TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 147 - (112)Chapter: What Has Been Related About Urine That Touches The Ground - The book on purification - Jam e Tirmazi in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 2 in this chapter
(112)Chapter: What Has Been Related About Urine That Touches The Ground
باب: جس زمین پر پیشاب لگ جائے
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ،‏‏‏‏ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ .
Abu Hurairah narrated: A Bedouin entered the Masjid while the Prophet was sitting. He prayed, then when he was finished, he said: 'O Allah! Have mercy upon me and Muhammad, and do not have mercy on anyone along with us.' The Prophet turned, towards him and said: 'You have restricted something that is unrestricted.' It was not long before he was urinating in the Masjid. So the people rushed to him. But Prophet said: 'Pour a bucket of water over it - or - a tumbler of water over it.' Then he said: 'You have been sent to make things easy (for the people); you have not been sent to make things difficult for them.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکا تو کہا: اے اللہ تو مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم مت فرما۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی رحمت الٰہی ) کو تنگ کر دیا“، پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جا کر پیشاب کرنے لگا، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر ایک ڈول پانی بہا دو، پھر آپ نے فرمایا: ”تم تو آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہونا کہ سختی کرنے والے“ ۱؎۔
147
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Jami` at-Tirmidhi 147 In-book reference : Book 1, Hadith 147 English translation : Vol. 1, Book 1, Hadith 147
صحيح، ابن ماجة (529) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 147
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطہارة ۱۳۸ (۳۸۰)، سنن النسائی/السہو ۲۰ (۱۳۱۷)، (تحفة الأشراف : ۱۳۱۳۹)، مسند احمد (۲/۲۳۹)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ بات صحابہ سے ان کے اس اعرابی کو پھٹکارنے پر فرمائی، یعنی نرمی سے اس کے ساتھ معاملہ کرو، سختی نہ برتو۔

Related Chapters

898
1
CHAPTER: The Ground Which Has Been (Polluted) With Urine.
باب: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو کیا کرنا چاہئے ؟
Sunnan Abu Dawood
2
Chapter: The obligation to wash away urine and other impurities if they result in the Masjid, and the ground may be purified with water with no need to scrub it
جب پیشاب یا کوئی اور نجاست مسجد میں لگ گئی ہوتواسے دھونا ضروری ہے اورزمین پانی سے پاک ہو جاتا ہے اس کے کھودنے کی ضرورت نہیں
Sahih Muslim
3
(140) CHAPTER. After doing Ramy of the (other) two Jamrat (Dunya and Wusta) one should go and stand on level ground, (and invoke Allah), facing the Qiblah (Kabah at Makkah).
جب حاجی دونوں جمروں کی رمی کر چکے تو ہموار زمین پر قبلہ رخ کھڑا ہوجائے
Sahih Bukhari
4
Chapter: The ruling on the urine of a nursing infant and how to wash it
شیر خوار بچے کے پیشاب کا حکم اور اس کو کیسے دھویا جائے
Sahih Muslim
5
CHAPTER: A Child’s Urine Splashes On A Garment.
باب: بچے کا پیشاب کپڑے پر لگ جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
6
زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟
Sunnan Ibn e Maja
7
(53)Chapter: Severe Warning Against Not Shielding Oneself From Urine
باب: پیشاب کے بارے میں وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
8
(54)Chapter: [What Has Been Related] About Sprinkling Water On The Urine Of Young Boy Before (He reaches The Age That) He Eats Food
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر پانی چھڑک لینا کافی ہے
Jam e Tirmazi
9
(55)Chapter: What Has Been Related About The Urine Of That Whose Meat Is Eaten
باب: جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہو اس کے پیشاب کا حکم
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Mentioned About Sprinkling Water On The Urine Of A Male Child Of Suckling Age
باب: دودھ پیتے بچے کے پیشاب پر چھینٹے مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Drinking Camel Urine
باب: اونٹ کا پیشاب پینے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: The Hadith:
باب: زمین جائیداد نہ بناؤ کہ اس سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی
Jam e Tirmazi
13
زمین کو پیشاب کی نجاست سے پاک کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
14
(19) CHAPTER. While passing urine one should not hold his penis with his right hand.
اس بارے میں کہ پیشاب کے وقت اپنے عضو کو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے
Sahih Bukhari
15
(55) CHAPTER. One of the major sins is not to protect oneself (one's clothes and body) from one's urine (i.e. from being soiled with it).
پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا کبیرہ گناہ ہے
Sahih Bukhari
16
(56) CHAPTER. What is said regarding washing out urine.
پیشاب کو دھونے کے بیان میں
Sahih Bukhari
17
(58) CHAPTER. The pouring of water over the urine in the mosque.
مسجد میں پیشاب پر پانی بہا دینے کے بیان میں
Sahih Bukhari
18
(59) CHAPTER. The urine of children.
بچوں کے پیشاب کے بارے میں
Sahih Bukhari
19
(60) CHAPTER. To pass urine while standing and sitting.
کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پیشاب کرنا ( حسب موقع ہر دو طرح سے جائز ہے )
Sahih Bukhari
20
(66) CHAPTER. (What is said) about the urine of camels, sheep and other animals and about their folds.
اونٹ ، بکری اور چوپایوں کا پیشاب اور ان کے رہنے کی جگہ کے بارے میں
Sahih Bukhari
21
(141) CHAPTER. One should not put the forearms on the ground during prostrations.
اس بارے میں کہ نمازی سجدہ میں اپنے دونوں بازوؤں کو ( جانور کی طرح ) زمین پر نہ بچھائے
Sahih Bukhari
22
(143) CHAPTER. How to support oneself on the ground while standing after finishing the Raka (after the two prostrations)…
اس بارے میں کہ رکعت سے اٹھتے وقت زمین کا کس طرح سہارا لے
Sahih Bukhari
23
(40) CHAPTER. The Statement of Allah: Then when the (Jumuah) Salat (prayer) is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah...” (V.62:10)
اللہ عزوجل کا ( سورۃ الجمعہ میں ) یہ فرمانا کہ جب جمعہ کی نماز ختم ہو جائے تو اپنے کام کاج کے لیے زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل ( روزی ، رزق یا علم ) کو ڈھونڈو
Sahih Bukhari
24
(48) CHAPTER. Whoever accompanies a funeral procession should not sit till the coffin is put down from the shoulders of men, and if someone sits before this, then he is to be ordered to stand up.
جو شخص جنازہ کے ساتھ ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ لوگوں کے کاندھوں سے اتار کر زمین پر نہ رکھ دیا جائے اور اگر پہلے بیٹھ جائے تو اس سے کھڑا ہونے کے لیے کہا جائے
Sahih Bukhari
25
(88) CHAPTER. Punishment in the grave because of back-biting and soiling one's clothes with urine.
غیبت اور پیشاب کی آلودگی سے قبر کا عذاب ہونا
Sahih Bukhari
26
(22) CHAPTER. If somebody rents land and he or the owner of the land dies (will the contract be cancelled)?
اگر کوئی زمین کو ٹھیکہ پر لے پھر ٹھیکہ دینے والا یا لینے والا مرجائے
Sahih Bukhari
27
(6) CHAPTER. To treat with the urine of camels.
اونٹ کے پیشاب سے علاج جائز ہے
Sahih Bukhari
28
(120) CHAPTER. One may scrape up the ground with something in hand.
کسی شخص کا زمین پر کسی چیز کو مارنا
Sahih Bukhari
29
Chapter: The evidence that urine is impure and the obligation to take precautions concerning it
پیشاب کے نجس ہونےکی دلیل اور اس سے بچنا واجب ہے
Sahih Muslim
30
Chapter: Moderation In Prostration; Placing The Hands On The Ground, Keeping The Elbows Up, Away From The Sides, And Lifting The Belly Up Off The Thighs When Prostrating
سجدے میں اعتدال اور دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنا، دونوں کہنیوں کو دونوں پہلوؤں سے اٹھا کر اور پیت کو رانوں سے اونچا کر کے رکھنا
Sahih Muslim
31
Chapter: The Emergence Of Ad-Dajjal And His Stay On Earth, And The Descent Of 'Eisa Who Will Kill Him. The Death Of The People Of Goodness And Faith, And The Survival Of The Worst Of People, And Their Idol-Worship. The Trumpet Blast, And The Resurrection Of Those Who Are In Their Graves
دجال نکل کر زمین میں رہے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتر کر اسے قتل کریں گے بھلائی اور ایمان والے لوگ رخصت ہو جا ئیں گے۔بدترین لوگ اور شیطان کی پوجا کرنے والے باقی رہ جائیں گے۔ اور صورپھونکا جائے گا اور جوقبروں میں ہیں انھیں اٹھا دیا جائے گا
Sahih Muslim
32
CHAPTER: Avoiding (The Splatter) Of Urine.
باب: پیشاب سے پاکی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: A Man Should Rub His Hands On The Ground After He Has Performed Istinja’.
باب: آدمی استنجاء کے بعد ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر دھوئے ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: Impurity That Touches The Hem (Of One’s Clothes).
باب: دامن میں گندگی لگ جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Impurity Which Touches One’s Shoes.
باب: جوتے میں نجاست لگ جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: No Recompense Is Due For Al-’Ajma’ (Beasts), Mines And Wells.
باب: اگر بے زبان جانور کسی کو زخمی کر دے اور آدمی کان یا کنواں اپنی زمین میں کھدوائے اور اس میں کوئی مر جائے تو ان چیزوں میں تاوان لازم نہ ہو گا ۔
Sunnan Abu Dawood
37
باب: مال کی نذر مانی جائے تو کیا زمین بھی اس میں شامل ہو گی؟
Sunnan Nisai
38
باب: آیت کریمہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے“ کی تفسیر اور کن لوگوں کے
Sunnan Nisai
39
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
40
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنے کی رخصت​
Jam e Tirmazi
41
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
42
9)Chapter: What Has Been Related About The Permission For That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
(41)Chapter: [About] What Is Said After Wudu
باب: وضو کے بعد کیا دعا پڑھی جائے؟
Jam e Tirmazi
44
(51)Chapter: [What Has Been Related About] It Is Disliked Urinate In Stagnant Water
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
(84)Chapter: [What Has Been Related] About Al-Madhi That Touches The Garment
باب: کپڑے میں مذی لگ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
(85)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mani That Touches The Garment
باب: کپڑے میں منی لگ جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
(108)Chapter: What Has Been Related About When Standing For The Prayer, And One Of You Finds That He Has To Relieve Himself, [Then Let Him Relieve Himself First].
باب: جب نماز کھڑی ہو جائے اور آدمی کو پاخانے کی حاجت ہو تو پہلے پاخانہ جائے
Jam e Tirmazi
48
Chapter: Been Related About A Man Who Forgets A Salat
باب: آدمی نماز بھول جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Misses Multiple Prayers And Which Of Them He Begin With
باب: کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: , What Has Been Related About One Who Caught A Rak'ah About One Asr Before The Sun Has Set
باب: جسے سورج ڈوبنے سے پہلے عصر کی ایک رکعت مل جائے اسے عصر مل گئی
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,360
Jam e Tirmazi
8
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا . فقَالَ أَبُو أَيُّوبَ:‏‏‏‏ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ مُسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ. قال أبو عيسى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ،‏‏‏‏ وَمَعْقِلِ بْنِ أَبِي الْهَيْثَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُقَالُ:‏‏‏‏ مَعْقِلُ بْنُ أَبِي مَعْقِلٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو أَيُّوبَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالزُّهْرِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَكُنْيَتُهُ:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّيُّ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلَا بِبَوْلٍ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا إِنَّمَا هَذَا فِي الْفَيَافِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا فِي الْكُنُفِ الْمَبْنِيَّةِ لَهُ رُخْصَةٌ فِي أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الرُّخْصَةُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ فَلَا يَسْتَقْبِلُهَا كَأَنَّهُ لَمْ يَرَ فِي الصَّحْرَاءِ وَلَا فِي الْكُنُفِ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ.
Abu Ayyub Al-Ansari narrated that : Allah's Messenger said: When one of you arrives to defecate, then let none of you face the Qiblah while defecating, nor while urinating. And do not have your back towards it, but have it east of you or west of you.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، بلکہ منہ کو پورب یا پچھم کی طرف کرو“ ۱؎۔ ابوایوب انصاری کہتے ہیں: ہم شام آئے تو ہم نے دیکھا کہ پاخانے قبلہ رخ بنائے گئے ہیں تو قبلہ کی سمت سے ترچھے مڑ جاتے اور ہم اللہ سے مغفرت طلب کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی، معقل بن ابی ہیشم ( معقل بن ابی معقل ) ابوامامہ، ابوہریرہ اور سہل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوایوب کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح ہے، ۳- ابوالولید مکی کہتے ہیں: ابوعبداللہ محمد بن ادریس شافعی کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کرو اور نہ پیٹھ، اس سے مراد صرف صحراء ( میدان ) میں نہ کرنا ہے، رہے بنے بنائے پاخانہ گھر تو ان میں قبلہ کی طرف منہ کرنا جائز ہے، اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے، احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف صرف پیٹھ کرنے کی رخصت ہے، رہا قبلہ کی طرف منہ کرنا تو یہ کسی بھی طرح جائز نہیں، گویا کہ ( امام احمد ) قبلہ کی طرف منہ کرنے کو نہ صحراء میں جائز قرار دیتے ہیں اور نہ ہی بنے بنائے پاخانہ گھر میں ( البتہ پیٹھ کرنے کو بیت الخلاء میں جائز سمجھتے ہیں ) ۔
Jam e Tirmazi
379
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحْ الْحَصَى فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَيْقِيبٍ،‏‏‏‏ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،‏‏‏‏ وَحُذَيْفَةَ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَرِهَ الْمَسْحَ فِي الصَّلَاةِ وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏كَأَنَّهُ رُوِيَ عَنْهُ رُخْصَةٌ فِي الْمَرَّةِ الْوَاحِدَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
Abu Dharr narrated that : the Prophet (S) said: When one of you stands for Salat then he should not smoothen the pebbles, for indeed it is mercy that he is facing.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے سے کنکریاں نہ ہٹائے ۱؎ کیونکہ اللہ کی رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں معیقیب، علی بن ابی طالب، حذیفہ، جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے نماز میں کنکری ہٹانے کو ناپسند کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ہٹانا ضروری ہو تو ایک بار ہٹا دے، گویا آپ سے ایک بار کی رخصت مروی ہے، ۴- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
Jam e Tirmazi
523
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَعُدُّ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ. وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَمَرَ أَنْ يُصَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرْبَعًا. وَذَهَبَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ. وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ إِنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صَلَّى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَابْنُ عُمَرَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَابْنُ عُمَرَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّى بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ أَرْبَعًا. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعًا. حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَنَصَّ لِلْحَدِيثِ مِنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا الدَّنَانِيرُ وَالدَّرَاهِمُ أَهْوَنُ عَلَيْهِ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ كَانَتِ الدَّنَانِيرُ وَالدَّرَاهِمُ عِنْدَهُ بِمَنْزِلَةِ الْبَعْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَسَنَّ مِنْ الزُّهْرِيِّ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: Whoever among you is to pray after the Friday prayer, then let him pray four.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم میں سے جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چاہیئے کہ چار رکعت پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- نیز عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ وہ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھتے تھے، ۴- اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ جمعہ کے بعد پہلے دو پھر چار رکعتیں پڑھی جائیں، ۵- سفیان ثوری اور ابن مبارک بھی ابن مسعود کے قول کی طرف گئے ہیں، ۶- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جمعہ کے دن اگر مسجد میں پڑھے تو چار رکعتیں اور اگر اپنے گھر میں پڑھے تو دو رکعتیں پڑھے، ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( یہ بھی ) حدیث ہے کہ تم میں سے جو کوئی جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چار رکعتیں پڑھے، ۷- ابن عمر رضی الله عنہما ہی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے۔ اور ابن عمر رضی الله عنہما نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسجد میں جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتوں کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔ عطا سے روایت کی ہے کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔
Jam e Tirmazi
916
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ . وَسَأَلَهُ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ارْمِ وَلَا حَرَجَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا قَدَّمَ نُسُكًا قَبْلَ نُسُكٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ.
Abdullah bin Amr narrated: A man asked the Messenger of Allah: 'I shaved before slaughtering.' So he said: 'Slaughter, and there is no harm.' Another man asked him: 'I performed the sacrifice before stoning.' He said: 'Stone, and there is no harm.'
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”اب ذبح کر لو کوئی حرج نہیں“ ایک دوسرے نے پوچھا: میں نے رمی سے پہلے نحر ( ذبح ) کر لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اب رمی کر لو کوئی حرج نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، جابر، ابن عباس، ابن عمر، اسامہ بن شریک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: اگر کسی نسک کو یعنی رمی یا نحر یا حلق وغیرہ میں سے کسی ایک کو دوسرے سے پہلے کر لے تو اس پر دم ( ذبیحہ ) لازم ہو گا ( مگر یہ بات بغیر دلیل کے ہے ) ۔
Jam e Tirmazi
1276
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ. ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Mas'ud Al-Ansari: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the price of a dog, the earnings of the fornicator (from harlotry), and the news of the fortune-teller. This Hadith is Hasan Sahih.
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1353
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْأَعْرَجِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ،‏‏‏‏ فَلَا يَمْنَعْهُ . فَلَمَّا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ،‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ وَمُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ،‏‏‏‏ مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ قَالُوا لَهُ:‏‏‏‏ أَنْ يَمْنَعَ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ،‏‏‏‏ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
Al-A`raj narrated from Abu Hurairah, saying: “I heard him saying: ‘the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When one of you seeks his neighbor’s permission to affix a wooden beam in his wall, then do not prevent him. ' When Abu Hurairah narrated it, they tilted their heads, so he said: ‘Why do I see that you are averse to it? By Allah! I will continue to narrate it among you.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اس سے اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے“۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے تو انہوں نے کہا: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ اس سے اعراض کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم میں اسے تمہارے شانوں پر مار کر ہی رہوں گا یعنی تم سے اسے بیان کر کے ہی رہوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور مجمع بن جاریہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- بعض اہل علم سے مروی ہے: جن میں مالک بن انس بھی شامل ہیں کہ اس کے لیے درست ہے کہ اپنے پڑوسی کو دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1477
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ،‏‏‏‏ وَغَيْرُ وَاحِدٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
Narrated Abu Tha'labah Al-Khushani: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited (eating) every predator possessing canine teeth.
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی دانت والے درندے سے منع فرمایا ۱؎۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1718
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ، ‏‏‏‏‏‏خَرَجَ النَّاسُ يَتَلَقَّوْنَهُ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ السَّائِبُ:‏‏‏‏ فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ وَأَنَا غُلَامٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated As-Sa'ib bin Yazid: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived from Tabuk, the people went out to Thaniyyah Al-Wada' to meet him. As-Sa'ib said: I went out with the people, and I was a boy. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس آئے تو لوگ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع تک نکلے: میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا حالانکہ میں کم عمر تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
1794
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ زَمَنَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَالْحَسَنِ هما ابنا محمد ابن الحنفية، ‏‏‏‏‏‏وعبد الله بن محمد يكنى أبا هاشم، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah and Al-Hasan, the sons of Muhammad bin 'Ali: Fromt their father, that 'Ali said: During the time of Khaibar, the Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Mut'ah with women and eating the meat of domesticated donkeys. Another chain and 'Abdullah bin Muhammad's Kunyah is Abu Hisham. Az-Zuhri said: Al-Hasan bin Muhammad was the more acceptable of the two. And he mentioned similarly. Others besides Sa'eed bin 'Abdur-Rahman narrated from Ibn 'Uyainah: Abd 'Abdullah bin Muhammad was the more acceptable of the two. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ۱؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی نے بسند «سفيان عن الزهري عن عبد الله والحسن» نے اسی جیسی حدیث بیان کی، عبداللہ و حسن دونوں محمد بن حنیفہ کے بیٹے ہیں، اور عبداللہ بن محمد الحنفیہ کی کنیت ابوہاشم ہے، زہری کہتے ہیں: ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ حسن بن محمد بن حنفیہ ہیں، پھر انہوں۔ ابن عیینہ سے روایت کرنے والے سعید بن عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسرے لوگوں نے کہا ہے: ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ ہیں۔