TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5578 - باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور کھجوروں اور انگوروں کے کچھ پھلوں سے تم نشہ آور مشروب اور اچھا (حلال و عمدہ) رزق تیار کرتے ہو“ کی تفسیر۔ - The book of drinks - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 6 in this chapter
باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اور کھجوروں اور انگوروں کے کچھ پھلوں سے تم نشہ آور مشروب اور اچھا (حلال و عمدہ) رزق تیار کرتے ہو“ کی تفسیر۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ السَّكَرُ خَمْرٌ .
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said: Strong drink is Khamr.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہر نشہ لانے والی چیز خمر ہے۔
5578
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 5575 In-book reference : Book 51, Hadith 37 English translation : Vol. 6, Book 51, Hadith 5578
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5575
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۱۸۶۸۶)

Related Chapters

561
1
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
2
(9) CHAPTER. The explanation of the Statement of Allah: “… After payment of legacies that they may have bequeathed or debts ... (V.4:12)
اللہ تعالیٰ کے ( سورۃ نساء میں ) یہ فرمانے کی تفسیر کہ حصوں کی تقسیم وصیت اور دین کے بعد ہوگی
Sahih Bukhari
3
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “Intoxicants (all kind of alcoholic drinks), gambling, Al-Ansab and Al-Azlam (arrows for seeking luck or decision) are an abomination of Shaitan's (satan) handiwork. So avoid (strickly all) that (abomination) in order that you may be sucessful... (V.5:90)
اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ( سورۃ المائدہ ) کی تفسیر
Sahih Bukhari
4
(85) CHAPTER. To honour one's guest and to serve him with one's own hands.
مہمان کی عزت اور خود اس کی خدمت کرنا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ابراہیم علیہالسلام کے مہمان جن کی عزت کی گئی “ کی تفسیر ۔
Sahih Bukhari
5
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
6
Chapter: Allah's Saving: Those Whom They Call Upon Desire Means Of Access To Their Lord (Allah)
اللہ تعالیٰ کے فرمان: وہ لوگ جنھیں یہ(کافر) پکارتے ہیں وہ خود ا پنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کی تفسیر
Sahih Muslim
7
Chapter: Allah's Saving: Those Whom They Call Upon Desire Means Of Access To Their Lord (Allah)
اللہ تعالیٰ کے فرمان: وہ لوگ جنھیں یہ(کافر) پکارتے ہیں وہ خود ا پنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کی تفسیر
Sahih Muslim
8
اللہ تعالیٰ کے فرمان «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
Sunnan Nisai
9
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
10
قراء ت سے پہلے تعوذ پڑھنے اور اللہ تعالی کے اس فرمان {فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ}کا بیان
Musnad Ahmad
11
سورۂ آل عمران کی تفسیر اور اللہ تعالی کے اسم اعظم کا بیان
Musnad Ahmad
12
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
Musnad Ahmad
13
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
Musnad Ahmad
14
اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
Musnad Ahmad
15
اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
Musnad Ahmad
16
اللہ کے نبی لوط علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ آوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ}کا بیان
Musnad Ahmad
17
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غزوۂ بدر کے متعلق اہتمام، اللہ تعالیٰ سے طلبِ نصرت، اور آپ کا بنفس نفیس میدانِ جنگ میں اترنا اور مجاہدین کا آپ کے پیچھے ہو کر زخمی ہونے سے بچنے کی کوشش کرنا اور اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی نصرت فرمانے کا بیان
Musnad Ahmad
18
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “And of knowledge you (mankind) have been given only a little.” (V. 17:85)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے
Sahih Bukhari
19
(1) CHAPTER. The times of As-Salat (the prayers) and the superiority of offering Salat (prayers) in time.
نماز کے اوقات اور ان کے فضائل اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وضاحت
Sahih Bukhari
20
(1) CHAPTER. The prescription of Friday [Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer)].
جمعہ کی نماز فرض ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ
Sahih Bukhari
21
(28) CHAPTER. The Statement of Allah: “And instead (of thanking Allah) for the provision He gives you, you deny (Him by disbelief). (V. 56.82)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح وتجعلون رزقکم انکم تکذبون
Sahih Bukhari
22
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
23
(49) CHAPTER. The Statement of Allah;
اللہ تعالیٰ کے فرمان
Sahih Bukhari
24
(18) CHAPTER. The saying of Allah: … So enter houses through their proper doors … (V. 2:189)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوا کرو
Sahih Bukhari
25
(5) CHAPTER. The statement of Allah: … And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp, (necessitating shaving), he must pay a Fidya (ransom), of either observing Saum (fasts) (three days), or giving Sadaqa (charity - feeding six poor persons), or offer sacrifice (one sheep) ...” (V.2:196)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں ( جوؤں کی ) کوئی تکلیف ہو تو اسے روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دینا چاہئے یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے
Sahih Bukhari
26
(10) CHAPTER. The statement of Allah: “... nor commit sin nor dispute unjustly during Hajj … (V.2:197)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ بقررہ میں فرمانا کہ حج میں گناہ اور جھگڑا نہ کرنا چاہئے
Sahih Bukhari
27
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: … And eat and drink until the white thread of dawn appears to you distinct from the black.”
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
Sahih Bukhari
28
(6) CHAPTER. The Statement of Alllah: “And when they see some merchandise or some amusement [beating of Tambur (drum) etc.], they disperse headlong to it...”.(V.62:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب وہ مال تجارت آتا ہوا یا کوئی اور تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
29
(12) CHAPTER. Allah's Statement: “...Spend of the good things which you have (legally) earned...” (V.2:267)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو ( البقرہ : 267 )
Sahih Bukhari
30
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Eat not Riba (usury) doubled and multiplied.”(V.3:130)
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
Sahih Bukhari
31
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
Sahih Bukhari
32
(1) CHAPTER. To hire a pious man.
کسی بھی نیک مرد کو مزدوری پر لگانا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ
Sahih Bukhari
33
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “…No doubt! The curse of Allah is on the Zalimun (polytheists, oppressors, and the wrong-doers) (V.11:18)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ ہود میں یہ فرمانا کہ ” سن لو ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے ۔ “
Sahih Bukhari
34
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “ Yet he is the most quarrelsome of the opponents...” (V.2:204)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا ” اور وہ بڑا سخت جھگڑالو ہے “
Sahih Bukhari
35
(18) CHAPTER. The boys attaining the age of puberty and their validity of their witness.
بچوں کا بالغ ہونا اور ان کی شہادت کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ
Sahih Bukhari
36
(25) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں فرمان کہ ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں“۔ (آخر آیت تک)
Sahih Bukhari
37
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “... After the payment of legacies he may have bequeathed or debts ...” (V.4:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ نساء میں ) یہ فرمانا کہ وصیت اور قرضے کی ادائیگی کے بعد حصے بٹیں گے
Sahih Bukhari
38
(24) CHAPTER. Allah's Statement:
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں
Sahih Bukhari
39
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: O you who believe! When death approaches any of you, and you make a bequest, (then take) the testimony of two just men of your own folk or two others from outside ... (up to) ... Allah guides not the people who are Al-Fasiqun (the rebellious and disobedient). (V.5:106-108)
( سورۃ المائدہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا مسلمانو ! جب تم میں کوئی مرنے لگے توآپس کی گواہی ۔ ۔ ۔
Sahih Bukhari
40
(1b) CHAPTER.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا ، اے رسول ! وہ وقت یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک ( قوم کو ) جانشین بنانے والا ہوں ۔
Sahih Bukhari
41
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “...And Allah did take Ibrahim (Abraham) as a Khalil (an intimate friend). (V.4:125)
( سورۃ نساء میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کہ ۔
Sahih Bukhari
42
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “And mention in the Book (the Qur'an) Ismail (Ishmael) : Verily! He was true to what he promised...” (V.19:54)
( حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بیان ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور یاد کرو اسماعیل کو کتاب میں بیشک وہ وعدے کے سچے تھے ۔ “
Sahih Bukhari
43
(14) CHAPTER.
حضرت یعقوب علیہ السلام کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یوں فرمانا کہ ” کیا تم لوگ اس وقت موجو دتھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت حاضر ہوئی ۔ آخر آیت ونحن لہ مسلمون تک ۔
Sahih Bukhari
44
(15) CHAPTER. “And (remember) Lout (Lot)! When he said to his people, Do you commit Al-Fahishah (evil, great sins, every kind of unlawful sexual intercourse, sodomy) (up to) so, evil was the rain of those who were warned. (V.27:54-58)
( حضرت لوط علیہ السلام کا بیان ) اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ النمل میں فرمانا کہ ۔
Sahih Bukhari
45
(20) CHAPTER. The Statement of Allah: “And Ayyub, when he cried to his Lord: 'Verily, distress has seized me, and You are the Most Mercifull of all those who show mercy.' ”(V.21:83)
( سورۃ انبیاء میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ۔
Sahih Bukhari
46
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: And has there come to you the story of Musa (Moses)? When he saw a fire.. (up to ).. in the acred vally, Tuwa. (V.20:9-12)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ طہٰ ) میں فرمانا ۔
Sahih Bukhari
47
(24) CHAPTER: The Statement of Allah: Has there come to you the story of Musa (Moses)? (V.79:15) And Allah's Statement: ...And to Moses Allah spoke directly. (V.4:164)
( سورۃ طہٰ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمان اور کیا تجھ کو موسیٰ کا واقعہ معلوم ہوا ہے اور ( سورۃ نساء میں ) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا ۔
Sahih Bukhari
48
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying: 'I will help you with a thousand of a angels each behind the other (following one another) in succession.' Allah made it only as glad tidings, and that your hearts be at rest therewith. And there is no victory except from Allah. verily, Allah is All-Mighty, All-Wise. (Remember) when He covered you with a slumber as a security from Him, and He caused water (rain) to descend on you from the sky, to clean you thereby and to remove from you the Rijz (whispering, evil-suggestions) of Shaitan (Satan), and to strengthen yor hearts, and make your feet firm thereby. (Remember) when your Lord revealed to the angels, 'Verily, I am with you so keep firm those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who have disbelived, so strike them over the necks, and smite over all their fingers and toes.' This is because they defined and disobeys Allah and His Messenger, then verily, Allah is Severe in punisllment.” (V.8:9-13)
اللہ تعالیٰ کا فرمان
Sahih Bukhari
49
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
Sahih Bukhari
50
(4) CHAPTER. “And We shaded with clouds and sent down on you Al-Manna and the quail,... (up to) wronged themselves.” (V.2:57)
اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( ( من کا ن عدوا ل جبرائیل ) ) کی تفسیر میں
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

914
Sunnan Nisai
5580
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَصِينٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ السَّكَرُ حَرَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالرِّزْقُ الْحَسَنُ حَلَالٌ .
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said: Strong drink is unlawful, and a 'goodly provision' (is lawful).
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ نشہ حرام ہے اور بہترین روزی حلال ہے۔
Jam e Tirmazi
155
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَلَا مِنْ عُمَرَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَخَبَّابٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي بَرْزَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ:‏‏‏‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِهِ الَّذِي رَوَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ ،‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى:‏‏‏‏ وَرَوَى لَهُ سُفْيَانُ،‏‏‏‏ وَزَائِدَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَ يَحْيَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ الظُّهْرِ.
Aishah narrated: I have not seen anyone who hastened Zuhr more than Allah's Messenger nor Abu Bakr, nor Umar.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن عبداللہ، خباب، ابوبرزہ، ابن مسعود، زید بن ثابت، انس اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے، ۲- اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے۔
Sunnan Nisai
651
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ كَانَ آخِرُ أَذَانِ بِلَالٍ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ .
It was narrated that Al-Aswad said: The final words of the Adhan of Bilal were: 'Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah.)'
اسود کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخری کلمات یہ تھے «اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ»۔
Sunnan Nisai
652
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ ذَلِكَ.
(Another chain) from Ibrahim, from Al-Aswad, with similar narration.
اس سند سے بھی اسود سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Jam e Tirmazi
61
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ صَلَّى الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ فَعَلْتَهُ. قَالَ:‏‏‏‏ عَمْدًا فَعَلْتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَزَادَ فِيهِ:‏‏‏‏ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ،‏‏‏‏ وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَارِبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ بَعْضُهُمْ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏اسْتِحْبَابًا وَإِرَادَةَ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُرْوَى عَنْ الْأَفْرِيقِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي غُطَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تَوَضَّأَ عَلَى طُهْرٍ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ،‏‏‏‏ وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.
Sulaiman bin Buraidah narrated that his father said: The Prophet would perform Wudu for every Salat. So during the year of the Conquest, he performed all of the prayers with one Wudu, and he wiped over his Khuff. So Umar said, 'You did something that you have not done before?' He replied: I did it on purpose.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور جب فتح مکہ کا سال ہوا تو آپ نے کئی نمازیں ایک وضو سے ادا کیں اور اپنے موزوں پر مسح کیا، عمر رضی الله عنہ نے عرض کیا کہ آپ نے ایک ایسی چیز کی ہے جسے کبھی نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے اسے جان بوجھ کر کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اس حدیث کو علی بن قادم نے بھی سفیان ثوری سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ”آپ نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا“، ۳- سفیان ثوری نے بسند «محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» ( مرسلاً روایت کیا ہے ) کہ ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے“، ۴- اور اسے وکیع نے بسند «سفیان عن محارب عن سلیمان بن بریدہ عن بریدہ» سے روایت کیا ہے، ۵- نیز اسے عبدالرحمٰن بن مھدی وغیرہ نے بسند «سفیان عن محارب بن دثار عن سلیمان بن بریدہ» مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ روایت وکیع کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۶- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں، جب تک «حدث» نہ ہو، ۷- بعض اہل علم استحباب اور فضیلت کے ارادہ سے ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، ۸- نیز عبدالرحمٰن افریقی نے بسند «ابی غطیفعن ابن عمر» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو پر وضو کرے گا تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا“ اس حدیث کی سند ضعیف ہے، ۹- اس باب میں جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک وضو سے ظہر اور عصر دونوں پڑھیں۔
Jam e Tirmazi
222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Jundub bin Sufyan narrated that : the Prophet said: Whoever prays the Subh then he is under the protection of Allah's covenant, so do not be treacherous with Allah in his covenant.
جندب بن سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے تو تم اللہ کی پناہ ہاتھ سے جانے نہ دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُمِّ حَبِيبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَى حَدِيثِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَابْنِ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَرَوْنَ الْفَصْلَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشافعي،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ.
Ali narrated: The Prophet (S) would pray four Rak'ah before Az-Zuhr and two Rak'ah after it.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہما اور ام حبیبہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث ( اعور ) کی حدیث سے افضل ہے، ۴- صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات ( دونوں ) کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ . وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق. قَالَ:‏‏‏‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُسِرَّ بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا بِالنَّهَارِ. وَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يَجْهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا كَنَحْوِ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاقُ يَرَوْنَ الْجَهْرَ فِيهَا. وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ لَا يَجْهَرُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلْتَا الرِّوَايَتَيْنِ. صَحَّ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَصَحَّ عَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ . وَهَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ جَائِزٌ عَلَى قَدْرِ الْكُسُوفِ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ تَطَاوَلَ الْكُسُوفُ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَهُوَ جَائِزٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ فَهُوَ جَائِزٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيَرَى أَصْحَابُنَا أَنْ تُصَلَّى صَلَاةُ الْكُسُوفِ فِي جَمَاعَةٍ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet prayed during the eclipse. He recited, then bowed, then recited, then bowed, then recited, then bowed. (three times), then he performed two prostrations, and the next one (Rak'ah) was the same.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو آپ نے قرأت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی پھر رکوع کیا، تین بار قرأت کی اور تین بار رکوع کیا، پھر دو سجدے کئے، اور دوسری رکعت بھی اسی طرح تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، نعمان بن بشیر، مغیرہ بن شعبہ، ابومسعود، ابوبکرہ، سمرہ، ابوموسیٰ اشعری، ابن مسعود، اسماء بنت ابی بکر صدیق، ابن عمر، قبیصہ ہلالی، جابر بن عبداللہ، عبدالرحمٰن بن سمرہ، اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابن عباس رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بھی روایت کی ہے کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز میں چار سجدوں میں چار رکوع کیے، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۴- سورج گرہن کی نماز میں اہل علم کا اختلاف ہے: بعض اہل علم کی رائے ہے کہ دن میں قرأت سری کرے گا۔ بعض کی رائے ہے کہ عیدین اور جمعہ کی طرح اس میں بھی جہری قرأت کرے گا۔ یہی مالک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں جہری قرأت کرے۔ اور شافعی کہتے ہیں کہ جہر نہیں کرے گا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں ہی قسم کی احادیث آئی ثابت ہیں۔ آپ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے چار سجدوں میں چار رکوع کیے۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے چار سجدوں میں چھ رکوع کیے۔ اور یہ اہل علم کے نزدیک گرہن کی مقدار کے مطابق ہے اگر گرہن لمبا ہو جائے تو چار سجدوں میں چھ رکوع کرے، یہ بھی جائز ہے، اور اگر چار سجدوں میں چار ہی رکوع کرے اور قرأت لمبی کر دے تو بھی جائز ہے، ہمارے اصحاب الحدیث کا خیال ہے کہ گرہن کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے خواہ گرہن سورج کا ہو یا چاند کا۔
Jam e Tirmazi
673
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ، ‏‏‏‏‏‏إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَكَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو سَعِيدٍ:‏‏‏‏ فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ:‏‏‏‏ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ صَاعٌ إِلَّا مِنَ الْبُرِّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُجْزِئُ نِصْفُ صَاعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يَرَوْنَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ.
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated: We would give Zakat Al-Fitr - when the Messenger of Allah was among us - as a Sa of food, or a Sa of barely, or a Sa of dried dates, or a Sa of raisins, or a Sa of cheese. So we did not stop paying it (like that) until Mu'awiyah arrived in Al-Madinah and talked (about it). Among the things he addressed the people with, he said: 'I see that two Mudd of the wheat of Ash-Sham are equal to a Sa of dried dates.' So the people followed that. Abu Sa'eed said: I will not stop giving it in the manner that I had been giving it.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے - صدقہ فطر ۱؎ میں ایک صاع گیہوں ۲؎ یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر نکالتے تھے۔ تو ہم اسی طرح برابر صدقہ فطر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی الله عنہ مدینہ آئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا، اس خطاب میں یہ بات بھی تھی کہ میں شام کے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھتا ہوں۔ تو لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا یعنی لوگ دو مد آدھا صاع گیہوں دینے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ان کا خیال ہے کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے سوائے گیہوں کے، اس میں آدھا صاع کافی ہے، ۴- یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔ اور اہل کوفہ کی بھی رائے ہے کہ گیہوں میں نصف صاع ہی ہے۔