TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان - خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان - طہارت کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of طہارت کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 12 · 13 Hadith
۔ (۳۶۳)۔عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: لَقَدْ کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَاِنَّا لَجُنُبَانِ، وَلَکِنَّ الْمَائَ لَا یَجْنُبُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۹۱)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے، جبکہ ہم جنبی ہوتے تھے، لیکن اس سے پانی جنبی نہیں ہو جاتا۔
Takhreej
(۳۶۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۲۱ (انظر: ۲۴۹۷۸)
363
Sahih
۔ (۳۶۴)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ، وَکَانَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْقَدَحِ وَھُوَ الْفَرَقُ۔ (مسند أحمد: ۲۴۵۹۰)
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک ایسے برتن میں غسل کرتے تھے، جو ایک فَرَق کی مقدار کے برابر ہوتا تھا۔
Takhreej
(۳۶۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۴، ومسلم (انظر: ۲۴۰۸۹)
Explanation
فوائد:… ایک فَرَق ، تین صاع کے برابر ہوتا ہے۔
364
Sahih
۔ (۳۶۵)۔عَنْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَّۃِ عَنْ عَائِشَۃَؓ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہَا قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَأَنَا أَقُوْلُ لَہُ: اَبْقِ لِیْ، اَبْقِ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۱۰۶)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے کہتے تھی: میرے لیے باقی چھوڑو، میرے لیے بھی پانی رہنے دو۔
Takhreej
(۳۶۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۲۱ (انظر: ۲۴۵۹۹)
365
Sahih
۔ (۳۶۶) (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہِ)۔ وَفِیْہِ: فَأُبَادِرُہُ وَأَقُوْلُ: دَعْ لِیْ دَعْ لِیْ۔ (مسند أحمد: ۲۵۳۷۸)
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس میں آپ سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتی اور کہتی: میرے لیے بھی چھوڑو، میرے لیے بھی چھوڑو۔
Takhreej
(۳۶۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
366
Sahih
۔ (۳۶۷)۔عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَؓ حَدَّثَتْہُ أَنَّہَا کَانَتْ تَغْتَسِلُ ہِیَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ یَغْرِفُ قَبْلَہَا وَتَغْرِفُ قَبْلَہُ، (وَفِیْ لَفْظٍ) کَانَ یَبْدَأُ قَبْلَہَا۔ (مسند أحمد:۲۵۵۰۵)
سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ان سے پہلے چلّو بھرتے اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے پہلے چلّو بھرتی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ، سیدہ سے پہلے شروع کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۶۷)تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۷۳، ۵۹۵۶(انظر: ۲۴۹۹۱)
367
Sahih
۔ (۳۶۸)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَؓ قَالَتْ: کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۲۷۳۳۳)
سیدہ میمونہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۶۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۳۲۲ (انظر: ۲۶۷۹۷)
368
Sahih
۔ (۳۶۹)۔عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ أَنَّہَا کَانَتْ ہِیَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلَانِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَ کَانَ یُقَبِّلُہَا وَھُوَ صَائِمٌ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۳۱)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک برتن سے جنابت والا غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ روزے کی حالت میں ان کا بوسہ بھی لے لیتے تھے۔
Takhreej
(۳۶۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۲۲، ومسلم: ۲۹۶(انظر: ۲۶۴۹۸)
369
Sahih
۔ (۳۷۰)۔عَنْ نَاعِمٍ مَوْلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَؓ سُئِلَتْ: أَتَغْتَسِلُ الْمَرْأَۃُ مَعَ الرَّجُلِ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، اِذَا کَانَتْ کَیِّسَۃً، رَأَیْتُنِیْ وَرَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَغْتَسِلُ مِنْ مِرْکَنٍ وَاحِدٍ نُفِیْضُ عَلَی أَیْدِیْنَا حَتّٰی نُنْقِیَہَا ثُمَّ نُفِیْضُ عَلَیْنَا الْمَائَ۔ (مسند أحمد: ۲۷۲۸۵)
مولائے ام سلمہ ناعم کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے خاوند کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب وہ عقلمند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ ہم ایک ٹب سے غسل کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیتے اور پھر اپنے جسموں پر پانی بہا دیتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۲۹(انظر: ۲۶۷۴۹)
370
Sahih
۔ (۳۷۱)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَالْمَرْأَۃُ مِنْ نِسَائِ ہِ یَغْتَسِلَانِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَکَانَ یَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَکَاکِیَّ وَیَتَوَضَّأُ بِمَکُّوْکٍ۔ (مسند أحمد: ۱۲۱۲۹)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبیِ کریم اور آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی بیویوں میں سے ایک خاتون ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پانچ مکوک سے غسل کرتے اور ایک مکوک سے وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۶۴ بقصۃ الغسل فقط، ومسلم: ۳۲۵، (انظر: ۱۲۱۰۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی زوجۂ محترمہ اکٹھے غسل کر لیتے تھے، یہی معاملہ میاں بیوی کا ہو گا۔
371
Sahih
۔ (۳۷۲)۔عَنْ سَالِمِ بْنِ سَرْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ صُبَیَّۃَ الْجُہَنِیَّۃَؓ تَقُوْلُ: اِخْتَلَفَتْ یَدِیْ وَیَدُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ الْوُضُوْئِ مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۲۷۶۰۷)
سیدہ ام صُبَیّہ جہنی ؓ کہتی ہیں: وضو کرنے کے لیے میرے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ باری باری برتن میں داخل ہو رہے تھے۔
Takhreej
(۳۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۵۹۵ (انظر: ۲۷۰۶۷)
372
Sahih
۔ (۳۷۳)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: رَأَیْتُ الرِّجَالَ وَالنِّسَائَ یَتَوَضَّؤُوْنَ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ۔ (مسند أحمد: ۴۴۸۱)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ عہد ِ نبوی میں مرد اور عورتیں ایک برتن سے وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۹۳(انظر: ۴۴۸۱)
373
Sahih
۔ (۳۷۴) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ أَنَّ الرِّجَالَ وَالنِّسَائَ کَانُوْا یَتَوَضَّؤُوْنَ عَلَی عَہْدِ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْاِنَائِ الْوَاحِدِ جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۵۷۹۹)
۔ (دوسری سند) بیشک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں خواتین و حضرات ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
374
Sahih
۔ (۳۷۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ قَالَ: کَانَ النِّسَائُ وَالرِّجَالُ یَتَوَضَّؤُنُ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ اِنَائٍ وَاحِدٍ وَیَشْرَعُوْنَ فِیْہِ جَمِیْعًا۔ (مسند أحمد: ۴۴۸۱)
۔ (تیسری سند) عہد ِ نبوی میں عورتیں اور مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کرتے تھے اور اکٹھے شروع ہوتے تھے۔
Takhreej
(۳۷۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خواتین و حضرات یا صرف خواتین یا صرف مرد ایک برتن سے اکٹھے وضو کر سکتے ہیں۔ لیکن اِن سے بے پردگی کا ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ ممکن ہے کہ وضو کایہ واقعہ پردہ کے احکام کے نزول سے پہلے کا ہو، یا محرم رشتہ دار اس طرح وضو کرتے ہوں، یا غیر محرم اپنی نظروں کی حفاظت کے ساتھ اکٹھے وضو کر لیتے ہوں۔ اس باب میں ان احادیث سے استدلال کیا جا رہا ہے کہ وضو یا غسل سے بچا ہوا پانی طاہر اور مطہِّر ہے، کیونکہ جب ایک آدمی ایک برتن سے وضو یا غسل شروع کرتا ہے تو وہ پانی دوسرے آدمی کیلئے تو اس کی طہارت سے بچا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود دوسرا آدمی اسی پانی سے وضو اور غسل کر رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ مائے مستعمل خود بھی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی ہے۔
375
Sahih