حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ، ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بَهْزٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، هَذَا الْحَدِيثَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.
Narrated Bahz bin Hakim:
from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) imprisoned a man for an accusation, then he let him go.
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت ۱؎ کی بنا پر قید کیا، پھر ( الزام ثابت نہ ہونے پر ) اس کو رہا کر دیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بہز بن حکیم بن معاویہ بن حیدۃ قشیری کی حدیث جسے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، حسن ہے، ۳- اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کی ہے ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الأقضیة ۲۹ (۳۶۳۰)، سنن النسائی/قطع السارق ۲ (۴۸۹۰)، (تحفة الأشراف : ۱۱۳۸۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس تہمت اور الزام کے کئی سبب ہو سکتے ہیں : اس نے جھوٹی گواہی دی ہو گی، یا اس کے خلاف کسی نے اس کے مجرم ہونے کا دعویٰ پیش کیا ہو گا، یا اس کے ذمہ کسی کا قرض باقی ہو گا، پھر اس کا جرم ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا ہو گا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جرم ثابت ہونے سے قبل قید و بند کرنا ایک شرعی امر ہے۔ ۲؎ : پوری حدیث کے لیے دیکھئیے سنن ابی داود حوالہ مذکور۔
1417
Sahih