TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْقَضَاء - نفلی روزوں کا بیان - روزوں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 6 of روزوں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 9 · 40 Hadith
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتكْمل صِيَام شهر قطّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: كَانَ يَصُوم شعْبَان كُله وَكن يَصُوم شعْبَان إِلَّا قَلِيلا
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نفلی روزے ( مسلسل ) رکھتے رہتے حتیٰ کہ ہم کہتیں کہ آپ روزہ رکھنا ترک نہیں کریں گے ، اور آپ روزہ رکھنا ترک فرما دیتے حتیٰ کہ ہم کہتیں کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے ، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو ماہ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ اور میں نے آپ کو شعبان کے علاوہ کسی اور ماہ میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ بیان کرتی ہیں : آپ ﷺ پورا شعبان روزے رکھا کرتے تھے ، اور آپ شعبان میں زیادہ روزے رکھا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۶۹) و مسلم (۱۷۵ ۔ ۱۷۶ / ۱۱۵۶) ۔ 2721
2036
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُوم شهرا كُله؟ قَالَ: مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مضى لسبيله. رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں ، میں نے عائشہ ؓ سے کہا : کیا نبی ﷺ پورا مہینہ روزے رکھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : میں آپ کے بارے میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے پورے روزے رکھے ہوں ، اور ایسے بھی نہیں کہ آپ نے کسی ماہ میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو بلکہ آپ ہر ماہ کچھ روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ آپ وفات پا گئے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۷۳ / ۱۱۵۶) ۔ 2718
2037
Sahih
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ سَأَلَهُ أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَعِمْرَانَ يَسْمَعُ فَقَالَ: «يَا أَبَا فُلَانٍ أَمَا صُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ»
عمران بن حصین ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اس (یعنی مجھ) سے یا کسی آدمی سے دریافت کیا جبکہ عمران سن رہا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابو فلاں ! کیا تم نے شعبان کے آخر کے روزے نہیں رکھے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم (رمضان کے) روزے رکھنا چھوڑ دو تو پھر دو دن کے روزے رکھ لینا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۸۳) و مسلم (۱۹۹ / ۱۱۶۱) ۔ 2751
2038
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمِ وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رمضان کے بعد اللہ کے مہینے محرم کا روزہ بہترین روزہ ہے ، اور فرض نماز کے بعد رات کی نماز (یعنی تہجد) بہترین نماز ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۰۲ / ۱۱۶۳) ۔ 2755
2039
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ: يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرُ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَان
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو اس دن یوم عاشورہ اور اس ماہ یعنی ماہ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور دن اور کسی اور ماہ کے روزے کا اہتمام کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور آپ نے اس (عاشورہ کے) دن کو باقی ایام پر فضیلت دی ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۰۶) و مسلم (۱۳۱ / ۱۱۳۲) ۔ 2662
2040
Sahih
وَعَن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حِينَ صَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ يُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لأصومن التَّاسِع» . رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو وہ دن ہے کہ یہود و نصاریٰ اس کی تعظیم کرتے ہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں آیندہ سال تک زندہ رہا تو میں نویں (محرم) کا (بھی) روزہ رکھوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۳۳ ۔ ۱۳۴ / ۱۱۳۴) ۔ 2666
2041
Sahih
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بقدح لبن وَهُوَ وَاقِف عل بعيره بِعَرَفَة فشربه
ام فضل بنت حارث ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن ان کے ہاں رسول اللہ ﷺ کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا تو کچھ نے کہا : آپ روزہ سے ہیں ، اور کچھ نے کہا کہ آپ روزہ سے نہیں ہیں ، میں نے دودھ کا پیالہ آپ کی خدمت میں بھیجا ، آپ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار تھے ، تو آپ نے اسے نوش فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۸۸) و مسلم (۱۱۰ / ۱۱۲۳) ۔ 2632
2042
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِما فِي الْعشْر قطّ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو (ذوالحجہ کے) عشرہ میں کبھی روزے سے نہیں دیکھا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۹ / ۱۱۷۶) ۔ 2879
2043
Sahih
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَوْله. فَلَمَّا رأى عمر رَضِي الله عَنْهُم غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضب رَسُوله فَجعل عمر رَضِي الله عَنْهُم يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عمر يَا رَسُول الله كَيفَ بِمن يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ: «لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ» . أَوْ قَالَ: «لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ» . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ: «وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ» . قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُوم يَوْمًا وَيفْطر يَوْمًا قَالَ: «ذَاك صَوْم دَاوُد عَلَيْهِ السَّلَام» قَالَ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ: «وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ» . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاث مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے دریافت کیا : آپ روزہ کیسے رکھتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ اس کی بات سے ناراض ہوئے : جب عمر ؓ نے آپ کی ناراضی دیکھی تو کہا : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں ، ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، عمر ؓ بار بار یہ بات دہراتے رہے حتیٰ کہ آپ ﷺ کا غصہ جاتا رہا تو عمر ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کی کیا حالت ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ۔‘‘ پھر انہوں نے عرض کیا : اس شخص کا کیا حال ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن نہیں رکھتا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ۔‘‘ پھر انہوں نے عرض کیا : اس کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن نہیں رکھتا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو داؤد ؑ کا روزہ ہے ۔‘‘ اور پھر انہوں نے عرض کیا : اس شخص کا کیا حال ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن نہیں رکھتا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں چاہتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت مل جائے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر ماہ (ایام بیض کے) تین روزے اور رمضان کے روزے رکھنا یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے جبکہ یوم عرفہ (۹ ذوالحجہ) کے روزے کے بارے میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ سابقہ اور آیندہ سال کے گناہ مٹا دے گا اور یوم عاشورہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ سابقہ سال کے گناہ مٹا دے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۹۶ / ۱۱۶۲) ۔ 2746
2044
Sahih
وَعَن أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ: «فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا :’’ یہی میرا یوم پیدائش ہے اور یہی یوم نبوت (یعنی اسی روز مجھ پر وحی نازل کی گئی) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۹۸ / ۱۱۶۲) ۔ 2750
2045
Sahih
وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَقُلْتُ لَهَا: مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّام الشَّهْر يَصُوم. رَوَاهُ مُسلم
معاذہ عدویہ ؓ سےروایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے دریافت کیا : کیا رسول اللہ ﷺ ہر ماہ تین دن روزہ رکھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، پھر میں نے ان سے پوچھا : آپ مہینے کے کون سے ایام روزہ رکھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : آپ اس بات کی پرواہ نہیں کیا کرتے تھے کہ آپ مہینے کے کن ایام میں روزہ رکھیں گے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۹۴ / ۱۱۶۰) ۔ 2744
2046
Sahih
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّال كَانَ كصيام الدَّهْر» . رَوَاهُ مُسلم
ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص رمضان کے روزے رکھے ، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے زمانہ بھر کے ( مسلسل ) روزے رکھے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۰۴ / ۱۱۶۴) ۔ 2758
2047
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۹۱) و مسلم (۱۴۱ / ۸۲۷) ۔ 2674
2048
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَوْم فِي يَوْمَيْنِ: الْفطر وَالضُّحَى
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عید الفطر اور عید الاضحی کے دو ایام میں روزہ رکھنا جائز نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۱۹۷) و مسلم (۱۴۰ / ۸۲۷) ۔ 2673
2049
Sahih
وَعَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أكل وَشرب وَذكر الله» . رَوَاهُ مُسلم
نبیشہ ہذلی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایام تشریق (۱۱ ، ۱۲ ، ۱۳ ذوالحجہ) کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۴۴ / ۱۱۴۱) ۔ 2677-2678
2050
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَن بِصَوْم قبله أَو بِصَوْم بعده»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی صرف جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے ، الاّ یہ کہ وہ اس سے پہلے یا اس کے بعد روزہ رکھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۸۵) و مسلم (۱۴۷ / ۱۱۴۴) ۔ 2683
2051
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي وَلَا تَخْتَصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومهُ أحدكُم» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم راتوں میں سے صرف شب جمعہ کو قیام کے لیے خاص کرو نہ دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص کرو الاّ یہ کہ وہ (جمعہ کا دن) تم میں سے کسی کے روزہ رکھنے کے ایام میں آ جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۴۸ / ۱۱۴۴) ۔ 2684
2052
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا»
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دوران جہاد ایک دن روزہ رکھتا ہے تو اللہ اس شخص کو ستر سال کی مسافت کے برابر جہنم سے دور کر دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۸۴۰) و مسلم (۱۶۸ / ۱۱۵۳) ۔ 2713
2053
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟» فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ صُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا. لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ. صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ. صُمْ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَاقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ» . قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمَ دَاوُدَ: صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ. وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ عبداللہ ! مجھے بتایا گیا ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسے نہ کیا کر ، روزہ رکھا کر اور کبھی نہ بھی رکھا کر ، رات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر ، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے ، تیری آنکھ کا تجھ پر حق ہے ، تیری اہلیہ کا تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے ، مسلسل روزے رکھنے والے کا کوئی روزہ نہیں ، ہر ماہ تین دن روزے رکھنا ، زمانہ بھر کے روزے رکھنے کے مترادف ہے ، ہر مہینے تین روزے رکھا کر اور ہر ماہ قرآن مجید مکمل کیا کر ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بہترین روزے رکھ ، داؤد ؑ کے روزے ، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ۔ سات دن میں قرآن مجید مکمل کر ، اور اس پر اضافہ نہ کر ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۷۵) و مسلم (۱۸۱ ۔ ۱۸۲ ، ۱۸۷ ، ۱۹۳ / ۱۱۵۹) ۔ 2730
2054
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيس. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۷۴۵ وقال : حسن غریب) و النسائی (۴ / ۲۰۳ ح ۲۳۶۳) ۔
2055
Sahih