TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4664 - باب: پانی بیچنے کا بیان۔ - The book of financial transactions - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
باب: پانی بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عَطَاءٍ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ .
It was narrated from Jabir that: the Messenger of Allah forbade selling water.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
4664
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4660 In-book reference : Book 44, Hadith 212 English translation : Vol. 5, Book 44, Hadith 4664
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4660
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۲۳۹۹)، مسند احمد (۳/۳۵۶)، سنن الدارمی/البیوع ۶۹ (۲۶۵۴)، وانظر أیضا حدیث رقم: ۴۶۴۷
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : مراد نہر اور چشمے وغیرہ کا پانی جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو، اور اگر پانی پر کسی کا کسی طرح کا خرچ آیا ہو تو ایسے پانی کا بیچنا منع نہیں ہے، جیسے راستوں میں ٹھنڈا پانی، مینرل واٹر وغیرہ بیچنا۔

Related Chapters

335
1
Chapter: What Has Been Related About Selling Surplus Water
باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
CHAPTER: Regarding Selling Surplus Water.
باب: فاضل پانی کے بیچنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
پانی بیچنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
4
باب: فاضل پانی بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
(15)Chapter: [What Has Been Reported About] Istinja With Water
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
(21)Chapter: What Has Been Related About Al-Madmadah And AI-Istinshaq
باب: وضو اور غسل میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
(22)Chapter: Al-Madmadah And Istinshaq From One Handful
باب: ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
8
(27)Chapter: What Has Been Related About One Taking New Water For (Wiping) His Head
باب: سر کے مسح کے لیے نیا پانی لینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
9
(38)Chapter: [What Has Been Related] About An-Nadh After Wudu
باب: وضو کے بعد (شرمگاہ پر) پانی چھڑکنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(42)Chapter: On Wudu With A Mudd
باب: ایک مد پانی سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
(43)Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Be Wasteful With Water During Wudu
باب: وضو میں پانی کے بے جا استعمال کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
13
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
(49)Chapter: What Has Been Related About: Nothing Makes Water Impure
باب: پانی کو کوئی چیز نجس اور ناپاک نہیں کرتی
Jam e Tirmazi
15
(50)Chapter: Something Else For That
باب: پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
16
(51)Chapter: [What Has Been Related About] It Is Disliked Urinate In Stagnant Water
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
52)Chapter: What Has Been Related About Sea Water, That It Is Pure
باب: سمندر کے پانی کے پاک ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
(54)Chapter: [What Has Been Related] About Sprinkling Water On The Urine Of Young Boy Before (He reaches The Age That) He Eats Food
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑک لینا کافی ہے
Jam e Tirmazi
19
(92)Chapter: [What has Been Related] About Tayammum For The Junub Person When He Does Not Find Water
باب: پانی نہ پانے پر جنبی تیمم کر لے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Mentioned About The Amount Of Water That IS Acceptable For Wudu
باب: وضو میں کس قدر پانی کا فی ہے؟
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Take Excessive Amounts Of Water Into the Nose (Al-Istinshaq) When Fasting
باب: روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been related About The Sale Of A Mudabbar
باب: مدبر غلام کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Fruits Until They Began To Blossom
باب: پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھل کو بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Habalil-Habalah
باب: حمل کے حمل کو بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Wala' And To Confer It
باب: میراث ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Barter Animals For Animals On Credit
باب: جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About That Wheat Is To Be Exchanged For Wheat, Kind For Kind, And That An Increase In It Is Disliked
باب: گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچنے اور اس کے اندر کمی و بیشی کے درست نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Purchasing Date-Palms After Pollination And A Slave That Has Property
باب: پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت کو بیچنے کا اور ایسے غلام کو بیچنے کا بیان جس کے پاس مال ہو
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition For The Muslim To Give Wine To The Dhimmi When Bartering With Him
باب: مسلمان ذمی کو شراب بیچنے کے لیے دے یہ منع ہے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About When The Buyer And Seller Disagree
باب: بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدنے والے) کے اختلاف کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Selling Skins Of Dead Animals And Idols
باب: مردار کی کھالوں اور بتوں کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Case Of Two Men And One Of Them Lives Downstream From The Other
باب: ان دو آدمیوں کا بیان جن میں سے ایک کا کھیت دوسرے سے پانی کے نشیب میں ہو
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About One Who Shoots Some Game, Then He Finds It Dead In The Water
باب: شکاری شکار پر تیر چلائے پھر اسے پانی میں مردہ پائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Increasing (The Water In) The Broth
باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: پانی سے بخار کو ٹھنڈا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What has been Related About The Prohibition From Selling The Wala' And From Conferring it
باب: ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
[7] بَاب الْمِيَاه
پانی کے احکام کا بیان
Mishkat
40
بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب
بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان
Mishkat
41
سمندر اور کنویں کے پانی کے طاہر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
پانی نہ ہونے کی صورت میں نبیذ سے طہارت حاصل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
43
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
44
جس پانی سے وضو کیا جائے، اس کی طہارت کا بیان
Musnad Ahmad
45
ایک طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مزید طہارت کرنے کی نہی کا بیان
Musnad Ahmad
46
طاہر اور خارجی چیز کے ملنے کی وجہ سے بدل جانے والے پانی کا حکم
Musnad Ahmad
47
اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل
Musnad Ahmad
48
اس پانی کا حکم جس پر چوپائے اور درندے بھی آتے ہوں اور دو قُلّوں والی حدیث کی تفصیل
Musnad Ahmad
49
ساکن پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو یا غسل کرنے کا حکم
Musnad Ahmad
50
استنجاء کے بعد شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے مارنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

23
Sunnan Ibn e Maja
3341
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَيُّوبَ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدِدْتُ لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةٍ بِسَمْنٍ نَأْكُلُهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا السَّمْنُ؟ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فِي عُكَّةِ ضَبٍّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ.
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “One day, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I wish that we had some white bread made of brown wheat, softened with ghee, that we could eat.’ A man from among the Ansar heard that, so he took some (of that food) and brought it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Where was this ghee kept?’ He said: ‘In a container made of mastigure skin.’ And he refused to eat it.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔
Sahih Muslim
6316
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا» قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا، قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لِأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَصَدَّقُ
A'isha, the Mother of the Faithful, reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: One who has the longest hands amongst you would meet me most immediately. She farther said: They (the wives of Allah's Apostle) used to measure the hands as to whose hand was the longest and it was the hand of Zainab that was the longest amongst them, as she used to work with her hand and Spend (that income) on charity.
عائشہ بنت طلحہ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" تم میں سب سے جلدی میرے ساتھ آملنے والی ( میری وہ اہلیہ ہوگی جو ) تم میں سب سے لمبے ہاتھوں والی ہے ۔ "" انھوں نے کہا : ہم لمبائی ناپا کرتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں ۔ انھوں نے کہا : اصل میں زینب ہم سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی تھیں کیونکہ وہ ا پنے ہاتھوں سے کام کرتیں اور ( اس کی اجرت ) صدقہ کرتی تھیں ۔
Sunnan Abu Dawood
1156
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا نَخْطُبُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ هَذَا مُرْسَلٌ عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Abdullah ibn as-Saib: I attended the Eid prayer along with the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. When he finished the prayer, he said: We shall deliver the sermon; he who likes to sit for listening to it may sit and he who likes to go away may go away. Abu Dawud said: this is a mursal tradition (i. e. the successor Ata directly reporting from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and omitting the link of the Companions).
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ہم خطبہ دیں گے تو جو شخص خطبہ سننے کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے اور جو جانا چاہے جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، عطا نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
867
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانُوا يَعُدُّونَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَفْضَلَ مِنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِعَبْدِ اللَّهِ أَخٌ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَيْضًا.
Ayyub As-Sakhtiyani said: We considered Abdullah bin Sa'eed bin Jubair to be better than his father, and he had a brother named Abdul-Malik bin Sa'eed bin Jubair who also reported from him.
ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1234
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ سَلَفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَوْفٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ.
Narrated Ayyub: 'Amr bin Shu'aib narrated to us, saying: My father narrated to me from his father' until he mentioned 'Abdullah bin 'Amr: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is not lawful to lend and sell, nor two conditions in a sale, nor to profit from what is not possessed, nor to sell what one does not have.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Hakim bin Hizam is a Hasan Hadith, it has been reported from him through other routes. Ayyub As-Sakhtiyani and Abu Bishr report from Yusuf bin Mahak, from Hakim bin Hizam. [Abu 'Eisa said:] 'Awf and Hisham bin Hassan reported this Hadith from Ibn Sirin, from Hakim bin Hizam from the Prophet (ﷺ). And this is a Mursal Hadith. Ibn Sirin only reported it from Ayyub As-Sikhtiyani from Yusuf bin Mahak, from Hakim bin Hizam like this.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیع کے ساتھ قرض جائز نہیں ہے ۱؎، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں ۲؎ اور نہ ایسی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے جس کا وہ ضامن نہ ہو ۳؎ اور نہ ایسی چیز کی بیع جائز ہے جو تمہارے پاس نہ ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حکیم بن حزام کی حدیث حسن ہے ( ۱۲۳۲، ۱۲۳۳ ) ، یہ ان سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔ اور ایوب سختیانی اور ابوبشر نے اسے یوسف بن ماہک سے اور یوسف نے حکیم بن حزام سے روایت کیا ہے۔ اور عوف اور ہشام بن حسان نے اس حدیث کو ابن سیرین سے اور ابن سیرین نے حکیم بن حزام سے اور حکیم بن حزام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث ( روایت ) مرسل ( منقطع ) ہے۔ اسے ( اصلاً ) ابن سیرین نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے یوسف بن ماہک سے اور یوسف بن ماہک نے حکیم بن حزام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1531
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي،‏‏‏‏ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَيُّوبَ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ شَاءَ اللَّهُ،‏‏‏‏ فَقَدِ اسْتَثْنَى،‏‏‏‏ فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ،‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ وَغَيْرُهُ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ مَوْقُوفًا،‏‏‏‏ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَالِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ مَوْقُوفًا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ،‏‏‏‏ وقَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ:‏‏‏‏ وَكَانَ أَيُّوبُ أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ،‏‏‏‏ وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ،‏‏‏‏ أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ إِذَا كَانَ مَوْصُولًا بِالْيَمِينِ،‏‏‏‏ فَلَا حِنْثَ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَالْأَوْزَاعِيِّ،‏‏‏‏ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيِّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق.
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever swears about an oath and says: 'If Allah wills (Insha Allah), then there is no breaking of the oath against him.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور ساتھ ہی ان شاءاللہ کہا، تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو عبیداللہ بن عمرو وغیرہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے موقوفا روایت کیا ہے، اسی طرح اس حدیث کو سالم بن علیہ نے ابن عمر رضی الله عنہما سے موقوفاً روایت کی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ایوب سختیانی کے سوا کسی اور نے بھی اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، اسماعیل بن ابراہیم کہتے ہیں: ایوب اس کو کبھی مرفوعاً روایت کرتے تھے اور کبھی مرفوعاً نہیں روایت کرتے تھے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جب قسم کے ساتھ «إن شاء اللہ» کا جملہ ملا ہو تو اس قسم کو توڑنے کا کفارہ نہیں ہے، سفیان ثوری، اوزاعی، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
2655
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْهُنَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا لِغَيْرِ اللَّهِ أَوْ أَرَادَ بِهِ غَيْرَ اللَّهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن جَابِرٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Ibn 'Umar: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever learns knowledge for other than (the sake of) Allah, or intends by it other than Allah, then let him take his seat in the Fire.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم کو غیر اللہ کے لیے سیکھا یا وہ اس علم کے ذریعہ اللہ کی رضا کے بجائے کچھ اور حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسا شخص اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے ایوب کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
Sahih Muslim
1508
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ، تَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ، وَأَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The angels invoke blessings on everyone among you so long as he is in a place of worship with these words: O Allah! pardon him, O Allah, have mercy upon him, (and they continue to do so) as long as, he ablution (of the worshipper) is not broken, and one among you is in prayer and so long as he is detained for the prayer.
ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ‘ ‘ تم میں سے کوئی شخص جب تک اپنی ( نماز پڑھنے کی ) جگہ پر بیٹھا رہتا ہے ، فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں ، کہتے ہیں : اے اللہ! اسے بخش دے! اے اللہ اس پر رحم فرما! جب تک وہ بے وضو نہیں ہوتا ، نیز جب تک تم میں سے کسی شخض کو نماز روکے رکھتی ہے ، وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔ ’’
Sahih Muslim
3232
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ، فَقَالَ: «ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ»، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ، فَقَالَ: وَاللهِ، لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي، قَالَ: فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
lbn Umar (Allah be pleased with them) reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came daring the year of Victory on the she-camel of Usama b. Zaid until he made her kneel down in the courtyard of the Ka'ba (and got down). He then sent for 'Uthman b. Talha and said: Bring me the key. He went to his mother and she refused to give that to him. He said: By Allah, give that to him or this sword would be thrust into my side. So she gave that to him, and he came with that to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and gave that to him, and he opened the door. The rest of the hadith is the same as the above one.
سفیان نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی انھون نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اونٹنی پر ( سوار ہو کر ) تشر یف لا ئے یہاں تک کہ آپ نے اسے کعبہ کے صحن میں لا بٹھا یا پھر عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا اور کہا : مجھے ( بیت اللہ کی ) چابی دو وہ اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے انھیں چا بی دینے سے انکا ر کر دیا انھوں نے کہا یا تو تم یہ چا بی مجھے دوگی یا پھر یہ تلوار میری پیٹھ سے پار نکل جا ئے گی ، کہا تو اس نے وہ چابی انھیں دے دی وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چا بی انھی کو دے دی تو انھوں ( ہی ) نے دروازہ کھو لا پھر حماد بن زید کی حدیث کے مانند بیان کی ۔