TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْقَضَاء - نفلی روزوں کا بیان - روزوں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 6 of روزوں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 9 · 40 Hadith
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پیر اور جمعرات کے روز اعمال پیش کیے جاتے ہیں ، لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۷۴۷ حسن غریب) [و اصلہ عند مسلم : ۲۵۶۵] ۔
2056
Sahih
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے ابوذر ! جب تم مہینے میں تین روزے رکھو تو تیرہ ، چودہ ، اور پندرہ کا روزہ رکھو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۷۶۱ وقال : حسن) و النسائی (۴ / ۲۲۲ ح ۲۴۲۵) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۱۲۸) و ابن حبان (۹۴۳ ۔ ۹۴۴)] ۔
2057
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَلَّمَا كَانَ يفْطر يَوْم الْجُمُعَةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ إِلَى ثَلَاثَة أَيَّام
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ ہر ماہ کے شروع میں تین روزے رکھا کرتے تھے اور آپ کم ہی جمعہ کے دن روزہ چھوڑا کرتے تھے ۔ ترمذی ، نسائی اور ابوداؤد نے تین دن تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۷۴۲ وقال : حسن غریب) و النسائی (۴ / ۲۰۴ ح ۲۳۷۰) و ابوداؤد (۲۴۵۰) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۱۲۹) و ابن حبان (الاحسان : ۳۶۳۷)] ۔
2058
Sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ السَّبْتَ وَالْأَحَدَ وَالِاثْنَيْنِ وَمِنَ الشَّهْرِ الآخر الثُّلَاثَاء وَالْأَرْبِعَاء وَالْخَمِيس. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کسی ماہ ہفتہ ، اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے تو دوسرے ماہ منگل ، بدھ اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۴۶ وقال : حسن) * خیثمۃ بن عبد الرحمن لم یسمع من عائشۃ (نیل المقصود : ۲۱۲۸) و سفیان الثوری مدلس و عنعن ۔
2059
Zaeef
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيس. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ مجھے حکم فرمایا کرتے تھے کہ میں ہر ماہ تین روزے رکھوں ، ان کی ابتدا پیر سے ہو یا جمعرات سے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۴۵۲) و النسائی (۴ / ۲۲۱ ح ۲۴۲۱) ۔
2060
Sahih
وَعَن مُسلم الْقرشِي قَالَ: سَأَلت أَوْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن صِيَام الدَّهْر فَقَالَ: «إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا صُمْ رَمَضَانَ وَالَّذِي يَلِيهِ وَكُلَّ أَرْبِعَاءَ وَخَمِيسٍ فَإِذًا أَنْتَ قَدْ صُمْتَ الدَّهْرَ كُلَّهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
مسلم قرشی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا یا آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے کے متعلق مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک تیرے گھر والوں کا تجھ پر حق ہے ، رمضان اور اس کے ساتھ والے ماہ اور ہر بدھ ، جمعرات کا روزہ رکھا کر ، (اگر تم نے ایسے کر لیا) تو تم نے (حکماً) زمانہ بھر کے روزے رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۴۳۲) و الترمذی (۷۴۸ وقال : غریب) * عبیداللہ القرشی : لم اعرفہ بحرح ولا تعدیل ۔
2061
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفہ (نو ذوالحجہ) کے دن میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۲۴۴۰) [ابن ماجہ : ۱۷۳۲] ۔
2062
Sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أُخْتِهِ الصَّمَّاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
عبداللہ بن بسر اپنی بہن صماء سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو الا ّ یہ کہ اس روز اور کوئی ایسا روزہ آ جائے جو تم پر فرض کیا گیا ہے ، اگر تم میں سے کوئی انگور کا چھلکا یا کسی درخت کی لکڑی کے ماسوا کچھ نہ پائے تو اسے ہی چبا لے ۔‘‘ (تاکہ صرف ہفتہ کا روزہ ثابت نہ ہو) ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۶ / ۳۶۸ ح ۲۷۶۵۱) و ابوداؤد (۲۴۲۱) و الترمذی (۷۴۴ وقال : حسن) و ابن ماجہ (۱۷۲۶) و الدارمی (۲ / ۱۹ ح ۱۷۵۶) [و صححہ ابن خزیمہ : ۲۱۶۳] ۔
2063
Sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص راہ جہاد میں ایک روزہ رکھتا ہے تو اللہ اس کے اور جہنم کے مابین زمین و آسمان کی مسافت جتنی ایک خندق بنا دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۶۲۴ وقال : غریب) [و للحدیث شواھد] ۔
2064
Sahih
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ الشِّتَاءِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسل
عامر بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سردی میں روزہ ٹھنڈی غنیمت ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث مرسل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۴ / ۳۳۵ ح ۱۹۱۶۷) و الترمذی (۷۹۷) * السند مرسل و ابو اسحاق عنعن ولہ شواھد ضعیفۃ و روی البیھقی (۴ / ۲۹۷) بسند صحیح عن ابی ھریرۃ قال :’’ الغنیمۃ الباردۃ الصوم فی الشتاء ‘‘ ۔
2065
Zaeef
وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أحب إِلَى الله» فِي بَاب الْأُضْحِية
ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث ((ما من ایام احب الی اللہ)) باب الاضحیۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، تقدم (۱۴۷۱) ۔
2066
Zaeef
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةِ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟» فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ: أَنْجَى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ» فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بصيامه
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو یوم عاشورا کا روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ ﷺ ے ان سے دریافت کیا :’’ یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، یہ ایک عظیم دن ہے ، اللہ نے اس روز موسی ٰ ؑ اور ان کی قوم کو نجات دی جبکہ فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو موسی ٰ ؑ نے شکر کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی اس روز کا روزہ رکھتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہم تمہاری نسبت موسی ٰ ؑ کے زیادہ حق دار ہیں ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے اس روز کا روزہ رکھا اور اس کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۰۴) و مسلم (۱۲۷ / ۱۱۳۰) ۔
2067
Sahih
قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مَا يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ وَيَقُولُ: «إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ فَأَنَا أُحِبُّ أَن أخالفهم» . رَوَاهُ أَحْمد
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ زیادہ تر ہفتہ اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ، اور آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ یہ دونوں مشرکین کے ایام عید ہیں ، لہذا میں ان کی مخالفت کرنا پسند کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن لذاۃ ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن لذاتہ ، رواہ احمد (۶ / ۳۲۴ ح ۲۷۲۸۶) [و صححہ ابن خزیمۃ (۳ / ۳۱۸ ح ۲۱۶۷) و ابن حبان (الموارد : ۹۴۱ ۔ ۹۴۲) و الحاکم (۱ / ۴۳۶) و وافقہ الذھبی] * عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی ثقہ و ثقہ الذھبی فی الکاشف و ابن خزیمۃ و غیرھما ۔
2068
Sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَيَحُثُّنَا عَلَيْهِ وَيَتَعَاهَدُنَا عِنْدَهُ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُ وَلم يتعاهدنا عِنْده. رَوَاهُ مُسلم
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ یوم عاشورا کا روزہ رکھنے کا ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے ، اس کی ہمیں ترغیب دیا کرتے تھے اور اس کے متعلق ہمیں نصیحت فرمایا کرتے تھے ، جب رمضان فرض کیا گیا تو آپ نے اس کے متعلق ہمیں حکم فرمایا نہ منع کیا اور نہ ہی ہمیں اس کے متعلق نصیحت فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۲۵ / ۱۱۲۸) ۔ 2652
2069
Sahih
وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صِيَامُ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَانِ قبل الْفجْر» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ، چار امور ہیں جنہیں نبی ﷺ ترک نہیں کیا کرتے تھے : یوم عاشورا کا روزہ ، ذوالحجہ کے دس روزے ، ہر ماہ تین روزے اور فجر سے پہلے دو رکعتیں ۔ سندہ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ النسائی (۴ / ۲۲۰ ح ۲۴۱۸) * ابواسحاق الاشجعی لم اجد من و ثقہ و حدیث النسائی (۲۴۱۹) یغنی عنہ عن حدیثہ ۔
2070
Zaeef
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفْطِرُ أَيَّامَ الْبيض فِي حضر وَلَا فِي سفر. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ حضر و سفر میں ایام بیض (تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ) کا روزہ نہیں چھوڑتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ النسائی (۴ / ۱۹۸ ۔ ۱۹۹ ح ۲۳۴۷) ۔
2071
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر چیز کی زکوۃ ہے جبکہ جسم کی زکوۃ روزہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۱۷۴۵) * موسی بن عبیدۃ : ضعیف و جمھان : مجھول و للحدیث طرق لا یصح منھاشی ۔
2072
Zaeef
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ. فَقَالَ: إِنَّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ يَغْفِرُ اللَّهُ فِيهِمَا لِكُلِّ مُسْلِمٍ إِلَّا ذَا هَاجِرَيْنِ يَقُولُ: دَعْهُمَا حَتَّى يصطلحا . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے ، آپ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! آپ پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک پیر اور جمعرات کے روز اللہ باہم قطع تعلق کرنے والے دو آدمیوں کے سوا ہر مسلمان کو بخش دیتا ہے اور وہ فرماتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ دونوں صلح کر لیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲ / ۳۲۹ ح ۸۳۴۳) و ابن ماجہ (۱۷۴۰) ۔
2073
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ بَعَّدَهُ اللَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَبُعْدِ غُرَابٍ طَائِرٍ وَهُوَ فرخ حَتَّى مَاتَ هرما» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر ایک روزہ رکھتا ہے تو اللہ اسے جہنم سے اس قدر دور فرما دیتا ہے جیسے ایک اڑنے والا کوا بچپن کی عمر سے اڑنا شروع کرے اور بوڑھا ہونے تک اڑتا رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو جائے ۔‘‘ (وہ ساری زندگی میں جتنا فاصلہ طے کرتا ہے اللہ اس شخص کو اتنی مسافت جہنم سے دور کر دیتا ہے) ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۵۲۶ ح ۱۰۸۲۰) * فیہ رجل ھو عمرو بن ربیعۃ مجھول الحال و لھیعۃ ابو عبداللہ مستور و ابن لھیعۃ عنعن و حدیث الترمذی (۱۶۲۲) یغنی عنہ ۔
2074
Zaeef
وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ سَلَمَةَ بن قيس
امام بیہقی نے اسے سلمہ بن قیس سے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۳۵۹۰) [و البزار (کشف الاستار : ۱۰۳۷)] * زبان بن فائد ضعیف ، و لھیعۃ و ابو الشعثاء عمرو بن ربیعۃ مجھولان و ابن لھیعۃ عنعن و انظر الحدیث السابق (۲۰۷۴) ۔
2075
Zaeef