TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 65 - کتے کے جھوٹے کا بیان۔ - The book of purification - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
کتے کے جھوٹے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قال ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلَالُ بْنُ أَسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏يُخْبِرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَهُ.
A similar Hadith was narrated from Abu Hurairah from Prophet (ﷺ)
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
65
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Arabic/English book reference : Vol. 1, Book 1, Hadith 65
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 65
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، مسند احمد ۲/۲۷۱، (تحفة الأشراف: ۱۵۳۵۲) (صحیح)

Related Chapters

63
1
(68)Chapter: What Has Been Related About The Leftover Water A Dog Has Drank From
باب: کتے کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
CHAPTER: Wudu’ From The Water Left (In A Container) After A Dog Has Drunk From It.
باب: کتے کے جھوٹے سے وضو کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
(69)Chapter: What Has Been Related About The Leftover Water A Cat Has Drunk From
باب: بلی کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About 'Salat Is Not Severed Except By A Dog, A Donkey, And A Woman'
باب: نماز کو کتے، گدھے اور عورت نماز کے سوا کوئی اور چیز باطل نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Price Of A Dog
باب: کتے کی قیمت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Price Of A Dog And A Cat
باب: کتے اور بلی کی قیمت کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Permission Regarding The Price Of A Hunting Dog
باب: کتے کی قیمت کھانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About What Is Eaten From The Game Caught By Dogs And What Is Not Eaten
باب: کتے کا کون سا شکار کھایا جائے اور کون سا نہ کھایا جائے؟
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Game Caught By A Zoroastrian's Dog
باب: مجوسی کے کتے کے شکار کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About 'The Hour Shall Not Be Established Until The Liars Appear'
باب: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ کذاب (جھوٹے) نکلیں
Jam e Tirmazi
12
باب: چھینکتے وقت آواز دھیمی کرنے اور منہ ڈھانپ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
بَاب ذكر الْكَلْب
کتے کا بیان
Mishkat
14
کتے کے جوٹھے کا بیان
Musnad Ahmad
15
کتے، بلی اور چوری کی ہوئی بکری کی قیمت، زانیہ کی کمائی، نجومی کی مٹھائی اور گانے والیوں کی خریدو فروخت سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
16
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
Musnad Ahmad
17
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
Musnad Ahmad
18
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
19
کتے پر بسم اللہ پڑھ کرچھوڑنے کا مسئلہ
Musnad Ahmad
20
(7) CHAPTER. To recite Qunut (invocation) before and after bowing.
( وتر اور ہر نماز میں ) قنوت رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد پڑھ سکتے ہیں
Sahih Bukhari
21
(3) CHAPTER. Request of the people to the Imam to offer the Istisqa prayer and invoke Allah for rain during drought.
قحط کے وقت لوگ امام سے پانی کی دعا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں
Sahih Bukhari
22
(10) CHAPTER. Invocation (for stoppage of rain) if the roads are cut off because of excessive rain.
اگر بارش کی کثرت سے راستے بند ہو جائیں تو پانی تھمنے کی دعا کر سکتے ہیں
Sahih Bukhari
23
(5) CHAPTER. Should one say: The sun Kasafat or Khasafat? (Two verbs used to mean eclipse , the first is often used for the sun and the second for the moon). Allah says: And the moon Khasafat (eclipsed). (V. 75:8)
سورج کا کسوف وخسوف دونوں کہہ سکتے ہیں
Sahih Bukhari
24
(68) CHAPTER. The use of the camels given as Zakat and their milk for travellers.
زکوٰۃ کے اونٹوں سے مسافر لوگ کام لے سکتے ہیں اور ان کا دودھ پی سکتے ہیں
Sahih Bukhari
25
(44) CHAPTER. What is said regarding the inheritance, sale and purchase of the houses of Makkah.
مکہ شریف کے گھر مکان میراث ہو سکتے ہیں ان کا بیچنا اور خریدنا جائز ہے
Sahih Bukhari
26
(133) CHAPTER. May those who provide the pilgrims with water stay at Makkah during the nights of Mina?
منی کی راتوں میں جو لوگ مکہ میں پانی پلاتے ہیں یا اور کچھ کام کرتے ہیں وہ مکہ میں رہ سکتے ہیں
Sahih Bukhari
27
(3) CHAPTER. If the Muhrimun saw game and then laughed and a non-Muhrim understood (Why they laughed) (then their laughing is not to be considered as an intentional sign to draw the non-Muhrim's attention. Therefore they are allowed to eat the game).
احرام والے لوگ شکار دیکھ کر ہنس دیں اور بے احرام والا سمجھ جائے پھر شکار کرے تو وہ احرام والے بھی کھا سکتے ہیں
Sahih Bukhari
28
(113) CHAPTER. The price of a dog.
کتے کی قیمت کے بارے میں
Sahih Bukhari
29
(12) CHAPTER. Drinking water by people and watering animals from the rivers.
نہروں میں سے آدمی اور جانور سب پانی پی سکتے ہیں
Sahih Bukhari
30
(9) CHAPTER. If partners divide the houses, etc., none of them has the right of backing out or the right of pre-emption.
جب شریک لوگ گھروں وغیرہ کو تقسیم کر لیں تواب اس سے پھر نہیں سکتے اور نہ ان کو شفعہ کا حق رہے گا ۔
Sahih Bukhari
31
(87) CHAPTER. The dispersing of the people away from the lmam at midday to rest in the shade of trees.
دوپہر کے وقت درختوں کا سایہ حاصل کرنے کے لیے فوجی لوگ امام سے جدا ہو کر ( متفرق درختوں کے سائے تلے ) پھیل سکتے ہیں
Sahih Bukhari
32
(160) CHAPTER. What tricks and means of security may be adopted to protect oneself against someone who is excepted to be vicious and mischievous.
اگر کسی سے فساد یا شرارت کا اندیشہ ہو تو اس سے مکروفریب کر سکتے ہیں
Sahih Bukhari
33
(118) CHAPTER. What is lawful as regards visiting or looking at those women who have foster suckling relations with you.
دودھ کے رشتے سے بھی عورت محرم ہو جاتی ہے ، بے پردہ اسے دیکھ سکتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
34
(9) CHAPTER. A believer is safe except if he transgresses Allah's legal limits or takes others rights.
مسلمان کی پیٹھ محفوظ ہے ہاں جب کوئی حد کا کام کرے تو اس کی پیٹھ پر مار لگا سکتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
35
(14) CHAPTER. What is mentioned regarding Adh-Dhat (the Self of Allah), His Qualities and His Names.
اللہ تعالیٰ کو ذات کہہ سکتے ہیں ( اسی طرح شخص بھی کہہ سکتے ہیں ) یہ اس کے اسماء اور صفات ہیں ۔
Sahih Bukhari
36
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they move away from their places…” (V.35:41)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ فاطر میں یہ فرمان کہ بلاشبہ اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتے ۔
Sahih Bukhari
37
Chapter: Mentioning Al-Masih Son of Mariam and Al-Masih ad-Dajjal
مسیح ابن مریم اور مسیح دجال (جھوٹےمسیح) کا تذکرہ
Sahih Muslim
38
Chapter: Affirming The Takbir For Every Movement Up Or Down In The Prayer, Except When Rising From Ruku' When One Should Say: Sami'aAllahu Liman Hamidah (Allah Hears Those Who Praise Him)
نماز میں ہر بار جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا ثابت ہے، سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے، وہاں صرف سمع الله لمن حمده کہا جائے گا
Sahih Muslim
39
Chapter: It is disliked to offer salat in the presence of food that one wants to eat. It is disliked to offer salat while restraining the urge to relieve oneself, and so on
انسان جو کھانا فوراً تناول کرنا چاہتا ہے اس کی موجودگی میں اور فطری ضرورت روکتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
40
Chapter: Zakat Al-Fitr is due from the muslims in the form of dates and barley
مسلمان کھجور اورجو سے صدقہ فطر (فطرانہ)ادا کرسکتے ہیں
Sahih Muslim
41
Chapter: The prohibition of the price of a dog, the fee of a fortuneteller and the payment of a prostitute, and the prohibition of selling cats
کتے کی قیمت ‘کاہن کا نذرانہ اور زانیہ کا معاوضہ حرام ہے اور بلّے کی بیع (بھی )ممنوع ہے
Sahih Muslim
42
Chapter: Lifespans, Provisions, Etc. Do Not Increase Or Decrease From What Has Already Been Decreed
عمریں اور رزق وغیرہ جو پہلے سے تقدیر میں ہیں، کم یا زیادہ نہیں ہو سکتے
Sahih Muslim
43
CHAPTER: The Water Left By A Cat.
باب: بلی کے جھوٹے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Regarding The Price Of Dogs.
باب: کتے کی قیمت لینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
45
بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
46
حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور اس کے جھوٹے کے حکم کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
47
معتکف کے گھر والے مسجد میں آ کر اس سے مل سکتے ہیں
Sunnan Ibn e Maja
48
کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی، کاہن کی اجرت اور نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے احکام کا بیان۔
Sunnan Ibn e Maja
49
کھیت یا ریوڑ کی رکھوالی کرنے والے اور شکاری کتوں کے علاوہ دوسرے کتے پالنا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
50
مجوسی کے کتے اور خالص کالے کتے کے شکار کا حکم
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

4,386
Sunnan Nisai
64
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قال ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ .
Thabit, the freed slave of 'Abdur-Rahman bin Zaid narrated that he heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If a dog licks the vessel of any one of you, let him wash it seven times.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ۔
Jam e Tirmazi
1705
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ أَنَسٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَكَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مُحَمَّدٌ بِنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا الصَّحِيحُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
Ibrahim bin Bash-shar Ar-Ramadi reported it from Sufyan bin 'Uyainah, from Buraid bin 'Abdullah bin Abu Burdah, from Abu Burdah, from Abu Musa, from the Prophet (ﷺ). Muhammad informed me of that, from Ibrahim bin Bash-Shar [Ar-Ramadi]. Muhammad said: More than one has reported it from Sufyan, from Buraid bin Abu Burdah [from Abu Burdah] from the Prophet (ﷺ) in Mursal form. This is more correct. Muhammad said: Ishaq bin Ibrahim reported from Mu'adh bin Hisham, from his father, from Qatadah, from Anas, from the Prophet (ﷺ) who said: 'Indeed Allah will question everyone who is responsible about his charge.' I heard Muhammad saying: This is not preserved. It is only correct from Mu'adh bin Hisham from his father, from Qatadah, from Al-Hasan, from the Prophet (ﷺ), in Mursal form.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چنانچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد الله بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Sahih Muslim
3359
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ - يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ - يُرِيدُ الْمَدِينَةَ - أَذَابَهُ اللهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ»، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ يُحَنَّسَ: بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوءٍ: شَرًّا،
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who intends to do harm to its people (he meant Medina), Allah would efface him as salt is dissolved in water. Ibn Hatim (one of the narrators) substituted the word harm for mischief .
محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا ، ہم سے حجاج نے حدیث بیا ن کی ، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی ، انھوں ( حجاج اورعبدالرزاق ) نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے خبر دی کہ انھوں نے ( ابو عبداللہ ) قراظ سے سنا اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں ( شاگردوں ) میں سے تھے ، وہ یقین سے کہتے تھے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی ۔ برائی کا ارادہ کیا ۔ اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔ "" ابن حاتم نے ابن یحس کی حدیث میں سوء ( برائی ) کی جگہ شر ( نقصان ) کا لفظ بیان کیا ۔
Sunnan Abu Dawood
4230
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَطَعَهَا عُمَرُ ثُمّ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانًا .
Ibn az-Zubayr told that a woman client of theirs took az-Zubayr's daughter to Umar ibn al-Khattab wearing bells on her legs. Umar cut them off and said that he had heard the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say: There is a devil along with each bell.
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی زبیر کی ایک بچی کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گئی، اس بچی کے پاؤں میں گھنٹیاں تھیں یعنی گھونگھرو تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ دیا، اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔
Sunnan Nisai
532
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَتَمَةَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا ؟ قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا. فَقَامَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَشَارَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْمَأَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا أَشَارَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ بِشَيْءٍ مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَهَا فَانْتَهَى أَطْرَافُ أَصَابِعِهِ إِلَى مُقَدَّمِ الرَّأْسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ضَمَّهَا يَمُرُّ بِهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامَاهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ الْجَبِينِ لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطُشُ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ لَا يُصَلُّوهَا إِلَّا هَكَذَا .
It was narrated that Ibn Juraij said: I said to 'Ata': 'What is the best time you think I should pray Al-'Atamah, either in congregation or on my own?' He said: 'I heard Ibn 'Abbas say: The Messenger of Allah (ﷺ) delayed Al-'Atamah one night until the people had slept and woken up, then slept and woken up again. Then 'Umar got up and said: 'The prayer, the prayer!' 'Ata' said: 'Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah (ﷺ) came out, and it is as if I can see him now, with water dripping from his head, putting his hand on the side of his head. [He said: And he indicated (how) ].' I checked with 'Ata' how the Prophet (ﷺ) put his hand on his head, and he showed me the same way as Ibn 'Abbas had done. 'Ata' spread his fingers a little, then placed them with the tips of his fingers on his forehead, then he drew his fingers together on his head until his thumb touched the edge of the ear that is next to the face, then moved it to his temple and forehead, then he said: 'Were it not that I would impose too much difficulty for my Ummah, I would have commanded them to offer this prayer only at this time.'
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے،  ( پھر )  بیدار ہوئے  ( پھر )  سو گئے،  ( پھر ) بیدار ہوئے، تو عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے: صلاۃ! صلاۃ! تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے۔ راوی  ( ابن جریج )  کہتے ہیں: میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں ۔
Sunnan Nisai
537
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قال ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَاحَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي .
It was narrated that 'Aishah the Mother of the Believers said: The Prophet (ﷺ) delayed the prayer one night until most of the night had passed and the people in the Masjid had gone home to sleep, then he went out and prayed, and said: 'This is indeed its (prayer) time, were it not that I would impose too much difficulty on my Ummah.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا، اور مسجد کے لوگ سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور نماز پڑھائی، اور فرمایا:  یہی  ( اس نماز کا پسندیدہ )  وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا   ( تو اسے اس کا حکم دیتا ) ۔
Sunnan Nisai
627
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قال ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضَهُمْ:‏‏‏‏ بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا بِلَالُ، ‏‏‏‏‏‏قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ .
Nafi' narrated that 'Abdullah bin 'Umar used to say: When the Muslims arrived in Al-Madinah they used to gather and try to figure out the time for prayer, and no one gave the call to prayer. One day they spoke about that; some of them said: 'Let us use a bell like the Christians do;' others said, 'No, a horn like the Jews have.' 'Umar, may ,Allah be pleased with him, said: 'Why don't you send a man to announce the time of prayer?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Bilal, get up and give the call to prayer.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جس وقت مسلمان مدینہ آئے تو وہ جمع ہو کر نماز کے وقت کا اندازہ کرتے تھے، اس وقت کوئی نماز کے لیے اذان نہیں دیتا تھا، تو ایک دن لوگوں نے اس سلسلے میں گفتگو کی، تو کچھ لوگ کہنے لگے: نصاریٰ کے مانند ایک ناقوس بنا لو، اور کچھ لوگ کہنے لگے: بلکہ یہود کے سنکھ کی طرح ایک سنکھ بنا لو، تو اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم کسی شخص کو بھیج نہیں سکتے کہ وہ نماز کے لیے پکار دیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  بلال! اٹھو اور نماز کے لیے پکارو ۔
Sunnan Nisai
633
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ:‏‏‏‏ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال لَهُ:‏‏‏‏ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ مَقْفَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ فَظَلِلْنَا نَحْكِيهِ وَنَهْزَأُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا حَتَّى وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ ؟ فَأَشَارَ الْقَوْمُ إِلَيَّ وَصَدَقُوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَهُمْ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَامْدُدْ صَوْتَكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمَرْتُكَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abdul-'Aziz bin 'Abdul-Malik bin Abu Mahdhurah narrated that 'Abdullah bin Muhairiz - who was an orphan under the care of Abu Mahdhurah until he prepared him to go to Ash-Sham - informed him: he said: I said to Abu Mahdhurah: 'I am going to Ash-Sham and I am afraid that I will be asked about how you say the Adhan. 'He told me that Abu Mahdhurah said to him, I went out with a group of people and we were somewhere on the road to Hunain when the Messenger of Allah (ﷺ) was coming back from Hunain. The Messenger of Allah met us somewhere on the road and the Muadhdhin of the Messenger of Allah called the Adhan for prayer in the presence of the Messenger of Allah. We heard the voice of the Muadh'dhin and we were careless about it (the Adhan), so we started yelling, immitating and mocking it. The Messenger of Allah (ﷺ) heard us, so he sent some people who brought us to stand infront of him. He said, 'Who is the one whose voice I heard so loud?' The people all pointed to me, and they were telling the truth. He sent them all away, but kept me there and said to me: 'Stand up and call the Adhan for the Prayer.' I stood up and the Messenger of Allah taught me the Adhan himself. He Said, 'Say: 'Allahu Akbar, Allahu akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah (Allah is the Greatest,Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah,I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah).' Then he said: 'Then repeat and say in a loud voice:Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'ala-salah; Hayya 'alal-falah Hayya 'alal-falah; Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha ill-Allah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to prayer, come to prayer; come to prosperity, come to prosperity; Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; there is none worthy of worship except Allah).' Then he called me when I had finished saying the Adhan, and he gave me a bundle in which there was some silver. I said: 'O Messenger of Allah, let me be the one doing the Adhan in Makkah.' He said: 'I command you to do so.' Then I came to 'Attab bin Asid who was the governor of the Messenger of Allah in Makkah, and I called the Adhan for prayer with him upon the orders of the Messenger of Allah (ﷺ).
عبداللہ بن محیریز جو ابومحذورہ کے زیر پرورش ایک یتیم کے طور پر رہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان کے شام کے سفر کے لیے سامان تیار کیا ) کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں شام جا رہا ہوں، اور میں ڈرتا ہوں کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے کہیں سوال کیا جائے ( اور میں جواب نہ دے پاؤں، اس لیے مجھے اذان سکھا دو ) ، تو آپ نے کہا: میں چند لوگوں کے ساتھ نکلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حنین سے لوٹتے وقت ہم حنین کے راستہ میں تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ہی ) اذان دی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی، تو ہم اس کی نقل اتارنے، اور اس کا مذاق اڑانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سنی تو ہمیں بلوایا تو ہم آ کر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں نے ( ابھی ) تم میں سے کس کی آواز سنی ہے؟ تو لوگوں نے میری جانب اشارہ کیا، اور انہوں نے سچ کہا تھا، آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا، اور مجھے روک لیا اور فرمایا: اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو، تو میں اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان سکھائی، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ اپنی آواز کھینچو ( بلند کرو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»،«أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، پھر جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلایا، اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مکہ میں اذان دینے پر مامور فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کے لیے مامور کر دیا ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ آیا تو میں نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔
Sunnan Nisai
634
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ نَطْلُبُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعْنَاهُمْ يُؤَذِّنُونَ بِالصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَدْ سَمِعْتُ فِي هَؤُلَاءِ تَأْذِينَ إِنْسَانٍ حَسَنِ الصَّوْتِ ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَذَّنَّا رَجُلٌ رَجُلٌ وَكُنْتُ آخِرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ حِينَ أَذَّنْتُ:‏‏‏‏ تَعَالَ، ‏‏‏‏‏‏ ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ فَأَذِّنْ عِنْدَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَعَلَّمَنِي كَمَا تُؤَذِّنُونَ الْآنَ بِهَا اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، ‏‏‏‏‏‏الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ هَذَا الْخَبَرَ كُلَّهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ.
It was narrated that Abu Mahdhurah said: When the Messenger of Allah left Hunain, I was the tenth of a group of ten of the people of Makkah who were trying to catch up with them. We heard them calling the Adhan for the prayer and we started to repeat the Adhan, mocking them. The Messenger of Allah said, 'I heard among these people the Adhan of one who has a beautiful voice.' He sent for us, and we recited the Adhan one by one, and I was the last of them. When I said the Adhan, he said: 'Come here.' He sat me down in front of him and rubbed my forelock and blessed me three times, then he said, 'Go and give the Adhan at the sacred House.' I said: 'How, O Messenger of Allah?' He taught me as you say the Adhan now: 'Allahu Akbar, Allahu akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'ala-salah; Hayya 'alal-falah Hayya 'alal-falah; as-salatu khairun min an-nawm;as-salatu khairun min an-nawm; (Allah is the Greatest,Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah,I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah; I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to prayer, come to prayer; come to prosperity, come to prosperity; prayer is better than sleep, prayer is better than sleep)' - in the first (Adhan) for As-Subh (Fajr). And he taught me the Iqamah saying each phrase twice: 'Allahu Akbar, Allahu Akbar, (Allahu Akbar, Allahu Akbar), Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'alas-salah; Hayya 'alal-falah, Hayya 'alal-falah; qad qamatis-salah, qad qamati-salah, Allahu Akbar, Allahu Akbar La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest); I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah ; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to prayer, come to prayer; come to prosperity, come to prosperity; the prayer is about to begin, the prayer is about to begin, Allah is the Greatest,Allah is the Greatest; there is none worthy of worship except Allah). (One of the narrators) Ibn Juraij said: ''Uthmin narrated this whole report to me from his father and from Umm 'Abdul-Malik bin Abi Mahafirah, and (said that) they heard that from Abu Mahdhurah.
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے نکلے تو میں ( بھی ) نکلا، میں اہل مکہ کا دسواں شخص تھا، ہم انہیں تلاش کر رہے تھے تو ہم نے انہیں نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے سنا، تو ہم بھی اذان دینے ( اور ) ان کا مذاق اڑانے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں میں سے ایک اچھی آواز والے شخص کی اذان میں نے سنی ہے چنانچہ آپ نے ہمیں بلا بھیجا تو یکے بعد دیگرے سبھی لوگوں نے اذان دی، اور میں ان میں سب سے آخری شخص تھا جب میں اذان دے چکا ( تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) : ادھر آؤ! چنانچہ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھایا، اور میری پیشانی پر ( شفقت کا ) ہاتھ پھیرا، اور تین بار برکت کی دعائیں دیں، پھر فرمایا: جاؤ اور خانہ کعبہ کے پاس اذان دو ( تو ) میں نے کہا: کیسے اللہ کے رسول؟ تو آپ نے مجھے اذان سکھائی جیسے تم اس وقت اذان دے رہے ہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ» ( پھر دوبارہ ) «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، اور فجر میں «الصلاة خير من النوم»، «الصلاة خير من النوم» نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے کہا، ( اور ) کہا: مجھے آپ نے اقامت دہری سکھائی: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «قد قامت الصلاة»،«قد قامت الصلاة»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ یہ پوری حدیث مجھے عثمان نے بتائی، وہ اسے اپنے والد اور عبدالملک بن ابی محذورہ رضی اللہ عنہ کی ماں دونوں کے واسطہ سے روایت کر رہے تھے کہ ان دونوں نے اسے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔