TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

پڑوسی کی ناپسندیدگی کے باوجود اس کی دیوار پر لکڑی رکھنے کا بیان - پڑوسی کی ناپسندیدگی کے باوجود اس کی دیوار پر لکڑی رکھنے کا بیان - صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 6 · 4 Hadith
۔ (۶۰۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمْنَعُ اَحَدُکُمْ أَخَاہُ مَرْفِقَہُ أَنْ یَضَعَہُ عَلٰی جِدَارِہِ)) (مسند احمد: ۲۳۰۷)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے (پڑوسی) بھائی کو نفع والی چیزیعنی دیوار پر (لکڑی وغیرہ) رکھنے سے منع نہ کرے۔
Takhreej
(۶۰۸۸) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۳۷ (انظر: ۲۳۰۷)
6088
Sahih
۔ (۶۰۸۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمْنَعَنَّ رَجَلٌ جَارَہُ أَنْ یَغْرِزَ خَشَبَتَہُ۔)) أَوْْ قَالَ: ((خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۷۱۵۴)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے پڑوسی کو دیوار میں کوئی شہتیر وغیرہ لگانے سے منع نہ کرے۔
Takhreej
(۶۰۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۲۷، ومسلم: ۱۶۰۹(انظر: ۷۱۵۴)
6089
Sahih
۔ (۶۰۹۰)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اسْتَأْذَنَ اَحَدُکُمْ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَنْ سَأَلَہُ جَارُہُ) أَنْ یَغْرِزَ خَشَبَۃً فِیْ جِدَارِہِ فَـلَا یَمْنَعْہُ۔)) فَلَمَّا حَدَّثَہُمْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ طَأْطَئُوْا رُؤُوْسَہُمْ فَقَالَ: مَالِیْ أَرَاکُمْ مُعْرِضِیْنَ، وَاللّٰہِ! لَأَرْمِیَنَّ بِہَا بَیْنَ أَکْتَافِکُمْ۔ (مسند احمد: ۷۲۷۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑھنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اس کو نہ روکے۔ جب سیدنا ابوہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگو ں کو یہ حدیث سنائی انہوں نے اپنے سرجھکا لیے،یہ دیکھ کر سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے لگ رہا ہے کہ تم اس حکم سے اعراض کر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں نے وہ لکڑی تمہارے کندھوں میں ٹھونس دینی ہے۔
Takhreej
(۶۰۹۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
6090
Sahih
۔ (۶۰۹۱)۔ عَنْ عِکْرَمَۃَ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ رَبِیْعَۃَ أَنَّ أَخَوَیْنِ مِنْ بَنِیْ الْمُغِیْرَۃِ أَعْتَقَ أَحَدُھُمَا أَنْ لا یَغْرِزَ خَشَبًا فِیْ جِدَارِہِ فَلَقِیَا مُجَمِّعَ بْنَ یَزِیْدَ الْأَنْصَارِیَّ وَرِجَالًا کَثِیْرًا فَقَالُوْا: نَشْہَدُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمْنَعُ جَارٌ جَارَہُ أَنْ یَغْرِزَ خَشَبًا فِیْ جِدَارِہِ۔)) فَقَالَ الْحَالِفُ: أَیْ أَخِیْ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّکَ مَقْضِیٌّ لَکَ عَلَیَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ اُسْطُوَانًا دُوْنَ جِدَارِیْ، فَفَعَلَ الْآخَرُ فَغَرَزَ فِیْ الْأُسْطُوَانِ خَشَبَۃً، فَقَالَ لِیْ عَمْرٌو: فَأَنَا نَظَرْتُ إِلٰی ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۶۰۳۵)
۔ عکر مہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ بنو مغیرہ کے دو بھائی تھے، ان میں سے ایک نے غلا م آزاد کرنے کی قسم اٹھاکر کہا کہ وہ اپنے ہمسائے کواپنی دیوار میں شہتیر نہ رکھنے دے گا، پھر جب ان دونوں کی ملاقات سیدنا مجمع بن یزید انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور کئی صحابہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا: ہم لوگ یہ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں شہتیر وغیرہ رکھنے سے نہ روکے۔ یہ سن کر قسم اٹھانے والے نے کہا: اے میرے بھائی! مجھے پتہ چل گیا کہ یہ فیصلہ میری مخالفت میں اور تیرے حق میں ہونے والا ہے، جبکہ میں قسم بھی اٹھا چکا ہوں، اب تو میری دیوار کے ساتھ ستون بنالے، پس اس نے ایسے ہی کیا اور پھر ستون پر لکڑی رکھ لی۔ عمرو نے مجھ سے کہا: میں نے اس چیز کو دیکھا تھا۔
Takhreej
(۶۰۹۱) تخریج: مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، عکرمۃ بن سلمۃ مجھول، و ھشام بن یحیی مستور۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۳۳۶ (انظر: ۱۵۹۳۹)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں پڑوسیوں کے حقوق کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے، خود غرضی اور مفاد پرستی کے اس دور میں ان حقوق کی پاسدار کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، خاص طور پر شہری زندگی میں۔ا گر ایک آدمی کوئی مکان یا چھپر بنانا چاہتا ہے اور ایک دو اطراف سے ہمسائیوں کیدیواریں موجود ہیں تو شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ اس آدمی کو اِن اطراف سے دیواریا ستون بنانے کی تکلیف نہ دی جائے، یہ حق ادا کرنے سے اس کا کام بھی جلدی ہو جائے گا، محنت بھی کم ہو گی اور خرچہ بھی بچ جائے گا۔ لیکن جب یہ حق ادا کرنے کی باری آتی ہے تو کوئی سوچتا ہے کہ اس کی دیوار پر وزن زیادہ آ جائے گا، کوئی کہتا ہے کہ وہ اس کی دیوار کو نقصان پہنچائیں گے، کسی کو یہ فکر لگی ہوتی ہے کہ کل کلاں یہ اس دیوار پر قبضے کا دعوی ہی نہ کر دے، یہ سب خطرات اس وقت سامنے آ جاتے ہیں، جب شریعت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا شوق اور رغبت نہ ہو، اگر رسول اللہa کی سنت اور حکم سمجھ کر ہمسائے کا یہ حق ادا کر دیا جائے تو اس کی وجہ سے رحمت و برکت اور اجر و ثواب تو یقینی طور پر مل سکتا ہے، ان شاء اللہ نقصان نہیں ہو گا اور اگر کوئی نقصان ہو جائے تو اللہ تعالی کے لیے صبر کر کے خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا جائے اور حدیث ِ رسول کے احترام میں خاموش رہا جائے۔
6091
Sahih