TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 279 - حائضہ کے اپنے شوہر کا سر دھونے کا بیان۔ - The book of purification - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 4 in this chapter
حائضہ کے اپنے شوہر کا سر دھونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وَأَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ ذَلِكَ.
Something similar was narrated by Malik, from Az-Zuhri, from 'Urwah, from 'Aishah.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے۔ اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے۔
279
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 1, Hadith 279 Arabic reference : Book 1, Hadith 280
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 279
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس ۷۶ (۵۹۲۵)، (تحفة الأشراف: ۱۶۶۰۴) (صحیح)

Related Chapters

623
1
(2) CHAPTER. The washing of the husband's head and the combing of his hair by a menstruating wife.
اس بارے میں کہ حائضہ عورت کا اپنے شوہر کے سر کو دھونا اور اس میں کنگھا کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
2
حائضہ کے مسجد میں معتکف اپنے شوہر کے سر میں کنگھا کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
حائضہ کے شوہر کا سر دھونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
Chapter: What Has Been Related About A Woman Spending From Her Husband's House
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
5
بیوی کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
(9) CHAPTER. Can a Junub (a person who has yet to take a bath after the sexual act or wet dream) put his hands in a pot (containing water) before washing them if they are not polluted with a dirty thing except Janaba?
کیا جنبی اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں ڈال سکتا ہے ؟ جب کہ جنابت کے سوا ہاتھ میں کوئی گندگی نہیں لگی ہوئی ہو ۔
Sahih Bukhari
7
(26) CHAPTER. The reward of the lady who gives in charity, or provides somebody with food from her husband
عورت کا ثواب جب وہ اپنے شوہر کی چیز میں سے صدقہ دے یا کسی کو کھلائے اور ارادہ گھر بگاڑنے کا نہ ہو
Sahih Bukhari
8
(48) CHAPTER. The giving of Zakat to one
عورت کا خود اپنے شوہر کو یا اپنی زیر تربیت یتیم بچوں کو زکوٰۃ دینا
Sahih Bukhari
9
(86) CHAPTER. If a woman spends the night deserting her husband's bed (without a reasonable cause, she is sinful).
جو عورت غصہ ہو کر اپنے شوہر کے بستر سے الگ ہو کر رات گزارے ، اس کی برائی کا بیان ۔
Sahih Bukhari
10
(87) CHAPTER. A woman should not allow anyone to enter her husband's house except with his consent.
عورت اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی غیر مرد کو اس کی اجازت کے بغیر اجازت نہ دے ۔
Sahih Bukhari
11
(91) CHAPTER. The woman is a guardian in her husband's house.
بیوی اپنے شوہر کے گھر کی حاکم ہے ۔
Sahih Bukhari
12
(95) CHAPTER. A woman should not obey her husband if he orders her to do something sinful.
عورت گناہ کے حکم میں اپنے شوہر کا کہنا نہ مانے ۔
Sahih Bukhari
13
(96) CHAPTER. “If a woman fears cruelty or desertion on her husband's part...” (V.4:128)
اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے نفرت اور منہ موڑنے کا خوف ہو ۔
Sahih Bukhari
14
(99) CHAPTER. (What is said regarding) the woman who gives up her turn with her husband to one of his other wives, and how to divide the turns.
عورت اپنے شوہر کی باری اپنی سوکن کو دے سکتی ہے اور اس کی تقسیم کس طرح کی جائے ؟
Sahih Bukhari
15
(117) CHAPTER. The permission taken by a woman from her husband to go to the mosque.
مسجد وغیرہ میں جانے کے لئے عورت کا اپنے شوہر سے اجازت لینا ۔
Sahih Bukhari
16
(124) CHAPTER. “And not to reveal their adornments except to their husbands,…” (V.24:31)
اللہ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا کہ ولا یبدین زینتھن ( الایۃ ) یعنی اور عورتیں اپنے زینت اپنے شوہر کے سوا کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں ۔
Sahih Bukhari
17
(6) CHAPTER. The working of a lady in her husband's house.
عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں کامکاج کرنا ۔
Sahih Bukhari
18
(10) CHAPTER. A woman should take care of the wealth of her husband, and also of what he gives her for expenditures.
عورت کا اپنے شوہر کے مال کی اور جو وہ خرچ کے لیے دے اس کی حفاظت کرنا ۔
Sahih Bukhari
19
(76) CHAPTER. The combing of the hair of the husband by menstruating wife.
حائضہ عورت اپنے خاوند کے سرمیں کنگھی کر سکتی ہے
Sahih Bukhari
20
(12) CHAPTER. What is hated regarding the trick by a woman with her husband and the other wives of her husband and what was revealed to the Prophet in this respect.
عورت کا اپنے شوہر یا سوکنوں کے ساتھ حیلہ کرنے کی ممانعت
Sahih Bukhari
21
Chapter: How long a virgin and a previously-married woman are entitled to have the husband stay with them after marriage
رخصتی کے بعد باکرہ اور ثیبہ (دو ہاجو )اپنے پاس شوہر کے بعد کتنے کتنے دن قیام کی حقدار ہو ں گی
Sahih Muslim
22
Chapter: Were it not for Hawa', no female would ever betray her husband
اگر حوا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے کبھی حیانت نہ کرتی
Sahih Muslim
23
CHAPTER: Sadaqah Given By A Woman From Her Husband’s Property.
باب: عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: Regarding A Man Who Has Agreed To The Condition Of Living In Her Place Of Residence.
باب: شوہر یہ شرط مان لے کہ عورت اپنے گھر میں ہی رہے گی ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: Regarding A Woman Who Asks Her Husband To Divorce Another Wife Of His.
باب: عورت اپنے ( ہونے والے ) شوہر سے یہ مطالبہ نہ کرے کہ وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیدے ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Regarding A Woman Inheriting From The Blood Money Of Her Husband.
باب: عورت اپنے شوہر کی دیت سے حصہ پائے گی ۔
Sunnan Abu Dawood
27
کیا سو کر اٹھنے کے بعد ہاتھ دھونے سے پہلے آدمی اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالے؟
Sunnan Ibn e Maja
28
آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے
Sunnan Ibn e Maja
29
برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے جنبی کے اپنے دونوں ہاتھ دھونے کا بیان
Sunnan Nisai
30
دونوں ہاتھ دھونے کے بعد جنبی کا اپنے جسم سے نجاست دور کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
جنبی کا اپنے جسم کی نجاست دور کرنے کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو دھونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
باب: جنبی جب پینے کا ارادہ کرے تو اس کے اپنے دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
حائضہ کو اپنے ساتھ کھلانے اور اس کا جھوٹا پینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: عورت کا اپنے شوہر کے مال سے صدقہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
باب: شوہر بیوی سے کہے ”جاؤ اپنے گھر والوں میں رہو“ اس کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
باب: اختیار دی گئی عورتوں کا اپنے شوہروں کو اختیار کر لینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
باب: آزادی پانے والی لونڈی کو اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ہے۔
Sunnan Nisai
38
باب: جس کا شوہر مر جائے وہ حلال ہونے تک اپنے گھر ہی میں عدت گزارے۔
Sunnan Nisai
39
(31)Chapter: What Has Been Related About: Protect The Heels From The Fire.
باب: وضو میں ایڑیاں دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
40
(32)Chapter: What Has Been Related About Wudu' One Time (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
41
(33)Chapter: What Has Been Reported About Wudu Two Times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو کے دو دو بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
42
(34)Chapter: What Has Been Related About Wudu Three times (For Each Limb)
باب: اعضائے وضو تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
43
(35)Chapter: What Has Been Related About Wudu One Time, Two Times And Three Times
باب: اعضائے وضو کو ایک ایک بار، دو دو بار اور تین تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
44
(36)Chapter: [What Has Been Related] About One Who performs Some Of Wudu, Two Times Each, And Some Of It Three
باب: وضو میں بعض اعضاء دو بار دھونے اور بعض تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
45
(77)Chapter: Should A Woman Undo Her Hair For Ghusl?
باب: کیا عورت غسل کے وقت اپنے بال کھولے؟
Jam e Tirmazi
46
(86)Chapter: Washing AI-Mani From The Garment
باب: منی کے کپڑے سے دھونے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
(97)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman: That She Does Not Make Up The Missed Salat
باب: حائضہ کے نماز قضاء نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
(98)Chapter: What Has Been Related About The Junub And The Menstruating Persons That They Do Not Recite The Qur'an
باب: جنبی اور حائضہ کے قرآن نہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
(99)Chapter: What Has Been Related About Fondling Menstruating Woman
باب: حائضہ کے ساتھ بوس و کنار کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,397
Jam e Tirmazi
208
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأُمِّ حَبِيبَةَ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَمُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَمُعَاوِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى مَعْمَرٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ مَالِكٍ أَصَحُّ.
Abu Sa'eed narrated that : Allah's Messenger said: Whenyou hear the call (to prayer) then say the similar to what the Mu'adh-dhin says
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوسعید رضی الله عنہ والی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابورافع، ابوہریرہ، ام حبیبہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن ربیعہ، عائشہ، معاذ بن انس اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- معمر اور کئی رواۃ نے زہری سے مالک کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، عبدالرحمٰن بن اسحاق نے اس حدیث کو بطریق: «الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، مالک والی روایت سب سے صحیح ہے۔
Sahih Muslim
921
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ. فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ
Anas b. Malik reported: The Apostle of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) fell down from a horse and his right side was grazed. We went to him to inquire after his health when the time of prayer came. He led us in prayer in a sitting posture and we said prayer behind him sitting, and when he finished the prayer hesaid: The Imam is appointed only to be followed; so when he recites takbir, you should also recite that; when he prostrates, you should also prostrate; when he rises up, you should also rise up, and when he said God listens to him who praises Him, you should say: Our Lord, to Thee be the praise, and when he prays sitting, all of you should pray sitting.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ نبیﷺ گھوڑے سے گر گئے تو آپ کا دایاں پہلو چھل گیا ، ہم آپ کے ہاں آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے ، نماز کا وقت ہو گیا تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، چنانچھ ہم نے ( آپ کے اشارے پر ، حدیث 926 ۔ 928 ) آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، پھر جب آپ نے نماز پوری کی تو فرمایا : ’’امام اسی لیے بنایا گیا کہ اس کی اقتدا کی جائے ، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو ، جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو ، جب وہ ( سر ) اٹھائے تو تم ( سر ) اٹھاؤ اور جب وہ سمع الله لمن حمده ( اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی ) کہے تو تم ربنا لك الحمد ( اے ہمارے رب! تیری ہی لیے سب تعریف ہے ) کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
Sunnan Abu Dawood
3136
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ يَعْنِي الْمَرْوَانِيَّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏الْمَعْنَى أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا، ‏‏‏‏‏‏لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ. حتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَلَّتِ الثِّيَابُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَثُرَتِ الْقَتْلَى، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ:‏‏‏‏ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا ؟ فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ .
Narrated Anas ibn Malik: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم passed Hamzah who was killed and disfigured. He said: If Safiyyah were not grieved, I would have left him until the birds and beasts of prey would have eaten him, and he would have been resurrected from their bellies. The garments were scanty and the slain were in great number. So one, two and three persons were shrouded in one garment. The narrator Qutaybah added: They were then buried in one grave. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم asked: Which of the two learnt the Quran more? He then advanced him toward the qiblah (direction of prayer).
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( غزوہ احد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ ( حمزہ بن عبدالمطلب ) رضی اللہ عنہ کی لاش کے قریب سے گزرے، ان کا مثلہ کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں کچھ محسوس کریں گی تو میں انہیں یوں ہی چھوڑ دیتا، پرندے کھا جاتے، پھر وہ حشر کے دن ان کے پیٹوں سے نکلتے ۔ اس وقت کپڑوں کی قلت تھی اور شہیدوں کی کثرت، ( حال یہ تھا ) کہ ایک کپڑے میں ایک ایک، دو دو، تین تین شخص کفنائے جاتے تھے۱؎۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: پھر وہ ایک ہی قبر میں دفن کئے جاتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ ان میں قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ تو جسے زیادہ یاد ہوتا اسے قبلہ کی جانب آگے رکھتے۔
Sunnan Nisai
2566
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ ،‏‏‏‏ فِي حَدِيثِ هَارُونَ مُحْرَقٍ.
It was narrated from Abu Bujaid Al-Ansari from his grandmother that the Messenger of Allah said: Respond to the one who asks even with a sheep's foot. According to the narration of Harun: With a sheep's burned foot.
ابن بجید انصاری اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنے والے کو کچھ دے کر لوٹایا کرو اگرچہ کھر ہی سہی“۔ ہارون کی روایت میں «محرق» ( جلی ہوئی ) کا اضافہ ہے۔
Sunnan Nisai
3094
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُغِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ. ح وَأَنْبَأَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ.
It was narrated from 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah bin Mas'ud that Abu Hurairah said: When the Messenger of Allah (ﷺ) died and Abu Bakr (was appointed Khalifah) after him, and some of the 'Arabs disbelieved, 'Umar, may Allah be pleased with him, said: 'O Abu Bakr, how can you fight the people when the Messenger of Allah (ﷺ) said: I have been commanded to fight the people until they say La ilaha illallah (there is none worthy of worship except Allah.) Whoever says La ilaha illallah, his life and his property are safe from me, except for its right, and his reckoning will be with Allah?' Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: I will surely fight those who separate prayer and Zakah, for Zakah is what is due on wealth. By Allah, if they withhold from me a small she-goat that they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' ('Umar said) 'By Allah, when I realized that Allah, the Mighty and Sublime, had opened the chest of Abu Bakr to fighting, then I knew that it was the truth.' The wording is that of Ahmad.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ ہوئے اور عربوں میں جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم ( مسلمانوں ) سے محفوظ کر لیا ( اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ( اپنی غلط روی سے ) اس کا حق فراہم کر دے اور اس کا ( آخری ) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ( اور یہ زکاۃ نہ دینے والے «لا إله إلا اللہ» کے قائل ہیں ) تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی، میں ہر اس شخص سے لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا، ( یعنی نماز پڑھے گا اور زکاۃ دینے سے انکار کرے گا ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے ( جس طرح نماز بدن کا ) قسم اللہ کی، اگر لوگوں نے مجھے بکری کا سال بھر سے چھوٹا بچہ بھی دینے سے روکا جسے وہ زکاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے۔ تو اس روکنے پر بھی میں ان سے ضرور لڑوں گا۔ ( عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ) قسم اللہ کی، اس معاملے کو تو میں نے ایسا پایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے لیے شرح صدر بخشا ہے اور میں نے سمجھ لیا کہ حق یہی ہے۔ اس حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں۔
Sunnan Nisai
3702
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ،‏‏‏‏ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ غُلَامًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَارْدُدْهُ ،‏‏‏‏ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
It was narrated from An-Nu'man bin Bashir that his father gave him a slave as a present, then he came to the Prophet to ask him to bear witness (to that). He said: Have you given a present to all of your children? He said: No. He said: Then take it back. This wording is that of (one of the narrators) Muhammad.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ان کے والد نے ایک غلام ہبہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں۔ آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے اپنے سبھی بیٹوں کو یہ عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم اسے واپس لے لو“۔ اس حدیث کے الفاظ محمد ( راوی ) کے ہیں۔
Jam e Tirmazi
203
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَعَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأُنَيْسَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ بِاللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ أَجْزَأَهُ وَلَا يُعِيدُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا أَذَّنَ بِلَيْلٍ أَعَادَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏مَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ،‏‏‏‏ وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ أَذَّنَ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ مُنْقَطِعٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَلَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ أَرَادَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَالزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَوْ كَانَ حَدِيثُ حَمَّادٍ صَحِيحًا لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْنًى، ‏‏‏‏‏‏إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ،‏‏‏‏ فَإِنَّمَا أَمَرَهُمْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِإِعَادَةِ الْأَذَانِ حِينَ أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَمْ يَقُلْ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْطَأَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
Salim narrated from his father (Ibn Umar) that : the Prophet said: Indeed Bilal calls the Adhan in the night, so eat and drink until you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان نہ سن لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، انیسہ، انس، ابوذر اور سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۳- رات ہی میں اذان کہہ دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر رات باقی ہو تبھی مؤذن اذان کہہ دے تو کافی ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، مالک، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ رات میں اذان دیدے تو اسے دہرائے ۱؎، یہی سفیان ثوری کہتے ہیں، ۴- حماد بن سلمہ نے بطریق «ایوب عن نافع عن ابن عمر» روایت کی ہے کہ بلال رضی الله عنہ نے رات ہی میں اذان دے دی، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے بطریق نافع عن ابن عمر روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں، اور عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع سے روایت کی ہے کہ عمر رضی الله عنہ کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے اسے حکم دیا کہ وہ اذان دہرائے، یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ نافع اور عمر رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور شاید حماد بن سلمہ، کی مراد یہی حدیث ۲؎ ہو، صحیح عبیداللہ بن عمر دوسرے رواۃ کی روایت ہے جسے ان لوگوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور زہری نے سالم سے اور سالم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، ۵- اگر حماد کی حدیث صحیح ہوتی تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہوتا، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، آپ نے لوگوں کو آنے والے زمانے کے بارے میں حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں“ اور اگر آپ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دینے پر انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ ”بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں“، علی بن مدینی کہتے ہیں: حماد بن سلمہ والی حدیث جسے انہوں نے ایوب سے، اور ایوب نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور عمر نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کی ہے غیر محفوظ ہے، حماد بن سلمہ سے اس میں چوک ہوئی ہے۔
Jam e Tirmazi
1016
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ حَتَّى يُحْشَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بُطُونِهَا . قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَةٍ فَكَفَّنَهُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ رِجْلَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَثُرَ الْقَتْلَى وَقَلَّتِ الثِّيَابُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكُفِّنَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْهُمْ:‏‏‏‏ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏النَّمِرَةُ الْكِسَاءُ الْخَلَقُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ خُولِفَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدِيثُ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ أَصَحُّ.
Anas bin Malik narrated: The Messenger of Allah came to Hamza on the Day of Uhud, he stood over him and saw that he had been mutilated. He said: Had it not been that Safiyyah would be distressed, then I would have left him to be eaten by the beasts until he was gathered on the Day of Judgment from their stomachs. He said: Then he called for a Namirah to shroud him with. When it was extended over his head, it left his feet exposed, and when it was extended over his feet, it left his head exposed. He said: There were many dead and few cloths. He said: One, two and three men were shrouded in one cloth and buried in one grave. He said: So the Messenger of Allah was asking which of them knew the most Quran, so he could put him toward the Qibalh. He said: So the Messenger of Allah buried them and he did not perform (funeral prayers) for them.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن حمزہ ( کی لاش ) کے پاس آئے۔ آپ اس کے پاس رکے، آپ نے دیکھا کہ لاش کا مثلہ ۱؎ کر دیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں برا نہ مانتیں تو میں انہیں یوں ہی ( دفن کیے بغیر ) چھوڑ دیتا یہاں تک کہ درند و پرند انہیں کھا جاتے۔ پھر وہ قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے اٹھائے جاتے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «نمر» ( ایک پرانی چادر ) منگوائی اور حمزہ کو اس میں کفنایا۔ جب آپ چادر ان کے سر کی طرف کھینچتے تو ان کے دونوں پیر کھل جاتے اور جب ان کے دونوں پیروں کی طرف کھینچتے تو سر کھل جاتا۔ مقتولین کی تعداد بڑھ گئی اور کپڑے کم پڑ گئے تھے، چنانچہ ایک ایک دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفنایا جاتا، پھر وہ سب ایک قبر میں دفن کر دیئے جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں پوچھتے کہ ان میں کس کو قرآن زیادہ یاد تھا تو آپ اسے آگے قبلہ کی طرف کر دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقتولین کو دفن کیا اور ان پر نماز نہیں پڑھی ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے انس کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کی روایت میں اسامہ بن زید کی مخالفت کی گئی ہے۔ لیث بن سعد بسند «عن ابن شهاب عن عبدالرحمٰن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله بن زيد» ۳؎ روایت کی ہے اور معمر نے بسند «عن الزهري عن عبد الله بن ثعلبة عن جابر» روایت کی ہے۔ ہمارے علم میں سوائے اسامہ بن زید کے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے زہری کے واسطے سے انس سے روایت کی ہو، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لیث کی حدیث بسند «عن ابن شهاب عن عبدالرحمٰن بن كعب بن مالك عن جابر» زیادہ صحیح ہے، ۴- نمرہ: پرانی چادر کو کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
1036
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا يُصَلَّى عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يُصَلَّى عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِسْحَاق.
Abdur-Rahman bin Ka'b bin Malik narrated that: Jabir bin Abdullah informed him that the Prophet had put two men together in one cloth from those who were killed at (the battle of) Uhud, then he said: Which of them memorized the more of the Qur'an? When one of them was indicated to him, he put him in the Lahd (first) and said: I am a witness for those people on the Day of Judgment. And he ordered that they be buried in their blood, and that they not be prayed over, nor washed.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں ایک ساتھ کفناتے، پھر پوچھتے: ”ان میں قرآن کسے زیادہ یاد تھا؟“ تو جب آپ کو ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو آپ اسے لحد میں مقدم رکھتے اور فرماتے: ”قیامت کے روز میں ان لوگوں پر گواہ رہوں گا“۔ اور آپ نے انہیں ان کے خون ہی میں دفنانے کا حکم دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ ہی انہیں غسل ہی دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث زہری سے مروی ہے انہوں نے اسے انس سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے نیز یہ زہری سے عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر کے واسطے سے بھی مروی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور ان میں سے بعض نے اسے جابر کی روایت سے ذکر کیا، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا شہید کی نماز جنازہ کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ یہی اہل مدینہ کا قول ہے۔ شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں، ۴- اور بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز پڑھی جائے گی۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ آپ نے حمزہ رضی الله عنہ کی نماز پڑھی تھی۔ ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں اور یہی اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۱؎۔