TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان - الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان - کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 6 · 7 Hadith
۔ (۶۱۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَقْطَعَ الزُبَیْرَ حُضْرَ فَرْسِہِ بِأَرْضٍ یُقَالَ لَھَا: ثُرَیْرٌ، فَأَجْرَی الْفَرَسَ حَتّٰی قَامَ ثُمَّ رَمٰی بِسَوْطِہِ، فَقَالَ: ((اَعْطُوْہُ حَیْثُ بَلَغَ السَّوْطُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۵۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ثریر نامی زمین سے سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اتنی جگہ الاٹ کر دی، جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، پس انھوں نے گھوڑا دوڑایا،یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہو گیا تو انھوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اتنی جگہ دے دو، جہاں تک اس کا کوڑا پہنچا ہے۔
Takhreej
(۶۱۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ العمری۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۷۲ (انظر: ۶۴۵۸)
Explanation
فوائد:… سیدہ اسماء cکہتی ہیں: میں سیدنا زبیرbکی اس زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاتی تھی، جو آپa نے ان کو الاٹ کی تھی، وہ مجھ سے دو تہائی فرسخ کے فاصلے پر تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۱۵۱، ۵۲۲۴)
6174
Zaeef
۔ (۶۱۷۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ: أَقْطَعَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا فَذَھَبَ الزُّبَیْرُ اِلٰی آلِ عُمَرَ فَاشْتَرٰی نَصِیْبَہُ فَأَتٰی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا وَاِنِّی اِشْتَرَیْتُ نَصِیْبَ آلِ عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَبْدُالرَّحْمٰنِ جَائِزُ الشَّھَادَۃِ، لَہُ وَعَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۰)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی، پھر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،آلِ عمر کے پاس گئے اور ان کا حصہ خرید کر سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور کہا: سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی تھی اور میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سچی شہادت والے ہیں، وہ ان کے حق میں ہے یا ان کی مخالفت میں۔
Takhreej
(۶۱۷۵) تخریج: رجالہ ثقات الا ان فی سماع عروۃ من عبد الرحمن بن عوف وقفۃ۔ أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۱۲۴ (انظر: ۱۶۷۰)
6175
Sahih
۔ (۶۱۷۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا الْأَنْصَارَ لِیُقْطِعَ لَھُمُ الْبَحْرَیْنِ، فَقَالُوْا: لَا، حَتّٰی تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا الْمُہَاجِرِیْنَ مِثْلَنَا، فَقَالَ: ((إِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِیْ أَثْرَۃً فَاصْبِرُوْا حَتّٰی تَلْقَوْنِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۰۹)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کی زمین ان کو الاٹ کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، (ہم اس وقت تک یہ زمین نہیں لیں گے) جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی طرح کی جاگیر نہیں دیں گے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تم میرے بعد اپنے آپ پر ترجیح کو پاؤ گے، پس صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات ہو جائے۔
Takhreej
(۶۱۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۷۶، ۳۷۹۴ (انظر: ۱۲۰۸۴)
6176
Sahih
۔ (۶۱۷۷)۔ عَنْ کُلْثُوْمٍ عَنْ زَیْنَبَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَّثَ النِّسَائَ خِطَطَھُنَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۸۹)
۔ سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عورتوںکو ان کے گھروں کا وارث بنایا تھا۔
Takhreej
(۶۱۷۷) تخریج: حدیث حسن، وانظر الحدیث الآتی (انظر: ۲۷۰۴۹)
Explanation
فوائد:… اگلی حدیث میں قدرے تفصیل بیان کی گئی ہے۔
6177
Sahih
۔ (۶۱۷۸)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: کَانَتْ زَیْنَبُ تَفْلِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعِنْدَہُ اِمْرَأَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَعْظُوْنٍ وَنِسَائٌ مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ یَشْکُوْنَ مَنَازِلَھُنَّ وَأَنَّہُنَّ یُخْرَجْنَ مِنْہُ وَیُضَیَّقُ عَلَیْہِنَّ فِیْہِ، فَتَکَلَّمَتْ زَیْنَبُ وَتَرَکَتْ رَأْسَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکِ لَسْتِ تَکَلَّمِیْنَ بِعَیْنَیْکِ، تَکَلَّمِیْ وَاعْمَلِیْ عَمَلَکِ۔)) فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ یَوْمَئِذٍ أَنْ یُوَرَّثَ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ النِّسَائُ، فَمَاتَ عَبْدُ اللّٰہِ (بْنُ مَسْعُوْدٍ) فَوَرِثَتْہُ اِمْرَأَتُہُ دَارًا بِالْمَدِیْنَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۹۰)
۔ (دوسری سند)کلثوم کہتے ہیں: سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جوئیں نکال رہی تھیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی اور کچھ مہاجر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں،یہ اپنے گھروں کے بارے میں شکایت کر رہی تھیں کہ (خاوند کی وفات کے بعد) ان کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر تنگی کر دی جاتی ہے، سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک چھوڑ کر بات کرنے لگ گئیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنی آنکھوں سے تو باتیں نہیں کرنی، بات بھی کرو اور اپنا کام بھی کرو۔ (یہ ساری باتیں سن کر) اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ عورتوں کو (ان کے مہاجر خاوندوں) کا وارث بنا یا جائے، پس جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ ان کے مدینہ والے گھر کی وارث بنیں۔
Takhreej
(۶۱۷۸) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۸۰(انظر: ۲۷۰۵۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب خاوند فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی بیوی کو اس کے گھر سے نکال دیں، بلکہ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کے لیے اس کے گھر کو خالی کر دیں، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مہاجرین کے ساتھ خاص تھا اور ان کے ختم ہونے کے ساتھ یہ حکم بھی ختم ہو گیا، واللہ اعلم۔ اب میراث کے احکام مرتّب ہو چکنے کے بعد بیوی کو اس کا مخصوص حصہ دیا جائے گا، لیکن اس معاملے میں اس کو جتنی سہولت پہنچائی جا سکتی ہو، وہ پہنچانی چاہیے، مثلا اگر اس کا حصہ اس کے خاوند کے گھر کی قیمت کے برابر ہو تو اس کو گھر دے دیا جائے، بہرحال جتنا ممکن ہو ترکہ کی تقسیم میں بیوی کی رضامندی کا خیال رکھا جائے۔
6178
Sahih
۔ (۶۱۷۹)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ اَبِیْہِ (وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ أَرْضًا قَالَ: فَاَرْسَلَ مَعِیَ مُعَاوِیَۃَ أَنْ أَعْطِہَا إِیَّاہُ أَوْقَالَ: اَعْلِمْہَا اِیَّاہُ۔ قَالَ: فَقَالَ لِیْ مُعَاوِیَۃُ: أَرْدِفْنِیْ خَلْفَکَ، فَقُلْتُ: لَا تَکُوْنُ مِنَ أَرْدَافِ الْمُلُوْکِ، قَالَ: فَقَالَ: أَعْطِنِیْ نَعْلَکَ، فَقُلْتُ: انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَۃِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِیَۃُ أَتَیْتُہُ فَأَقْعَدَنِیْ مَعَہُ عَلٰی السَّرِیْرِ فَذَکَّرَنِی الْحَدِیْثَ، فَقَالَ سِمَاکٌ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ): فَقَالَ: وَدِدْتُ اَنِّیْ کُنْتُ حَمَلْتُہُ بَیْنَیَدَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۸۱)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایک زمین الاٹ دی اور سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے یہ زمین دے سکیںیا اس کی نشاندہی کر سکیں۔ سیدنا وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو، لیکن میں نے کہا: اے معاویہ! آپ بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں (یا ان کے نائب بننے والوں میں سے) نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: تو پھر مجھے اپنا جوتا دے دو (تاکہ میں زمین کی شدت سے بچ سکوں)، میں نے کہا: اونٹنی کے سائے میں چل لو۔ پھر جب سیدنا معاویہ خلیفہ منتخب ہوئے اورمیں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور مجھے یہ بات یاد کرا دی، میں نے کہا: اب تو میںیہ پسند کر رہا ہوں کہ کاش آپ کو اپنے سامنے بٹھا لیتا۔
Takhreej
(۶۱۷۹) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۵۹ (انظر: ۲۷۲۳۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا وائل bحمیر کے شہزادے تھے اور اس وقت سیدنا امیر معاویہbکی مالی حالت درست نہ تھی، آداب اسلامی سے نا آشنائی اور تعلیمات دین سے عدم واقفیت کی بناء پر سیدنا وائل bنے سیدنا معاویہb کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، انسانی ہمدردی اور حسن سلوک کا تقاضا کچھ اور تھا، جبکہ بعد میں ان کو احساس بھی ہو گیا تھا۔
6179
Sahih
۔ (۶۱۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَلَ أَھْلَ خَیْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ، فَکَانَ یُعْطِیْ أَزْوَاجَہُ کُلَّ عَامٍ مِائَۃَ وَسْقٍ، ثَمَانِیْنَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِیْنَ وَسْقًا مِنْ شَعِیْرٍ، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَمَ خَیْبَرَ فَخَیَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُقْطِعَ لَھُنَّ مِنَ الْأَرْضِ أَوْ یَضْمَنَ لَھُنَّ الْوُسُوْقَ کُلَّ عَامٍ، فَاخْتَلَفْنَ، فَمِنْہُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ یُقْطِعَ لَھَا الْأَرْضَ وَمِنْہُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوْقَ وَکَانَتْ حَفْصَۃُ وَعَائِشَۃُ مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوْقَ۔ (مسند احمد: ۴۷۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل خیبر سے کھیتییا پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر سال اپنی بیویوں کو اسی وسق کھجوروں کے اور بیس وسق جو، یعنی کل سو وسق دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے اور خیبر کو تقسیم کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین الاٹ کر دی جائے یا (سابقہ روٹین کے مطابق) ہر سال ان کو وسق دے دیئے جائیں، امہات المؤمنین نے مختلف انداز اختیار کیے، بعض نے اس چیز کو پسند کیا کہ زمین ان کے نام الاٹ کر دی جائے اور بعض نے اس چیز کو ترجیح دی کہ ان کو وسق ہی دے دئیے جائیں، سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ان میں سے تھیں، جنھوں نے وسق پسند کیے تھے۔
Takhreej
(۶۱۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۲۸، ومسلم: ۱۵۵۱ (انظر: ۴۷۳۲)
Explanation
فوائد:… یہ کھجوریں ازواج مطہرات کی میراث نہیں تھیں، ان کی کفالت کے لیے ان کو یہ حق دیا گیا تھا، کیونکہ نبی کریمa کی چھوڑی ہوئی چیزیں صدقہ ہوتی ہیں۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریمa کے بعد خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بعض زمینیں بعض لوگوں کو الاٹ کر سکتا ہے۔
6180
Sahih