حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي زُبَيْدٌ الْأَيَامِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ وَضَرَبَ الْخُدُودَ وَدَعَا بِدَعْوَةِ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abdullah narrated that:
The Prophet said: He who slaps (his) cheeks, tears (his) clothes and calls with the call of the Jahliyyah is not one of us.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گریبان پھاڑے، چہرہ پیٹے اور جاہلیت کی ہانک پکارے ۱؎ ہم میں سے نہیں“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز ۳۵ (۱۲۹۴)، والمناقب ۸ (۳۵۱۹)، سنن النسائی/الجنائز ۱۹ (۱۸۶۳)، و۲۱ (۱۸۶۵)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ۵۲ (۱۵۸۴) (تحفة الأشراف : ۹۵۵۹)، مسند احمد (۱/۳۸۶، ۴۴۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جاہلیت کی ہانک پکارنے سے مراد بین کرنا ہے، جیسے، ہائے میرے شیر ! میرے چاند، ہائے میرے بچوں کو یتیم کر جانے والے عورتوں کے سہاگ اجاڑ دینے والے ! وغیرہ وغیرہ کہہ کر رونا۔ ۲؎ : یعنی ہم مسلمانوں کے طریقے پر نہیں۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کے غیر مسلموں جیسے جزع و فزع کے طور طریقے دیکھ کر اس حدیث کی صداقت کس قدر واضح ہو جاتا ہے۔
999
Sahih