TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4344 - باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔ - The book of hunting and slaughtering - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 6 of 9 in this chapter
باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَطَبَخْنَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْفَأْنَاهَا.
It was narrated that 'Abdullah bin Awfa said: On the Day of khaiber we caught some donkeys outside the village and we cooked them. Then the caller of the Prophet called out: 'The Messenger of Allah has forbidden the flesh of donkeys, so turn over your cooking pots with whatever is in them.' So we turned them over.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن ہم نے گاؤں سے باہر کچھ گدھے پکڑ کر پکائے، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( گھریلو ) گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے، لہٰذا تم لوگ ہانڈیاں الٹ دو، چنانچہ ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔
4344
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4339 In-book reference : Book 42, Hadith 77 English translation : Vol. 5, Book 42, Hadith 4344
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4339
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس ۲۰ (۳۱۵۵)، المغازي ۳۸ (۴۲۲۰)، الصید ۲۸ (۵۵۲۶)، صحیح مسلم/الصید ۵ (۱۹۳۷)، (تحفة الأشراف: ۵۱۶۴)، مسند احمد (۴/۳۵۵، ۳۵۶، ۳۵۷، ۳۸۱)

Related Chapters

332
1
Chapter: The prohibition of eating the meat of domesticated donkeys
پالتو گدھوں کاگوشت کھانے کی حرمت
Sahih Muslim
2
(28) CHAPTER. (It is unlawful to eat) the meat of donkeys.
پالتو گدھوں کا گوشت کھانا منع ہے ۔
Sahih Bukhari
3
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
(60)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu From Camel Meat
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About: The Meat Of Game Is Disliked For You
باب: محرم کے لیے شکار کے گوشت کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About The Permission To Eat From It Beyond Three Days
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About It being Disliked To Swear By Other Than Allah
باب: غیر اللہ کی قسم کھانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Eating Horse Meat
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About The Meat Of Domesticated Donkey
باب: پالتو گدھے کے گوشت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Consuming The Flesh Of The Jallalah And Milking It
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Eating Roasted Meat
باب: بھنا ہوا گوشت کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: That He Said: Tear The Meat With Your Teeth
باب: دانت سے نوچ کر گوشت کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
15
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
16
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
Musnad Ahmad
17
(27) CHAPTER. Horse flesh.
گھوڑے کاگوشت کھانے کا بیان ۔
Sahih Bukhari
18
(29) CHAPTER. (It is unlawful) to eat the meat of beasts of prey having fangs.
ہر پھاڑ کر کھانے والے درندے ( وپرندے ) کے گوشت کھانے کے بارے میں ۔
Sahih Bukhari
19
CHAPTER: Wudu’ From Eating Camel Meat.
باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ( ٹوٹ جانے ) کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: What Has Been Reported About Eating Meat While Not Knowing Whether The Name Of Allah Was Mentioned Upon it or not.
باب: جس گوشت کے بارے میں یہ نہ معلوم ہو کہ وہ «بسم اللہ» پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بغیر «بسم اللہ» کے ، اس کے کھانے کا کیا حکم ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: Regarding eating meat.
باب: گوشت کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: The prohibition of eating al Jallalah and its milk.
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Regarding eating horse meat.
باب: گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: Eating the meat of bustards.
باب: سرخاب کا گوشت کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
25
اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
26
قربانی کا گوشت کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
27
جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کا گوشت کھانا منع ہے
Sunnan Ibn e Maja
28
خچر کے گوشت کی حرمت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
29
رات سو کر اٹھنے والے کے ہاتھ میں (کھانے یا گوشت کی) چکنائی کی بو ہو تو کیسا ہے؟
Sunnan Ibn e Maja
30
گھی اور گوشت ملا کر کھانے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
31
باب: درندہ کھانے کی حرمت کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
باب: نیل گائے کا گوشت کھانے کی اباحت کا بیان۔
Sunnan Nisai
34
باب: قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
باب: «جلّالہ» (گندگی اور نجاست کھانے والے جانور) کا گوشت کھانے کی ممانعت۔
Sunnan Nisai
37
(55)Chapter: What Has Been Related About The Urine Of That Whose Meat Is Eaten
باب: جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہو اس کے پیشاب کا حکم
Jam e Tirmazi
38
(100)Chapter: What Has Been Related About Eating With A Menstruating Woman And Leftovers
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کے جھوٹے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Mentioned About The Permission For The Sexually Impure (Junub) Person To Eat And Sleep When He Performs Wudu
باب: جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Sahar
باب: سحری تاخیر سے کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Sahar
باب: سحری کھانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Muhrim Eating Hunted Animals
باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What has been related about: The woman with three divorces gets no housing nor maintenance (from the husband)
باب: تین طلاق پائی عورت کو نہ رہنے کے لیے گھر ملے گا اور نہ کھانے پینے کا خرچہ
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About One Who Makes A False Oath About His Merchandise
باب: سودے پر جھوٹی قسم کھانے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: Permission Regarding The Price Of A Hunting Dog
باب: کتے کی قیمت کھانے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Permission For Eating Fruit For The Passerby
باب: راہی کے لیے راستہ کے درخت کا پھل کھانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About: Whatever Is Cut From Something Living, Then It Is Dead Flesh
باب: زندہ جانور سے کاٹا ہوا گوشت مردار کے حکم میں ہے
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Eat From The Sacrificial Meat Beyond Three Days.
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Whoever Takes An Oath And Then Sees That Something Else Is Better Than It
باب: کسی کام پر قسم کھانے کے بعد اس سے بہتر کام جان جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Food Of The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

67
Sahih Muslim
2562
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَعَبَّادٍ، وَعَبْدِ الْوَاحِدِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ: فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَلَا قَوْلُهُ «وَجَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا» إِلَّا فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abi Aufa (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters (but with a sight alteration of words): In this hadith transmitted by one of the narrators (neither these words are found): During the month of Ramadan. nor his statement: And the night prevails from that side (the eastern side). (These words are found in the narration of) Hushaim only.
ابن ابی عمر ، سفیان ، اسحاق ، جریر ، شیبانی ، ابن ابی اوفیٰ ، عبیداللہ بن معاذ ، ابن مثنی ، محمد بن جعفر ، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
369
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْمُونَةَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ وَعَلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ مِنْهُ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ عَلَيْهِ .
Maimunah reported: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم prayed on a sheet of cloth put on by one of his wives who was menstruating. He was praying while (a part of) it was upon him.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جس کا کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی پر پڑا ہوا تھا، وہ حائضہ تھیں اور آپ اسے اوڑھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔
Sunnan Abu Dawood
5129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَحْمِلَكَ،‏‏‏‏ فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ .
Abu Masud al-Ansari said: A man came to the prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and said: Messenger of Allah! I have been left without a mount. So give me a mount. He replied: I have no mount to give, but go to so and so; he may perhaps give you a mount. He then went to him and he gave him a mount. He came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and informed him about it. Thereupon the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: if anyone guides someone to a good (deed), he will get the reward like the reward of the one who does it.
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا ۔
Sunnan Ibn e Maja
3192
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصَابَ الْقَوْمُ حُمُرًا خَارِجًا مِنْ الْمَدِينَةِ فَنَحَرْنَاهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي، ‏‏‏‏‏‏إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَكْفَأْنَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى:‏‏‏‏ حَرَّمَهَا تَحْرِيمًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَحَدَّثْنَا أَنَّمَا حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَتَّةَ مِنْ أَجْلِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ .
It was narrated that Abu Ishaq Shaibani said: “I asked ‘Abdullah bin Abu Awfa about the flesh of domesticated donkeys and he said: ‘We were starving on the Day of Khaibar, when we were with the Prophet (ﷺ). The people had gotten some donkeys as spoils of war on the way out from Al-Madinah, so we slaughtered them and our cooking pots were boiling when the caller of the Messenger of Allah (ﷺ) cried out, telling us to overturn out pots and not to eat anything of the flesh of donkeys. So we overturned them.’ I said to ‘Abdullah bin Abu Awfa: ‘Was it made unlawful?’ He said: ‘We think that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade it altogether because it eats excrement.’”
ابواسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ ابواسحاق ( سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی ) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھا واقعی حرام قرار دے دیا ہے؟ تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بالکل ہی حرام قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ گندگی کھاتا ہے ۱؎۔
Sunnan Nisai
4345
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجُوا إِلَيْنَا وَمَعَهُمُ الْمَسَاحِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَوْنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مُحَمَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْخَمِيسُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَجَعُوا إِلَى الْحِصْنِ يَسْعَوْنَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَبْنَا فِيهَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ .
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah reached Khaibar in the morning, and they came out to us carrying their shovels. When they saw us they said: 'Muhammad and the army!' And they rushed back inot the fortress. The Messenger of Allah raised his hands, then he said: ' Allahu Akbar, Allahu Akbar, Khaibar is destroyed. Verily, when we descend in field of a people (i.e. near to them), evil will be the morning for those who had been warned! Acquired some donkeys there and we cooked the., Then the caller of the Prophet called out: 'Allah and His Messenger forbid you to eat the flesh of donkeys, for it is an abomination. '
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت خیبر پہنچے اور وہ سب ( خیبر والے ) ہماری طرف نکلے تھے، ان کے ساتھ کدال ( بیلچے ) تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو کہا: محمد اور فوج، اور جلدی جلدی واپس قلعے میں چلے گئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: ” «‏اللہ أكبر اللہ أكبر»،‏‏‏‏ خیبر کا برا ہوا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوتی ہے جنہیں تنبیہ کی جا چکی ہے“، وہاں کچھ گدھے ملے جنہیں ہم نے پکایا، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں اس لیے کہ یہ ( یعنی گوشت ) «رجس» ( ناپاک ) ہے۔
Sunnan Nisai
5401
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُرَيْحٍ:‏‏‏‏ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ:‏‏‏‏ أَنْ اقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَاقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ الصَّالِحُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ شِئْتَ فَتَأَخَّرْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ .
It was narrated from Shuraih that: He wrote to 'Umar, to ask him (a question), and 'Umar wrote back to him telling him: Judge according to what is in the Book of Allah. If it is not (mentioned) in the Book of Allah, then (judge) according to the Sunnah of the Messenger of Allah [SAW]. If it is not (mentioned) in the Book of Allah or the Sunnah of the Messenger of Allah [SAW], then pass judgment according to the way the righteous passed judgment. If it is not (mentioned) in the Book of Allah, or the Sunnah of the Messenger of Allah [SAW], and the righteous did not pass judgment concerning it, then if you wish, go ahead (and try to work it out by yourself) or if you wish, leave it. And I think that leaving it is better for you. And peace be upon you.
شریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے انہیں ایک خط لکھا تو انہوں نے لکھا: فیصلہ کرو اس کے مطابق جو کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہے، اور اگر وہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں نہ ہو تو سنت رسول ( حدیث ) کے مطابق، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہو اور نہ سنت رسول ( حدیث ) میں تو اس کے مطابق فیصلہ کرو جو نیک لوگوں نے کیا تھا، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ ( قرآن ) میں ہو اور نہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اور نہ ہی نیک لوگوں کا کوئی فیصلہ ہو تو اگر تم چاہو تو آگے بڑھو ( اور اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرو ) اور اگر چاہو تو پیچھے رہو ( فیصلہ نہ کرو ) اور میں پیچھے رہنے ہی کو تمہارے حق میں بہتر سمجھتا ہوں۔ والسلام علیکم۔
Jam e Tirmazi
5
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ وَهَنَّادٌ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ قَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ وَقَدْ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى:‏‏‏‏ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبِيثِ أَوْ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَابْنِ مَسْعُودٍ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ، ‏‏‏‏‏‏رَوَى هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَعِيدٌ:‏‏‏‏ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ:‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ شُعْبَةُ،‏‏‏‏ وَمَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ شُعْبَةُ:‏‏‏‏ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ:‏‏‏‏ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَتَادَةُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا.
Anas bin Malik said: When the Prophet entered the toilet he would say: 'O Allah Indeed I seek refuge in You.' Shu'bah (one of the narrators) said: Another time he said: 'I seek refuge in You from AI-Khubthi and al-Khablth.' Or: 'Al-Khubthi and Al-Khaba'ith.'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے پاخانہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبيث أو الخبث والخبائث» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاکی سے اور ناپاک شخص سے، یا ناپاک جنوں سے اور ناپاک جنیوں سے“ ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: عبدالعزیز نے دوسری بار «اللهم إني أعوذ بك» کے بجائے «أعوذ بالله» کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، زید بن ارقم، جابر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے صحیح اور عمدہ ہے، ۳- زید بن ارقم کی سند میں اضطراب ہے، امام بخاری کہتے ہیں: کہ ہو سکتا ہے قتادہ نے اسے ( زید بن ارقم سے اور نضر بن انس عن أبیہ ) دونوں سے ایک ساتھ روایت کیا ہو۔
Jam e Tirmazi
173
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ:‏‏‏‏ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الصَّلَاةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى الْمَسْعُودِيُّ،‏‏‏‏ وَشُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَسُلَيْمَانُ هُوَ أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ هَذَا الْحَدِيثَ.
Abu Amr Ash-Shaibani narrated: A man said to Ibn Mas'ud: 'Which deed is most virtuous?' He said: 'I asked Allah's Messenger (that). He said: Salat at the beginning of its time. I asked him: What is after that O Messenger of Allah? He said: Being dutiful to one's parents. I said: What is after that [O Messenger of Allah]? He said: Jihad in the Way of Allah.
ابوعمرو شیبانی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا: کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا“۔ میں نے عرض کیا: اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا“، میں نے عرض کیا: ( اس کے بعد ) اور کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
405
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَتَكَلَّمُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏يُكَلِّمُ الرَّجُلُ مِنَّا صَاحِبَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى نَزَلَتْوَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا تَكَلَّمَ الرَّجُلُ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَاسِيًا أَعَادَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ إِذَا تَكَلَّمَ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَجْزَأَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيُّ.
Zaid bin Arqam narrated: We used to talk behind Allah's Messenger (S) during the Salat, a man among us would talk to his companions next to him until (the following) was revealed: And stand before Allah with obedience. (2:238) So we were ordered to be silent and prohibited from talking.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «‏وقوموا لله قانتين» ”اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو“ نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کر لے تو نماز دہرائے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہو جائے تو نماز کافی ہو گی، ۴- شافعی اسی کے قائل ہیں ۱؎۔