TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔ - باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔ - The book of fighting [the prohibition of bloodshed] - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation

Chapter 15 of The book of fighting [the prohibition of bloodshed] in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 15 of 29 · 2 Hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَنَدَّمَ،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنَّ فُلَانًا قَدْ نَدِمَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَسْأَلَكَ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة آل عمران آية 86 - 89،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَسْلَمَ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: A man from among the Ansar accepted Islam, then he apostatized and went back to Shirk. Then he regretted that, and sent word to his people (saying): 'Ask the Messenger of Allah [SAW], is there any repentance for me?' His people came to the Messenger of Allah [SAW] and said: 'So and so regrets (what he did), and he has told us to ask you if there is any repentance for him?' Then the Verses: 'How shall Allah guide a people who disbelieved after their Belief up to His saying: Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful' was revealed. So he sent word to him, and he accepted Islam.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص اسلام لایا پھر وہ مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا۔ اس کے بعد شرمندہ ہوا تو اپنے قبیلہ کو کہلا بھیجا کہ میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو: کیا میرے لیے توبہ ہے؟ اس کے قبیلہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: فلاں شخص ( اپنے کئے پر ) شرمندہ ہے اور اس نے ہم سے کہا ہے کہ ہم آپ سے پوچھیں: کیا اس کی توبہ ہو سکتی ہے؟ اس وقت یہ آیت اتری: «كيف يهدي اللہ قوما كفروا بعد إيمانهم» سے «غفور رحيم» تک ”اللہ اس قوم کو کیوں کر ہدایت دے گا جو ایمان لانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد کافر ہوئی، اللہ تعالیٰ ایسے بے انصاف لوگوں کو راہ راست پر نہیں لاتا، ان کی تو یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے تمام فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، جس میں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی، مگر وہ لوگ جن ہوں نے اس سے توبہ کر لی اور نیک ہو گئے، پس بیشک اللہ غفور رحیم ہے“ ( آل عمران: ۸۶-۸۹ ) تو آپ نے اسے بلا بھیجا اور وہ اسلام لے آیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۱۰۸۴)
4073
Sahih
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فِي سُورَةِ النَّحْلِ:‏‏‏‏ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ إِلَى قَوْلِهِ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النحل آية 106،‏‏‏‏ فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النحل آية 110،‏‏‏‏ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الَّذِي كَانَ عَلَى مِصْرَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ،‏‏‏‏ فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said concerning Surat An-Nahl - : Whoever disbelieved in Allah after his belief, except him who is forced thereto and whose heart is at rest with Faith; but such as open their breasts to disbelief, on them is wrath from Allah, and theirs will be a great torment. This was abrogated, and an exception was made, as Allah said: Then, verily, your Lord for those who emigrated after they had been put to trials and thereafter strove hard and fought (for the Cause of Allah) and were patient, verily, your Lord afterward is, Oft-Forgiving, Most Merciful. This was 'Abdullah bin Sa'd bin Abi As-Sarh who was the governor of Egypt and used to write to the Messenger of Allah [SAW]. The Shaitan misled him and he went and joined the unbelievers. So he (the Prophet [SAW]) commanded that he be killed on the day of the Conquest of Makkah. Then, 'Uthman bin 'Afan sought protection for him, and the Messenger of Allah [SAW] granted him protection.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورۃ النحل کی اس آیت: «من كفر باللہ من بعد إيمانه إلا من أكره‏» ”جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو … ان کے لیے درد ناک عذاب ہے“ ( النحل: ۱۰۶ ) کے بارے میں کہا: یہ منسوخ ہو گئی اور اس سے مستثنیٰ یہ لوگ ہوئے، پھر یہ آیت پڑھی: «ثم إن ربك للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا إن ربك من بعدها لغفور رحيم» ”پھر جو لوگ فتنے میں پڑ جانے کے بعد ہجرت کر کے آئے، جہاد کیا اور صبر کیا تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے“ ( النحل: ۱۱۰ ) اور کہا: وہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے جو ( عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ) مصر کے والی ہوئے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منشی تھے، انہیں شیطان نے بہکایا تو وہ کفار سے مل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے تو ان کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پناہ طلب کی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحدود۱(۴۳۵۸)، (تحفة الأشراف: ۶۲۵۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : باب کی دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرتد اگر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو گی، ان شاء اللہ۔
4074
Sahih

Chapters

29
01
باب: خون کی حرمت کا بیان۔
20 Hadith
02
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
23 Hadith
03
باب: کبائر (کبیرہ گناہوں) کا بیان۔
4 Hadith
04
باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
3 Hadith
05
باب: جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
4 Hadith
06
باب: جماعت سے الگ ہونے والے شخص کو قتل کرنے کا بیان اور زیاد بن علاقہ کی عرفجہ سے روایت پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
4 Hadith
07
باب: آیت کریمہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے“ کی تفسیر اور کن لوگوں کے
4 Hadith
08
باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
7 Hadith
09
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
12 Hadith
10
باب: مردہ کا مثلہ کرنا منع ہے۔
1 Hadith
11
باب: سولی دینے کا بیان۔
1 Hadith
12
باب: غلام مشرکین کے علاقہ میں بھاگ جائے اس کا بیان اور جریر رضی الله عنہ کی حدیث کی روایت میں شعبی پر اختلاف کا ذکر۔
3 Hadith
13
باب: اس حدیث میں ابواسحاق سبیعی پر اختلاف کا ذکر۔
5 Hadith
14
باب: مرتد کے حکم کا بیان۔
11 Hadith
15
باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔
2 Hadith
16
باب: نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے والے کے حکم کا بیان۔
2 Hadith
17
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
6 Hadith
18
باب: جادو کا بیان۔
1 Hadith
19
باب: جادوگروں کا حکم۔
1 Hadith
20
باب: اہل کتاب کے جادوگروں کا بیان۔
1 Hadith
21
باب: کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔
3 Hadith
22
باب: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے۔
10 Hadith
23
باب: جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کی خاطر لڑے۔
1 Hadith
24
باب: جو اپنے دین کی حفاظت کے لیے لڑے۔
1 Hadith
25
باب: جو شخص ظلم سے بچنے کے لیے لڑے۔
1 Hadith
26
باب: جو تلوار نکال کر لوگوں پر چلانا شروع کر دے۔
7 Hadith
27
باب: مسلمان سے لڑنا۔
10 Hadith
28
باب: اندھی عصبیت کے جھنڈے تلے لڑنے والے کے بارے میں (وارد) سختی کا بیان۔
2 Hadith
29
باب: قتل کی حرمت کا بیان۔
17 Hadith
No chapter matched that.