حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: أَلَكَ وَالِدَانِ ؟ ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ الْأَعْمَى الْمَكِّيُّ وَاسْمُهُ: السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ.
Narrated 'Abdullah bin 'Umar:
A man came to Prophet (ﷺ) seeking permission to go for Jihad. So he said: 'Do you have parents (living)? ' He said: 'Yes.' He said: 'Then it is for them that you should perform Jihad.'
[Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from Ibn 'Abbas.
This Hadith is Hasan Sahih. (One of the narrators) Abul-Abbas is the blind (Al-A'ma) poet (Ash-Sha'ir), from Makkah, and his name is As-Sa'ab bin Farrukh.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ ( زندہ ) ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کی خدمت کی کوشش میں لگے رہو“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد ۱۳۸ (۳۰۰۴)، والأدب ۳ (۵۹۷۲)، صحیح مسلم/البر والصلة ۱ (۲۵۴۹)، سنن ابی داود/ الجہاد ۳۳ (۲۵۲۹)، سنن النسائی/الجہاد ۵ (۳۱۰۵)، (تحفة الأشراف : ۸۶۳۴)، و مسند احمد (۲/۱۶۵، ۱۷۲، ۱۸۸، ۱۹۳، ۱۹۷، ۲۲۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی ماں باپ کی پوری پوری خدمت کرو، کیونکہ وہ تمہاری خدمت کے محتاج ہیں، اسی سے تمہیں جہاد کا ثواب حاصل ہو گا، بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر رضاکارانہ طور پر جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہے تو ماں باپ کی اجازت ضروری ہے، لیکن اگر حالات و ظروف کے لحاظ سے جہاد فرض عین ہے تو ایسی صورت میں اجازت کی ضرورت نہیں، بلکہ روکنے کے باوجود وہ جہاد میں شریک ہو گا۔
1671
Sahih