باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔ - باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔ - The book of fighting [the prohibition of bloodshed] - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation
Chapter 26 of The book of fighting [the prohibition of bloodshed] in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated from Ibn Az-Zubair that:
The Messenger of Allah [SAW] said: Whoever unsheathes his sword and starts to strike the people with it, it is permissible to shed his blood.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی تلوار باہر نکال لے پھر اسے چلانا شروع کر دے تو اس کا خون رائیگاں اور بیکار ہے“ ۱؎۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that :
The Prophet [SAW] said: Whoever bears weapons against us, he is not one of us.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الفتن ۷ (۷۰۷۰)، صحیح مسلم/الإیمان ۴۲ (۹۸)، (تحفة الأشراف: ۸۳۶۴)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود ۱۹ (۲۵۷۶)، مسند احمد (۲/۳، ۵۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہاں بھی ” ہتھیار اٹھانے “ سے مراد ” ناحق ہتھیار “ اٹھانا ہے، مسلمانوں کی ناحق خونریزی پر یہ شدید وعید سنائی گئی ہے کہ ایسے عمل کے مرتکب کو اگر قتل کر دیا جائے تو اس کے خون کا نہ تو قصاص ہے اور نہ ہی دیت۔ اور یہ کہ ایسا آدمی امت محمدیہ کے زمرہ سے خارج ہے۔ «فاعتبروا یا أولی الأبصار» (عبرت حاصل کرنی چاہیئے)۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:
When 'Ali was in Yemen, he sent some gold that was still enclosed in rock to the Prophet [SAW], who distributed it among Al-Aqra' bin Habis Al-Hanzali, who belonged to Banu Mujashi', 'Uyaynah bin Badr Al-Fazari, 'Alqamah bin 'Ulathah Al-'Amiri, who belonged to Banu Kilab and Zaid Al-Khail At-Ta'I, who belonged to Banu Nabhan. The Quraish and the Ansar became angry and said: 'He gives to the chiefs of Najd and ignores us!' He said: 'I am seeking to win them over (firmly to Islam).' Then a man with sunken eyes, a bulging forehead, a thick beard and a shaven head came and said: 'O Muhammad, fear Allah!' He said: 'Who will obey Allah if I do not? He trusts me with the people of this Earth but you do not trust me.' A man among the people asked for permission to kill him, but he did not let him do that. When (the man) went away, he (the Prophet [SAW]) said: 'Among the offspring of this man there will be people who will recite the Qur'an but it will not go beyond their throats, and they will go out of Islam as an arrow goes through the target. They will kill the Muslims and leave the idol-worshippers alone. If I live to see them, I will kill them as the killing of 'Ad.'
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی لگا ہوا سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظلی ( جو بنی مجاشع کے ایک شخص تھے ) ، عیینہ بن بدر فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری ( جو بنی کلاب کے ایک شخص تھے ) ، زید الخیل طائی ( جو بنی نبہان کے ایک شخص تھے ) کے درمیان تقسیم کیا، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اس پر قریش اور انصار غصہ ہوئے اور بولے: آپ اہل نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تو صرف ان کی تالیف قلب کر رہا ہوں“، اتنے میں ایک شخص آیا، اس کی آنکھیں بیٹھی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، داڑھی گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا۔ وہ بولا: محمد! اللہ سے ڈرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں ہی نافرمانی کرنے لگا تو اللہ کی اطاعت کون کرے گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ زمین والوں پر امین بنا رہا ہے اور تم میرا اعتبار نہیں کرتے۔ اتنے میں لوگوں میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی، آپ نے اسے منع فرما دیا۔ جب وہ لوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے خاندان میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق کے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں انہیں پا جاؤں تو انہیں عاد کے لوگوں کی طرح قتل کروں“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۲۵۷۹
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کتاب تحریم الدم یا کتاب المحاربۃ (جنگ) سے مطابقت اسی جملے سے ہے، یعنی : خارجیوں کا خون بہانا جائز ہے، اس لیے علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی۔
It was narrated that 'Ali said:
I heard the Messenger of Allah [SAW] say: 'At the end of time there will appear young people with foolish minds. Their faith will not pass through their throats, and they will go out of Islam as an arrow goes through the target. If you meet them, then kill them, for killing them will bring reward to the one who killed them on the Day of Resurrection.'
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کم سن اور کم عقل ہوں گے، بات چیت میں وہ لوگوں میں سب سے اچھے ہوں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، لہٰذا جب تم ان کو پاؤ تو انہیں قتل کرو کیونکہ ان کے قتل کرنے والے کو قیامت کے دن اجر ملے گا“۔
it was narrated that Sharik bin Shihab said:
I used to wish that I could meet a man among the Companions of the Prophet [SAW] and ask him about the Khawarij. Then I met Abu Barzah on the day of 'Id, with a number of his companions. I said to him: 'Did you hear the Messenger of Allah [SAW] mention the Khawarij?' He said: 'Yes. I heard the Messenger of Allah [SAW] with my own ears, and saw him with my own eyes. Some wealth was brought to the Messenger of Allah [SAW] and he distributed it to those on his right and on his left, but he did not give anything to those who were behind him. Then a man stood behind him and said: O Muhammad! You have not been just in your division! He was a man with black patchy (shaved) hair, wearing two white garments. So Allah's Messenger [SAW] became very angry and said: By Allah! You will not find a man after me who is more just than me. Then he said: A people will come at the end of time; as if he is one of them, reciting the Qur'an without it passing beyond their throats. They will go through Islam just as the arrow goes through the target. Their distinction will be shaving. They will not cease to appear until the last of them comes with Al-Masih Ad-Dajjal. So when you meet them, then kill them, they are the worst of created beings.
شریک بن شہاب کہتے ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں صحابہ رسول میں سے کسی صحابی سے ملوں اور ان سے خوارج کے متعلق سوال کروں، تو میری ملاقات عید کے دن ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگردوں کی جماعت میں ہوئی۔ میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کا تذکرہ کرتے سنا ہے؟ کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کانوں سے سنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا، آپ کے پاس کچھ مال آیا، آپ نے اسے تقسیم کیا اور اپنے دائیں اور بائیں جانب کے لوگوں کو دے دیا اور اپنے پیچھے والوں کو کچھ نہیں دیا۔ ایک شخص آپ کے پیچھے سے کھڑا ہوا اور بولا: محمد! آپ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا۔ وہ ایک کالا ( سانولا ) شخص تھا، جس کے بال منڈے ہوئے تھے اور دو سفید کپڑوں میں ملبوس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میرے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عادل ہو“۔ پھر فرمایا: ”آخری دور میں کچھ لوگ ہوں گے ( شاید ) یہ بھی انہیں میں سے ہو گا، وہ قرآن پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلی سے نیچے نہ اترے گا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ سر منڈائے ہوں گے ۱؎، وہ ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کے ساتھ نکلے گا، لہٰذا جب تم انہیں پاؤ تو قتل کر دو، وہ بد نفس اور تمام مخلوقات میں بدتر ہیں“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: شریک بن شہاب مشہور نہیں ہیں ۲؎۔
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے یہ استدلال قطعا درست نہیں ہے کہ سر منڈانا نعوذباللہ مکروہ ہے کیونکہ کسی چیز کا کسی قوم کے لیے علامت و شناخت بننا یہ اس کے مباح ہونے کے منافی نہیں ہو سکتا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک بچے کو دیکھا کہ اس کے سر کے کچھ حصوں کا بال منڈا ہوا ہے اور کچھ کا چھوڑ دیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا : ” اس کا پورا سر مونڈ دو یا پورا سر چھوڑ دو “۔ آپ کا یہ فرمان سر منڈانے کے مباح ہونے کے لیے کافی ہے۔ ۲؎ : یعنی مشہور نہیں ہیں بلکہ مقبول ہیں، اور مقبول اس کو کہتے ہیں جس کی دوسرے راوی سے متابعت پائی جائے تو اس کی روایت مقبول ہو گی، ورنہ وہ لین الحدیث ہو گا، یہاں اس حدیث کے اکثر ٹکڑوں کی متابعت موجود ہے، اس لیے حدیث مقبول ہو گی۔