TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمرے کے حکم اور اس کے طریقہ کا بیان - عمرے کے حکم اور اس کے طریقہ کا بیان - عمرہ کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of عمرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 11 · 2 Hadith
۔ (۴۱۰۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَخْبِرْنِیْ عَنِ الْعُمْرَۃِ أَوْاجِبَۃٌ ہِیَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَیْرٌ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۰)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ عمرہ کے بارے میں ذرا بتلائیں کہ کیایہ واجب ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی نہیں، لیکن اگر تم عمرہ کرو گے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا۔
Takhreej
(۴۱۰۸) اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ مدلس وقد عنعن۔ أخرجہ الترمذی: ۹۳۱ (انظر: ۱۴۳۹۷)
Explanation
فوائد: …اسی طرح درج ذیل حدیث بھی ضعیف ہے، جو انتہائی واضح طور پر عمرہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہے: سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ فَرِیْضَتَانِ۔)) …حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔‘‘ (ابن عدی)
4108
Zaeef
۔ (۴۱۰۹) عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ذَکَرُوْا الرَّجُلَ یُہِلُّ بِعُمْرَۃٍ فَیَحِلُّ، ہَلْ لَہُ أَنْ یَأْتِیَیَعْنِیْ امْرَأَتَہُ قَبْلَ أَنْ یَطُوْفَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، فَقَالَ: لَا حَتّٰییَطُوْفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ، وَسَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، فَقَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَفَطَافَبِالْبَیْتِ سَبْعًا فَصَلّٰی خَلْفَ الْمَقَامِ رَکْعَتَیْنِ وَسَعٰی بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ،ثُمَّ قَالَ: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔} (مسند احمد: ۴۶۴۱)
۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ لوگوں نے یہ بات ذکر کی کہ ایک آدمی عمرے کا احرام باندھتا ہے، پھر وہ احرام کھول دیتا ہے توکیا صفا مروہ کی سعی کرنے سے پہلے وہ اپنی بیوی سے ہم بستری کر سکتا ہے، پھر ہم نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: نہیں، جب تک وہ صفا مروہ کی سعی نہ کر لے، اس وقت تک یہ کام نہیں کر سکتا، پھر ہم نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے، بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا کیںاور پھر صفا مروہ کی سعی کی۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ آیت پڑھی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أَسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … یقینا تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (سورۂ احزاب: ۲۱)
Takhreej
(۴۱۰۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۹۵، ۳۹۶، ۱۶۲۳، ۱۶۲۴، وأخرجہ الشطر الثانی منہ مسلم: ۱۲۳۴(انظر: ۳۶۴۱)
Explanation
فوائد: …عمرہ کے حکم کے بارے میں مزیداحادیث: (۱) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کی روایت کردہ مشہور حدیث ِ جبریل میں ہے: جب جبریل علیہ السلام نے اسلام کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْھَدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَاَنْ تُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَوَتَحُجَّ الْبَیْتَ وَتَعْتَمِرَوَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَ تُتِمَّ الْوُضُوْئَ وَ تَصُوْمَ رَمَضَانَ۔ قَالَ: فَاِذَا فَعَلْتُ ذَالِکَ فَاَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ… اسلام یہ ہے کہ تو یہ گواہی دے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے اور بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرے اور غسلِ جنابت کرے اور وضو مکمل کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔‘‘ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: جب میں یہ امور سرانجام دوں گا تو کیا میں مسلمان ہوں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’’جی ہاں۔‘‘ (صحیح ابن خزیمہ: ۱/۳) (۲)سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ)) … ’’جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱) ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَعَلَی النِّسَائِ جِہَادٌ۔ قَالَ: ((اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ ہُوَ جِہَادُ النِّسَائِ)) … اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’حج اور عمرہ عورتوں کا جہاد ہیں۔‘‘ اس حدیث میں ’’عَلٰی‘‘ کا کلمہ وجوب کا فائدہ دینے میں ظاہر ہے۔ (۳)صبی بن معبد نے کہا: ((رَاَیْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ مَکْتُوْبَیْنِ عَلَیَّ فَاَھْلَلْتُ بِھِمَا۔ فَقَالَ لَہٗ: ھُدِیْتَ لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ)) … میں نے حج اور عمرہ کو اپنے آپ پر فرض پایا، اس لیے ان دونوں کا تلبیہ کہا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے اس سے کہا: تجھے تیرے نبی کی سنت کے مطابق ہدایت دی گئی ہے۔ (سنن ابی داود: ۱۷۹۹)سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا جابر اور امام شافعی اور امام احمد وغیرہ عمرہ کے وجوب کے قائل ہیں۔جبکہ امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام نخعی وغیرہ کا خیال ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے، بلکہ سنت ہے۔علامہ شوکانی کہتے ہیں: حق یہ ہے کہ عمرہ واجب نہیں اور اس کے وجوب کی کوئی صریح دلیل بھی نہیں۔لیکن فوائد میں مذکورہ تین دلائل عمرہ کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔
4109
Sahih

Chapters

11