TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتاب - کتاب - Book 99 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 99 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 26 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

26 Hadith · 6 Chapters
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۸۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَلَ أَھْلَ خَیْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ، فَکَانَ یُعْطِیْ أَزْوَاجَہُ کُلَّ عَامٍ مِائَۃَ وَسْقٍ، ثَمَانِیْنَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِیْنَ وَسْقًا مِنْ شَعِیْرٍ، فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَمَ خَیْبَرَ فَخَیَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُقْطِعَ لَھُنَّ مِنَ الْأَرْضِ أَوْ یَضْمَنَ لَھُنَّ الْوُسُوْقَ کُلَّ عَامٍ، فَاخْتَلَفْنَ، فَمِنْہُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ یُقْطِعَ لَھَا الْأَرْضَ وَمِنْہُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوْقَ وَکَانَتْ حَفْصَۃُ وَعَائِشَۃُ مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوْقَ۔ (مسند احمد: ۴۷۳۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اہل خیبر سے کھیتییا پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر سال اپنی بیویوں کو اسی وسق کھجوروں کے اور بیس وسق جو، یعنی کل سو وسق دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے اور خیبر کو تقسیم کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین الاٹ کر دی جائے یا (سابقہ روٹین کے مطابق) ہر سال ان کو وسق دے دیئے جائیں، امہات المؤمنین نے مختلف انداز اختیار کیے، بعض نے اس چیز کو پسند کیا کہ زمین ان کے نام الاٹ کر دی جائے اور بعض نے اس چیز کو ترجیح دی کہ ان کو وسق ہی دے دئیے جائیں، سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ان میں سے تھیں، جنھوں نے وسق پسند کیے تھے۔
Takhreej
(۶۱۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۲۸، ومسلم: ۱۵۵۱ (انظر: ۴۷۳۲)
Explanation
فوائد:… یہ کھجوریں ازواج مطہرات کی میراث نہیں تھیں، ان کی کفالت کے لیے ان کو یہ حق دیا گیا تھا، کیونکہ نبی کریمa کی چھوڑی ہوئی چیزیں صدقہ ہوتی ہیں۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریمa کے بعد خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بعض زمینیں بعض لوگوں کو الاٹ کر سکتا ہے۔
6180
Sahih
کان الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۸۱)۔ عَنْ کَثِیْر بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ مَعَادِنَ الْقَبَلِیَّۃَ جَلْسِیَّہَا وَغَوْرِیَّہَا وَحَیْثُ یَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ یُعْطِہِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَکَتَبَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، ھٰذَا مَا أَعْطٰی مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنیَّ أَعْطَاہُ مَعَادِنَ الْقَبَلِیَّۃِ جَلْسِیَّہَا وَغَوْرِیَّہَا وَحَیْثُیَصْلُحُ لِلزَّرْعِ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ یُعْطِہِ حَقَّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۵)
۔ عمرو بن عوف اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا بلال بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قبلیہ علاقے کی کانیں برائے جاگیر عنایت فرمادیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل تھی، وہ سب انہیں دے دی تھی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو کسی مسلمان کا حق نہیں دیا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے حق میںیہ تحریر لکھی تھی: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ،یہ وہ زمین ہے، جو محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو دی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قبلیہ علاقے کی کانیں کی دی ہیں، اس مقام کی بلند اور پست زمین اور قدس پہاڑ میں جو کاشت کے قابل ہے، وہ ان کو دے دی ہے، جبکہ یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا، جو ان کو دے دیا ہو۔
Takhreej
(۶۱۸۱) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۰۶۲، ۳۰۶۳ (انظر: ۲۷۸۵)
Explanation
فوائد:… یہ زمین بھی کسی کی مملوکہ نہ تھی، حاکم وقت ایسی قیمتی چیز بھی کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، لیکنیہاں ایک اور روایت بھی قابل توجہ ہے: سیدنا ابیض بن حمال b سے مروی ہے کہ ان کے سوال پر نبی کریمa نے ان کو نمک کی کان عنایت کر دی،یہ معاملہ دیکھ کر حاضرین میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ نے تو اس شخص کو دائمی منفعت عطا کر دی ہے، یہ سن کر آپ a نے اس سے یہ کان واپس لے لی۔ (ابوداود: ۳۰۶۴، ترمذی: ۱۳۸۰) اس باب کی حدیث کے مطابق آپ a نے کان الاٹ کر دی، لیکن سیدنا ابیضb کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کان جیسی چیز کسی خاص بندے کو الاٹ نہیں کرنی چاہیے، ان دو احادیث میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ کان کی دو قسمیں ہوتی ہیں: (۱) باطنی کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں،جن کے حصول کے لیے محنت و مشقت درکار ہوتی ہے، مثلا لوہا اور تانبا وغیرہ۔ (۲) ظاہری کانیں: یہ وہ کانیں ہوتی ہیں، جن کے حصول کے لیے مشقت درکار نہیں ہوتی، جیسے نمک، تیل اور سرمہ وغیرہ۔ حکمران کسی کوباطنی کانیں تو الاٹ کر سکتا ہے، جیسا کہ آپ a نے سیدنا بلال بن حارث b کو دی تھی، لیکن ظاہری کانیں کسی کو عنایت نہیں کرنی چاہئیں، تاکہ سارے لوگ برابر کا فائدہ حاصل کرسکیں اور ان پر کوئی تنگی نہ ہو، سیدنا ابیضb کی حدیث کا یہی مفہوم ہے۔
6181
Sahih
بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان
۔ (۶۱۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمٰی النَّقِیْعَ لِخَیْلِہِ۔ (مسند احمد: ۵۶۵۵)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع نامی جگہ کو اپنے گھوڑوں کے لئے بطور چراگاہ مقرر کر دیا۔
Takhreej
(۶۱۸۳) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن حبان: ۴۶۸۳ (انظر: ۵۶۵۵)
6183
Sahih
بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان
۔ (۶۱۸۴)۔ (وَلَہُ طَرِیْقٌ ثَانٍ عِنْدَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ أَیْضًا) قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أن النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ لِلْخَیْلِ قَالَ حَمَّادٌ: فَقُلْتُ لَہُ: (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ (یَعْنِی الْعُمَرِیَّ)! لِخَیْلِہِ؟ قَالَ: لَا، لِخَیْلِ الْمُسْلِمَیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۴۳۸)
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع کی جگہ کو گھوڑوں کے لئے بطورِ چراگاہ مقرر کر دیا، حماد کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔
Takhreej
(۶۱۸۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مدینہ منورہ سے ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ایک مقام کا نام نقیع ہے، یہ ایک میل کی چوڑائی اور آٹھ میل کی لمبائی پر مشتمل ہے۔
6184
Sahih
بیت المال کے جانوروں کے لئے چراگاہوں کا بیان
۔ (۶۱۸۵)۔ عَنِ الصَّعْبِ بنِ جَثَّامَۃَ اللَّیْثِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ وَقَالَ: ((لَاحِمٰی اِلَّا لِلّٰہِ وَلِرَسُوْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۸۰)
۔ سیدناصعب بن جثامہ لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع مقام کو بطورِ چراگاہ خاص کیا اور فرمایا: اس طرح چراگاہ کو خاص کرنے کا حق صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ہے۔
Takhreej
(۶۱۸۵) أخرجہ البخاری: ۲۳۷۰ دون قولہ: ’’حمی النقیع‘‘ لکن زاد البخاری وقال: بلغنا ان النبیV حمی النقیع، فھذہ الزیادۃ من بلاغات الزھری، لکنھا صحیحۃ بالحدیثین السابقین (انظر: ۱۶۶۵۹)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں: (۱) آپ a نے جو علاقے کسی کے لیے خاص قرار دیئے، بس ان ہی علاقوں کو خاص سمجھا جائے گا، آپ a کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے، (۲) خلیفۂ راشد، جو کہ رسول اللہa کا قائم مقام ہوتا ہے، کو بھییہ حق حاصل ہے۔ دوسرا قول راجح ہے کہ خلیفۂ رسول کسی عام یا خاص مصلحت کے پیش نظر کوئی علاقہ کسی کو الاٹ کر سکتا ہے، سیدنا عمرb ایسا کرتے رہے ہیں۔
6185
Sahih