TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جن جانداروں میں بہنے والا خون نہ ہو،ان کی طہارت کا بیان، وہ زندہ ہوںیا مردہ - جن جانداروں میں بہنے والا خون نہ ہو،ان کی طہارت کا بیان، وہ زندہ ہوںیا مردہ - پیشاب، مذی اور منی وغیرہ کے حکم کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of پیشاب، مذی اور منی وغیرہ کے حکم کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 6 · 4 Hadith
۔ (۴۷۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ اِنَائِ أَحَدِکُمْ فَاِنَّ فِیْ أَحَدِ جَنَاحَیْہِ دَائً وَفِی الْآخَرِ شِفَائً، وَاِنَّہُ یَتَّقِیْ بِجَنَاحِہِ الَّذِیْ فِیْہِ الدَّائُ، فَلْیَغْمِسْہُ کُلَّہُ)) (مسند أحمد:۷۱۴۱)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب مکھی کسی کے برتن میں گر جائے تو چونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا اور وہ اُس پر کے ذریعے بچتی ہے، جس میں بیماری ہوتی ہے، اس لیے آدمی ساری مکھی کو ڈبو دے۔
Takhreej
(۴۷۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۲۰، ۵۷۸۲ (انظر: ۷۱۴۱)
477
Sahih
۔ (۴۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ شَرَابِ أَحَدِ کُمْ فَلْیَغْمِسْہُ کُلَّہُ ثُمَّ لِیَطْرَحْہُ، فَاِنَّ فِیْ أَحَدِ جَنَاحَیْہِ شِفَائً وَفِی الْآخَرِ دَائً۔)) (مسند أحمد: ۹۱۵۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو مکمل طور پر ڈبو کر پھینک دے، کیونکہ اس کے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے میں بیماری ہے۔
Takhreej
(۴۷۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
478
Sahih
۔ (۴۷۹)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمقَالَ: ((اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ طَعَامِ أَحَدِکُمْ فَامْقُلُوْہُ)) (مسند أحمد: ۱۱۲۰۷)
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کسی کے کھانے میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو اس میں ڈبو دے۔
Takhreej
(۴۷۹) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۷۸، وابن ماجہ: ۳۵۰۴(انظر: ۱۱۱۸۹)
Explanation
فوائد:…امام شوکانی نے کہا: ان احادیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ مائے قلیل ایسی چیز کے مر جانے سے نجس نہیں ہوتا، جس کا بہنے والا خون نہ ہو، کیونکہ ان احادیث میں موت و حیات کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔
479
Sahih
۔ (۴۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَیْتَتَانِ فَالْحُوْتُ وَالْجَرَادُ وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْکَبِدُ وَالطِّحَالُ۔))
سیدناعبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں، پس وہ دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون جگر اور تلی ہیں۔ (مسند أحمد: ۵۷۲۳)
Takhreej
(۴۸۰) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۳۲۱۸، ۳۳۱۴ (انظر: ۵۷۲۳)
Explanation
فوائد:…اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مچھلی، ٹڈی کا مردار اور جگر اور تلی کے خون حلال ہیں۔
480
Sahih