ اخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۳۰۸۴، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۳/ ۴۹۲ (انظر: ۲۶۷۶۲)
3785
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۶) عَنْ اَیُوْبَ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی سَدُوْسٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ الْقُبْلَۃِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصِیْبُ مِنَ الرُّؤُوْسِ وَہُوَ صَائِمٌ ۔ (مسند احمد: ۳۳۹۱)
۔ بنو سدوس کے ایک شیخ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روزے دار کے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے کے بارے میں سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں سروں (والے اعضائ) کو استعمال کر لیتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۸۶) تخر یـج: صحیح، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ الشیخ من بنی سدوس۔ اخرجہ الطحاوی: ۲/ ۹۰ (انظر: ۳۳۹۱)
3786
Sahih
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۷) عَنْ عَطَائِ بْن یَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصَارِ اَنَّ الْاَنْصَارِیَّ اَخْبَرَ عَطَائً: اَنَّہُ قَبَّلَ اِمْرَاَتَہُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ صَائِمٌ فَسَاَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْعَلُ ذَالِکَ۔)) فَاَخْبَرْتْہُ امْرَاَتُہُ فَقَالَ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرَخَّصُ لَہُ فِی اَشْیَائَ، فَارْجِعِی إِلَیْہِ، فَقُوْلِیْ لَہُ، فَرَجَعَتْ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: قَالَ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرَخَّصُ لَہُ فِی اَشْیَائَ، فَقَالَ: ((اَنَا اَتْقَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَعْلَمُکُمْ بِحُدُوْدِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۲)
۔ عطاء بن یسارکہتے ہیں: ایک انصاری آدمی نے مجھے بیان کیا کہ اس نے عہد رسالت میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا تھا، جب اس کی بیوی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کا رسول بھی ایسے کر لیتا ہے۔ جب اس کی بیوی نے اسے جا کر بتایا تو اس نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تو بعض چیزوں کی (خصوصی طور پر) رخصت دی جاتی ہے،تو جا اور دوبارہ پوچھ۔ پس وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹی اور جا کر کہا: میرا شوہر کہتاہے کہ آپ کو ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تو بعض امور میں خصوصی اجازت دے دی جاتی ہے۔ یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں۔
Takhreej
(۳۷۸۷) اسنادہ صحیح۔ اخرجہ عبد الرزاق: ۷۴۱۲، ومالک فی ’’المؤطا‘‘: ۱/ ۲۹۱(انظر: ۲۳۷۳۲)
Explanation
فوائد:… درج بالا دو ابواب کی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خاوند روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے، اس ضمن میں حدیث نمبر (۳۷۷۱) اور (۳۷۷۵) سب سے زیادہ فیصلہ کن ہیں،یعنی بوسہ لینے
3787
Sahih
بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
۔ (۳۷۸۸) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا صَامَ اَحَدُکُمْ یَوْمًا فَنَسِیَ فَاَکَلَ وَشَرِبَ فَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ فَإِنَّمَا اَطْعَمَہُ اللّٰہُ وَسَقَاہُ۔)) (مسند احمد: ۹۱۲۵)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدناحسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی آدمی نے روزہ رکھا ہوا ہو اور وہ بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔
Takhreej
(۳۷۸۸) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۶۶۶۹، ومسلم: ۱۱۵۵ (انظر: ۹۱۳۶)
Explanation
فوائد:… اس حکم کا تعلق فرضی اور نفلی دونوں روزوں سے ہے۔
3788
Sahih

Chapters

16
01
روزہ افطارکرنے کا وقت
5 Hadith
02
روزہ جلدی افطار کرنے کی فضیلت اور اس امر کا بیان کہ کس چیز سے افطاری کرنا پسندیدہ ہے
4 Hadith
03
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
04
روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری دیر سے کھانے (دونوں چیزوں) کا اکٹھابیان
3 Hadith
05
سحری کی فضیلت اور اس کا حکم
16 Hadith
06
سحری کے وقت اوراس کو تاخیر سے کھانے کے مستحب ہونے کا بیان
7 Hadith
07
سحری سے فراغت اور نماز فجر کے درمیان کے وقفہ کی مقدار کا بیان
2 Hadith
08
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
8 Hadith
09
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
6 Hadith
10
روزہ دار کو قے آجانے کا بیان
5 Hadith
11
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
12
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
3 Hadith
13
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
15 Hadith
14
بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
3 Hadith
15
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
12 Hadith
16
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
6 Hadith
No chapter matched that.