روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ: اَسَمِعْتَ اَبَاکَ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یُقَبِّلُہَا وَہُوَ صَائِمٌ فَسَکَتَ ہُنَیَّۃً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد:۲۴۶۱۱)
۔ امام سفیان نے عبد الرحمن بن قاسم سے کہا: کیا تو نے اپنے باپ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے دار ہوتے تھے؟ یہ سن کر عبدالرحمن بن القاسم کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا: جی ہاں۔
3780
Sahih