۔ (۴۱۰۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللہ عنہما قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْعُمْرَۃِ أَوْاجِبَۃٌ ہِیَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ عمرہ کے بارے میں ذرا بتلائیں کہ کیایہ واجب ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، لیکن اگر تم عمرہ کرو گے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا۔
Takhreej
(۴۱۰۸) اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن۔ أخرجہ الترمذی: ۹۳۱ (انظر: ۱۴۳۹۷)
Explanation
فوائد: …اسی طرح درج ذیل حدیث بھی ضعیف ہے، جو انتہائی واضح طور پر عمرہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ فَرِیْضَتَانِ۔)) …حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔‘‘ (ابن عدی)
4108
Zaeef