حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Az-Zubair:
From Jabir that the Prophet (ﷺ) prohibited Al-Muhaqalah, Al-Muzabanah, Al-Mukhabarah, and Al-Mu'awamah, and he permitted it in the case of Al-'Araya.
[Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ ۱؎، مخابرہ ۲؎ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا، اور آپ نے عرایا ۴؎ کی اجازت دی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البیوع ۱۶ (۱۵۳۶/۸۵)، سنن ابی داود/ البیوع ۳۴ (۳۴۰۴)، سنن النسائی/الأیمان والمزارعة ۴۵ (۳۹۱۰)، والبیوع ۷۴ (۴۶۳۷)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۵۴ (۲۲۶۶)، (تحفة الأشراف : ۲۶۶۶)، و مسند احمد (۳/۳۱۳، ۳۵۶، ۳۶۰، ۳۶۴، ۳۹۱، ۳۹۲) وانظر ما تقدم برقم ۱۲۹۰، وما عند صحیح البخاری/البیوع ۸۳ (۲۳۸۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : محاقلہ اور مزابنہ کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم (۱۲۲۴)۔ ۲؎ : مخابرہ کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم (۱۲۹۰)۔ ۳؎ : عرایا کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم (۱۳۰۰)۔ ۴؎ : «بیع سنین» کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کو کئی سالوں کے لیے بیچ دے، یہ بیع جائز نہیں ہے کیونکہ یہ معدوم کی بیع کی قبیل سے ہے، اس میں دھوکہ ہے، ممکن ہے کہ درخت میں پھل ہی نہ آئے، یا آئے مگر جتنی قیمت دی ہے اس سے زیادہ پھل آئے۔
1313
Sahih