TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْقَضَاء - قضا کا بیان - روزوں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 5 of روزوں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 9 · 6 Hadith
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ. قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: تَعْنِي الشّغل من النَّبِي أَو بِالنَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، مجھ پر رمضان کے روزے ہوتے تو میں صرف شعبان میں ان کی قضا دے سکتی تھی ۔ یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں ، ان کی مراد یہ ہے کہ (قضا میں تاخیر) نبی ﷺ کی مشغولیت کی وجہ سے تھی ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۵۰) و مسلم (۱۵۱ / ۱۱۴۶) ۔ 2687
2030
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنَ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کسی عورت کے لیے ، اپنے خاوند کے پاس ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں ، اور وہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۸۴ / ۱۰۲۶) ۔ 2370
2031
Sahih
وَعَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ لِعَائِشَةَ: مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
معاذہ عدویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے عرض کیا : حائضہ کا کیا معاملہ ہے کہ وہ روزہ کی قضا دیتی ہے اور نماز کی قضا نہیں دیتی ؟ عائشہ ؓ نے فرمایا : ہم بھی اس سے دوچار ہوتی تھیں تو ہمیں روزے کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا جبکہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۶۹ / ۳۳۵) ۔ 763
2032
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ صَامَ عَنْهُ وليه»
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی طرف سے اس کا وارث روزے رکھے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۵۲) و مسلم (۱۵۳ / ۱۱۴۷) ۔ 2692
2033
Sahih
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنه مَوْقُوف على ابْن عمر
نافع ؒ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ ماہ رمضان کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : درست بات یہ ہے کہ یہ عبداللہ بن عمر ؓ پر موقوف ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۱۸) * محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی : ضعیف مشھور ۔
2034
Zaeef
عَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُسْأَلُ: هَلْ يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ أَوْ يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ؟ فَيَقُولُ: لَا يَصُومُ أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ. وَلَا يُصَلِّي أَحَدٌ عَنْ أحد. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
امام مالک ؒ فرماتے ہیں ، انہیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ابن عمر ؓ سے مسئلہ دریافت کیا گیا تھا ، کیا کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے یا کوئی کسی دوسرے شخص کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا :’’ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے نہ کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھ سکتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک (۱ / ۳۰۳ ح ۶۸۱) * ھذا منقطع ، من البلاغات و روی البیھقی (۴ / ۲۵۴) بسند صحیح عن ابن عمر قال :’’ لا یصوم احد عن احد و لکن تصدقوا عند من مالہ للصوم لکل یوم مسکینًا ‘‘ و صححہ البیھقی ۔ ۔
2035
Zaeef