TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3780 - روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو - افطار وسحری کے مسائل اور آداب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 8 of 15 in this chapter
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
۔ (۳۷۸۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ: اَسَمِعْتَ اَبَاکَ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُقَبِّلُہَا وَہُوَ صَائِمٌ فَسَکَتَ ہُنَیَّۃً، ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ۔ (مسند احمد:۲۴۶۱۱)
۔ امام سفیان نے عبد الرحمن بن قاسم سے کہا: کیا تو نے اپنے باپ کو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے دار ہوتے تھے؟ یہ سن کر عبدالرحمن بن القاسم کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا: جی ہاں۔
3780
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۷۸۰) تخر یـج:أخرجہ البخاری:۱۹۲۷، ۱۹۲۸، ومسلم: ۱۱۰۶ (انظر: ۲۴۱۱۰)

Related Chapters

140
1
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
Musnad Ahmad
2
(23) CHAPTER. To embrace while one is observing Saum (fast).
روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ مساس وغیرہ درست ہے
Sahih Bukhari
3
روزہ دار کا بیوی سے مباشرت (ساتھ سونے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
5
غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔
Musnad Ahmad
6
جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
Musnad Ahmad
7
(28) CHAPTER. To observe Saum [(fasts) (according to Islamic teachings)] during the month of Ramadan (sincerely and faithfully) hoping for Allah's Rewards only, is a part of faith.
خالص نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھنا ایمان کا جزو ہیں
Sahih Bukhari
8
(5) CHAPTER. Fondling a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ کے ساتھ مباشرت کرنا ( یعنی جماع کے علاوہ اس کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا جائز ہے )
Sahih Bukhari
9
(6) CHAPTER. Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith (that it is an enjoined duty), and hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).
جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب
Sahih Bukhari
10
Chapter: Clarifying that Kissing when fasting is not unlawful for the one whose desire is not provoked by that
اس آدمی کے لیے روزے کے دوران میں بیوی کا بو سہ لینا حرام نہیں جس کی شہوت کو تحریک نہ ملتی ہو
Sahih Muslim
11
CHAPTER: That It Is Disliked For In The Case Of A Young Person (While Fasting).
باب: جوان شخص کے لیے بیوی سے مباشرت کی کراہت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
12
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
13
Chapter: (What Has Been Related About The Atonement)
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Fast On Purpose
باب: جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Fast For The One Who Did Not Determine It During The (Preceding) Night
باب: جو رات ہی کو روزے کی نیت نہ کرے اس کا روزہ نہیں
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Voluntary Fast
باب: نفلی روزے کے توڑنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Performing A Voluntary Fast Without Planning It The Night Before
باب: رات میں روزے کی نیت کئے بغیر نفلی روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Wednesday and Thursday
باب: بدھ اور جمعرات کے روزے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Virtue OF Fasting On The Day of Arafah
باب: عرفہ کے دن کے روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast The Day of Arafah While At Arafat
باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Fasting Three (Days) Of Every Month
باب: ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Fasting
باب: روزے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
Mishkat
24
بَاب تَنْزِيه الصَّوْم
روزے کی تقدیس و پاکیزگی کا بیان
Mishkat
25
بَاب صَوْم الْمُسَافِر
مسافر کے روزے کا بیان
Mishkat
26
بَاب الْمُبَاشرَة
مباشرت کا بیان
Mishkat
27
روزے دار اور بھوکے کے مسواک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
29
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
30
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
Musnad Ahmad
31
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
روزے کو باطل کردینے والے اور دورانِ روزہ مکروہ اور مباح امورکا بیان ان امورکے ابواب جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اور ان امور کا بیان جو روزہ کی حالت میں مکروہ یا مباح ہیں۔ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کا بیان
Musnad Ahmad
33
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
34
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
35
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
Musnad Ahmad
36
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
37
مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
38
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
39
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
Musnad Ahmad
40
اللہ کے مہینے محرم کے روزے اور ان کی فضیلت
Musnad Ahmad
41
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
Musnad Ahmad
42
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
43
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ماہِ شعبان میں بکثرت روزے رکھنے اور اس مہینے میں روزوں کی فضیلت
Musnad Ahmad
44
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
ہر مہینے میں تین متعین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
46
ہر ماہ کے ابتدائی تین دنوں میں روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
47
حجاج کرام کے لیے نو ذوالحجہ کے روزے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
48
اس شخص کا بیان جس نے معین دن کے روزے کی نذر مانی اور وہ دن ، یومِ عید سے موافق ہو گیا
Musnad Ahmad
49
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
Musnad Ahmad
50
اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی تخلیقی صفات اور ان کے حج اور روزے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

574
Musnad Ahmad
548
۔ (۵۴۸)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ ثَنَا سُفْیَانُ وَعَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیٍّ أَنَا سُفْیَانُ وَزَائِدَۃُ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ سُفْیَانَ أَوْ سُفْیَانَ بْنِ الْحَکَمِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ فِیْ حَدِیْثِہِ: رَأَیْتُُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ وَتَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَہَ بِالْمَائِ، وَقَالَ یَحْیٰی فِیْ حَدِیْثِہِ: اِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَالَ وَنَضَحَ فَرْجَہَ (وَفِیْ لَفْظٍ: بَالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَہَ)۔ (مسند أحمد: ۲۳۸۶۳)
سیدنا حکم بن سفیان یا سفیان بن حکم ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا اور وضو کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ یحییٰ بن سعید کے الفاظ یہ تھے: بیشک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا اور اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پیشاب کیا اور پھر اپنی شرمگاہ پر چھینٹے مارے۔
Musnad Ahmad
976
۔ (۹۷۶)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ اِمْرَأَۃً مُسْتَحَاضَۃً سَأَلَتْ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَقِیْلَ: اِنَّمَا ہُوَ عِرْقٌ عَائِذٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّہْرَوَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَائَ وَتَغْتَسِلَ لَہُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلُ لِصلَاۃِ الصُّبْحِ غُسْلًَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ استحاضہ والی ایک خاتون نے عہد ِ نبوی میں اپنی کیفیت کے بارے میں سوال کیا، کسی نے اس کو کہا: یہ اعتدال کی کیفیت سے آگے بڑھ جانے والی ایک رگ ہے، پھر اس کو حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کو مؤخر کر کے اور عصر کو معجل کر کے ایک غسل کر لے اور اسی طرح مغرب کو مؤخر کر کے اور عشا کو معجل کر کے ان کے لیے ایک غسل کر لے اور نماز فجر کے لیے الگ سے غسل کر لے۔ (مسند أحمد: ۲۵۹۰۵)
Musnad Ahmad
3545
۔ (۳۵۴۵) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ قاَل َحدَثَّنَاَ سُفْیَانُ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ یَعْلَی بْنِ اَبِییَحْیٰی عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ حُسَیْنٍ عَنْ اَبِیْہَا، قَالَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ حُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِلسَّائِلِ حَقٌ وَإِنْ جَائَ عَلٰی فَرَسٍ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۰)
۔ سیدنا حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سائل کا حق ہے، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔
Musnad Ahmad
13305
۔ (۱۳۳۰۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ بَکْرِ نِ السَّہْمِیُّ ثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ مُوْسٰی بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ مَیْمُوْنِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ رَبِّیْ اَعْطَانِیْ سَبْعِیْنَ اَلْفًا مِّنْ اُمَّتِیْیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ۔)) فَقَالَ عُمَرُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَہَلَّا اِسْتَزَدْتَّہُ، قَالَ: ((قَدِ اسْتَزَدْتُّہُ فَاَعْطَانِیْ مَعَ کُلِّ رَجُلٍ سَبْعِیْنَ اَلْفًا۔)) قَالَ عُمَرُ: فَہَلَّا اِسْتَزَدْتَّہُ، قَالَ: ((قَدِ اسْتَزَدْتُّہُ فَاَعْطَانِیْ ہٰکَذَا۔)) وَفَرَّجَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بَکْرٍ بَیْنَیَدَیْہِ وَقَالَ عَبْدُاللّٰہِ: وَبَسَطَ بَاعَیْہِ وَحَثَا عَبْدُ اللّٰہِ، وَقَالَ ہِشَامٌ: وَہٰذَا مِنَ اللّٰہِ لَایُدْرٰی مَا عَدَدُہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۶)
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ سے وعدہ کیا کہ میری امت کے سترہزر افراد بغیر حساب و کتاب کے جنت میںجائیں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس تعداد میں مزید اضافے کی درخواست کیوں نہیں کی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تھی اوراللہ تعالیٰ نے ان ستر ہزار میں سے ہر فرد کے ساتھ ستر ستر ہزار آدمی بھیجنے کا وعدہ کیا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مزید اضافے کی درخواست کیوں نہیں کی تھی؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میںنے درخواست کی تھی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دو بازوؤں کو پھیلا کر اشارہ کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مزید اتنے افراد کو بھی بغیر حساب کتاب جنت میں بھیجنے کا وعدہ کیا۔ امام احمد کے شیخ عبد اللہ بن بکر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو سامنے کی طرف پھیلاکر اور عبد اللہ بن امام احمد نے اپنے پہلوؤں کی طرف دونوں بازوؤں کو پھیلا کر ان کو بھرنے کا اشارہ کیا۔ ہشام نے کہا: یہ تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کی تعداد کتنی ہو گی۔
Musnad Ahmad
48
۔ (۴۸) (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ ثَنَا یُوْنُسُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ عَنْ ہِصَّانَ بْنِ الْکَاہِلِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَۃِ فَجَلَسْتُ إِلٰی شَیْخٍ أَبْیَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْیَۃِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِیْ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَ فِیْہِ قَالَ: لَا تُعَنِّفُوْہُ وَلَا تُؤَنِّبُوْہُ دَعُوْہُ، نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاکَ مِنْ مُعَاذٍ یَذْکُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَقَالَ إِسْمَاعِیْلُ مَرَّۃً: یَأْثُرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِہِمْ: مَنْ ہٰذَا؟ قَالَ: ہٰذَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَمُرَۃَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۳۴۸)
ہصان بن کاہل کہتے ہیں: میں بصرہ کی جامع مسجد میں داخل ہوا اور ایک ایسے بزرگ کے پاس بیٹھ گیا، جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس نے کہا: سیدنا معاذ بن جبل ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: …، پھر اوپر والی حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے: انھوں نے کہا: اس کی سرزنش نہ کر اور اس کو مت ڈانٹو، اسے چھوڑ دو ہاں میں نے سیدنا معاذ ؓ سے یہ حدیث سنی تھی، وہ اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے حوالے سے بیان کر رہے تھے۔ اور اسماعیل نے ایک مرتبہ کہا: وہ اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے نقل کر رہے تھے میں نے ایک آدمی سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ؓہیں۔
Musnad Ahmad
285
۔ (۲۸۵)۔ قَالَ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ: حَدَّثَنِیْ نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ أَبِیْ ہَارُوْنَ الْغَنَوِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ ہَانِیئٌ الْأَعْوَرُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ ہُوَ ابْنُ حُصَیْنٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ، فَحَدَّثْتُ بِہِ أَبِیْ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی فَاسْتَحْسَنَہُ وَقَالَ: زَادَ فِیْہِ رَجُلًا۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۳۵)
۔ (امام احمد کے بیٹے) ابو عبدالرحمن عبداللہ کہتے ہیں: … مطرف نے سیدنا عمران بن حصین ؓ سے بیان کیا اور انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس قسم کی حدیث بیان کی، پھر میں نے یہ حدیث اپنے باپ (امام احمد) کو بیان کی، تو انھوں نے اس کو اچھا قرار دیا، البتہ عبد اللہ نے اس میں ایک راوی (ہانی اعور) زیادہ کر دیا۔
Musnad Ahmad
1363
۔ (۱۳۶۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عِلیُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحَمٰنِ عَنْ مَنْصُوْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمٰنِ عَنْ أُمِّہِ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ ابْنَۃِ سُفْیَانَ وَھِیَ أُمُّ بَنِیْ شَیْبَۃَ الْأَکَابِرِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَقَدْ بَایَعَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا شَیْبَۃَ فَفَتَحَ فَلَمَّا دَخَلَ الْبِیْتَ وَرَجَعَ وَفَرَغَ، وَرَجَعَ شَیْبَۃُ، إِذَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَنْ أَجِبْ، فَأَتَاہُ فَقَالَ: ((إِنِّیْ رَأَیْتُ فِی الْبَیْتِ قَرْنًا فَغَیِّبْہُ۔)) قَالَ مَنْصُوْرٌ فَحَدَّثَنِیْ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُسَافِعٍ عَنْ أُمِّیْ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْیَانَ أَنَّ النَّبِیَّ قَالَ لَہُ فِی الْحَدِیْثِ: ((فَإِنَّہُ لَایَنْبَغِیْ أَنْ یَکُونَ فِی الْبَیْتِ شَیْئٌیُلْھِی الْمُصَلِّیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۵۳)
اکابر بنوشیبہ کی ماں ام عثمان بنت سفیان نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی،یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شیبہ کو بلایا، اس نے دروازہ کھولا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت اللہ میں داخل ہو کر واپس آ گئے، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہو گئے اور شیبہ واپس چلا گیا۔ لیکن جلد ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قاصد پھر سے پہنچا اور کہنے لگاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن۔ سو وہ آپ کے پاس پہنچ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے اسے چھپا دے۔ اسی حدیث کا ایک دوسرا راوی کہتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا کہ بیت اللہ میں نمازیوں کو غافل کرنے والی کسی چیز کا ہونا نامناسب ہے۔
Musnad Ahmad
1404
۔ (۱۴۰۴) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ کَیْسَانَ مَوْلٰی خَالِدِ بِنْ أَسِیْدٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ أَ نَّہُ رَاٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مِنَ الْمَطَابِخِ حَتّٰی أَتَی الْبِئْرَ وَھُوَ مُتَّزِرٌ بِإِزَارٍ لَیْسَ عَلَیْہِ رِدَائٌ فَرٰی عِنْدَ الْبِئْرِ عَبِیْدًایُصَلُّوْنَ، فَحَلَّ الإِْزَارَ وَتَوَشَّحَ بِہِ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، لَا أَدْرِیْ اَلظُّہْرَ أَوِالْعَصْرَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۲۴)
سیّدنا کیسان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مطابخ مقام سے نکل کر بئر مقام پر آئے، آپ نے صرف ازار باندھا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اوپر والی چادر نہیں تھی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بئر مقام کے پاس کچھ غلاموں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے بھی اپنا ازار کھول کر ا س سے توشیح کر لی اور پھر دو رکعتیں پڑھیں، مجھے معلوم نہیں کہ وہ ظہر تھییا عصر۔
Musnad Ahmad
1682
۔ (۱۶۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الطَفَاوِیُّ ثَنَا سَعْیِدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ وَأَحْسَنَ الثَّنَائَ عَلَیْہِ عَنْ أَبِیْہِ أَوْ عَمَّہِ قَالَ: صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَسَأَلْنَاہُ عَنْ قَدْرِ رُکُوْعِہٖوَسُجُوْدِہٖ،فَقَالَ: قَدْرَمَایَقُوْلُ الرَّجُلُ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ ثَلاَثًا۔ (مسند احمد: ۲۰۳۱۸)
بنو تمیم کا ایک آدمی اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، (یہ سن کر) ہم نے ان سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے رکوع و سجود کی مقدار کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: اتنا ہوتا تھا کہ کوئی آدمی تین دفعہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔