TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کتے کے جوٹھے کا بیان - کتے کے جوٹھے کا بیان - طہارت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of طہارت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 12 · 6 Hadith
۔ (۳۹۶)۔عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا وَلَغَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِذَا شَرِبَ) الْکَلْبُ فِیْ اِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ)) (مسند أحمد: ۷۴۴۰)
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے (اور ایک روایت میں ہے کہ پی جائے) تو وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے۔
Takhreej
(۳۹۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۹(انظر: ۷۴۴۷)
396
Sahih
۔ (۳۹۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: وَسُئِلَ عَنِ الْاِنَائِ یَلِغُ فِیْہِ الْکَلْبُ، قَالَ: ثَنَا سَعَیْدٌ عَنْ أَیُّوْبَ عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((یُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُوْلَاہُنَّ بِالتُّرَاب)) (مسند أحمد:۱۰۳۴۶)
محمد بن جعفر سے اس برتن کے بارے میں سوال کیا گیا، جس میں کتا منہ ڈال جاتا ہے، انھوں نے کہا: مجھے سعیدنے ایوب سے اور انھوں نے ابن سیرین سے بیان کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو سات مرتبہ دھویا جائے گا، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ۔
Takhreej
(۳۹۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
397
Sahih
۔ (۳۹۸)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا لَہُمْ وَلَہَا؟)) فَرَخَّصَ فِیْ کَلْبِ الصَّیْدِ وَفِیْ کَلْبِ الْغَنَمِ، قَالَ: ((وَاِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیْ الْاِنَائِ فَاغْسِلُوْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَالثَّامِنَۃَ عَفِّرُوْہُ بِالتُّرَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۱۵)
سیدنا عبد اللہ بن مغفل ؓ سے مروی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پہلے تو کتوں کو قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو اور کتوں کو کیا ہے؟ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شکاری اور بکریوں کے رکھوالے کتے کی رخصت دے دی اورفرمایا: اور جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے لتھیڑو۔
Takhreej
(۳۹۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۰ (انظر: ۱۶۷۹۲)
398
Sahih
۔ (۳۹۹)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((طُہْرُ اِنَائِ أَحَدِکُمْ اِذَا وَلَغَ فِیْہِ الْکَلْبُ أَنْ یَغْسِلَہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۸۱۳۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کا پاک ہونا اس طرح ہو گا کہ اس کو سات مرتبہ دھویا جائے۔
Takhreej
(۳۹۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۹ (انظر: ۸۱۴۸)
399
Sahih
۔ (۴۰۰)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَّادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ، قَالَ سُفْیَانُ: لَعَلَّہُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیْ اِنَائِ أَحَدِکُمْ فَلْیَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۴۱)
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو وہ اس کو سات دفعہ دھوئے۔
Takhreej
(۴۰۰) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… ان روایات سے واضح طور پر یہ ثابت ہوا کہ جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈالے تو اس کو پہلی دفعہ مٹی سے مانجھ کر سات دفعہ پانی سے دھویا جائے، اُوْلٰھُنَّ کے الفاظ راجح ہیں، اگر برتن میں موجودہ چیز مائع ہو تو اس کو ضائع کر دیا جائے اور اگر وہ جامد ہو تو متاثرہ حصے کو نکال کر پھینک دیا جائے، جیسا کہ وہ حدیث ہے، جس میں برتن میں چوہے کے گر جانے کا ذکر ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓنے خود ایسے برتن کو تین دفعہ دھونے کا حکم دیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی اجتہادی رائے ہو، لہٰذا مرفوع روایت پر ہی عمل کرنا چاہیے۔
400
Sahih
۔ (۴۰۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: کُنْتُ أَعْزَبَ شَابًّا أَبِیْتُ فِی الْمَسْجِدِ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَکَانَتِ الْکِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرُشُّوْنَ شَیْئًا۔ (مسند أحمد:۵۳۸۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک اہل و عیال کے بغیر، نوجوان تھا اور عہد ِ نبوی میں مسجد میںرات گزارتا تھا، کتے (مسجد میں) آتے جاتے رہتے تھے، لیکن وہ اس سے (پانی کے) چھینٹے نہیں مارتے تھے۔
Takhreej
(۴۰۱) تخریج:حدیث صحیح ۔ أخرجہ بتمامہ ابوداود: ۳۸۲، وقولہ: کنت اعزب شابا ابیت فی المسجد أخرجہ بنحوہ مطولا البخاری: ۱۱۲۱، ۳۷۳۸، ومسلم: ۲۴۷۹، وقولہ: وکانت الکلاب تقبل و تدبر …۔ علقہ البخاری بصیغۃ الجزم: ۱۷۴ (انظر: ۵۳۸۹)
Explanation
فوائد:…اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اگر ہوا یا سورج کی وجہ سے نجاست کے آثار زائل ہوجائیں تو زمین پاک ہو جائے گی، جبکہ زمین کے اندر بھی نجاست کو ختم کر دینے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، امام ابوداود نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: باب فی طھور الارض اذا یبست … (جب زمین خشک ہوجائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے)امام مبارکپوریؒ نے کہا: استدلال ابی داود بھذا الحدیث علی ان الارض تطھر بالجفاف صحیح‘ لیس فیہ عندی خدشۃان کان فیہ لفظ تبول محفوظا ولامخالفۃ بین ھذا الحدیث وحدیث الباب فانہ یقال: ان الارض تطھر بالوجھین اعنی بصب الماء علیھاوبالجفاف والیبس بالشمس او الھواء واللہ تعالیٰ اعلم۔ یعنی اگر تبول کے الفاظ محفوظ ہیں تو اس حدیث سے امام ابوداود کا یہ استدلال صحیح ہے کہ زمین خشک ہونے سے پاک ہو جاتی ہے‘ مجھے اس میں کوئی خدشہ نہیں‘ یادرہے کہ اِس حدیث اور باب میں مذکور (سیدنا انسؓ والی مذکورہ بالا) حدیث اور (سیدنا ابو ہریرہ ؓ کی اعرابی والی حدیث، جس کے مطابق اعرابی کے مسجد میں کیے گئے پیشاب پر پانی گرایا گیا تھا) میں کوئی تضاد اور مخالفت نہیں‘ کیونکہ یہ کہنا ممکن ہے کہ زمین پاک ہونے کے دوطریقے ہیں: اس پر پانی بہادیا جائے یا وہ سورج اور ہوا کے ذریعے خشک ہو جائے۔ واللہ اعلم (تحفۃ الاحوذی: ۱/۱۳۹) جب مسجد ِ نبوی میں ایک صحابی نے پیشاب کیا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس پر پانی کا ڈول انڈیل دینے کا حکم دیا تھا، لیکن اس حدیث میں اس چیز کا اہتمام نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کتا پیشاب کرتا ہے تو اس کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ زمین پر چھینٹے پڑتے ہیں، جن کے آثار جلد ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ کتوں کا مسجد ِ نبوی میں گھس آنا، اس امر پر اس آدمی کو کوئی تعجب نہیں ہو گا، جس کا گھر ایسے گاؤں میں ہو، جس میں موجود مسجد کی چاردیواری اور دروازے نہ ہوں، جبکہ وہ مسجد کچی بھی ہو، دراصل خیال رکھنے کے باوجود ایسی مساجد میں بسا اوقات ایسے جانور گھس آتے ہیں، اب بھی ایسی صورتحال موجود ہے کہ گاؤں میں جب کسی مسجد کا دروازہ کھلا رہ جائے تو مرغیاں اور بلیاں صفوں پر اور صحن میں گندگی پھیلا دیتے ہیں اور اگر رات کو دروازہ کھلا رہ جائے تو بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ جنگلی درندے مسجد میں گندگی پھیلا جاتے ہیں، اب جس مسجد کی چاردیواری ہی نہ ہو، اس کا معاملہ تو واضح ہی ہے، جیسے دروازہ کھلا رہ جانے کا یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا ہے کہ وہاں کے نمازی محتاط نہیں ہیں، اسی طرح اس حدیث سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ صحابۂ کرام اس چیز کو برقرار رکھتے تھے کہ کتے مسجد میں آتے جاتے رہیں اور پیشاب کرتے رہیں۔ جن احادیث میں متاثرہ جگہ کو کھودنے کا حکم دیا گیا ہے‘ وہ ناقابل حجت اور ضعیف ہیں۔
401
Sahih