TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 87 - ناک میں پانی سڑکنے میں مبالغہ کرنے کا بیان - The book of purification - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
ناک میں پانی سڑکنے میں مبالغہ کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ. قَالَ:‏‏‏‏ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا .
It was narrated from 'Asim bin Laqit bin Sabirah that his father said: I said: 'O Messenger of Allah, tell me about Wudu. He said: 'Perform Wudu' well,[1] and exxagerate in sniffing water up into your nose, except when you are fasting.' [1]See No. 141
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  پوری طرح وضو کرو، اور ناک میں پانی سڑکنے  ( ڈالنے )  میں مبالغہ کرو، اِلّا یہ کہ تم روزے سے ہو ۔
87
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Arabic/English book reference : Vol. 1, Book 1, Hadith 87
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 87
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة ۵۵ (۱۴۲، ۱۴۳، ۱۴۴)، الصوم ۲۷ (۲۳۶۶)، سنن الترمذی/الصوم ۶۹ (۷۸۸)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ۴۴ (۴۰۷)، ۵۴ (۴۴۸)، (وعندہ ’’وخلل بین الأصابع‘‘ بدل ’’وبالغ في الاستنشاق‘‘)، (تحفة الأشراف: ۱۱۱۷۲)، وھکذا عند المؤلف في باب ۹۲ (۱۱۴)، مسند احمد ۴/۳۲، ۳۳، ۲۱۱، سنن الدارمی/الطہارة ۳۴ (۷۳۲) (صحیح)

Related Chapters

295
1
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Excessive Amounts Of Water Into the Nose (Al-Istinshaq) When Fasting
باب: روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
CHAPTER: The Fasting Person Pouring Water Upon Himself Due To Thirst, And Exaggerating In Sniffing Water Into The Nose.
باب: روزہ دار پیاس کی وجہ سے اپنے اوپر پانی ڈالے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
ناک میں پانی سڑکنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
(22)Chapter: Al-Madmadah And Istinshaq From One Handful
باب: ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
7
کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور اس کو جھاڑنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
چہرے اور ہاتھوں کے بعد کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کے جواز اور وضو میں ترتیب کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
9
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
10
(41) CHAPTER. Rinsing one's mouth and putting water in one's nose and cleaning it by blowing the water out with a single handful of water.
ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی دینے کے بیان میں
Sahih Bukhari
11
(7) CHAPTER. To rinse the mouth and to clean the nose by putting water in it and then blowing it out while taking the bath of Janaba.
اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے
Sahih Bukhari
12
CHAPTER: Separating Between The Madmadah and Istinshaq.
باب: الگ الگ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
13
CHAPTER: On Al-Istinthar (Blowing Water From The Nose).
باب: ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
14
ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
15
کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Sunnan Nisai
16
کس ہاتھ سے ناک سے پانی جھاڑے ؟
Sunnan Nisai
17
(15)Chapter: [What Has Been Reported About] Istinja With Water
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
(27)Chapter: What Has Been Related About One Taking New Water For (Wiping) His Head
باب: سر کے مسح کے لیے نیا پانی لینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
19
(38)Chapter: [What Has Been Related] About An-Nadh After Wudu
باب: وضو کے بعد (شرمگاہ پر) پانی چھڑکنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
(42)Chapter: On Wudu With A Mudd
باب: ایک مد پانی سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
(43)Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Be Wasteful With Water During Wudu
باب: وضو میں پانی کے بے جا استعمال کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
(49)Chapter: What Has Been Related About: Nothing Makes Water Impure
باب: پانی کو کوئی چیز نجس اور ناپاک نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
25
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
26
(51)Chapter: [What Has Been Related About] It Is Disliked Urinate In Stagnant Water
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
52)Chapter: What Has Been Related About Sea Water, That It Is Pure
باب: سمندر کے پانی کے پاک ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
28
(54)Chapter: [What Has Been Related] About Sprinkling Water On The Urine Of Young Boy Before (He reaches The Age That) He Eats Food
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑک لینا کافی ہے
Jam e Tirmazi
29
(92)Chapter: [What has Been Related] About Tayammum For The Junub Person When He Does Not Find Water
باب: پانی نہ پانے پر جنبی تیمم کر لے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Prostrating One the Forehead And The Nose
باب: پیشانی اور ناک پر سجدہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Mentioned About The Amount Of Water That IS Acceptable For Wudu
باب: وضو میں کس قدر پانی کا فی ہے؟
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Selling Surplus Water
باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Case Of Two Men And One Of Them Lives Downstream From The Other
باب: ان دو آدمیوں کا بیان جن میں سے ایک کا کھیت دوسرے سے پانی کے نشیب میں ہو
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About One Who Shoots Some Game, Then He Finds It Dead In The Water
باب: شکاری شکار پر تیر چلائے پھر اسے پانی میں مردہ پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Increasing (The Water In) The Broth
باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب: ناک میں ڈالی جانے والی دوا وغیرہ کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: پانی سے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Grave's Horror And That It Is The First Stage Of The Hereafter
باب: قبر کی ہولناکی کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: The Hadith: Two Wolves Free Among Sheep
باب: دولت کی ہوس اور جاہ طلبی دین کے لیے انتہائی خطرناک ہیں
Jam e Tirmazi
40
Chapter: “Humiliated is a Man Before Whom I am Mentioned...”
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو …“
Jam e Tirmazi
41
[7] بَاب الْمِيَاه
پانی کے احکام کا بیان
Mishkat
42
بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب
بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان
Mishkat
43
سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
44
پانی نہ ہونے کی صورت میں نبیذ سے طہارت حاصل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
45
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
46
جس پانی سے وضو کیا جائے، اس کی طہارت کا بیان
Musnad Ahmad
47
ایک طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مزید طہارت کرنے کی نہی کا بیان
Musnad Ahmad
48
طاہر اور خارجی چیز کے ملنے کی وجہ سے بدل جانے والے پانی کا حکم
Musnad Ahmad
49
اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل
Musnad Ahmad
50
اس پانی کا حکم جس پر چوپائے اور درندے بھی آتے ہوں اور دو قُلّوں والی حدیث کی تفصیل
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,798
Sahih Muslim
2950
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ حَاتِمٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي فَنَزَعَ زِرِّي الْأَعْلَى، ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ، يَا ابْنَ أَخِي، سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَسَأَلْتُهُ، وَهُوَ أَعْمَى، وَحَضَرَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا، كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا، وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ، عَلَى الْمِشْجَبِ، فَصَلَّى بِنَا، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا [ص:887]، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: «اغْتَسِلِي، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي» فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ، نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي بَيْنَ يَدَيْهِ، مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ، وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ، فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ «لَبَّيْكَ اللهُمَّ، لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ» وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْهُ، وَلَزِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ، حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ، اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَرَأَ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: 125] فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَكَانَ أَبِي [ص:888] يَقُولُ - وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ: {إِنَّ الصَّفَا والْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: 158] «أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ» فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهِ، حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَوَحَّدَ اللهَ وَكَبَّرَهُ، وَقَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ: مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى، حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا مَشَى، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا، حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَى الْمَرْوَةِ، فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ، وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً»، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَى، وَقَالَ: «دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ» مَرَّتَيْنِ «لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ» وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِمَّنْ حَلَّ، وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا، وَاكْتَحَلَتْ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ، بِالْعِرَاقِ: فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ لِلَّذِي صَنَعَتْ، مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرَتْ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «صَدَقَتْ صَدَقَتْ، مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟» قَالَ قُلْتُ: اللهُمَّ، إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ: «فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحِلُّ» قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ [ص:889] الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا، إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى، فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا، حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ، فَرُحِلَتْ لَهُ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ، فَاتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ [ص:890]، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابُ اللهِ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَقَالَ: بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ «اللهُمَّ، اشْهَدْ، اللهُمَّ، اشْهَدْ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا، حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ [ص:891]، حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ، وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى «أَيُّهَا النَّاسُ، السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ» كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا، حَتَّى تَصْعَدَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ، وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ، حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ، بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ، حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا، فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ، وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا، فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ ظُعُنٌ يَجْرِينَ، فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، يَصْرِفُ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ، حَتَّى أَتَى بَطْنَ مُحَسِّرٍ، فَحَرَّكَ قَلِيلًا، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا، مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ، فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ، فَطُبِخَتْ، فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ، فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: «انْزِعُوا، بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ» فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ
ہم سے حاتم بن اسماعیل مدنی نے جعفر ( الصادق ) بن محمد ( الباقرؒ ) سے ، انھوں نےاپنے والد سے ر وایت کی ، کہا : ہم جابر بن عبداللہ کے ہاں آئے ، انھوں نے سب کے متعلق پوچھنا شروع کیا ، حتیٰ کہ مجھ پر آکر رک گئے ، میں نے بتایا : میں محمد بن علی بن حسین ہوں ، انھوں نے ( ازراہ شفقت ) اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے سر پر رکھا ، پھر میرا اوپر ، پھر نیچے کا بٹن کھولا اور ( انتہائی شفقت اورمحبت سے ) اپنی ہتھیلی میرے سینے کے درمیان رکھ دی ، ان دنوں میں بالکل نوجوان تھا ، فرمانے لگے : میرے بھتیجے تمھیں خوش آمدید!تم جوچاہوپوچھ سکتے ہو ، میں نے ان سے سوال کیا ، وہ ان دنوں نابینا ہوچکے تھے ۔ ( اس وقت ) نماز کا وقت ہوگیا تھا ، اور موٹی بُنائی کا ایک کپڑا اوڑھنے والا لپیٹ کر ( نماز کےلیے ) کھڑے ہوگئے ۔ وہ جب بھی اس ( کے ایک پلو ) کو ( دوسری جانب ) کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی بناء پر اس کے دونوں پلوواپس آجاتے جبکہ ا ن کی ( بڑی ) چادر ان کے پہلو میں ایک کھونٹی پرلٹکی ہوئی تھی ۔ انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی ، ( نماز سے فارغ ہوکر ) میں نے عرض کی : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیے ۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو گرہ بنائی ، اور کہنے لگے : بلاشبہ نو سال ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف فرمایا ، حج نہیں کیا ، اس کےبعد دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حج کررہے ہیں ۔ ( یہ اعلان سنتے ہی ) بہت زیادہ لوگ مدینہ میں آگئے ۔ وہ سب اس بات کے خواہشمند تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں ۔ اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں اس پر عمل کریں ۔ ( پس ) ہم سب آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچ گئے ، ( وہاں ) حضرت اسماء بن عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھی بھیجا کہ ( زچگی کی اس حالت میں اب ) میں کیا کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غسل کرو ، کپڑے کالنگوٹ کسو ، اور حج کا احرام باندھ لو ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذوالحلیفہ کی ) مسجد میں نماز ادا کی ۔ اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوگئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ، تاحد نگاہ پیادے اورسوار ہی دیکھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی یہی حال تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ( موجود ) تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرقرآن نازل ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کی ( حقیقی ) تفسیر جانتے تھے ۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ہم بھی اس پر عمل کرتے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اللہ کی ) توحید کا تلبیہ پکارا " لبيك اللهم لبيك .. لبيك لا شريك لك لبيك .. إن الحمد والنعمة لك والملك .. لا شريك لك " ان لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا ۔ " اور لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا جو ( بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ ) وہ آج پکارتے ہیں ۔ آپ نے ان کے تلبیہ میں کسی بات کو مسترد نہیں کیا ۔ اور اپنا وہی تلبیہ ( جو پکاررہے تھے ) پکارتے رہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہماری نیت حج کےعلاوہ کوئی ( اور ) نہ تھی ، ( حج کے مہینوں میں ) عمرے کو ہم جانتے ( تک ) نہ تھے ۔ حتیٰ کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کااستلام ( ہاتھ یا ہونٹوں سے چھونا ) کیا ، پھر ( طواف شروع کیا ) ، تین چکروں میں چھوٹے قدم اٹھاتے ، کندھوں کوحرکت دیتے ہوئے ، تیز چلے ، اور چار چکروں میں ( آرام سے ) چلے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیمؑ کی طرف بڑھے اوریہ آیت تلاوت فرمائی ( وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌اهِيمَ مُصَلًّى ) " اور مقام ابراہیم ( جہاں آپ کھڑے ہوئے تھے ) کو نماز کی جگہ بناؤ " ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیمؑ کواپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا ۔ میرے والد ( محمد الباقرؒ ) کہا کر تے تھے ۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعلاوہ کسی اور ( کے حوالے ) سے یہ کہا ہو ۔ کہ آپ دو رکعتوں میں ( قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ) اور ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُ‌ونَ ) پڑھا کرتے تھے ۔ پھر آپ حجر اسود کے پاس تشریف لائے ، اس کا استلام کیا اور باب ( صفا ) سے صفا ( پہاڑی ) کی جانب نکلے ۔ جب آپ ( کوہ ) صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی : ( إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْ‌وَةَ مِن شَعَائِرِ‌اللَّـهِ ۖ ) " صفا اور مروہ اللہ کے شعائر ( مقرر کردہ علامتوں ) میں سے ہیں ۔ " میں ( بھی سعی کا ) وہیں سے آغاز کررہا ہوں جس ( کےذکر ) سے اللہ تعالیٰ نے آغاز فرمایا ۔ " اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفاسے ( سعی کا ) آغاز فرمایا ۔ اس پر چڑھتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کودیکھ لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے ، اللہ کی وحدانیت اورکبریائی بیان فرمائی ۔ اور کہا : " اللہ کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، ساری بادشاہت اسی کی ہے اورساری تعریف اسی کے لئے ہے ۔ اکیلے اللہ کےسوا کوئی عبادت کےلائق نہیں ، اس نےاپنا وعدہ خوب پورا کیا ، اپنے بندے کی نصرت فرمائی ، تنہا ( اسی نے ) ساری جماعتوں ( فوجوں ) کو شکست دی ۔ " ان ( کلمات ) کے مابین دعا فرمائی ۔ آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشادفرمائے تھے ۔ پھر مروہ کی طرف اترے ۔ حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک وادی کی ترائی میں پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی فرمائی ، ( تیز قدم چلے ) جب وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےقدم مباک مروہ کی ) چڑھائی چڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( معمول کی رفتار سے ) چلنے لگے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کی طرف پہنچ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ پر اسی طرح کیا جس طرح صفا پر کیا تھا ۔ جب مروہ پر آخری چکر تھا تو فرمایا : " اگر پہلے میرے سامنے وہ بات ہوتی جو بعد میں آئی تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا ، اور اس ( منسک ) کو عمرے میں بدل دیتا ، لہذا تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ، وہ حلال ہوجائے اور اس ( منسک ) کو عمرہ قرار دے لے ۔ " ( اتنے میں ) سراقہ بن مالک جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے عرض کی : اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ) ہمارے اسی سال کے لئے ( خاص ) ہے یا ہمیشہ کے لئے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( دونوں ہاتھوں کی ) انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں ، اور فرمایا : " عمرہ ، حج میں داخل ہوگیا ۔ " دو مرتبہ ( ایسا کیا اورساتھ ہی فرمایا : ) " صرف اسی سال کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔ " حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی اونٹنیاں لے کرآئے ، انھوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو احرام سے فارغ ہوچکے تھے ۔ ، رنگین کپڑے پہن لیے تھے اورسرمہ لگایا ہوا ہے ۔ اسےا نھوں ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان کے لئے نادرست قرار دیا ۔ انھوں نے جواب دیا : میرے والدگرامی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق میں کہا کرتے تھے : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس ، اس کام کی وجہ سے جو فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیاتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے خلاف ابھارنے کے لئے گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کے متعلق پوچھنے کے لئے جو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( یہ بھی ) بتایا کہ میں نے ان کے اس کام ( احرام کھولنے ) پر اعتراض کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ کہا ہے ، اس نے بالکل سچ کہا ہے ۔ اورتم نے جب حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا؟ " میں نے جواب دیا میں نے کہا تھا : اے اللہ ! میں بھی اسی ( منسک ) کے لئے تلبیہ پکارتاہوں ۔ جس کے لئے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے ساتھ قربانی ہے ۔ ( میں عمرے کے بعدحلال نہیں ہوسکتا اور تمھاری بھی نیت میری نیت جیسی ہے ، لہذا ) تم بھی عمرے سے فارغ ہونے کے بعد احرام مت کھولنا ۔ ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جانوروں کی مجموعی تعداد جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے لائےتھے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے کرآئے تھے ۔ ایک سوتھی ۔ پھر ( عمرے کےبعد ) تمام لوگوں نے ( جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں ) احرام کھول لیا اور بال کتروالیے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جن کے ہمراہ قربانیاں تھیں ( انھوں نے احرام نہیں کھولا ) ، جب ترویہ ( آٹھ ذوالحجہ ) کا دن آیا تو لوگ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ، حج ( کا احرام باندھ کر اس ) کا تلبیہ پکارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوگئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ( منیٰ میں ) ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اورفجر کی نمازیں ادا فرمائیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے رہے حتیٰ کہ سورج طلو ع ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بالوں سے بنا ہوا یک خیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نمرہ میں لگا دیاجائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے ، قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر حرام کے پاس جا کر ٹھر جائیں گے ۔ جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے آگے ) گزر گئے یہاں تک کہ عرفات میں پہنچ گئے ۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہواملا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں فروکش ہوگئے ۔ جب سورج ڈھلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی اونٹنی ) قصواء کو لانے کا حکم دیا ، اس پر آ پ کے لئے پالان کس دیا گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم و ادی ( عرفہ ) کے درمیان تشریف لے آئے ، اور لوگوں کو خطبہ دیا : تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر ( ایسے ) حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے اور زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے دونوں پیروں کے نیچے رکھ دی گئی ( یعنی ان چیزوں کا اعتبار نہ رہا ) اور جاہلیت کے خون بے اعتبار ہو گئے اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ کا خون ہے کہ وہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور اس کو ہذیل نے قتل کر ڈالا ( غرض میں اس کا بدلہ نہیں لیتا ) اور اسی طرح زمانہ جاہلیت کا سود سب چھوڑ دیا گیا ( یعنی اس وقت کا چڑھا سود کوئی نہ لے ) اور پہلے جو سود ہم اپنے یہاں کے سود میں سے چھوڑتے ہیں ( اور طلب نہیں کرتے ) وہ عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کا سود ہے اس لئے کہ وہ سب چھوڑ دیا گیا اور تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اس لئے کہ ان کو تم نے اللہ تعالیٰ کی امان سے لیا ہے اور تم نے ان کے ستر کو اللہ تعالیٰ کے کلمہ ( نکاح ) سے حلال کیا ہے ۔ اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں ( یعنی تمہارے گھر میں ) جس کا آنا تمہیں ناگوار ہو پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسا مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے ( یعنی ہڈی وغیرہ نہ ٹوٹے ، کوئی عضو ضائع نہ ہو ، حسن صورت میں فرق نہ آئے کہ تمہاری کھیتی اجڑ جائے ) اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ ان کی روٹی اور ان کا کپڑا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے اور میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ( وہ ہے ) اللہ تعالیٰ کی کتاب ۔ اور تم سے ( قیامت میں ) میرے بارے میں سوال ہو گا تو پھر تم کیا کہو گے؟ ان سب نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور رسالت کا حق ادا کیا اور امت کی خیرخواہی کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشت شہادت ( شہادت کی انگلی ) آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور لوگوں کی طرف جھکاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے اللہ! گواہ رہنا ، اے اللہ! گواہ رہنا ، اے اللہ! گواہ رہنا ۔ تین بار ( یہی فرمایا اور یونہی اشارہ کیا ) پھر اذان اور تکبیر ہوئی تو ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر اقامت کہی اور عصر پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان میں کچھ نہیں پڑھا ( یعنی سنت و نفل وغیرہ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار کر موقف میں آئے اونٹنی کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور پگڈنڈی کو اپنے آگے کر لیا اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور غروب آفتاب تک وہیں ٹھہرے رہے ۔ زردی تھوڑی تھوڑی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیا ڈوب گئی تب ( سوار ہوئے ) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا اور واپس ( مزدلفہ کی طرف ) لوٹے اور قصواء کی مہار اس قدر کھینچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوہ کے ( اگلے حصے ) مورک سے لگ گیا تھا ( مورک وہ جگہ ہے جہاں سوار بعض وقت تھک کر اپنا پیر جو لٹکا ہوا ہوتا ہے اس جگہ رکھتا ہے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے کہ اے لوگو! آہستہ آہستہ آرام سے چلو اور جب کسی ریت کی ڈھیری پر آ جاتے ( جہاں بھیڑ کم پاتے ) تو ذرا مہار ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ اونٹنی چڑھ جاتی ( آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو تکبیروں سے پھڑیں اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے ( یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے ۔ ( سبحان اللہ کیسے کیسے خادم ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ دن رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے بیٹھنے ، اٹھنے جاگنے ، کھانے پینے پر نظر ہے اور ہر فعل مبارک کی یادداشت و حفاظت ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کرے ) یہاں تک کہ صبح ہوئی جب فجر ظاہر ہو گئی تو اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز فجر پڑھی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر الحرام میں آئے اور وہاں قبلہ کی طرف منہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کی توحید پکاری اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ بخوبی روشنی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے طلوع آفتاب سے قبل لوٹے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فضل رضی اللہ عنہ ایک نوجوان اچھے بالوں والا گورا چٹا خوبصورت جوان تھا ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو عورتوں کا ایک ایسا گروہ چلا جاتا تھا کہ ایک اونٹ پر ایک عورت سوار تھی اور سب چلی جاتی تھیں اور سیدنا فضل صان کی طرف دیکھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا ( اور زبان سے کچھ نہ فرمایا ۔ سبحان اللہ یہ اخلاق کی بات تھی اور نہی عن المنکر کس خوبی سے ادا کیا ) اور فضل رضی اللہ عنہ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا اور دیکھنے لگے ( یہ ان کے کمال اطمینان کی وجہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ ادھر پھیر کر ان کے منہ پر رکھ دیا تو فضل دوسری طرف منہ پھیر کر پھر دیکھنے لگے یہاں تک کہ بطن محسر میں پہنچے تب اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور بیچ کی راہ لی جو جمرہ کبریٰ پر جا نکلتی ہے ، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے ( اور اسی کو جمرہ عقبہ کہتے ہیں ) اور سات کنکریاں اس کو ماریں ۔ ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے ، ایسی کنکریاں جو چٹکی سے ماری جاتی ہیں ( اور دانہ باقلا کے برابر ہوں ) اور وادی کے بیچ میں کھڑے ہو کر ماریں ( کہ منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ داہنی طرف اور مکہ بائیں طرف رہا ) پھر نحر کی جگہ آئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر ( یعنی قربان ) کئے ، باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ انہوں نے نحر کئے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا اور پھر ہر اونٹ سے گوشت ایک ٹکڑا لینے کا حکم فرمایا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق لے کر ) ایک ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں نے اس میں سے گوشت کھایا اور اس کا شوربا پیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف آئے اور طواف افاضہ کیا اور ظہر مکہ میں پڑھی ۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے کہ وہ لوگ زمزم پر پانی پلا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی بھرو اے عبدالمطلب کی اولاد! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ بھیڑ کر کے تمہیں پانی نہ بھرنے دیں گے تو میں بھی تمہارا شریک ہو کر پانی بھرتا ( یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرتے تو سنت ہو جاتا تو پھر ساری امت بھرنے لگتی اور ان کی سقایت جاتی رہتی ) پھر ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا ۔
Sunnan Abu Dawood
142
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي آخَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ وَلَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ الْقِنَاعَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ تَمْرٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا وَلَّدْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَهْمَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَحْسِبَنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِهَا شَيْئًا يَعْنِي الْبَذَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَطَلِّقْهَا إِذًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمُرْهَا يَقُولُ:‏‏‏‏ عِظْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا .
Narrated Laqit ibn Sabirah: I was the leader of the delegation of Banu al-Muntafiq or (the narrator doubted) I was among the delegation of Banu al-Muntafiq that came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. When we reached the Prophet, we did not find him in his house. We found there Aishah, the Mother of the Believers. She ordered that a dish called Khazirah should be prepared for us. It was then prepared. A tray containing dates was then presented to us. (The narrator Qutaybah did not mention the word qina', tray). Then the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم came. He asked: Has anything been served to you or ordered for you? We replied: Yes, Messenger of Allah. While we were sitting in the company of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم we suddenly saw that a shepherd was driving a herd of sheep to their fold. He had with him a newly-born lamb that was crying. He (the Prophet) asked him: What did it bear, O so and so? He replied: A ewe. He then said: Slaughter for us in its place a sheep. Do not think that we are slaughtering it for you. We have one hundred sheep and we do not want their number to increase. Whenever a ewe is born, we slaughter a sheep in its place. (The narrator says that the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم used the word la tahsabanna, do not think). I (the narrator Laqit) then said: Messenger of Allah, I have a wife who has something (wrong) in her tongue, i. e. she is insolent. He said: Then divorce her. I said: Messenger of Allah, she had company with me and I have children from her. He said: Then ask her (to obey you). If there is something good in her, she will do so (obey); and do not beat your wife as you beat your slave-girl. I said: Messenger of Allah, tell me about ablution. He said: Perform ablution in full and make the fingers go through the beard and snuff with water well except when you are fasting.
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا، وہ تیار کیا گیا، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ ( قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے ) ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا؟ ، ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس سے ) پوچھا: اے فلاں! کیا پیدا ہوا ( نر یا مادہ ) ؟ ، اس نے جواب دیا: مادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو ۔ پھر ( لقیط سے ) فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ ( بات یہ ہے کہ ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے ( میں کیا کروں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم اسے طلاق دے دو ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو ۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو ۱؎۔
Sunnan Abu Dawood
1912
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ بِمِنًى، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بِالْأَبْطَحِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ .
Abd Al Aziz bin Rufai’ said I asked Anas bin Malik saying “Tell me something you knew about the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم viz where he offered the noon prayer on Yawm Al Tarwiyah (8th of Dhu Al Hijjah). He replied, In Mina I asked Where did he pray the afternoon prayer on Yaum Al Nafr (12th or 13th of Dhu Al Hijjah). He replied In al-Abtah he then said “Do as your commanders do. ”
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎۔
Sunnan Nisai
114
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ وَكَانَ يُكْنَى أَبَا هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏ح وَأَنْبَأَنَامُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ .
It was narrated from 'Asim bin Laqit that his father said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: When you perform Wudu', do so properly, and wash in between the fingers (Al-Asabi'). [2] [1] Al-Asabi' is plural meaning fingers as well as toes, and the author mentioned only one narration on the topic whereas some of them clarify of the hands and feet. So he mentioned the general wording amids chapters how to wash the feet. [2] Part of this narration preceded under No. 87.
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب تم وضو کرو تو کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو ۔
Sunnan Nisai
1344
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُجَالِدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ وَذَكَرَ آخَرَ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْمُغِيرَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَرَّادٍ كَاتِب الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى الْمُغِيرَةِ،‏‏‏‏ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ،‏‏‏‏ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،‏‏‏‏ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ،‏‏‏‏ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
It was narrated from Warrad that: Mu'awiyah wrote to Al-Mughirah asking him to write him a hadith that he had heard from the Messenger of Allah (ﷺ). Al-Mughirah wrote to him (Saying): I heard him say, when he finished the prayer: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things) three times.
مغیرہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی حدیث لکھ بھیجو جسے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیر کر پلٹتے وقت «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير»  نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے  تین بار کہتے سنا ہے۔
Sunnan Nisai
1677
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
It was narrated that Ali, may Allah (SWT) be pleased with him, said: Witr is not essential like the obligatory prayers, but it is the sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ).
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۱؎۔
Sunnan Nisai
1753
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ أَبُو نُعَيْمٍ أَثْبَتُ عِنْدَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَمِنْ قَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَثْبَتُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَمُدُّ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ وَيَرْفَعُ.
It was narrated from Ibn Abdur-Rahman bin Abza that his father said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in witr: Glorify the Name of Your Lord, the Most High;' and Say: O you disbelievers!'; and 'Say: He is Allah, (the) One. And after he had said the salam, he would say: Subhanal-Malikil-Quddus (Glory be to the Sovereign, the Most Holy) three times, raising his voice with it.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب واپس ہونے کا ارادہ کرتے تو «سبحان الملك القدوس» تین مرتبہ کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونعیم ہمارے نزدیک محمد بن عبید اور قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ ہیں، اور ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے تلامذہ میں سب سے زیادہ معتبر یحییٰ بن سعید قطان ہیں، پھر عبداللہ بن مبارک، پھر وکیع بن جراح، پھر عبدالرحمٰن بن مہدی، پھر ابونعیم، پھر اسود ہیں، واللہ اعلم، نیز اسے جریر بن حازم نے زبید سے روایت کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ تیسری بار میں اپنی آواز کھینچتے اور بلند کرتے تھے،  ( جریر کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
Sunnan Nisai
1805
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ .
It was narrated from Umm Habibah that: The Prophet (ﷺ) said: Whoever prays twelve rak'ahs during the day and night, a house will be built for him in Paradise.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا ۔
Sunnan Nisai
3596
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ.
It was narrated that Abu Hurairah said: The Prophet used to dislike the Shikal among horses. And the wording is that of Isma'il.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «شکال» گھوڑا ناپسند فرماتے تھے۔ اس حدیث کے الفاظ اسماعیل راوی کی روایت کے ہیں۔