TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2647 - باب: چھوٹے بچے کو حج کرانے کا بیان۔ - The book of hajj - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 9 in this chapter
باب: چھوٹے بچے کو حج کرانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ هَوْدَجٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِ أَجْرٌ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: A woman lifted up a child of hers from a howdah (litter) and said: 'O Messenger of Allah, is there Hajj for this one?' He said: 'Yes, and you will be rewarded.'''(sahih)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( اس کا بھی حج ہے ) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“
2647
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 2646 In-book reference : Book 24, Hadith 0 English translation : Vol. 3, Book 24, Hadith 2647
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2646
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۲۶۴۶

Related Chapters

137
1
چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
2
جس کا بچہ نہ ہوا ہو اس کےلیے کنیت رکھنے کا جواز اور چھوٹے بچے کی کنیت
Sahih Muslim
3
باب: چھوٹے بچے پر صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
(54)Chapter: [What Has Been Related] About Sprinkling Water On The Urine Of Young Boy Before (He reaches The Age That) He Eats Food
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑک لینا کافی ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (S) Saying: I Hear The Crying Of A Small Boy During Salat and Shorten It
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About When A Boy Is Ordered To Perform Salat
باب: بچے کو نماز کا حکم کب دیا جائے گا؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Mentioned About Sprinkling Water On The Urine Of A Male Child Of Suckling Age
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Revealed About One Who Provides The Food For A Fasting Person To Break His Fast
باب: روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For the Muhrim To Marry
باب: حالت احرام میں محرم کی شادی کرانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About The Hajj Of A Boy
باب: بچے کے حج کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Muhill And The One Who The Muhallal Was Done For
باب: حلالہ کرنے اور کرانے والے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Separate Brothers, And A Mother And Her Child In Sales
باب: غلاموں کی بیع میں دو بھائیوں یا ماں اور اس کے بچے کے درمیان تفریق کی حرام ہے
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Boy Choosing Between His Parents When They Separate
باب: ماں باپ کی جدائی کی صورت میں بچے کو اختیار دئیے جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Rectifying Manners
باب: آپس میں صلح کرانے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What has been Related About A Man Negating The Legitimacy Of His Child
باب: باپ اپنے بچے کا انکار کر دے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: 'A Hundred Years Shall Not Pass While A Soul Born Upon The Earth Today Survives'
باب: یہ پیشین گوئی کہ سو سال کے بعد آج کا کوئی آدمی زندہ نہ بچے گا
Jam e Tirmazi
20
باب: غالیچہ (چھوٹے قالین) رکھنے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
بَابُ بُلُوغِ الصَّغِيرِ وَحَضَانَتِهِ فِي الصِّغَرِ
چھوٹے لڑکے کی عمر بلوغت اور کم سنی میں اس کی تربیت کا بیان
Mishkat
22
ایک طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مزید طہارت کرنے کی نہی کا بیان
Musnad Ahmad
23
بچے اور بچی کے پیشاب کا بیان
Musnad Ahmad
24
نابینا آدمی اور بچے کی اور عورت کی عورتوں کی امامت کا بیان
Musnad Ahmad
25
مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرانے کا اور حدیث ’’ایک دن میں ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھو‘‘کا بیان
Musnad Ahmad
26
افطار کے وقت کی فضیلت،افطاری کے وقت کی دعا اور روزہ دار کو افطاری کرانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
27
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
Musnad Ahmad
28
بچے اور بچی کی طرف سے عقیقہ کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
29
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
Musnad Ahmad
30
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
Musnad Ahmad
31
کافروں پر اچانک حملہ کرنے کا بیان، اگرچہ اس میں ان کے بچے قتل ہو جائیں
Musnad Ahmad
32
چار مرتبہ زنا کا اقرار تکرار کرانے کا اعتبار
Musnad Ahmad
33
سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
34
اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
35
شادی نہ کرنے تک بچے کی پرورش کی زیادہ حقدار ماں ہے
Musnad Ahmad
36
پرورش میں والدین کے تنازعہ اور اختلاف کے وقت بچے کے سلسلے میں قرعہ اندازی کرنے اور سن تمیز تک پہنچنے کی صورت میں اس کا اختیار دینے کا بیان
Musnad Ahmad
37
گر نے والے، بدک جانے والے اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا بیان
Musnad Ahmad
38
مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
39
صحابۂ کرام کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پینے کی جگہ اور وضو سے بچے سے پانی سے تبرک حاصل کرنا
Musnad Ahmad
40
باب سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
Musnad Ahmad
41
اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
42
(4) CHAPTER. A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue and hands.
مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان بچے رہیں ( کوئی تکلیف نہ پائیں )
Sahih Bukhari
43
(18) CHAPTER. At what age may a youth be listened to (i.e. quotation of the Hadith from a boy be acceptable).
اس بارے میں کہ بچے کا ( حدیث ) سننا کس عمر میں صحیح ہے ؟
Sahih Bukhari
44
(69) CHAPTER. The presence of spearmen (with their spears) in the mosque (is permissible).
چھوٹے چھوٹے نیزوں ( بھالوں ) سے مسجد میں کھیلنے والوں کے بیان میں
Sahih Bukhari
45
(46) CHAPTER. The religious learned men are entitled to precedence in leading the Salat (prayers).
امامت کرانے کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو علم اور ( عملی طور پر بھی ) فضیلت والا ہو
Sahih Bukhari
46
(65) CHAPTER. Whoever cuts short As-Salat (the prayer) on hearing the cries of a child.
جس نے بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز کو مختصر کر دیا
Sahih Bukhari
47
(12) CHAPTER. Is the taking of a bath (on Friday) necessary for women, boys, and others who do not present themselves for the Jumuah (prayer).
جو لوگ جمعہ کی نماز کے لیے نہ آئیں جیسے عورتیں بچے ، مسافر اور معذور وغیرہ ان پر غسل واجب نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
48
(55) CHAPTER. The lining up of boys in rows with men in the funeral prayer.
جنازے کی نماز میں بچے بھی مردوں کے برابر کھڑے ہوں
Sahih Bukhari
49
(79) CHAPTER. If a boy becomes a Muslim and then dies, should a funeral prayer be offered for him? Should Islam be explained to a boy (below the age of puberty)?
ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا ‘ تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے ؟
Sahih Bukhari
50
(1) CHAPTER. What has been said regarding (re)conciliation between the people.
لوگوں میں صلح کرانے کا ثواب
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

550
Jam e Tirmazi
221
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ شَهِدَ الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ لَهُ قِيَامُ نِصْفِ لَيْلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ كَانَ لَهُ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَجُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ،‏‏‏‏ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى وَبُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُثْمَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ مَرْفُوعًا.
Uthman bin Affan narrated that : Allah's Messenger said: Whoever attends Isha (prayer) in congregation, then he has (the reward as if he had) stood half of the night. And whoever prays Isha and Fajr in congregation, then he has (the reward as if he had) spend the entire night standing (in prayer).
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عشاء کی جماعت میں حاضر رہے گا تو اسے آدھی رات کے قیام کا ثواب ملے گا اور جو عشاء اور فجر دونوں نمازیں جماعت سے ادا کرے گا، اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، انس، عمارہ بن رویبہ، جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی، ابی ابن کعب، ابوموسیٰ اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کے طریق سے عثمان رضی الله عنہ سے موقوفاً روایت کی گئی ہے، اور کئی دوسری سندوں سے بھی یہ عثمان رضی الله عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔
Jam e Tirmazi
2908
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَيْرُكُمْ أَوْ أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانُ لَا يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَشُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated 'Uthman [bin 'Affan]: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The best of you - or the most virtuous of you - is he who learns the Qur'an and teaches it.
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر یا تم میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن مہدی اور کئی دوسروں نے اسی طرح بسند «سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- سفیان اس کی سند میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں، ۴- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث بسند «سفيان وشعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی۔ ہم سے بیان کیا اسے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے۔
Jam e Tirmazi
2950
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ibn 'Abbas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever says (something) about the Qur'an without knowledge, then let him take his seat in the Fire.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر علم کے ( بغیر سمجھے بوجھے ) قرآن کی تفسیر کی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2995
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ وَلِيِّي أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ سورة آل عمران آية 68 ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الضُّحَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَسْرُوقٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الضُّحَى اسْمُهُ مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ.
Narrated 'Abdullah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Every Prophet had a Wali among the Prophets. My Wali is my father Ibrahim the Khalil of my Lord. Then he recited: Verily among mankind who have the best claim to Ibrahim, are those who followed him, and this Prophet and those who have believed. And Allah is the Wali (protector) of the believers (3:68).
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا نبیوں میں سے کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، اور میرے دوست میرے باپ اور میرے رب کے گہرے دوست ابراہیم ہیں۔ پھر آپ نے آیت «إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين» ۱؎ پڑھی“۔
Jam e Tirmazi
3906
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْمُؤَمَّلُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَبْغَضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet (ﷺ) said to me: 'A man who believes in Allah and the Last Day does not hate the Ansar.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sunnan Nisai
2601
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمَسْأَلَةُ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ .
It was narrated that Samurah bin Jundab said: The Messenger of Allah said: 'Begging will be but lacerations on a man's face (on the Day of Resurrection). Unless he asks a man in authority or when he has no alternative. '
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش ہے جس سے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہیں“۔
Sunnan Nisai
2979
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ أَمْشِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى .
It was narrated that Kathir bin Jumhan said: I saw Ibn Umar walking between As-Safa and Al-Marwah. He said: 'I am walking because I saw the Messenger of Allah Walking, and I hasten because I saw the Messenger of Allah hasten.'
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں دوڑتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
Sunnan Nisai
3028
أَخْبَرَنَا مُحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ كُرَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ، ‏‏‏‏‏‏فَبَالَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الصَّلَاةُ أَمَامَكَ ،‏‏‏‏ فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَحُلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى صَلَّى.
It was narrated that Usmah bin Zaid said: The Messenger of allah stopped in the mountain pass where the rulers stop now, and urinated, then he performed a light Wudu and I said: 'O Messenger of Allah (isit time for ) prayer?' He said: 'The prayer is still ahead of you.' When we came to Al-Muzdalifah the people did not unload their camles until he had prayed.
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی میں اترے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے پیشاب کیا، پھر ہلکا وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے ہو گی“ ( یعنی آگے چل کر پڑھیں گے ) تو جب ہم مزدلفہ آئے، تو ابھی ( قافلے کے ) پیچھے والے لوگ اترے بھی نہ تھے کہ آپ نے نماز شروع کر دی۔
Sunnan Nisai
3067
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ أَهْلَهُ وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ .
It was narrated from Ibn Abbas that: the Prophet sent his family ahead, and told them not to stone the Jamrah until the sun had risen. (Daif)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو ( رات میں ) پہلے ہی بھیج دیا اور انہیں حکم دیا کہ جب تک سورج نہ نکل آئے جمرہ کی رمی نہ کریں۔