TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب تَنْزِيه الصَّوْم - روزے کی تقدیس و پاکیزگی کا بیان - روزوں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 3 of روزوں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 9 · 20 Hadith
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابه» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ اور برے اعمال ترک نہیں کرتا تو اللہ کو کوئی حاجت نہیں کہ وہ شخص اپنا کھانا پینا ترک کر دے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۱۹۰۳) ۔
1999
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لأربه
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور گلے مل لیا کرتے تھے اور آپ اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۲۷) و مسلم (۶۵ / ۱۱۰۶) ۔ 2576
2000
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو رمضان میں کبھی جماع کی وجہ سے حالت جنابت میں صبح ہو جاتی تو آپ غسل کرتے اور پھر روزہ رکھتے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۳۰) و مسلم (۷۶ / ۱۱۰۹) ۔ 2590
2001
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے احرام اور روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۳۸) و مسلم (۸۷ / ۱۲۰۲) ۔
2002
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من نسي وَهُوَ صَائِم فأل أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وسقاه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بھول جائے کہ وہ روزہ سے ہے اور وہ کھا لے یا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اسے تو اللہ نے کھلایا پلایا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۳۳) و مسلم (۱۷۱ / ۱۱۵۵) ۔ 2716
2003
Sahih
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُول الله هَلَكت. قَالَ: «مَالك؟» قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟» . قَالَ: لَا قَالَ: «فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «اجْلِسْ» وَمَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَبينا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ؟» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ» . فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ أَهْلُ بَيْتِ أَفْقَرُ م أَهْلِ بَيْتِي. فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ: «أَطْعِمْهُ أهلك»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں ایک آدمی نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں تو مارا گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : میں روزے کی حالت میں اپنی اہلیہ سے جماع کر بیٹھا ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے جسے تو آزاد کر دے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم لگاتار دو ماہ روزے رکھ سکتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بیٹھ جاؤ ۔‘‘ پس نبی ﷺ نے توقف فرمایا ، ہم اسی اثنا میں تھے کہ کھجوروں کا ایک بڑا ٹوکرا نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسئلہ دریافت کرنے والا کہاں ہے ؟‘‘ اس شخص نے عرض کیا ، میں حاضر ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ لو اسے صدقہ کر دو ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا میں اپنے سے زیادہ محتاج شخص پر صدقہ کروں ؟ اللہ کی قسم ! (مدینہ میں) دو پتھریلے کناروں کے درمیان کوئی ایسا گھر نہیں جو میرے گھر والوں سے زیادہ ضرورت مند ہو ، (یہ سن کر) نبی ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہو گئے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے اپنے گھر والوں کو کھلاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۳۶) و مسلم (۱۸۱ / ۱۱۱۱) ۔ 2595
2004
Sahih
عَن عَائِشَة: أَن الني صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِم ويمص لسنانها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ روزہ کی حالت میں کبھی ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اوران کی زبان چوس لیا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۳۸۶) * فیہ محمد بن دینار صدوق لکنہ اختلط ۔
2005
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرخص لَهُ. وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَإِذَا الَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کسی آدمی نے ، روزہ دار کے لیے اپنی اہلیہ سے گلے ملنے کے بارے میں نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے اسے رخصت عنایت فرما دی ، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے اسے روک دیا ، جس شخص کو رخصت عنایت فرمائی تھی وہ بوڑھا آدمی تھا اور جسے روک دیا تھا وہ ایک نوجوان شخص تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۳۸۷) ۔
2006
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من ذرعه الْقَيْء وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُس. وَقَالَ مُحَمَّد يَعْنِي البُخَارِيّ لَا أرَاهُ مَحْفُوظًا
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کو روزہ کی حالت میں قے آ جائے تو اس پر کوئی قضا نہیں اور جو شخص عمداً قے کرے تو وہ (روزہ کی) قضا کرے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، ہم عیسیٰ بن یونس سے مروی حدیث کے حوالے سے ہی اسے جانتے ہیں ، جبکہ محمد یعنی امام بخاری نے فرمایا : میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۲۰) و ابوداؤد (۲۳۸۰) و ابن ماجہ (۱۶۷۶) و الدارمی (۲ / ۱۴ ح ۱۷۳۶) * ھشام بن حسان مدلس و عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
2007
Zaeef
وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: صَدَقَ وَأَنَا صَبَبْتُ لَهُ وضوءه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ والدارمي
معدان بن طلحہ سے روایت ہے کہ ابودرداء ؓ نے اسے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے قے کی تو آپ نے روزہ افطار کر لیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں دمشق کی مسجد میں ثوبان سے ملا تو میں نے کہا کہ ابودرداء ؓ نے مجھے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قے کی تو آپ نے روزہ افطار کر لیا ، انہوں نے کہا : انہوں (یعنی ابودرداء ؓ ) نے ٹھیک کہا ہے ، اور میں نے آپ کے لیے آپ کے وضو کا پانی انڈیلا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۳۸۱) و الترمذی (۸۷) ۔
2008
Sahih
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
عامر بن ربیعہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ان گنت مرتبہ نبی ﷺ کو روزہ کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۲۵) و ابوداؤد (۲۳۶۴) * عاصم بن عبید اللہ ضعیف ۔
2009
Zaeef
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اشتكيت عَيْني أَفَأَكْتَحِلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَأَبُو عَاتِكَةَ الرَّاوِي يضعف
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : مجھے آشوب چشم ہے کیا میں روزہ کی حالت میں سرمہ ڈال لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ ترمذی اور انہوں نے فرمایا : اس کی اسناد قوی نہیں ، ابوعاتکہ راوی ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۲۶) * ابو عاتکۃ ضعیف ۔
2010
Zaeef
وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ. رَوَاهُ مَالك
نبی ﷺ کے کسی صحابی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے مقام عرج پر نبی ﷺ کو حالت روزہ میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا ۔ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ مالک (۱ / ۲۹۴ ح ۶۶۰) و ابوداؤد (۲۳۶۵) ۔
2011
Sahih
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَجُلًا بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي لِثَمَانِيَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ: وَتَأَوَّلَهُ بَعْضُ مَنْ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ: أَيْ تَعَرُّضًا لِلْإِفْطَارِ: الْمَحْجُومُ لِلضَّعْفِ وَالْحَاجِمُ لِأَنَّهُ لَا يَأْمَنُ مِنْ أَنْ يَصِلَ شَيْءٌ إِلَى جَوْفِهِ بمص الملازم
شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بقیع میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے جب کہ وہ پچھنے لگوا رہا تھا ، آپ میرا ہاتھ تھامے ہوئے تھے اور رمضان کی اٹھارہ تاریخ تھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پچھنے لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ الشیخ الامام محی السنہ نے فرمایا : اور جن بعض حضرات نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوانے کی اجازت دی ہے ، انہوں نے یہ تاویل کی ہے کہ پچھنے لگوانے والا کمزوری کی وجہ سے افطار کے قریب پہنچ جاتا ہے ، جب کہ پچھنے لگانے والا اس چوسنے کی وجہ سے پیٹ میں کوئی چیز پہنچنے سے بچ نہیں سکتا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۳۶۹) و ابن ماجہ (۱۶۸۱) و الدارمی (۲ / ۱۴ ح ۱۷۳۷) [و انظر شرح السنۃ (۶ / ۳۰۴ بعد ح ۱۷۵۹] ۔
2012
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَإِنْ صَامَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي البُخَارِيّ يَقُول. أَبُو الطوس الرَّاوِي لَا أَعْرِفُ لَهُ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی رخصت (سفر وغیرہ) اور مرض کے بغیر رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے تو پھر اگر وہ پوری زندگی روزے رکھتا رہے تو وہ اس ایک دن کے روزے کے اجر و ثواب کو نہیں پا سکتا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، دارمی اور امام بخاری نے ترجمۃ الباب میں روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا : میں نے محمد یعنی امام بخاری ؒ کو فرماتے ہوئے سنا : میں ابالمطوس روای کو اس حدیث کے علاوہ نہیں جانتا کہ اس نے کوئی اور حدیث بھی روایت کی ہو ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۳۸۶ ح ۹۰۰۲) و الترمذی (۷۲۳) و ابوداؤد (۲۳۹۶ ۔ ۲۳۹۷) و ابن ماجہ (۱۶۷۲) و الدارمی (۲ / ۱۰ ح ۱۷۲۱) و البخاری (الصوم باب اذا جامع فی رمضان ۲۹ قبل ح ۱۹۳۵ ، تعلیقاً) * ابو المطوس لین الحدیث و ابوہ مجھول ۔
2013
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ من قِيَامه إِلَّا السهر» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کتنے ہی روزہ دار ہیں جنہیں اپنے روزہ سے صرف پیاس حاصل ہوتی ہے اور کتنے ہی قیام کرنے والے ہیں جنہیں اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔‘‘ دارمی ، اور لقیط بن صبرہ ؓ سے مروی حدیث ، سنن الوضوء کے بیان میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی (۲ / ۳۰۱ ح ۲۷۲۳) 0 حدیث لقیط بن صبرۃ تقدم (۴۰۵) ۔
2014
Sahih
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصَّائِمَ الْحِجَامَةُ وَالْقَيْءُ وَالِاحْتِلَامُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زيد الرَّاوِي يضعف فِي الحَدِيث
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین چیزیں روزہ نہیں توڑتیں ، پچھنے ، قے اور احتلام ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث محفوظ نہیں ، عبدالرحمن بن زید روای ، حدیث میں ضعیف ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۱۹) * عبد الرحمن بن زید بن اسلم ضعیف جدًا عن ابیہ و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
2015
Zaeef
وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ثابت بنانی ؒ بیان کرتے ہیں ، انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا گیا ، تم رسول اللہ ﷺ کے دور میں روزہ دار کے پچھنے لگانے کو نا پسند کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں ، صرف کمزوری کے پیش نظر ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۱۹۴۰) ۔
2016
Sahih
وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ
امام بخاری ؒ سے معلق روایت ہے ، انہوں نے کہا : ابن عمر ؓ روزہ کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے ، پھر اسے ترک کر دیا ، پھر آپ رات کے وقت پچھنے لگواتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (الصوم باب : ۳۲ قبل ح ۱۹۳۸) ۔
2017
Sahih
وَعَن عَطاء قَالَ: إِن مضمض ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ لَا يضيره أَنْ يَزْدَرِدَ رِيقَهُ وَمَا بَقِيَ فِي فِيهِ وَلَا يَمْضُغُ الْعِلْكَ فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكَ لَا أَقُولُ: إِنَّهُ يُفْطِرُ وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ
عطا ؒ بیان کرتے ہیں ، اگر کلی کرے ، پھر منہ کے پانی کو گرا دے تو پھر اگر وہ اپنا تھوک اور جو پانی اس کے منہ میں باقی رہ گیا تھا نگل لے تو اس کے لیے مضر نہیں ، البتہ وہ گوند نہ چبائے ، اگر وہ گوند کا لعاب نگل لے تو میں نہیں کہتا کہ وہ روزہ توڑ لے گا ، لیکن اسے اس سے روکا جائے گا ۔ امام بخاری نے اسے ترجمعہ الباب میں روایت کیا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (الصوم باب : ۲۸ بعد ح ۱۹۳۴) ۔
2018
Sahih