TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان - عاریۃً چیز کے جائز ہونے اور اس میں رغبت دلانے کا بیان - ودیعت اور عاریہ کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of ودیعت اور عاریہ کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 2 · 2 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۱۵۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِیْنَۃِ فَاسْتَعَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَسًا لَنَا یُقَالُ لَہُ: مَنْدُوْبٌ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا وَجَدْنَا مِنْ فَزَعٍ۔)) وَاِنْ وَجَدْنَاہُ لَبَحْرًا۔ قَالَ حَجَّاجٌ: یَعْنِی الْفَرَسَ۔ (مسند احمد: ۱۳۹۴۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف سا پیدا ہوگیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے عاریۃً ایک گھوڑا لیا، اس کو مندوب کہا جاتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے واپس آ کر فرمایا: کوئی خوف والی بات نہیں ہے۔ ہم نے اس گھوڑے کو (تیز رفتاری میں)سمندر پایا تھا۔
Takhreej
(۶۱۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۲۷، ۲۸۶۲، ۲۹۶۸، ومسلم: ۳۳۰۷ (انظر: ۱۳۹۰۵)
6151
Sahih
۔ (۶۱۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟ قَالَ: ((حَلْبُہَا عَلٰی الْمَائِ وَإِعَارَۃُ دَلْوِھَا وَإِعَارَۃُ فَحْلِہَا وَمَنِیْحَتُہَا وَحَمْلٌ عَلَیْہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۹۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انکا حق یہ ہے کہ ان کو پانی کے گھاٹوں پر دوہ کران کا دودھ(محتاجوں کو پلایا جائے)، ان کا برتن عاریۃً دیا جائے، جفتی کے لیے سانڈ دیا جائے، دودھ پینے کے لیے اونٹنی بطور عطیہ دی جائے اور اللہ تعالی کی راہ میں سواری کے لیے اونٹ دیئے جائیں۔
Takhreej
(۶۱۵۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۸۸ (انظر: ۱۴۴۴۲)
Explanation
فوائد:… مختلف احادیث میں عاریۃً چیزیں دینے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں حقوق ہوتے ہیں، اس حدیث میں صرف اونٹوں کے حقوق کا بیان ہے، ان سے دوسری چیزوں کے حقوق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
6152
Sahih