TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5343 - جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے - قسم اور نذر کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 14 in this chapter
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
۔ (۵۳۴۳) عَنْ عَدِیٍّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَأٰی غَیْرَھَا خَیْرًا مِنْھَا فَلْیَاْتِ الَّذِی ھُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِیْنِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۴۰)
۔ سیدنا عدی بن حاتم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھا لے، لیکن پھر کسی دوسرے چیز کو بہتر سمجھے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
5343
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۵۳۴۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۵۱(انظر: ۱۸۲۵۱)

Related Chapters

266
1
اس آدمی کا بیان کہ جس کو ایک چیز خریدنے کا وکیل بنایا گیا، لیکن اس نے زیادہ چیزیں خرید کر اضافی چیزوں میں از خود تصرف کیا
Musnad Ahmad
2
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
Musnad Ahmad
3
(4) CHAPTER. For expiation (of one's oath) one should feed ten poor persons no matter whether they are relatives or not.
کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا دیا جائے خواہ وہ قریب کے رشتہدار ہوں یادور کے بلکہ قریب والوں کو کھلانے میں ثواب اور بھی زیادہ ہے
Sahih Bukhari
4
باب: زیادہ اچھی اور بہترین عورتیں کون سی ہیں؟
Sunnan Nisai
5
باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
Chapter: What Has Been Related That The Imam Has be Greatest Right To The Iqamah
باب: امام کا اقامت (تکبیر) کا حق زیادہ ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: [What Has Been Related About] Who Is Most Deserving Of Being The Imam
باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About: Curtailing The Salam Is A Sunnah
باب: سلام زیادہ نہ کھینچ کر کہنا سنت ہے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Hajj On Behalf Of The Elderly Man And The Dead
باب: زیادہ بوڑھے آدمی اور میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What has been related about a man who sees a woman and becomes fascinated with her
باب: آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اسے پسند آ جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What has been related about the choice
باب: عورت کو ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے اختیار دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Option Of The Buyer And The Seller
باب: بائع اور مشتری کی رضا مندی اور اختیار سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Giving More In Weights
باب: (ترازو) جھکا کر (زیادہ) تولنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The Boy Choosing Between His Parents When They Separate
باب: ماں باپ کی جدائی کی صورت میں بچے کو اختیار دئیے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About There Is No Vowing In That Over Which The Son Of Adam Has No Control
باب: جو چیز آدمی کے اختیار میں نہیں اس میں نذر نہیں
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About Increasing (The Water In) The Broth
باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Whatever A Lot Of It Intoxicates, A Little Of It Is Unlawful
باب: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About Those On The Right Have More Right To The Drink
باب: دائیں طرف والے مشروب کے زیادہ مستحق ہیں
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related Concerning Being Moderate In Loving And Hating
باب: محبت اور نفرت میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Too Much Anger
باب: زیادہ غصہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (s.a.w) Saying: If You Knew What I Know Then You Would Laugh Little
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مجھے معلوم ہے وہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے​
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Much
باب: زیادہ کھانے پینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Accompanying The Believer
باب: مومن کی صحبت اختیار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: آدمی اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حق رکھتا ہے
Jam e Tirmazi
30
باب: مردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About What One Says When Seeing An Afflicted Person
باب: جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What One Says Upon Seeing The Crescent Moon
باب: نیا چاند (ہلال) دیکھے تو کیا پڑھے؟
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What One Says Upon Seeing A Dream He Dislikes
باب: برے اور ناپسندیدہ خواب دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What One Says When Seeing The Early Fruits
باب: جب موسم کا پہلا پھل دیکھے تو کیا کہے؟
Jam e Tirmazi
35
بَاب الِاعْتِصَام بِالْكتاب وَالسّنة
کتاب و سنت کے ساتھ تمسک اختیار کرنے کا بیان
Mishkat
36
بَاب الْخِيَار
اختیار کا بیان
Mishkat
37
بَابُ الْحَذَرِ وَالتَّأَنِّي
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
Mishkat
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
39
علم کے اٹھائے جانے کا بیان
Musnad Ahmad
40
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
41
رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
42
دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
43
اس کا بیان کہ امامت کا زیادہ حق دار کون ہے
Musnad Ahmad
44
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
45
جب آدمی بارش کو دیکھے تو کیا کرے اور کیا کہے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
46
اس امر کا بیان کہ غلو کئے بغیر میت کو عمدہ کفن دیا جائے اور سفید کفن زیادہ پسندیدہ ہے
Musnad Ahmad
47
گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
Musnad Ahmad
48
سب سے زیادہ فضیلت والے صدقے کا بیان
Musnad Ahmad
49
حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
50
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
5338
۔ (۵۳۳۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَلَفَ عَلٰی یَمِینٍ فَرَأٰی خَیْرًا مِنْہَا فَلْیَأْتِ الَّذِی ہُوَ خَیْرٌ وَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ)) (مسند أحمد: ۶۹۰۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی، لیکن پھر دیکھا کہ بہتری کسی دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
Musnad Ahmad
13
۔ (۱۳)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْأٰی،لَا یَغِیْضُہَا نَفَقَۃٌ سَحَّائُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ۔)) وَقَالَ: ((أَرَأَیْتَکُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَائَ وَالْأَرْضَ، فَإِنَّہُ لَمْ یَغِضْ مَا فِی یَمِیْنِہِ۔)) قَالَ: ((وَعَرْشُہُ عَلَی الْمَائِ، بِیَدِہِ الْأُخْرَی الْمِیْزَانُ یَخْفِضُ وَ یَرْفَعُ۔)) (مسند أحمد: ۱۰۵۰۷)
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، دن رات کا متواتر خرچ اس میں کمی نہیں کر سکتا، کیا تم نے غور کیا ہے کہ اس نے زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت سے لے کر (آج تک) کیا کچھ خرچ کیا ہے، لیکن یہ خرچ بھی اس چیز میں کوئی کمی نہ کر سکا، جو اس کے دائیں ہاتھ میں ہے، اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، کسی کے حق میں اس کو پست کر دیتا ہے اور کسی کے حق میں بلند کر دیتا ہے۔
Musnad Ahmad
510
۔ (۵۱۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، اِذَا أَتَیْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْہَا)) وَنَہٰی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ ((وَلَا یَسْتَطِیْبُ الرَّجُلُ بِیَمِیْنِہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۶۲)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں، جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو نہ قبلہ کی طرف منہ کیا کرو اور نہ پیٹھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے (استنجا میں) لید اور بوسیدہ ہڈی استعمال کرنے سے منع کیا اور نیز فرمایا: آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔
Musnad Ahmad
2593
۔ (۲۵۹۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بِتُّ لَیْلَۃً عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُوْنَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِنْدَھَا فِیْ لَیْلَتِھَا، فَقَامَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ، فَقُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ لِأُصَلِّیَ بِصَلَاتِہِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِذُؤَابَۃٍ کَانَتْ لِیْ أَوْ بِرَأْسِیْ حَتّٰی جَعَلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس رات گزاری،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اس رات ان ہی کے پاس تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر کے بالوں کو یا میرے سرکو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔
Musnad Ahmad
2618
۔ (۲۶۱۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ، خَالَفَ بَیْنَ طَرَفَیْہِ، فَقُمْتُ خَلْفَہُ فَأَخَذَ بِأُذُنِی فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِیْنِہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۴۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور وہ اس طرح کہ اس کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کیے ہوئے تھے۔ میں (نماز پڑھنے کے لیے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔
Musnad Ahmad
5780
۔ (۵۷۸۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ اَبِیْ الْجَعْدِ قَالَ: عَرَضَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَلْبٌ فَأَعْطَانِیْ دِیْنَارًا فَقَالَ: ((أَیْ عُرْوَۃُ! اِئتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَاشَاۃً۔)) قَالَ: فَأَتَیْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَہُ فَاشْتَرَیْتُ مِنْہُ شَاتَیْنِ بِدِیْنَارٍ فَجِئْتُ أَسُوْقُہُمَا (أَوْ قَالَ: أَقُوْدُھُمَا) فَلَقِیَنِیْ رَجُلٌ فَسَاوَمَنِیْ فَاَبِیْعُہُ شَاۃً بِدِیْنَارٍ، فَجِئْتُ بِالدِّیْنَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاۃِ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھٰذَا دِیْنَارُکُمْ وَھٰذِہِ شَاتُکُمْ، قَالَ: ((وَصَنَعْتَ کَیْفَ؟)) فَحَدَّثْتُہُ الْحَدِیْثَ، فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَہُ فِیْ صَفْقَۃِیَمِیْنِہِ۔)) فَلَقَدْ رَأَیْتُنِیْ أَقِفُ بِکُنَاسَۃِ الْکُوْفَۃِ، فَأَرْبَحُ أَرْبَعِیْنَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ اِلٰی أَھْلِیْ، وَکَانَ یَشْتَرِی الْجَوَارِیَ وَیَبِیْعُ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۷۹)
۔ سیدنا عروہ بن ابی جعد بار قی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ سامانِ تجارت والا قافلہ آیا ہے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک دینار دیا اور فرمایا: عروہ! قافلے میں جاؤ اور ہمارے لئے ایک بکری خرید لاؤ۔ پس میں قافلے میں گیا اور بکری کے مالک سے سودا کیا اور ایک دینار کی دوبکریاں خرید لیں، میں نے ان کو لا رہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک آدمی ملا، میرا اس سے سودا بن گیا اور میں نے اس کو ایک دینار میں ایک بکری فروخت کر دی، چنانچہ میں ایک بکری اور ایک دینار لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لیجئے اپنا دینار اوریہ لیجئے اپنی بکری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے سودا کیا ہے؟ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ساری بات بتلائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ !اس کی تجارت میں برکت فرما۔ یہ دعا اس قدر قبول ہوئی کہ میں کوفہ میں کُنَاسَہ مقام میں کھڑا ہوتا تھا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کا نفع کما لیتا تھا۔ یہ صحابی لونڈیوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔