TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5034 - باب: مال غنیمت کا پانچواں حصہ (خمس) رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو لا کر دینے کا بیان۔ - The book of faith and its signs - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
باب: مال غنیمت کا پانچواں حصہ (خمس) رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو لا کر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ عَبَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ،‏‏‏‏ فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ:‏‏‏‏ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَيَّ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَنْتَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُقَيَّرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The delegation of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah [SAW] and said: 'We are a group of people from (the tribe of) Rabi'ah, and we can only reach you during the sacred month. Tell us something that we can take from you and to which we may call those who are behind us.' He said: 'I command you to do four things and I forbid you from four: Faith in Allah'- and he explained that to them- 'bearing witness that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, paying Zakah, and giving me one-fifth (the Khumus) of the spoils of war you acquire. And I forbid you from Ad-Dubba', Al-Hantam, Al-Muqayyir, and Al-Muzaffat.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی عبدقیس کا وفد آیا، تو ان لوگوں بت کہا: ہم لوگ قبیلہ ربیعہ سے ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں کے علاوہ کبھی نہیں آ سکتے تو آپ ہمیں کچھ باتوں کا حکم دیجئیے جو ہم آپ سے سیکھیں اور جو ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں اسے ان تک پہنچا سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: اللہ پر ایمان -پھر آپ نے اس کی تشریح کی کہ ایک تو گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں - دوسرے نماز قائم کرنا، تیسرے زکاۃ کی ادائیگی، چوتھے یہ کہ مال غنیمت کا پانچواں ( خمس ) مجھے لا کر دینا، اور میں تمہیں روکتا ہوں: ( تمبی ) کدو کے بنے پیالے، لاکھی ( سبز رنگ ) کے برتنوں، لکڑی کے برتنوں اور تار کول ملے ہوئے برتنوں کے استعمال سے“ ۱؎۔
5034
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 5031 In-book reference : Book 47, Hadith 47 English translation : Vol. 6, Book 47, Hadith 5034
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5031
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان ۴۰ (۵۳)، العلم ۲۵ (۱۸۷)، المواقیت ۲ (۵۲۳)، الزکاة ۱(۱۳۹۸)، الخمس ۲ (۳۰۹۵)، المناقب ۵ (۳۵۱۰)، المغازي ۶۹ (۴۳۶۹)، الأدب ۹۸ (۶۱۷۶)، خبرالواحد ۵ (۷۲۶۶)، التوحید ۵۶ (۷۵۵۶)، صحیح مسلم/الإیمان ۶ (۱۷)، الأشربة ۶ (۱۷)، سنن ابی داود/الأشربة ۷ (۳۶۹۲)، سنن الترمذی/السیر ۳۹ (۱۵۹۹) (مایتعلق بالخمس فحسب) الإیمان ۵ (۲۶۱۱) (مختصرا)، (تحفة الأشراف: ۶۵۲۴)، مسند احمد (۱/۱۲۸، ۲۹۱، ۳۰۴، ۳۳۴، ۳۴۰، ۳۵۲، ۳۶۱ ویأتی عند المؤلف فی الأشربة بأرقام ۵۶۹۵)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : حدیث میں وارد الفاظ میں دباء، حنتم، مزفت، نقیر، مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا تاکہ لوگ شراب سے بالکل دور ہو جائیں اور اس حرام چیز کو اپنی زندگی سے مکمل طور پر خارج کر دیں، یہ حکم سد باب کے طور پر تھا، جب مسلمان اس وبا سے دور ہو گئے تو ان برتنوں کے استعمال کی اجازت ہو گئی، بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے «كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء» اس حدیث کی رو سے اب سابقہ نہی کا حکم منسوخ ہو گیا۔

Related Chapters

416
1
CHAPTER: Regarding Allocating A Special Portion For The Messenger Of Allah (saws) From Wealth.
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (S) Saying: I Hear The Crying Of A Small Boy During Salat and Shorten It
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What has been Related That The Prophet (s.a.w) did not Leave A Will
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے (کوئی مالی) وصیت نہیں کی
Jam e Tirmazi
4
Chapter: Regarding The Prophet (s.a.w) Encouraging Gifts
باب: ہدیہ دینے پر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
5
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
6
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
7
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بیت اللہ کے اندر جانے کے لیے چابی بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں طلب کرنے اور بیت اللہ کے اندر موجود بتوں کے ساتھ آپ کا سلوک اور بیت اللہ کو بتوں سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
8
فتح مکہ کے بعد مکہ پر چڑھائی کرنے کے حرام ہونے اور اس بارے میں رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے خطبہ کا بیان
Musnad Ahmad
9
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
11
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے گھر کی طرف نقل مکانی تاکہ وہیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کی جائے نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نماز کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو خلیفہ بنانا
Musnad Ahmad
12
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غسل دینے کا بیان
Musnad Ahmad
13
اس امر کا بیان کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
Musnad Ahmad
14
سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
(8) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h): “Booty has been made legal for you Muslims”.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تمہارے لئے غنیمت کے مال حلال کئے گئے
Sahih Bukhari
16
Chapter: The Prophet (saws) wrote to Heraclius, the ruler of Syria, inviting him to Islam
شام کےباد شاہ ہرقل کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا نامئہ مبارک
Sahih Muslim
17
Chapter: The Prophet (saws) wrote to the Kings of the Kuffar, inviting them to Islam
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے کافروں کے باد شاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھ بھیجے
Sahih Muslim
18
Chapter: The words of the prophets saws: Deeds are but with intentions which includes fighting and other deeds
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ’’تمام اعمال کا مدار نیت پر ہے اور اس میں جہاد اور دیگر اعمال بھی ہیں
Sahih Muslim
19
Chapter: Poison
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) زہردینے کا واقعہ
Sahih Muslim
20
CHAPTER: The Special Portion (As-Safi) Of The Prophet (saws) That Was taken From The Spoils Of War.
باب: خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
باب: نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے والے کے حکم کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
(16)Chapter: What Has Been Related That When The Prophet Wanted To Relieve Himself, He Would Go Far Away
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
23
(37)Chapter: [What Has Been Related] About The Wudu Of he Prophet: How Was It Performed?
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟​
Jam e Tirmazi
24
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Prescribed Times for Salat From The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول اوقات نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related That The Prophet (saws) Would Not Raise His Hands Except For The First Time
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Night Prayer Of The Prophet (S)
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تہجد کی کیفیت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Description of As-Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sending Salat Upon The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About the Prophet Going To The Eid By One Route, And Returning By Another
باب: عید کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: How The Prophet Performed Voluntary Prayers During The Day
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دن میں نفل نماز کیسی ہوتی تھی؟
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What has been mentioned about the Prophet (saws) performing Mas-h after the revelation of (Surat) Al-Ma'idah
باب: سورہ مائدہ کے نزول کے بعد بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For The Prophet, His Household, and His Mawali To Accept Charity
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About How Many Times The Prophet Performed Haj
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے حج کئے؟
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About How Many Times The Prophet Performed Umrah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Which Location The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کس جگہ سے احرام باندھا؟
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About When The Prophet Assumed Ihram
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے احرام کب باندھا؟
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Prophet Entering Makkah From Its Higher Side, and Leaving From Its Lower Side
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مکہ میں بلندی کی طرف
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Prophet Entering Makkah During The Day
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا مکہ میں دن کے وقت داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About The Prophet While Performed Tawaf Mudtabi'an
باب: احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کر کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Performing Umrah From Al-Jiranah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے عمرہ جعرانہ کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Umrah During Dhul-Qa'dah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ذی قعدہ والے عمرے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About How Many Shrouds Were Used For The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے کفن کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Prophet Performing Salat For (The Death Of) An-Najashi
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What has been related about the saying of the Prophet (saws): The Lahd is for us and the Hole is for other than us
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد ”بغلی ہمارے لیے ہے اور صندوقی اوروں کے لیے“ کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Those Who Deal In Trade And What The Prophet (S) Called Them
باب: تاجروں کا ذکر اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ان کے نام رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About How The Prophet (saws) Would Swear
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

24
Sahih Muslim
115
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا، وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ، وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانِ بِاللهِ ، ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ، فَقَالَ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنَّ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ» زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ»، وَعَقَدَ وَاحِدَةً
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that a delegation of Abdul Qais came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Messenger of Allah, verily ours is a tribe of Rabi'a and there stand between you and us the unbelievers of Mudar and we find no freedom to come to you except in the sacred month. Direct us to an act which we should ourselves perform and invite those who live beside us. Upon this the Prophet remarked: I command you to do four things and prohibit you against four acts. (The four deeds which you are commanded to do are): Faith in Allah, and then he explained it for them and said: Testifying the fact. that there is no god but Allah, that Muhammad is the messenger of Allah, performance of prayer, payment of Zakat, that you pay Khums (one-fifth) of the booty fallen to your lot, and I prohibit you to use round gourd, wine jars, wooden pots or skins for wine. Khalaf b. Hisham has made this addition in his narration: Testifying the fact that there is no god but Allah, and then he with his finger pointed out the oneness of the Lord.
خلف بن ہشام نے بیان کیا ( کہا ) ہمیں حماد بن زید نے ابو جمرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ( الفاظ انہی کے ہیں ) ہمیں عباد بن عباد نے ابو جمرہ سے خبر دی کہ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہﷺ کی خدمت میں عبدالقیس کا وفد آیا ۔ وہ ( لوگ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ ( یعنی ) بنو ربیعہ کا یہ قبیلہ ہے ۔ ہمارے اور آپ کے درمیان ( قبیلہ ) مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینے کے سوا بحفاظت آپ تک نہیں پہنچ سکتے ، لہٰذا آپ ہمیں وہ حکم دیجیے جس پر خود بھی عمل کریں اور جو پیچھے ہیں ان کو بھی اس کی دعوت دیں ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں : ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ ہیں : ) ’’اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ‘ ‘ پھر آپ نے ان کے سامنے ایمان باللہ کی وضاحت کی ، فرمایا : ’’ اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ بالیقین اللہ کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کرنا ، زکاۃ ادا کرنا اور جومال غنیمت تمہیں حاصل ہو ، اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) ادا کرنا ۔ اور میں تمہیں روکتا ہوں کدو کے برتن ، سبز گھڑے ، لکڑی کے اندر سے کھود کر ( بنائے ہوئے ) برتن اور ا یسے برتنوں کے استعمال سے جن پر تارکول ملا گیا ہو ۔ ‘ ‘ خلف نےاپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ’’ اس ( سچائی ) کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ ‘ ‘ اسے انہوں نےانگلی کے اشارے سے ایک شمار کیا ۔
Sunnan Abu Dawood
3692
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَقَالَ مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ:‏‏‏‏ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُسَدَّدٌ:‏‏‏‏ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْهَاكُمْ عَنْ:‏‏‏‏ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَنْتَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُقَيَّرِ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ:‏‏‏‏ النَّقِيرُ:‏‏‏‏ مَكَانَ الْمُقَيَّرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُسَدَّدٌ:‏‏‏‏ وَالنَّقِيرُ وَالْمُقَيَّرُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.
Ibn Abbas said: The deputation of Abd al-Qais came to Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم and said: This is the tribe of Rabiah, and the infidels of Mudar are between us and you. We are able to come to you only in the sacred month. So give a decisive command which we may follow ourselves and to which we call those at home behind us. He (the Prophet) said: I command you to observe four things, and forbade you four things: Belief in Allah. the testimony that there is no god but Allah, and he expresses one by folding his hand. Musadad's version has: Faith in Allah, and he explained to them: The testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah, observance of prayer, payment of zakat, and your giving the filth of the booty. I forbid you the use of pumpkins, green jarrs, vessels smeared with pitch, and hollow stumps of palm-trees. Ibn Ubaid's version has word muqayyar (vessels smeared with pitch) instead of naqir (hollow stumps). Musaddad's version has naqir and muqayyar (pitch); he did not mention muzaffat (vessels smeared with pitch). Abu Dawud said: The name of Abu Jamrah is Nasr bin Imran al-Duba'i.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ۱؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ( جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں ) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب ) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں ۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔
Sunnan Nisai
5695
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ وَهُوَ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قُرَّةُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ إِنَّ جَدَّةً لِي تَنْبِذُ نَبِيذًا فِي جَرٍّ أَشْرَبُهُ حُلْوًا،‏‏‏‏ إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ لَيْسَ بِالْخَزَايَا،‏‏‏‏ وَلَا النَّادِمِينَ ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ،‏‏‏‏ وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ،‏‏‏‏ فَحَدِّثْنَا بِأَمْرٍ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ،‏‏‏‏ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ،‏‏‏‏ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ:‏‏‏‏ آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ،‏‏‏‏ وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ،‏‏‏‏ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ،‏‏‏‏ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ،‏‏‏‏ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ:‏‏‏‏ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ،‏‏‏‏ وَالنَّقِيرِ،‏‏‏‏ وَالْحَنْتَمِ،‏‏‏‏ وَالْمُزَفَّتِ .
Abu Hamzah Nasr said: I said to Ibn 'Abbas that my grandmother makes Nabidh in an earthenware jar and it is sweet. If I drink a lot of it and sit with people, I am worried that they will find out. He said: 'The delegation of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah [SAW] and he said: Welcome to a delegation that is not disgraced or filled with regret. They said: O Messenger of Allah, the idolators are between us and you, and we can only reach you during the sacred months. Tell us of something which, if we do it, we will enter Paradise, and we can tell it to those whom we left behind. He said: I will enjoin three things upon you, and forbid four things to you. I order you to have faith in Allah, and do you know what faith in Allah is? They said: Allah and His Messenger know best. He said: (It means) testifying that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, paying Zakah and giving one-fifth (the Khums) of the spoils of war. And I forbid four things to you: That which is soaked in Ad-Dubba', An-Naqir, Al-Hantam, and Al-Muzaffat.'
ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہو جائے، وہ بولے: عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ“، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار و مشرکین حائل ہیں، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ایسی بات بتا دیجئیے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہوں۔ اور ہمارے پیچھے جو لوگ ( گھروں پر ) رہ گئے ہیں، انہیں اس کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو؟ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟“ وہ لوگ بولے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، اور غنیمت کے مال میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) ادا کرنا، اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں: کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، لاکھی اور روغنی برتن میں تیار کی گئی نبیذ سے“۔
Sahih Muslim
116
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ أَبُو بَكْرِ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَيِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ الْوَفْدُ؟ أَوْ مَنِ الْقَوْمُ؟»، قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ، أَوْ بِالْوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا، وَلَا النَّدَامَى»، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، قَالَ: «أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللهِ وَحْدَهُ»، وَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللهِ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنَّ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنَ الْمَغْنَمِ»، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ - قَالَ شُعْبَةُ: وَرُبَّمَا قَالَ - النَّقِيرِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَرُبَّمَا قَالَ: الْمُقَيَّرِ، وَقَالَ: «احْفَظُوهُ، وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِكُمْ» وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: «مَنْ وَرَاءَكُمْ»، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرُ.
Abu Jamra reported: I was an interpreter between Ibn Abbas and the people, that a woman happened to come there and asked about nabidh or the pitcher of wine. He replied: A delegation of the people of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He (the Holy Prophet) asked the delegation or the people (of the delegation about their identity). They replied that they belonged to the tribe of Rabi'a. He (the Holy Prophet) welcomed the people or the delegation which were neither humiliated nor put to shame. They (the members of the delegation) said: Messenger of Allah, we come to you from a far-off distance and there lives between you and us a tribe of the unbelievers of Mudar and, therefore, it is not possible for us to come to you except in the sacred months. Thus direct us to a clear command, about which we should inform people beside us and by which we may enter heaven. He (the Holy Prophet) replied: I command you to do four deeds and forbid you to do four (acts), and added: I direct you to affirm belief in Allah alone, and then asked them: Do you know what belief in Allah really implies? They said: Allah and His Messenger know best. The Prophet said: It implies testimony to the fact that there is no god but Allah, and that Muhammad is the messenger of Allah, establishment of prayer, payment of Zakat, fast of Ramadan, that you pay one-fifth of the booty (fallen to your lot) and I forbid you to use gourd, wine jar, or a receptacle for wine. Shu'ba sometimes narrated the word naqir (wooden pot) and sometimes narrated it as muqayyar. The Prophet also said: Keep it in your mind and inform those who have been left behind.
شعبہ نے ابو جمرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور ( دوسرے ) لوگوں کے درمیان ترجمان تھا ، ان کے پاس ایک عورت آئی ، وہ ان سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کر رہی تھی توحضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عبد القیس کا وفد آیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ’’یہ کون سا وفد ہے ؟ ( یا فرمایا : یہ کو ن لوگ ہیں ؟ ) ‘ ‘ انہوں نے کہا : ربیعہ ( قبیلہ سے ہیں ۔ ) فرمایا : ’’ اس قوم ( یا وفد ) کو خوش آمدید جو رسوا ہوئے نہ نادم ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا ، ان لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کےرسول ! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آتے ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا یہ قبیلہ ( حائل ) ہے ، ہم ( کسی ) حرمت والے مہینے کے سوا آپ کے پاس نہیں آ سکتے ، آپ ہمیں فیصلہ کن بات بتائیے جو ہم اپنے ( گھروں میں ) پیچھے لوگوں کو ( بھی ) بتائیں اور اس کے ذریعے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں ۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : آپ نے ان چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزیں سے روکا ۔ آپ نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا کا حکم دیا اور پوچھا : ’’جانتے ہو ، صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکاۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے اس کا پانچواں حصہ ادا کرو ۔ ‘ ‘ اور انہیں خشک کدو سے بنائے ہوئے برتن ، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن ( استعمال کرنے ) سے منع کیا ( شعبہ نے کہا : ) ابو جمرہ نے شاید نقیر ( لکڑی میں کھدائی کر کے بنایا ہوا برتن کہا یا شاید مقیر ( تارکول ملا ہوا برتن ) کہا ۔ اور آپ نے فرمایا : ’’ان کو خوب یاد رکھو اور اپنے پیچھے ( والوں کو ) بتا دو ۔ ‘ ‘ ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ( من ورائکم کے بجائے ) من وراءکم ( ان کو ( بتاؤ ) جو تمہارے پیچھے ہیں ) کے الفاظ ہیں اور ان کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں ( بلکہ نقیر کا ہے ۔ )
Sahih Muslim
118
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ سَعِيدٌ: وَذَكَرَ قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ هَذَا: أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: اعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، وَصُومُوا رَمَضَانَ، وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ؟ قَالَ: بَلَى، جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ، فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ - قَالَ سَعِيدٌ: أَوْ قَالَ: مِنَ التَّمْرِ - ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا سَكَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَكُمْ، أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ كَذَلِكَ قَالَ، وَكُنْتُ أَخْبَؤُهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «فِي أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَرْضَنَا كَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ، وَلَا تَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ، وَإِنْ أَكَلَتْهَا الْجِرْذَانُ» قَالَ: وَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ
It is reported on the authority of Qatada that one among the delegates of the 'Abdul-Qais tribe narrated this tradition to him. Sa'id said that Qatada had mentioned the name of Abu Nadra on the authority of Abu Sa'id Khudri who narrated this tradition: That people from the- tribe of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Messenger of Allah, we belong to the tribe of Rabi'a and there live between you and us the unbelievers of the Mudar tribe and we find it impossible to come to you except in the sacred months; direct us to a deed which we must communicate to those who have been left behind us and by doing which we may enter heaven. Upon this the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I enjoin upon you four (things) and forbid you to do four (things): worship Allah and associate none with Him, establish prayer, pay Zakat, and observe the fast of Ramadan, and pay the fifth part out of the booty. And I prohibit you from four (things): dry gourds, green-coloured jars, hollowed stumps of palm-trees, and receptacles. They (the members of the delegation) said: Do you know what al-naqir is? He replied: Yes, it is a stump which you hollow out and in which you throw small dates. Sa'id said: He (the Holy Prophet) used the word tamar (dates). (The Prophet then added): Then you sprinkle water over it and when its ebullition subsides, you drink it (and you are so intoxicated) that one amongst you, or one amongst them (the other members of your tribe, who were not present there) strikes his cousin with the sword. He (the narrator) said: There was a man amongst us who had sustained injury on this very account due to (intoxication), and he told that he tried to conceal it out of shame from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). I, however, inquired from the Messenger of Allah (it we discard those utensils which you have forbidden us to use), then what type of vessels should be used for drink? He (the Holy Prophet) replied: In the waterskin the mouths of which are tied (with a string). They (again) said: Prophet of Allah, our land abounds in rats and water-skins cannot remain preserved. The holy Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (Drink in water-skins) even if these arenibbled by rats. And then (addressing) al-Ashajj of 'Abdul-Qais he said: Verily, you possess two such qualities which Allah loves: insight and deliberateness.
( اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : مجھے اس شخص نے بتایا جو رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والے عبد القیس کے وفد سے ملے تھا ( سعید نےکہا : قتادہ نے ابو نضرہ کا نام لیا تھا یہ وفد سے ملے تھے ، اور تفصیل حضرت ابو سعید سے سن کر بیان کی ) انہوں نےحضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے یہ روایت کی کہ عبد القیس کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم ربیعہ کے لوگ ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتے ، اس لیے آپ ہمیں وہ حکم دیجیے جو ہم اپنے پچھلوں کو بتائیں اور اگر اس پر عمل کر لیں تو ہم ( سب ) جنت میں داخل ہو جائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہ و : ( حکم دیتا ہوں کہ ) اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز کی پابندی کرو ، زکاۃ دیتے رہو ، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو ۔ اور چار چیزیں سے میں تمہیں روکتا ہوں : خشک کدو کے برتن سے ، سبز مٹکے سے ، ایسے برتن سے جس کو روغن زفت ( تارکول ) لگایا گیا ہو اور نقیر ( لکڑی کے تراشے ہوئے برتن ) سے ۔ ‘ ‘ ان لوگوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! آپ کو نقیر کے بارے میں کیا علم ہے ؟ فرمایا : ’’کیوں نہیں ! ( یہ ) تنا ہے ، تم اسے اندر سے کھوکھلا کرتے ہو ، اس میں ملی جلی چھوٹی کھجوریں ڈالتے ہو ) پھر اس میں پانی ڈالتے ہو ، پھر جب اس کا جوش ( خمیر اٹھنے کے بعد کا جھاگ ) ختم ہو جاتا ہے تواسے پی لیتے ہو یہاں تک کہ تم میں سے ایک ( یا ان میں ایک ) اپنے چچازاد کو تلوار کا نشانہ بناتا ہے ۔ ‘ ‘ ابو سعید نے کہا : لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کو اسی طرح ایک زخم لگا تھا ۔ اس نے کہا : میں شرم و حیا کی بنا پر اسے رسول اللہ ﷺ سے چھپا رہا تھا ، پھر میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! تو ہم کس پیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ’’چمڑے کی ان مشکوں میں پیو جن کے منہ ( دھاگے وغیرہ سے ) باندھ دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘ اہل وفد بولے : اے اللہ کے رسول ! ہماری زمین میں چوہے بہت ہیں ، وہاں چمڑے کے مشکیزے نہیں بچ پاتے ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’چاہے انہیں چوہے کھا جائیں ، چاہے انہیں چوہے کھا جائیں ، چاہے انہیں کھا جائیں ۔ ‘ ‘ کہا : ( پھر ) رسول اللہ ﷺ نے عبد القیس کے اس شخص سے جس کے چہرے پر زخم تھا ، فرمایا : ’’تمہارے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے : عقل اور تحمل ۔ ‘ ‘
Sunnan Abu Dawood
3693
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ:‏‏‏‏ أَنْهَاكُمْ عَنْ النَّقِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُقَيَّرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَنْتَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ .
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said to the deputation of Abd al-Qais: I forbid you the use of hollow stumps, vessels smeared with pitch, green harrs, pumpkins, and a skin cut off at the top, but drink from your skin and tie it with string.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو ۔
Musnad Ahmad
9617
۔ (۹۶۱۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: اِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِیْعَۃَ، وَبَیْنَنَا وَبَیْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَسْتَطِیْعُ اَنْ نَأْتِیَکَ اِلَّا فِیْ اَشْھُرِ الْحُرُمِ، فَمُرْنَا بِاَمْرٍ اِذَا نَحْنُ اَخَذْنَا بِہٖدَخَلْنَاالْجَنَّۃَ، وَنَاْمُرُ بِہٖاَوْنَدْعُوْمَنَوَرَائَنَا،فَقَالَ: ((آمُرُکُمْبِاَرْبَعٍ،وَاَنْھَاکُمْعَنْاَرْبَعٍ،اُعْبُدُوْااللّٰہَوَلَاتُشْرِکُوْابِہٖشَیْئًا فَھٰذَا لَیْسَ مِنْ الْاَرْبَعِ، وَاَقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ، وَآتَوُا الزَّکَاۃَ، وَصُوْمُوْا رَمَضَانَ، وَاَعْطُوْا مِنَ الْغَنَائِمِ الْخُمُسَ، وَاَنْھَاکُمْ عَنْ اَرْبَعٍِ، عَنِ الدُّبَّائِ، وَالنَّقِیْرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ۔)) قَالُوْا: وَمَا عِلْمُکَ بِالنَّقِیْرِ؟ قَالَ: ((جِذْعٌ یُنْقَرُ ثُمَّ یُلْقُوْنَ فِیْہِ الْقُطَیْعَائَ اَوِ التَّمْرَ وَالْمَائَ، حَتّٰی اِذَا سَکَنَ غَلَیَانُہُ شَرِبْتُمُوُہُ، حَتّٰی اَنَّ اَحَدَکُمْ لَیَضْرِبُ ابْنَ عَمِّہِ بِالسَّیْفِ۔)) وَفِیْ الْقُوْمِ رَجُلٌ اَصَابَتْہُ جَرَاحَۃٌ مِنْ ذٰلِکَ، فَجَعَلْتُ اُخَبِّؤُھَا حَیَائً مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالُوْا: فَمَا تَاْمُرُنَا اَنْ نَشْرَبَ؟ قَالَ: ((فِیْ الْاَسْقِیَۃِ الَّتِیْیُلاثُ عَلٰی اَفْوَاھِھَا۔)) قَالَ: اِنَّ اَرْضَنَا اَرْضٌ کَثِیْرَۃُ الْجُرْذَانِ لَاتَبْقٰی فِیْھَا اَسْقِیَۃُ الْاَدَمِ، قَالَ: ((وَاِنْ اَکَلَتْہُ الُجُرْذَانُ۔)) مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلَاثًا، وَقَالَ لِاَشَجِّ عَبْدِ الْقَیْسِ: ((اِنَّ فِیْکَ خُلَّتَیْنِیُحِبُّھُمَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ الْحِلْمُ وَالْأَنَاۃُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۹۳)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب عبدالقیس کا وفد، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا توکہا: ربیعہ قبیلے سے ہمارا تعلق ہے، آپ کے اور ہمارے مابین مضر قبیلے کے کفار حائل ہیں، ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں آ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں کوئی (ایسا جامع) حکم دیں کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تمھیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، یہ چار امور میں سے نہیںہے، اورنماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو اور میں تمھیں کدو کے برتن، لکڑی سے بنائے ہوئے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور ہرے رنگ کے گھڑے سے منع کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: نَقِیْر کے بارے آپ کیا جانتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تنے کو کھود کر یہ برتن بنایا جاتا ہے، پھر لوگ اس میں شہریز کھجوریںیا عام کھجوریں اور پانی ڈالتے ہیں، جب اس کے جوش میں ٹھیراؤ پیدا ہوتا ہے تو پھر تم پیتے ہو (اور نشہ چڑھتا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے چچا زاد بھائی کو تلوار کے ساتھ قتل کر دیتاہے۔ ان لوگوں میں ایک آدمی ایسا تھا، جو اسی وجہ سے زخمی ہوا تھا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شرماتے ہوئے اس کو چھپانے لگ گیا۔ ان لوگوں نے کہا: تو پھر آپ ہمیں کن برتنوںمیں پینے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان مشکیزوں میں، جن کے منہوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے علاقے میں چوہے بہت زیادہ ہیں، اس وجہ سے چمڑے کا تو کوئی مشکیزہ بچتا ہی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ اس کو چوہے کھا جائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات دو تین بار ارشاد فرمائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عبد القیس کے ایک فرد سیدنا اشج (منذر بن عائذ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آدمی سے کہا: تجھ میں دو خصلتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے، ایک عقل اور بردباری اور دوسری وقار و تمکنت اور جلدی نہ کرنا۔
Sahih Muslim
117
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَقَالَ: «أَنْهَاكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ» وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ
There is another hadith narrated on the authority of Ibn Abbas (the contents of which are similar to the one) narrated by Shu'ba in which the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I forbid you to prepare nabidh in a gourd, hollowed block of wood, a varnished jar or receptacle. Ibn Mu'adh made this addition on the authority of his father that the Messenger of Allah said to Ashajj, of the tribe of 'Abdul-Qais: You possess two qualities which are liked by Allah: insight and deliberateness.
قرہ بن خالد نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے شعبہ کی ( سابقہ روایت کی ) طرح حدیث بیان کی ( اس کے الفاظ ہیں : ) رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو خشک کدو کے برتن ، لکڑی سے تراشیدہ برتن ، سبز مٹکے اور تارکول ملے برتن میں تیار کی جائے ( اس میں زیادہ خمیر اٹھنے کا خدشہ ہے جس سے نبیذ شراب میں بدل جاتی ہے ۔ ) ‘ ‘ ابن معاذ نے اپنے والد کی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد القیس کے پیشانی پر زخم والے شخص ( اشج ) سے کہا : ’’تم میں دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے : عقل اور تحمل ۔ ‘ ‘
Sunnan Abu Dawood
3690
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَنْتَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّقِيرِ .
Ibn Umar and Ibn Abbas said: We testify that the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم forbade (the use of) gourds, green jars, receptacles smeared with pitch, and hollowed stumps of palm-trees.
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔