TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے والے کے حکم کا بیان۔ - باب: نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے والے کے حکم کا بیان۔ - The book of fighting [the prohibition of bloodshed] - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation

Chapter 16 of The book of fighting [the prohibition of bloodshed] in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 29 · 2 Hadith
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَقُودُ رَجُلًا أَعْمَى، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَهَيْتُ إِلَى عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْد رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَتَسُبُّهُ فَيَزْجُرُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَنْزَجِرُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ذَكَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَوَقَعَتْ فِيهِ فَلَمْ أَصْبِرْ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهَا،‏‏‏‏ فَأَصْبَحَتْ قَتِيلًا،‏‏‏‏ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَجَمَعَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا لِي عَلَيْهِ حَقٌّ،‏‏‏‏ فَعَلَ مَا فَعَلَ إِلَّا قَامَ ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَتَدَلْدَلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا صَاحِبُهَا،‏‏‏‏ كَانَتْ أُمَّ وَلَدِي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ بِي لَطِيفَةً رَفِيقَةً،‏‏‏‏ وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ،‏‏‏‏ وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ،‏‏‏‏ فَلَمَّا كَانَتِ الْبَارِحَةُ ذَكَرْتُكَ،‏‏‏‏ فَوَقَعَتْ فِيكَ،‏‏‏‏ فَقُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا،‏‏‏‏ فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا اشْهَدُوا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ .
Ibn 'Abbas narrated that : There was a blind man during the time of the Messenger of Allah [SAW] who had an Umm Walad by whom he had two sons. She used to slander and defame the Messenger of Allah [SAW] a great deal, and he would rebuke her, but she would not pay heed, and he would forbid her to do that, but she ignored him. (The blind man said) One night I mentioned the Prophet [SAW], and she slandered him. I could not bear it so I went and got a dagger which I thrust into her stomach and leaned upon it, and killed her. In the morning she was found slain. Mention of that was made to the Prophet [SAW] and he gathered the people and said: I adjure by Allah; a man over whom I have the right, that he should obey me, and he did what he did, to stand up. The blind man started to tremble and said: O Messenger of Allah [SAW], I am the one who killed her. She was my Umm Walad and she was kind and gentle toward me, and I have two sons like pearls from her, but she used to slander and defame you a great deal. I forbade her, but she did not stop, and I rebuked her, but she did not pay heed. Finally, I mentioned your name and she slandered you, so I went and got a dagger which I thrust into her stomach, and leaned on it until I killed her. The Messenger of Allah [SAW] said: I bear witness that her blood is permissible.
عثمان شحام کہتے ہیں کہ میں ایک اندھے آدمی کو لے کر عکرمہ کے پاس گیا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگے کہ مجھ سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک نابینا آدمی تھا، اس کی ایک ام ولد ( لونڈی ) تھی، اس سے اس کے دو بیٹے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا بھلا کہتی تھی، وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ مانتی نہیں تھی، وہ اسے روکتا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی ( نابینا کا بیان ہے ) ایک رات کی بات ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا، مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر اسے زور سے دبایا اور اسے مار ڈالا، وہ مر گئی، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: ”میں قسم دیتا ہوں اس کو جس پر میرا حق ہے! جس نے یہ کیا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو“، تو وہ نابینا گرتا پڑتا آیا اور بولا: اللہ کے رسول! یہ میرا کام ہے، وہ میری ام ولد ( لونڈی ) تھی، وہ مجھ پر مہربان اور رفیق تھی، میرے اس سے موتیوں جیسے دو بیٹے ہیں، لیکن وہ آپ کو اکثر برا بھلا کہتی تھی اور آپ کو گالیاں دیتی تھی، میں اسے روکتا تھا تو وہ باز نہیں آتی تھی، میں اسے ڈانٹتا تھا تو وہ اثر نہ لیتی تھی، کل رات کی بات ہے میں نے آپ کا تذکرہ کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا، میں نے خنجر لیا اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! تم لوگ گواہ رہو اس کا خون رائیگاں ہے“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحدود ۲ (۴۳۶۱)، (تحفة الأشراف: ۶۱۵۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : اس کے خون کا قصاص یا خون بہا (دیت) نہیں ہے، معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا، آپ پر طعن و تشنیع کرنا اور اس سے باز نہ آنے کی واجبی سزا قتل ہے اور آپ کو گالیاں دینے اور سب و شتم کرنے والا خواہ ذمی ہی کیوں نہ ہو قتل کیا جائے گا، اور یہ واضح رہے کہ یہ عمل صرف اسلامی حکومت اپنی حکومت ہی میں نافذ کر سکتی ہے کیونکہ اس کا تعلق حدود سے ہے جس کے لیے اسلامی حکومت اور حکمرانی کا ہونا ضروری ہے۔
4075
Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَوْبَةَ الْعَنبَرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ عَنَزَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَغْلَظَ رَجُلٌ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَقْتُلُهُ. فَانْتَهَرَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ هَذَا لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
It was narrated that Abu Barzah Al-Aslami said: A man spoke harshly to Abu Bakr As-Siddiq, and I said: 'Shall I kill him?' He told me off, and said: 'That is not for anyone after the Messenger of Allah [SAW].'
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سخت کلامی کی تو میں نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کر دوں؟ تو آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا: یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نہیں ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحدود ۲ (۴۳۶۳)، (تحفة الأشراف: ۶۶۲۱)، مسند احمد (۱/۹، ۱۰)، ویأتي فیما یلي: ۴۰۷۷- ۴۰۸۲
Explanation
وضاحت: ۱؎ : صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے اور سب و شتم پر کسی کو قتل کیا جائے گا، آپ کے سوا کسی کا یہ مرتبہ و مقام نہیں کہ اس کو سب و شتم کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے، ہاں تعزیر کی جا سکتی ہے، جو معاملہ کی نوعیت اور قاضی (جج) کی رائے پر منحصر ہے۔
4076
Sahih

Chapters

29
01
باب: خون کی حرمت کا بیان۔
20 Hadith
02
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
23 Hadith
03
باب: کبائر (کبیرہ گناہوں) کا بیان۔
4 Hadith
04
باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
3 Hadith
05
باب: جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
4 Hadith
06
باب: جماعت سے الگ ہونے والے شخص کو قتل کرنے کا بیان اور زیاد بن علاقہ کی عرفجہ سے روایت پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
4 Hadith
07
باب: آیت کریمہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے“ کی تفسیر اور کن لوگوں کے
4 Hadith
08
باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
7 Hadith
09
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
12 Hadith
10
باب: مردہ کا مثلہ کرنا منع ہے۔
1 Hadith
11
باب: سولی دینے کا بیان۔
1 Hadith
12
باب: غلام مشرکین کے علاقہ میں بھاگ جائے اس کا بیان اور جریر رضی الله عنہ کی حدیث کی روایت میں شعبی پر اختلاف کا ذکر۔
3 Hadith
13
باب: اس حدیث میں ابواسحاق سبیعی پر اختلاف کا ذکر۔
5 Hadith
14
باب: مرتد کے حکم کا بیان۔
11 Hadith
15
باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔
2 Hadith
16
باب: نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے والے کے حکم کا بیان۔
2 Hadith
17
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
6 Hadith
18
باب: جادو کا بیان۔
1 Hadith
19
باب: جادوگروں کا حکم۔
1 Hadith
20
باب: اہل کتاب کے جادوگروں کا بیان۔
1 Hadith
21
باب: کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔
3 Hadith
22
باب: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے۔
10 Hadith
23
باب: جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کی خاطر لڑے۔
1 Hadith
24
باب: جو اپنے دین کی حفاظت کے لیے لڑے۔
1 Hadith
25
باب: جو شخص ظلم سے بچنے کے لیے لڑے۔
1 Hadith
26
باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔
7 Hadith
27
باب: مسلمان سے لڑنا۔
10 Hadith
28
باب: اندھی عصبیت کے جھنڈے تلے لڑنے والے کے بارے میں (وارد) سختی کا بیان۔
2 Hadith
29
باب: قتل کی حرمت کا بیان۔
17 Hadith
No chapter matched that.