TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان - یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان - حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 33 of حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 33 of 40 · 6 Hadith
۔ (۴۵۵۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: ((أَیُّیَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) فَقَالُوْا: یَوْمُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَأَیُّ شَہْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالُوْا: شَہْرُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((أَیُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالُوْا: بَلَدُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِکُمْ ھٰذَا، ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((اَللّٰہُمَّ اشْہَدْ)) (مسند احمد: ۱۵۰۵۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دس ذوالحجہ کو خطبہ دیا اور فرمایا: کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والاہے؟ صحابہ نے کہا: آج کا یعنی دس ذوالحجہ کا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس مہینہ کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ ذوالحجہ کا مہینہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سا شہر سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ انھوں نے کہا: ہمارا یہ شہریعنی مکہ مکرمہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور مال ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں، جیسے تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں اس دن کی حرمت ہے، کیا میں نے تم لوگوں تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔
Takhreej
(۴۵۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/۲۷ (انظر: ۱۴۹۹۰)
Explanation
فوائد: …وعظ و نصیحت کے لیے اس قسم کے خطابات اور دروس کا اہتمام کیا گیا، کیونکہیہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیاتِ مبارکہ کا سب سے بڑا اجتماع تھا، اور شرعی احکام کی تبلیغ کا سنہری موقع تھا، کیونکہ اس اجتماع میں شرکت کرنے والوںکی بھاری اکثریت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طویل صحبت سے محروم تھی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس حجۃ الوداع کے موقع پر اس حقیقت کا اظہار بھی کر چکے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے اور ایسے ہی ہوا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تقریباً (۹۰) دنوں کے بعد خالقِ حقیقی کو جا ملے۔
4551
Sahih
۔ (۴۵۵۲) عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! أَیُّیَوْمٍ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: ھٰذَا یَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ: ((أَیُّ بَلَدٍ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ: ((فَأَیُّ شَہْرٍ ھٰذَا؟)) قَالُوْا: شَہْرٌ حَرَامٌ، قَالَ: ((إِنَّ أَمْوَالَکُمْ وَ دِمَائَ کُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِ کُمْ ھٰذَا۔)) ثُمَّ أَعَادَھَا مِرَارًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) مِرَارًا، قَالَ: یَقُوْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللّٰہِ! إِنَّہَا لَوَصِیَّۃٌ إِلٰی رَبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ: ((أَلَافَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ، لَاتَرْجِعُوْا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: لوگو! یہ کونسا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا دن ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کونسا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے مال، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں، جیسے اس شہر میں اور اس مہینے میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ آپ نے یہ الفاظ متعدد مرتبہ دہرائے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھاکر متعدد بار فرمایا: کیا میں نے لوگوں تک پیغام پہنچادیا ہے؟ سیدناابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کے حق میں اللہ تعالی کو وصیت تھی۔ اسکے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار ! جو لوگ اس وقت موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچادیں، جو یہاں موجود نہیں ہیں، لوگو! تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
Takhreej
(۴۵۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۷۳۹، ۷۰۷۹(انظر: ۲۰۳۶)
Explanation
فوائد: …صحیح بخاری کی روایتیہ وضاحت ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس ذوالحجہ کو یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہم مسلمان کے جان و مال اور عزت و حرمت کاکم از کم اس قدر پاس و لحاظ رکھیں کہ وہ ہماری کسی کاروائی کی وجہ سے متاثر نہ ہوں، کتنے خوبصورت اور واشگاف انداز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین مختلف سوالات کر کے تمہید باندھی اور پھر بار بار مسلمان کے خون، مال اور عزت کی حرمت کی وضاحت فرمائی۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں مال اور عزت کا قطعی طور پر کوئی خیال نہیں رکھا جاتا، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے عام مسلمان قتل کے جرم سے محفوظ رہتے ہیں، اگرچہ قتل و غارت گری بھی عام ہے۔ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے امت کے حق میں صحیح بخاری: (۱۷۳۹) میں عربی الفاظ یہ ہیں انہا لوصیتہ، الی امتہ کہ یہ (کہ موجود لوگ غیر موجود لوگوںتک میری باتیں پہنچائیں) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے لئے وصیت تھی۔(عبداللہ رفیق)
4552
Sahih
۔ (۴۵۵۳) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: خَطَبَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النَّاسَ بِمِنًی وَنَزَّلَہُمْ مَنَازِلَہُمْ، وَقَالَ: ((لِیَنْزِلِ الْمُہَاجِرُوْنَ ھَاھُنَا وَأَشَارَ إِلَی الْقِبْلَۃِ، وَالْأَنْصَارُ ھَاھُنَا وَأَشَارَ إِلَی مَیْسَرَۃِ الْقِبْلَۃِ، ثُمَّ لِیَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَہُمْ۔)) قَالَ: وَعَلَّمَہُمْ مَنَاسِکَہُمْ، فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُ أَھْلِ مِنًی حَتّٰی سَمِعُوْہُ فِی مَنَازِلِہِمْ، قَالَ: فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ((اِرْمُوْا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۶۴)
۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو منیٰ میں خطبہ دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود ان کو ان کی جگہ پر بٹھانے کے لیے فرمایا: مہاجرینیہاں بیٹھ جائیں، اس کے ساتھ ہی آپ نے قبلے کی طرف اشارہ کیا، انصار یہاں بیٹھ جائیں، اس کے ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبلے کی بائیں جانب اشارہ کیا اور باقی لوگ ان کے ارد گرد بیٹھ جائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو حج کے مناسک کی تعلیم دی، اللہ تعالی نے منیٰ والوں کے کان اس حد تک کھول دیئے کہ انھوں نے اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے بیٹھے ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی باتیں سن لیں۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: (چنے یا لوبیا وغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو۔
Takhreej
(۴۵۵۳) تخریج: ضعیف دون قولہ: ارموا الجمرۃ بمثل حصی الخذف فھو صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ بنحوہ ابوداود: ۱۹۵۱(انظر: ۲۳۱۷۷)
4553
Zaeef
۔ (۴۵۵۴) عَنِ الْھِرْمَاسِ بْنِ زِیَادٍ الْبَاھِلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبِی مُرْدِفِیْ خَلْفَہُ عَلٰی حِمَارٍ وَأَنَا صَغِیْرٌ، فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ بِمِنًی عَلٰی نَاقَتِہِ الْعَضْبَائِ۔ (مسند احمد: ۲۰۳۳۴)
۔ سیدنا ہرماس بن زیاد باھلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں چھوٹا تھا اور مجھے میرے والد نے اپنے پیچھے گدھے پر سوار کیا ہوا تھا، اس وقت میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منی میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عضباء نامی اونٹنی پر سوار تھے۔
Takhreej
(۴۵۵۴) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۹۵۴(انظر: ۲۰۰۷۴)
Explanation
فوائد: …عضباء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کے کان کٹے ہوئے ہوں۔ عضبا، کا اصل معنی تو فوائد میں ذکر ہوا ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی کے کان کیے ہوئے تھے۔ یعنی وہ اسم بامسمیٰ تھییا اس کا صرف نام یہ تھا، حقیقت میں وہ ایسی نہیں تھی۔ دوسری رائے زیادہ مشہور ہے۔ دیکھیں، نہایہ فی غریب الحدیث: ۲۵۱۔ (عبداللہ رفیق)
4554
Sahih
۔ (۴۵۵۵)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُیَوْمَ النَّحْرٍ بِمِنًی۔ (مسند احمد: ۱۶۰۶۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا ہرماس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے دس ذوالحجہ کو منیٰ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔
Takhreej
(۴۵۵۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4555
Sahih
۔ (۴۵۵۶) عَنْ مُرَّۃَ الطَّیِّبِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غُرْفَتِی ھٰذِہِ حَسِبْتُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ النَحْرِ عَلٰی نَاقَۃٍ لَہُ حَمْرَائَ مُخَضْرَمَۃٍ، فَقَالَ: ((ھٰذَا یَوْمُ النَّحْرِ وَھٰذَا یَوْمُ الْحَجِّ الْأَکْبَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۱)
۔ مُرّۃطیّب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک صحابی نے مجھے میرے اس کمرے میں حدیث بیان کی اور اس نے کہاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس ذوالحجہ کو سرخ رنگ والی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دیا، اس اونٹنی کا کان کٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ میں یہ بھی فرمایا تھا: آج قربانی کا دن ہے اور یہ حج اکبر کا دن ہے۔
Takhreej
(۴۵۵۶) اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۰۵۷، والنسائی فی الکبری : ۴۰۹۹(انظر: ۱۵۸۸۶)
Explanation
فوائد: …ہر حج کو حج اکبر اور ہر عمرہ کو حج اصغر کہتے ہیں اور حج کو حج اصغر یعنی عمرہ سے ممتاز رکھنے کے لیے حج اکبر کہا جاتا ہے، نیز دس ذوالحجہ کو حج اکبر کا دن اس لیے کہا جاتا ہے کہ حج کے زیادہ ارکان اسی دن کو ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ صرف عوامی نظریہ ہے کہ جو حج جمعہ والے دن آ جائے، وہ حج اکبر ہوتا ہے، یہ نظریہ بے اصل ہے، اس کی کوئی دلیل نہیں۔ سیدنا رافع بن عمرو مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ((رَاَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًی حِیْنَ ارْتَفَعَ الضُّحٰی عَلٰی بَغْلَۃٍ شَھْبَائَ وَعَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یُعَبِّرُ عَنْہُ وَالنَّاسُ بَیْنَ قَائِمٍ وَ قَاعِدٍ)) … میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفید خچر پر سوار ہو کر لوگوں کو مِنٰی میں خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، یہ چاشت کا وقت تھا اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز کو آگے پہنچا رہے تھے، جبکہ بعض لوگ کھڑے تھے اور بعض بیٹھے ہوئے تھے۔ (سنن ابو داود: ۱۹۵۶) فوائد: …معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دس ذوالحجہ کو لوگوں کی تعلیم و تربیت اور احکامِ شرعیہ کی تبلیغ کے لیے خطبے کا اہتمام کیا۔
4556
Sahih

Chapters

40
01
حج افراد کرنے والے کا طواف
3 Hadith
02
حج قران کرنے والے کا طواف
4 Hadith
03
حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان،یعنی وہ آدمی جو شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھتا ہے
2 Hadith
04
اہل مکہ کے طواف اور طواف سے متعلقہ احکام و مسائل اور دورانِ طواف کلام کرنے کا بیان
3 Hadith
05
طواف اور استلام کے موقع پر کیا جانے والا ذکر، جاہلیت والے لوگ طواف میںکیا کہتے تھے اور دورانِ طواف کلام نہ کرنے کا مستحب ہونا، ان سب امور کا بیان
5 Hadith
06
طواف کی دورکعتوں اور ان کی قراء ت اور ان کے بعد حجراسود کے استلام کا بیان
5 Hadith
07
صفا مروہ کی سعی
3 Hadith
08
صفا مروہ کی سعی میں صفا سے ابتدا کرنے اور اس میں چلنے یا رمل کرنے کا بیان
6 Hadith
09
کسی حاجت کے پیش نظر سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کا بیان
2 Hadith
10
صفااور مروہ کے اوپر وقوف کرنے اور اس دوران اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا بیان
3 Hadith
11
حج تمتع کرنے والے کو سعی اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد احرام کھول دینے کا حکم دینے کا بیان، الّا یہ کہ وہ قربانی لے کر آیا ہو
6 Hadith
12
حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا لینا
19 Hadith
13
اس امر کا بیان کہ حج تمتع کرنے والا کس وقت احرام باندھے، لوگ کس وقت منیٰ کو روانہ ہوں، وہاں کتنا عرصہ ٹھہریں اور منیٰ میں جاکر پہلے کونسی نماز پڑھی جائے؟
6 Hadith
14
منیٰ سے عرفہ کے لیے روانگی،عرفہ میں وقوف اور وہاں سے واپسی کے ابواب منیٰ سے روانگی کا وقت، وادیٔ نمرہ میں نزول اور عرفہ میں وقوف کے وقت کا بیان
2 Hadith
15
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
3 Hadith
16
وقوفِ عرفہ کے واجب ہونے اور اس کے وقت اور عرفہ کے سارے مقام کا جائے وقوف ہونے کا بیان
7 Hadith
17
عرفہ میں سواری پر وقوف کرنے اور وہاں خطبہ دینے اور دعاکرنے کا بیان
7 Hadith
18
عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
9 Hadith
19
عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان
3 Hadith
20
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے اور وہاں رات بسر کرنے کا بیان
9 Hadith
21
مشعرِ حرام یعنی مزدلفہ میں وقوف کرنے اور اس کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک کے مسائل کا بیان مزدلفہ میں وقوف، اس کے آداب، وہاں سے منی کی طرف روانگی کے وقت، اور جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ جاری رکھنے کا بیان
8 Hadith
22
مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
4 Hadith
23
اس امر کا بیان کہ کمزور اور ضعیف خواتین کو رش سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کیا جاسکتا ہے
8 Hadith
24
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
4 Hadith
25
یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
7 Hadith
26
وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
5 Hadith
27
جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
6 Hadith
28
جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
4 Hadith
29
قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
7 Hadith
30
تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
31
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
6 Hadith
32
دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
6 Hadith
33
یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منیٰ میں خطبہ کا بیان
6 Hadith
34
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
5 Hadith
35
اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اور ضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
3 Hadith
36
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
3 Hadith
37
ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
3 Hadith
38
منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
8 Hadith
39
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر جانے والا آدمی مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد کتنا عرصہ وہاں قیام کرسکتا ہے؟
1 Hadith
40
طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان طوافِ وِداع: …وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
5 Hadith
No chapter matched that.