غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان - غلام کی تجارت کا اور محرم غلاموں کے مابین تفریق ڈالنے کی ممانعت کا بیان - خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 28 of خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے (غلاموں کی) تجارت کرتے ہوئے اولاد اور اس کے والدین کے درمیان تفریق ڈال دی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق ڈال دے گا۔
Takhreej
(۵۹۱۱) تخریج: حسن بمجموع طرقہ وشواھدہ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۲۸۳(انظر: ۲۳۵۱۳)
۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دو غلاموں کو بیچنے کا حکم دیا، وہ دو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان کو بیچ تو دیا، لیکن ان کے درمیان تفریق کر دی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کو پا اور ان کو لوٹا اور ان کو فروخت نہ کر مگر اکٹھا۔
فوائد:… سیدنا علیbسے مروی ہے کہ انھوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈال دی، نبی کریمa انہیں اس سے روک دیا اور بیع کو ردّ کر دیا۔ (ابوداود: ۲۶۹۶)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی اور اس کی اولاد کے درمیان اور بہن بھائیوں کے درمیان جدائی ڈالنا درست نہیں ہے، خواہ بیع کے ذریعے ہو یا ہبہ وغیرہ کے ذریعے، باپ کو ماں پر قیاس کیا جائے گا۔
اہل علم کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ چھوٹے بچے اور اس کی ماں میں جدائی ڈالنا درست نہیں ہے۔ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بچہ یا بچی بالغ ہو جائے تو جدائی ڈالنا درست ہے:
سیدنا سلمہ bسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو بکر bکے ساتھ غزوۂ فزارہ کے لیے نکلے، آپ a نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے ہر طرف سے دشمنوں پر حملہ کیا، میں نے دشمنوں میں سے لوگوں کی ایک جماعت دیکھی، اس میں بچے اور عورتیں بھی تھے، میں نے ان پر تیرچلائے اور وہ کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو لے کر سیدنا ابو بکر b کے پاس آیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک خاتون تھی، اس نے خشک چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، جو عربوں میں حسین ترین تھی، سیدنا ابو بکر b نے وہ مجھے دے دی، جب میں مدینہ منورہ آیا تو رسول اللہ a مجھے ملے اور فرمایا: ’’یَا سَلَمَۃُ! ھَبْ لِیَ الْمَرْأَۃَ۔‘‘ … ’’اے سلمہ! وہ خاتون مجھے ہبہ کر دو۔‘‘ میں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ مجھے بہت پسند ہے، لیکن ابھی تک میں نے اس کا کپڑا نہیں اٹھایا، آپ a خاموش ہو گئے، دوسرے دن آپ a سے میری ملاقات بازار میں ہوئی، آپ a نے پھر وہی بات ارشاد فرمائی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا کپڑا تک نہیں اٹھایا اور اب وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ a نے اس خاتون کو مکہ والوں کی طرف بھیج دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو مسلمان قیدی تھے، اس عورت کو ان کے فدیے میں دے دیا۔ (صحیح مسلم: ۱۷۵۵، ابوداود: ۲۶۹۷)
سیدنا ابو بکر b نے اس ماں بیٹی کے درمیان جدائی ڈال دی تھی اور رسول اللہ a نے ان کو برقرار رکھا، جبکہ یہ بیٹی بالغ تھی۔ امام ابو داود نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: باب الرخصۃ فی المدرکینیفرق بینھم (بالغ غلاموں میں تفریق ڈال دینے کی رخصت کا بیان)